سوال:
دروس و وعظ میں ضعیف احادیث سے حجت پکڑنا کیسا ہے؟
جواب:
دین صرف سند صحیح کا نام ہے۔ ضعیف، بے سند اور من گھڑت روایات کا کوئی اعتبار نہیں۔ بعض واعظین خوش نمائی کے لیے جانتے بوجھتے ضعیف روایات بیان کرتے ہیں، یہ قطعاً درست طریقہ نہیں۔
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ (279ھ) فرماتے ہیں:
لا تقوم بمثله حجة
اس جیسی (ضعیف) روایت سے حجت قائم نہیں ہوتی۔
(سنن الترمذي، تحت الرقم: 931)
❀ امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ (311ھ) فرماتے ہیں:
قد أعلمت ما لا أحصي من مرة أني لا أستحل أن أموه على طلاب العلم بالاحتجاج بالخبر الواهي، وإني خائف من خالقي، جل وعلا إذا موهت على طلاب العلم بالاحتجاج بالأخبار الواهية، وإن كانت حجة لمذهبي
میں بے شمار مرتبہ بتا چکا ہوں کہ میں ضعیف روایات سے حجت پکڑ کر طلباء پر مع سازی کرنا جائز نہیں سمجھتا۔ میں اپنے خالق جل وعلا سے ڈرتا ہوں کہ میں ضعیف احادیث سے حجت پکڑ کر طلبائے علم پر ملمع سازی کروں، اگرچہ وہ احادیث میرے مذہب کی دلیل ہی کیوں نہ ہوں۔
(كتاب التوحيد: 530/2)
❀ نیز فرماتے ہیں:
لا نحتج بالمراسيل ولا بالأخبار الواهية
ہم (محدثین) مرسل اور ضعیف روایات سے حجت نہیں پکڑتے۔
(كتاب التوحيد: 136/1)