تشہد میں عند الدعاء انگلی کا اشارہ کرنا مسنون ہے

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ زبیر علی زئی رحمہ اللہ کی کتاب ہدیۃ المسلمین نماز کے اہم مسائل مع مکمل نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے۔

درود کے بعد اشارہ کرنا

عن عبدالله بن الزبير قال: كان رسول الله صلى الله عليه وسلم إذا قعد يدعو، وضع يده اليمنى على فخده اليمنى ويده اليسرى على فخده اليسرى وأشار بإصبعه السبابة ووضع إبهامه على إصبعه الوسطى ويلقم كفه اليسرى ركبته
عبد اللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب (نماز میں) بیٹھتے (اور) دعا کرتے (تو )اپنا دایاں ہاتھ اپنی دائیں ران پر اور بایاں ہاتھ بائیں ران پر رکھتے اور شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے، اور اپنا انگوٹھا درمیانی انگلی (کی جڑ) پر رکھتے، اور بائیں ہتھیلی کو پھیلا کر اپنا گھٹنا پکڑ لیتے تھے۔ [صحیح مسلم 216/1 ح 579]
فوائد
(1)اس حدیث سے معلوم ہوا کہ تشہد میں عند الدعاء انگلی کا اشارہ کرنا مسنون ہے۔ بعض لوگ أشهد أن لا پر انگلی اٹھاتے اور إلا الله پر رکھ دیتے ہیں۔ یہ بات کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے، بلکہ احادیث کا ظاہر مفہوم یہی ہے کہ شروع سے آخر تک انگلی اٹھائی جائے۔ مولوی عاشق الہی میرٹھی دیوبندی لکھتے ہیں کہ تشہد میں جو رفع سبابہ کیا جاتا ہے، اس میں تردد تھا کہ اس اشارہ کا بقاء کس وقت تک کسی حدیث میں منقول ہے یا نہیں۔ یہ مسئلہ حضرت قدس سرہ (یعنی رشید احمد گنگوہی / ناقل ) کے حضور پیش کیا گیا، فوراً فرمایا کہ ترمذی کی کتاب الدعوات میں حدیث ہے کہ آپ نے تشہد کے بعد فلاں دعا پڑھی اور اس میں سبابہ سے اشارہ فرما رہے تھے، اور ظاہر ہے کہ دعا قریب سلام کے پڑھی جاتی ہے، پس ثابت ہو گیا کہ اخیر تک اس کا باقی رکھنا حدیث میں منقول ہے۔ [تذکرۃ الرشید: 113/1]
(2)بعض لوگوں نے چند فقہی روایات کی وجہ سے اس اشارہ سے منع کیا ہے۔ مثلاً خلاصہ کیدانی کا مصنف لکھتا ہے (الباب الخامس فی المحرمات والإشارة بالسبابة كأهل الحديث ص 15-16) یعنی پانچواں باب محرمات (حرام چیزوں) میں اور شہادت کی انگلی کے ساتھ اشارہ کرنا جس طرح اہل حدیث کرتے ہیں (یہ قول درج بالا حدیث و دیگر دلائل کے مقابلے میں ہونے کی وجہ سے اصلاً مردود ہے)۔
(3)اس سنت صحیحہ کے خلاف نام نہاد متجددین نے بھی اپنے مکاتیب وغیرہ میں انتہائی قابل مذمت ”گوہر افشانی“ کر رکھی ہے۔