درود "صلی اللہ علیہ وسلم” اور "علیہ الصلوٰۃ والسلام” پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، ذکر و دعا کے مسائل، جلد 1، صفحہ 485

سوال

➊ کیا نبی کریم ﷺ کے سامنے درود پڑھا گیا یا آپ ﷺ نے اس کے پڑھنے کا حکم دیا؟
➋ کیا "علیہ الصلوٰۃ والسلام” بھی پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1. نبی کریم ﷺ کے سامنے درود پڑھنے کا ذکر

صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب نزول عیسیٰ بن مریم میں یہ موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود بذاتِ خود لفظ
صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا۔
تمام کتبِ حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بھی
صلی اللہ علیہ وسلم کہا اور پڑھا کرتے تھے۔
کسی بات کے تقریری حدیث (یعنی حضور ﷺ کی موجودگی میں قول یا فعل کا ہونا اور آپ ﷺ کا اس پر سکوت اختیار کرنا) بننے کے لیے یہی کافی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ کے سامنے یہ الفاظ کہے اور آپ ﷺ نے اس پر نکیر نہ فرمائی۔

2. "علیہ الصلوٰۃ والسلام” پڑھنے کا حکم

اس بارے میں مجھے علم نہیں کہ یہ الفاظ کہیں مروی ہیں یا نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب