مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

درود "صلی اللہ علیہ وسلم” اور "علیہ الصلوٰۃ والسلام” پڑھنے کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : احکام و مسائل، ذکر و دعا کے مسائل، جلد 1، صفحہ 485

سوال

➊ کیا نبی کریم ﷺ کے سامنے درود پڑھا گیا یا آپ ﷺ نے اس کے پڑھنے کا حکم دیا؟
➋ کیا "علیہ الصلوٰۃ والسلام” بھی پڑھ سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

1. نبی کریم ﷺ کے سامنے درود پڑھنے کا ذکر

صحیح مسلم، کتاب الایمان، باب نزول عیسیٰ بن مریم میں یہ موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے خود بذاتِ خود لفظ
صلی اللہ علیہ وسلم پڑھا۔
تمام کتبِ حدیث اس پر دلالت کرتی ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، رسول اللہ ﷺ کی زندگی میں بھی
صلی اللہ علیہ وسلم کہا اور پڑھا کرتے تھے۔
کسی بات کے تقریری حدیث (یعنی حضور ﷺ کی موجودگی میں قول یا فعل کا ہونا اور آپ ﷺ کا اس پر سکوت اختیار کرنا) بننے کے لیے یہی کافی ہے کہ صحابہ نے حضور ﷺ کے سامنے یہ الفاظ کہے اور آپ ﷺ نے اس پر نکیر نہ فرمائی۔

2. "علیہ الصلوٰۃ والسلام” پڑھنے کا حکم

اس بارے میں مجھے علم نہیں کہ یہ الفاظ کہیں مروی ہیں یا نہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔