درود شریف کے 31 فضائل قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔

فضائل درود شریف

① سیدنا حضرت کعب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ہر صبح ستر ہزار فرشتے اتر کر قبر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو گھیر لیتے ہیں اور اپنے پر سمیٹ کر حضور سرور کائنات صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے دعائے رحمت کرتے رہتے ہیں اور ستر ہزار رات کو آتے ہیں یہاں تک کہ قیامت کے دن جب آپ کی قبر مبارک شق ہوگی تو آپ کے ساتھ ستر ہزار فرشتے ہوں گے۔
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سرور دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم، پر درود اور سلام ایک ساتھ بھیجنے چاہییں، صرف صلی اللہ علیہ وسلم یہ نہ کہا جائے۔ قرآن کریم کی اس آیت مبارکہ میں بھی اسی بات کا حکم ہے۔
﴿إِنَّ اللَّهَ وَمَلَائِكَتَهُ يُصَلُّونَ عَلَى النَّبِيِّ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوا عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا﴾
(ابن کثیر اردو ص 277، جلد 4، مشکوٰۃ ص 546، جلد 2، باب وفات النبي صلی اللہ علیہ وسلم قدیمی کتب خانہ کراچی)
مذکورہ آیت مبارکہ میں صلاۃ کے ساتھ سلام کا بھی حکم ہے اور یہاں کوئی قرینہ صارفہ موجود نہیں۔
صلاۃ سے مراد درود ابراہیمی ہے جو ہم نماز میں پڑھتے ہیں۔ فرصت کے مطابق یہ وظیفہ کرنا چاہیے صرف جمعہ کے ساتھ خاص نہیں البتہ جمعہ کے دن کثرت سے یہ وظیفہ کرنا چاہیے۔
سلام کے الفاظ درج ذیل ہیں:
السلام على النبى ورحمة الله وبركاته السلام علينا وعلى عباد الله الصالحين
لہذا صلاۃ کے ساتھ سلام بھی پڑھنا چاہیے یعنی عوام جو صرف (صلی اللہ علیہ وسلم) پڑھتے ہیں ساتھ (وسلم) بھی پڑھنا چاہیے۔
عن أوس بن أوس رضی اللہ عنہ الثقفي قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم إن من أفضل أيامكم يوم الجمعة فيه خلق آدم وفيه قبض وفيه النفخة وفيه الصعقة فأكثروا على من الصلاة فيه فإن صلاتكم معروضة على قالوا وكيف تعرض صلاتنا عليك وقد أرمت قال إن الله تعالى حرم على الأرض أن تأكل أجسادنا
”سیدنا حضرت اوس بن اوس ثقفی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ تمہارے بہترین ایام میں جمعہ المبارک کا دن ہے۔ اس میں سیدنا آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا اور اسی دن ان کی روح قبض کی گئی اور اسی دن قیامت کا نفخہ ہوگا اور اسی دن قیامت کا صعقہ یعنی چیخ ہوگی بس تم اس دن میں مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو کیونکہ تمہارا درود پڑھنا مجھ تک پہنچایا جاتا ہے۔ “
(ابو داؤد حدیث نمبر 1047، صحیح الترغیب والترہیب حدیث 696، جلد 1 مطبع المعارف ریاض)
صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے عرض کیا اے آقا علیہ السلام آپ تک درود کیسے پہنچایا جائے گا آپ مٹی میں مل چکے ہوں گے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے جسموں پر مٹی کو حرام کر دیا ہے۔
عن عبد الله بن عمرو قال من صلى على النبى صلى الله عليه وسلم واحدة صلى الله عليه وملائكته سبعين صلاة
”سیدنا حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جو شخص نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک بار درود پڑھتا ہے اس پر اللہ تعالیٰ ستر رحمتیں نازل فرماتا ہے اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ “
(رواہ احمد فی المسند حدیث 187، جلد 2)
عن عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ قال خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى دخل نخلا فسجد فأطال السجود حتى خشيت أن يكون الله تعالى قد توفاه قال فجئت أنظر فرفع رأسه فقال ما لك فذكرت له ذلك قال فقال إن جبريل عليه السلام قال لي مبشرك إن الله عز وجل يقول لك من صلى عليك صلاة صليت عليه ومن سلم عليك سلمت عليه
”سیدنا حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے بیان فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر سے نکلے اور ایک باغ میں تشریف لے گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑا لمبا سجدہ کیا میں ڈر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو وفات دے دی ہے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھ ہی رہا تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا تجھے کیا ہوا ہے؟ تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پورا واقعہ عرض کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ جبریل علیہ السلام نے مجھے کہا ہے کہ میں آپ کو خوشخبری نہ دوں؟ (وہ یہ) کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جو شخص آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود پڑھے گا تو میں اس پر رحمت نازل فرماؤں گا اور جو شخص آپ پر سلام بھیجے گا میں بھی اس کو سلامتی عطا فرماؤں گا۔ “
(رواہ احمد في المسند 191/1)
اس فرمان نبوی سے پتہ چلا کہ صلاۃ کے ساتھ سلام بھی پڑھنا چاہیے۔ جیسا کہ اس کی وضاحت پہلے گذر چکی ہے۔

سیدنا حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ:

سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی کنیت ابو محمد ہے اور عشرہ مبشرہ میں سے ہیں۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر مسلمان ہوئے سابقین اولین میں ان کا شمار ہوتا ہے۔ ہجرت حبشہ میں بھی شریک تھے تمام غزوات میں سالار اعظم امام المجاہدین صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شانہ بشانہ شامل تھے۔ غزوہ احد میں بالخصوص بہادری کے جوہر دیکھائے۔ غزوہ تبوک کے موقع پر امام الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے پیچھے نماز پڑھی۔ سن 32 ہجری میں ان کی وفات ہوئی اس وقت ان کی عمر 75 سال تھی، جنت البقیع میں محواستراحت ہیں۔
تاجر پیشہ آدمی تھے اپنا مال راہ اللہ میں بے دریغ خرچ کرتے تھے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما جیسے جلیل القدر صحابی نے روایت کی ہے 65 احادیث کے راوی ہیں۔ جن میں 2 متفق علیہ ہیں، 5 میں امام بخاری رحمہ اللہ منفرد ہیں۔

برکات، ثمرات درود شریف:

ان فوائد اور ثمرات کے بیان میں جو درود بر نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے حاصل ہوتے ہیں:
① اللہ تعالیٰ و تبارک کی فرمانبرداری اور تعمیل حکم۔
② اللہ عزوجل کے ساتھ درود میں موافقت، نوعیت میں ہماری صلوٰۃ اور اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ مختلف ہوں۔ کیونکہ ہماری صلوٰۃ تو دعا اور سوال ہے اور اللہ تعالیٰ کی صلوٰۃ ثنا و تعریف ہے۔
③ درود خوانی میں فرشتوں کے ساتھ موافقت۔
④ ایک دفعہ درود پڑھنے والے کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے دس رحمتوں کا ملنا۔
⑤ ایک دفعہ کے درود پر دس درجات کا بلند کیا جانا۔
⑥ ایک بار درود شریف پڑھنے سے دس حسنات کا لکھا جانا۔
⑦ ایک بار درود پڑھنے سے دس سیئات (بدیوں) کا محو کر دیا جانا۔
⑧ جب درود دعا سے اول ہو تو اس دعا کی قبولیت کی امید ہونا۔ کیونکہ درود شریف دعا کو رب العالمین تک لے جاتا ہے۔ اور بلا درود کے زمین و آسمان کے اندر ہی دعا روک لی جاتی ہے۔
⑨ درود خوانی سبب ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت پانے کا۔ جب درود کے ساتھ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سوال وسیلہ ہو یا نہ ہو۔
⑩ درود شریف بندہ کے رنج و غم میں اللہ تعالیٰ کے کفایت کرنے کا سبب ہے۔
⑪ قیامت کے دن رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب تر ہونے کا سبب ہے۔
⑫ تنگ دست کے لیے درود قائم مقام صدقہ ہے۔
⑬ قضاء حاجات کا وسیلہ ہے۔
⑭ اللہ تعالیٰ کی رحمت اور فرشتوں کی دعائے رحمت کے حاصل کرنے کا سبب ہے۔
⑮ درود خواں کے لیے زکوۃ و طہارت ہے۔
⑯ موت سے پہلے بندہ کو بشارت جنت مل جانے کا سبب ہے۔
⑰ اہوال قیامت سے نجات کا سبب۔
⑱ بھولی ہوئی شے درود سے یاد آ جاتی ہے۔
⑲ مجلس درود سے پاکیزہ ہو جاتی ہے۔ اور قیامت کے دن وہ نشست اہل مجلس کے لیے عبرت نہیں بنتی۔
⑳ درود شریف سے فقر و تنگ دستی جاتی رہتی ہے۔
㉑ درود شریف پڑھنے کے طفیل بخل بندہ سے دور ہو جاتا ہے۔
㉒ درود پڑھنے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بدد عار غم انف سے بندہ محفوظ ہو جاتا ہے۔
㉓ درود شریف درود خواں کو طریق جنت پر چلاتا ہے۔ اور جو درود کا تارک ہے وہ راہ بہشت چھوڑ بیٹھا ہے۔
㉔ مجلس کی سڑاندھ سے نجات دیتا ہے۔ کیونکہ جس مجلس میں ذکر خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم نہ ہو اور باری تعالیٰ کی حمد و ثناء اور محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ ہو وہ سڑاندھ سے پاک نہیں ہوتی۔
㉕ جو کلام حمد خدا و صلوٰۃ بر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم سے شروع ہو۔ درود اس کے تمام کا سبب ہے۔
㉖ پل صراط پر بندہ کے لیے نور موفور کا سبب درود شریف ہے۔
㉗ درود پڑھنے سے بندہ جفا (بر رسول صلی اللہ علیہ وسلم) سے نکل جاتا ہے۔
㉘ درود شریف درود خواں کی ثناء حسن اہل زمین و آسمان کے اندر باقی رہنے کا سبب ہے کیونکہ درود خواں کا سوال یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی ثنا و اکرام اور شرف زیادہ فرمائے چونکہ جزاء جنس عمل سے دی جاتی ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اسی نوع کی جزا اس کو بھی ملے۔
㉙ درود خواں کی ذات خاص اور عمل و عمر و دیگر اسباب مصالح میں برکت کا باعث ہے۔ کیونکہ درود خواں کی دعا یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کی آل پر برکت فرمائے۔ یہ دعا بہر حال مستحب ہے۔ اور جنس کے موافق جزا دی جاتی ہے۔
㉚ درود اللہ تعالیٰ کی رحمت پانے کا ذریعہ ہے۔ کیونکہ یا تو رحمت ترجمہ ہے صلوٰۃ کا جیسے بعض کا قول ہے۔ یا رحمت صلوٰۃ کے لوازم و موجبات میں سے ہے۔ (یہی قول صحیح ہے) بہر حال اس سے رحمت الٰہیہ درود خواں پر نازل ہوتی ہے۔
㉛ درود سبب ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے دوام و زیادت و فروانی کا۔ اور یہ صفت مراتب ایمان میں سے ایک مرتبہ ہے۔ جس کے بغیر ایمان کامل اور تمام نہیں ہوتا۔ کیونکہ انسان جس قدر زیادہ محبوب کا ذکر کرے گا۔ محبوب اور اس کی خوبیوں کو یاد رکھے گا۔ اسی قدر اس کی محبت بڑھے گی۔ اور شوق کامل ہوگا۔ حتی کہ تمام دل پر چھا جائے گا۔ لیکن جب ذکر چھوڑ دے اور اس کے محاسن کو دل میں جگہ نہ دے تب محبت کم ہو جاوے گی۔ یہ یاد رکھو کہ جس طرح آنکھ کی ٹھنڈک دیدار یار ہے۔ اس طرح دل کی تسکین اس کی اور اس کے محاسن کی یاد ہے۔ جب یہ صفت دل میں جگہ پکڑ لیتی ہے۔ تو زبان خود بخود مدح و ثناء میں جاری ہو جاتی ہے۔ اور محبوب کی تعریف و محامد برابر بیان کیا کرتی ہے۔ اور صفت میں کمی و بیشی اصل محبت کی کمی و بیشی کے موافق ہوا کرتی ہے۔ چنانچہ حس و مشاہدہ اس پر شاہد ہے۔ اور شعراء نے اس بارے میں بہت کچھ لکھا ہے:
عجبت لمن يقول ذكرت حبى
وهل انسي نا ذكر من نسيت
یاد جاناں کیا دلاتے ہو ہمیں!
جو نہیں بھولا ہے اس کی یاد کیا؟
شاعر گویا اس پر تعجب ظاہر کرتا ہے۔ کہ محبوب کی یاد کوئی شخص اسے دلائے۔ وہ کہتا ہے کہ یاد دلانا تو نسیان کے بعد ہوتا ہے۔ اور تکمیل محبت کے بعد نسیان ہو نہیں سکتا۔
دوسرا شاعر کہتا ہے:
اريد لا نسى ذكرها فكا نما
تمثل بي ليلى بكل سبيل
نہیں ممکن بھلا دوں یاد لیلیٰ کو اگر چاہوں
کہ ہر کوئی گلی میں اس کی ہی تصویر پھرتی ہے۔
اس شعر میں شاعر ظاہر کرتا ہے کہ یار کی محبت نسیان کی مانع ہے۔
متنبی کہتا ہے:
يراد من القلب نسيانكم
و تابي الطباع على الناقل
بھول جاؤں بظاہر یار کے انداز سب
پر طبیعت اس بناوٹ پر بھلا جمتی ہے؟! کب
اس شعر میں شاعر ظاہر کرتا ہے کہ یار کی محبت اور یاد طبیعت بن گئی۔ اور داخل فطرت ہو گئی ہے۔ اب اگر اس کے خلاف ارادہ بھی کریں تو طبیعت ادھر جانے سے انکار کرے گی۔
ایک مشہور کہاوت ہے جس کو:
جو چیز ہوتی ہے پیاری
ذکر رکھتا اُسی کا ہے جاری
رسول خدا حبیب اللہ محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی جناب اشرف و اعلیٰ تو وہ ہے کہ شعر ذیل آپ کی آستان پر نہایت شایاں ہے۔
ولو شق قلبي نرى وسطه
ذكرك والتوحيد فى شطره
چیر کر دیکھ لے میرے دل کو
ذکر تیرا ہے اور خدا کا نام ہے۔
میں نے اس سینے کے اندر دل کے دو ٹکڑے کئے نصف خالق کے لیے اور نصف ہے تیرے لیے ۔
بے شک مومن کے دل کی یہی صفت ہے۔ کہ اس میں خدا اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کا ذکر ایسا لکھا ہوا ہوتا ہے۔ کہ محو وازالہ ممکن نہیں۔ پس جب یہ معلوم ہو گیا کہ کسی چیز کا بکثرت ذکر اس کی دوام محبت کا باعث ہے اور عدم یادآوری زوال یا ضعف الفت کا سبب۔
اور اللہ تعالیٰ بندوں کی جانب سے محبت اور نہایت تعظیم کا مستحق ہے۔ اور شرک جسے خداوند کریم نہ بخشے گا۔ اس کی حقیقت بھی یہی ہے، کہ غیر کو محبت و تعظیم میں باری تعالیٰ کے ساتھ شریک بنایا جاوے۔ یعنی غیر کی محبت اور تعظیم اس قدر کی جاوے جس قدر کہ خاص خداوند کریم کی محبت و تعظیم کرنی چاہیے۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَتَّخِذُ مِنْ دُونِ اللَّهِ أَنْدَادًا يُحِبُّونَهُمْ كَحُبِّ اللَّهِ وَالَّذِينَ آمَنُوا أَشَدُّ حُبًّا لِلَّهِ﴾
اس میں اللہ تعالیٰ نے بتلایا ہے کہ مشرک ند کے ساتھ وہی محبت رکھتا ہے جو محبت اللہ تعالیٰ سے رکھنی چاہیے۔ اور بتلایا ہے کہ مومن کو اللہ تعالیٰ کی محبت ہر ایک شے سے افزوں اور برتر ہوتی ہے۔ دوزخ کے اندر گر کر دوزخی کہیں گے۔
﴿تَاللَّهِ إِنْ كُنَّا لَفِي ضَلَالٍ مُبِينٍ إِذْ نُسَوِّيكُمْ بِرَبِّ الْعَالَمِينَ﴾
”بخدا ہم صریح ضلالت میں تھے۔ جب ہم تم کو رب العالمین کے برابر سمجھتے تھے۔“
اور یہ ظاہر ہے کہ مشرکین کا اپنے معبودوں کو اللہ کے برابر سمجھنا محبت و تعشق و عبادت میں تھا۔ ورنہ اس بات کا تو کوئی بھی قائل نہیں۔ کہ بت یا کوئی اور رب العالمین کے صفات و افعال اور زمین و آسمان کی پیدائش میں بلکہ ان بت پرستوں کی پیدائش میں بھی اللہ تعالیٰ کے برابر ہیں!