سوال:
ایک صحابی نے رسول اللہ ﷺ سے درود شریف کی فضیلت سن کر عرض کیا:
"یا رسول اللہ ﷺ! میں اپنی دعا کے چار حصے بناؤں گا، ایک حصہ آپ ﷺ پر درود پڑھوں گا، اور باقی تین حصے اپنے لیے دعا کروں گا۔”
آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا:
"اگر تم زیادہ کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے۔”
چنانچہ اس صحابی نے عرض کیا:
"میں اپنی دعا کے دو حصے بناؤں گا، ایک حصہ آپ ﷺ پر درود اور دوسرا حصہ اپنے لیے دعا کے لیے۔”
کیا یہ حدیث صحیح ہے؟ یہ حدیث کن کتب حدیث میں موجود ہے؟ اور کیا ہم بھی اپنی دعا میں صرف درود شریف ہی پڑھا کریں؟
جواب:
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
➊ یہ حدیث صحیح ہے۔
➋ یہ حدیث جامع ترمذی کی کتاب "صفۃ القیامۃ” میں موجود ہے۔
➌ اسی طرح یہ حدیث مستدرک حاکم، جلد دوم، صفحہ 421 پر بھی پائی جاتی ہے۔
یعنی یہ حدیث معتبر محدثین کی مستند کتب میں موجود ہے اور اس کی صحت پر اعتماد کیا جا سکتا ہے۔
لہٰذا، اگر کوئی شخص دعا میں بکثرت درود شریف ہی پڑھتا ہے تو یہ ایک افضل عمل ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے خود اس کی ترغیب دی ہے۔
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب