دجال کا خروج – سب سے بڑا فتنہ اور اہل سنت کا عقیدہ

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

دجال کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟

جواب:

دجال سب سے بڑا فتنہ ہے، قرب قیامت اس کا خروج برحق ہے، قرآن کریم، متواتر احادیث اور اجماع میں اس کا اثبات ہے ، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔
❀ سیدنا حذیفہ بن اسید غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے ، ہم آپس میں مذاکرہ کر رہے تھے ، آپ نے پوچھا: کیا مذاکرہ چل رہا ہے؟ حاضرین نے عرض کیا: قیامت کے متعلق گفتگو کر رہے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إنها لن تقوم حتى ترون قبلها عشر آيات، فذكر الدخان، والدجال، والدابة، وطلوع الشمس من مغربها، ونزول عيسى ابن مريم صلى الله عليه وسلم، ويأجوج ومأجوج، وثلاثة خسوف ؛ خسف بالمشرق، وخسف بالمغرب، وخسف بجزيرة العرب، وآخر ذلك نار تخرج من اليمن، تطرد الناس إلى محشرهم.
”قیامت تب تک قائم نہیں ہوگی، جب تک دس نشانیاں ظاہر نہ ہو جائیں، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دھواں، دجال، دابتہ الارض، سورج کا مغرب سے طلوع ہونا ، نزول عیسی ، یا جوج ماجوج کا خروج ، تین مقامات سے خسف (زمین کا نیچے دھنس جانا ) ، مشرق کا خسف ، مغرب کا خسف ، جزیرہ عرب کا خسف اور ان سب سے آخری نشانی یہ ہے کہ یمن سے آگ نکلے گی ، جولوگوں کو ان کے محشر کی طرف ہانک لائے گی ۔“
(صحیح مسلم : 2901)
❀ علامہ ابوالعباس قرطبی رحمہ اللہ (656 ھ ) فرماتے ہیں:
هذا مذهب أهل السنة، وعامة أهل الفقه والحديث، خلافا لمن أنكر أمره وأبطله من الخوارج وبعض المعتزلة، وخلافا للجبائي من المعتزلة.
”دجال کے خروج پر ایمان لا نا اہل سنت اور تمام فقہا اور محدثین کا مذہب ہے، اس کے برعکس خوارج، بعض معتزلہ اور معتزلہ میں سے فرقہ جبائیہ دجال کے معاملات کا انکار اور ابطال کرتے ہیں۔“
(المفهم : 267/7)
❀ علامہ ابن رسلان رحمہ اللہ (844ھ) ایک حدیث کے تحت فرماتے ہیں:
فيه الإيمان بالدجال وخروجه حق، وهو مذهب أهل السنة.
”اس حدیث سے ثابت ہوا کہ دجال (کے وجود ) پر ایمان لانا ضروری ہے، اس کا خروج حق ہے ، اہل سنت کا یہی مذہب ہے۔“
(شرح سنن أبي داود : 660/16)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️