مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

داڑھی کی شرعی مقدار اور داڑھی منڈانے والے کے ایمان کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن و حدیث کی روشنی میں احکام و مسائل، جلد 01، صفحہ 520

سوال

➊ داڑھی کی مقدار شرعی کیا ہے؟
➋ داڑھی منڈانے والے کا ایمان کامل ہے یا ناقص؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

(۱) داڑھی کی مقدار شرعی

✿ قرآن مجید اور رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم کی احادیث میں داڑھی کی مقدار ’’مشت‘‘ یا اس سے کم و بیش کہیں بھی بیان نہیں ہوئی۔
✿ نصوص میں صرف یہ حکم آیا ہے: اَعْفُوا اللِّحٰی (داڑھیاں بڑھاؤ)۔
✿ باقی ایسی باتیں جو موقوف روایت میں ہوں، دین میں حجت و دلیل نہیں بنتیں جب تک کہ وہ حکماً مرفوع نہ ہوں۔

(۲) داڑھی منڈانے والے کا ایمان

✿ داڑھی منڈانے والے کا ایمان ناقص ہے۔
✿ بعض اوقات یہ ایمان بالکل ختم بھی ہو جاتا ہے، خصوصاً جب کوئی شخص داڑھی منڈانے کے بعد آئینہ دیکھ کر خوش ہونے لگے۔
✿ اس کی دلیل یہ ہے جیسا کہ حدیث میں آیا ہے:

وَذٰلِکَ أَضْعَفُ الْإِیْمَانِ
وَلَیْسَ وَرَآئَ ذٰلِکَ مِنَ الْایمَانِ حَبَّۃُ خَرْدَلٍ
(یہ سب سے کم درجے کا ایمان ہے، اور اس کے بعد رائی کے دانے کے برابر بھی ایمان باقی نہیں رہتا)
کتاب الایمان، صحیح مسلم، جلد 1، باب: کون النہی عن المنکر من الایمان
ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔