مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

داڑھی کا شرعی حکم: کترانے اور منڈانے کی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 522

سوال

داڑھی کے بارے میں شرعی حکم بیان کریں، کیونکہ ہمارے کچھ حضرات داڑھی رکھتے ہیں لیکن اسے کتراتے ہیں اور اوپر یا نیچے سے استرے سے صاف کر دیتے ہیں۔ برائے مہربانی سنت کے بارے میں وضاحت فرمائیں۔

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

  • داڑھی رکھنا اور اسے بڑھانا فرض ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی الله علیہ وسلم نے اس کا حکم (امر) دیا ہے۔
  • اس حکم کو سنتِ مؤکدہ یا محض مستحب پر محمول کرنے کی کوئی دلیل موجود نہیں ہے۔
  • لہٰذا یہ نظریہ کہ:

    ’’داڑھی رکھنا اور بڑھانا سنت ہے یا کوئی رکھ لے تو ثواب ہے، نہ رکھے تو گناہ نہیں‘‘

    سراسر غلط ہے۔

  • اس سے یہ بھی واضح ہو جاتا ہے کہ:
    • داڑھی کترانا
    • داڑھی منڈانا
    • داڑھی کو خط یا لفافہ بنانا
    • اوپر، نیچے یا سامنے سے استرے یا قینچی وغیرہ سے بال مکمل کاٹ دینا

    — یہ سب درست نہیں ہیں۔

  • اس لیے کہ یہ تمام طریقے، داڑھی بڑھانے کے متعلق نبی کریم صلی الله علیہ وسلم کے واضح حکم کی خلاف ورزی ہیں۔

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔