مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

داڑھی منڈانے کا حکم قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
ماخوذ: قرآن وحدیث کی روشنی میں احکام ومسائل، جلد 01، صفحہ 523

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ ایک مسلمان بچہ داڑھی رکھ کر تین چار سال بعد استرے سے منڈا دیتا ہے، از روئے قرآن و حدیث یہ کتنے بڑے گناہ کا مرتکب ہوا، اور اس بارے میں شریعت محمدی کیا کہتی ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

داڑھی کاٹنا، کٹانا، منڈانا یا مونڈنا ناجائز ہے، خواہ یہ عمل داڑھی رکھنے کے بعد کیا جائے یا پہلے، دونوں ہی صورتوں میں یہ گناہ ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ عمل رسول اللہ ﷺ کے فرمان:

{أَعْفُوْا اللُّحٰی}

کے مخالف اور منافی ہے۔

قرآن مجید میں ارشاد باری تعالیٰ ہے:

{وَمَنْ یَّعْصِ اﷲَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہٗ نَارًا خَالِدًا فِیْہَا وَلَہٗ عذَابٌ مُّہِیْنٌ} (النساء ۱۴، پ ۴)

’’اور جو نافرمانی کرے اللہ کی اور اس کے رسول کی اور پار کرے اس کی حدوں کو، داخل کرے گا اس کو آگ میں، ہمیشہ رہے گا اس میں، اور واسطے اس کے عذاب ہے ذلت والا۔‘‘

ھذا ما عندي والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔