مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دانتوں پر موٹی پرت یا تختی اور وضو و نماز کی صحت

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

اگر دانتوں پر موٹی پرت یا تختی ہو، تو کیا وضو صحیح ہے؟ اور اس وضو سے پڑھی گئی نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب:

دانتوں پر جو کچھ بھی چڑھایا گیا ہے، وہ دانتوں کا حصہ بن گیا ہے، لہذا وضو صحیح ہے اور اس وضو سے پڑھی گئی نماز بھی صحیح ہے۔
❀ عبدالرحمن بن عرفجہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
إن جده عرفجة بن أسعد، قطع أنفه يوم الكلاب، فاتخذ أنفا من ورق، فأنتن عليه، فأمره النبى صلى الله عليه وسلم، فاتخذ أنفا من ذهب .
”جنگ کلاب میں ان کے دادا عرفجہ بن اسعد رضی اللہ کی ناک کٹ گئی ، انہوں نے چاندی کی ناک لگوائی لیکن وہ بد بو دینے لگی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے آپ رضی اللہ عنہ نے سونے کی ناک لگوالی۔“
(سنن أبي داود : 4232 ، سنن الترمذي : 1770 ، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (5462) نے ”صحیح“ کہا ہے۔
یہ حدیث دلیل ہے کہ اعضائے وضو پر کوئی مصنوعی چیز چڑھالی جائے ، تو اس سے وضو صحیح ہے، جیسا کہ صحابی نے مصنوع ناک لگائی تھی ، یقینا ناک کو وضو میں دھویا جاتا ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔