مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

داماد کے ساتھ پردہ رکھنا ضروری ہے یا نہیں؟ قرآن کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

داماد سے پردے کا کیا حکم ہے؟

جواب :

داماد محارم میں سے ہے یعنی ان مردوں میں سے ہے جن سے عورت کی شادی شرعاً جائز نہیں ہے۔ کیونکہ محرمات کا تذکرہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿وَأُمَّهَاتُ نِسَائِكُمْ﴾
(النساء: 23)
”اور تمھاری بیویوں کی مائیں۔“
یعنی یہ بھی حرام ہیں اور یہ اہل علم کا اجماعی مسئلہ ہے۔ مذکورہ آیت کی رو سے بیوی کی ماں، اس کی دادی اور نانی اس کے خاوند کے لیے حرام ہیں۔ لہذا ساس کے لیے داماد سے پردہ نہیں ہے، وہ اپنے داماد کے ساتھ کھانے میں شریک ہو سکتی ہے، اس کے ساتھ بوقت ضرورت کہیں جانا پڑ جائے تو جا سکتی ہے۔ اگر ایسا کرتی ہے تو الفت و محبت کی پائیداری کے لیے یہ زیادہ بہتر اور زیادہ افضل ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔