مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

دادا کی وراثت میں پوتے کا حق

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 586

سوال

کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ مرحوم سوزل کے چھ بیٹے:

◈ جان محمد
◈ خدا بخش
◈ محمد یوسف
◈ محمد یعقوب
◈ جڑیو
◈ محمد حیات

اور ایک بیٹی تھی۔

سوزل کی زندگی ہی میں اس کی بیٹی اور دو بیٹے (جان محمد اور خدا بخش) وفات پا گئے۔ اسی طرح سوزل کی بیوی بھی سوزل کی زندگی میں ہی وفات پا گئی۔

سوزل کے پاس گھر کا ایک پلاٹ ہے جس پر سوزل کا پوتا دودو ولد جان محمد قابض ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پلاٹ کا حقیقی وارث کون ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ سوال کے مطابق سوزل دادا ہے اور دودو اس کا پوتا ہے۔
لہٰذا شریعتِ محمدی کے مطابق پوتا (دودو) اپنے دادا کی وراثت کا شرعی مالک نہیں ہے۔ اس لیے یہ پلاٹ دودو کو نہیں ملے گا۔

بلکہ اس پلاٹ کے حقیقی وارث سوزل کے بیٹے ہیں۔
لہٰذا یہ پلاٹ سوزل کے زندہ بیٹوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا، یعنی یہ پلاٹ:

◈ محمد یوسف
◈ محمد یعقوب
◈ جڑیو
◈ محمد حیات

کو دیا جائے گا۔

باقی، وہ بیٹے جو باپ کی زندگی ہی میں فوت ہو گئے اور ان کے پوتے، زندہ بیٹوں کی موجودگی میں حصہ نہیں پاتے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔