سوال
کیافرماتے ہیں علماء دین اس مسئلہ میں کہ مرحوم سوزل کے چھ بیٹے:
◈ جان محمد
◈ خدا بخش
◈ محمد یوسف
◈ محمد یعقوب
◈ جڑیو
◈ محمد حیات
اور ایک بیٹی تھی۔
سوزل کی زندگی ہی میں اس کی بیٹی اور دو بیٹے (جان محمد اور خدا بخش) وفات پا گئے۔ اسی طرح سوزل کی بیوی بھی سوزل کی زندگی میں ہی وفات پا گئی۔
سوزل کے پاس گھر کا ایک پلاٹ ہے جس پر سوزل کا پوتا دودو ولد جان محمد قابض ہے۔ سوال یہ ہے کہ اس پلاٹ کا حقیقی وارث کون ہے؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
معلوم ہونا چاہیے کہ مذکورہ سوال کے مطابق سوزل دادا ہے اور دودو اس کا پوتا ہے۔
لہٰذا شریعتِ محمدی کے مطابق پوتا (دودو) اپنے دادا کی وراثت کا شرعی مالک نہیں ہے۔ اس لیے یہ پلاٹ دودو کو نہیں ملے گا۔
بلکہ اس پلاٹ کے حقیقی وارث سوزل کے بیٹے ہیں۔
لہٰذا یہ پلاٹ سوزل کے زندہ بیٹوں میں برابر تقسیم کیا جائے گا، یعنی یہ پلاٹ:
◈ محمد یوسف
◈ محمد یعقوب
◈ جڑیو
◈ محمد حیات
کو دیا جائے گا۔
باقی، وہ بیٹے جو باپ کی زندگی ہی میں فوت ہو گئے اور ان کے پوتے، زندہ بیٹوں کی موجودگی میں حصہ نہیں پاتے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب