مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خیبر کے روز تلوار جبرائیل علیہ السلام کے ہاتھ میں تھی

فونٹ سائز:
تالیف: حافظ محمد انور زاہد حفظ اللہ

مسیب بن عبد الرحمن جو جنگ قادسیہ میں شریک ہوئے تھے، فرماتے ہیں۔ میں حضرت حذیفہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ وہ مجھ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے غزوات بیان فرمانے لگے انہوں نے فرمایا جب علی رضی اللہ عنہ نے روز خیبر حملہ کی تیاری کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا۔
اے علی رضی اللہ عنہ ! میرا باپ تجھ پر قربان قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ میں میری جان ہے، تیرے ساتھ وہ ہستی ہے جو تجھے کبھی رسوا نہ کرے گی۔ تیرے دائیں جبرائیل علیہ السلام ہیں ان کے ہاتھ میں تلوار ہے کہ اگر اسے پہاڑوں پر مار دیں تو وہ بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو جائیں۔
اے علی رضی اللہ عنہ ! تجھے رضوان اور جنت کی خوشخبری ہو۔ اے علی رضی اللہ عنہ ! تو عرب کا سردار ہے اور میں اولاد آدم کا سردار ہوں۔
[ميزان الاعتدال : 430/6 وذكره الحافظ ابن حجر رحمه الله فى اللسان المغني : 95912]
یہ حدیث کافی طویل ہے۔ افسوس کہ امام ذہبی نے اس کا صرف اتنا ابتدائی حصہ بیان کیا۔ امام بخاری رحمہ اللہ فرماتے ہیں مسیب کی یہ روایت منکر ہے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔