مرکزی مواد پر جائیں
21 شعبان، 1447 ہجری

خوشحال زندگی کے 12 سنہری اصول: قرآن و سنت کی روشنی میں مکمل رہنمائی

فونٹ سائز:
ماخذ: خطبات حافظ محمد اسحاق زاہد، مرتب کردہ: توحید ڈاٹ کام
مضمون کے اہم نکات

اللہ تعالیٰ نے تمام انسانوں کو مٹی سے پیدا کیا اور حضرت آدم علیہ السلام کو سب کا باپ بنایا۔ اس اعتبار سے بنیاد ایک ہے، مگر انسان شکل و صورت، رنگ، قد، معاشی حالت اور ایمان و عمل میں مختلف ہیں۔ کوئی امیر ہے کوئی غریب، کوئی سخی ہے کوئی بخیل، کوئی مومن ہے کوئی کافر، کوئی نیک ہے کوئی بدکردار۔ لیکن ان سب کے باوجود انسان ایک بات پر متفق ہے: خوشحال زندگی کی تمنا۔

❀ تاجر کاروبار بڑھانے اور نفع کمانے میں دن رات لگتا ہے، مزدور پسینہ بہا کر محنت کرتا ہے—مقصد دونوں کا خوشحالی ہے۔
❀ عبادت گزار فرائض و نوافل میں لگا رہتا ہے اور فاسق و فاجر نافرمانی میں—لیکن دونوں چاہتے ہیں کہ زندگی میں دکھ نہ ہو۔

پس سوال یہ ہے:
➊ کیا خوشحالی ہر ایک کو ملتی ہے؟
➋ پریشانیوں سے نجات کے حقیقی اسباب کیا ہیں؟
➌ وہ کون سا راستہ ہے جس پر چل کر خوشگوار زندگی ملتی ہے؟

آج تقریباً ہر شخص کسی نہ کسی پریشانی میں مبتلا ہے: روزگار، قرض، بیماری، گھریلو جھگڑے، اولاد کی نافرمانی، دشمن کا خوف، اپنوں کی جدائی… ہر کوئی نجات چاہتا ہے۔ قرآن و سنت ہمیں اس کا واضح راستہ دکھاتے ہیں۔

پہلا اصول: ایمان اور عمل صالح

خوشگوار زندگی کا پہلا اور بنیادی اصول ایمان اور عمل صالح ہے۔ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿ مَنْ عَمِلَ صَالِحًا مِّنْ ذَکَرٍ أَوْ أُنْثیٰ وَہُوَ مُؤْمِنٌ فَلَنُحْیِیَنَّہُ حَیَاۃً طَیِّبَۃً وَلَنَجْزِیَنَّہُمْ أَجْرَہُمْ بِأَحْسَنِ مَا کَانُوْا یَعْمَلُوْنَ﴾
(النحل16:97)
ترجمہ: “جو شخص نیک عمل کرے، مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ایمان والا ہو، تو ہم اسے یقیناً بہت ہی پاکیزہ (اچھی) زندگی عطا کریں گے، اور ہم انہیں ان کے اعمال کا بہترین بدلہ ضرور دیں گے۔”

اور فرمایا:
﴿ اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَعَمِلُوْا الصَّالِحَاتِ طُوْبیٰ لَہُمْ وَحُسْنُ مَآبٍ﴾
(الرعد13:29)
ترجمہ: “جو لوگ ایمان لائے اور نیک عمل کیے، ان کے لیے خوشخبری (خوشحالی) ہے اور بہترین ٹھکانا بھی۔”

ان آیات میں کامیاب زندگی کی دو شرطیں واضح ہیں:
◈ ➊ ایمان
◈ ➋ عمل صالح (با کردار، با اخلاق، فرائض کی پابندی)

اور اللہ تعالیٰ اپنے وعدے میں سچا ہے:
﴿ إِنَّ اللّٰہَ لاَ یُخْلِفُ الْمِیْعَادَ﴾
(آل عمران3:99)
ترجمہ: “یقیناً اللہ وعدہ خلافی نہیں کرتا۔”

ایمان و عمل صالح کے تقاضے

اگر انسان سچا مومن ہو اور ایمان کے تقاضے پورے کرے، ساتھ ساتھ باعمل ہو:
❀ نمازوں کا پابند ہو
❀ زکاۃ ادا کرے
❀ رمضان کے روزے بلا عذر نہ چھوڑے
❀ والدین و رشتہ داروں سے حسن سلوک کرے
❀ لین دین میں سچائی اور وعدہ پورا کرے
❀ دھوکہ، فراڈ اور بددیانتی سے بچے
❀ حلال رزق کمائے

تو اللہ تعالیٰ دنیا میں خیر و برکت عطا فرماتا ہے اور آخرت میں جنت کا اجر جدا ہے۔

اس کے برعکس جو شخص فاسق، بدکردار اور بد اخلاق ہو—نماز کی پروا نہ کرے، زکاۃ نہ دے، روزوں میں سستی کرے، حج میں کوتاہی کرے، والدین سے بدسلوکی کرے، حقوق مارے، جھوٹ، دھوکہ، بددیانتی اور حرام کمائی اختیار کرے—تو اسے لاکھ کوشش کے باوجود حقیقی خوشگوار زندگی نصیب نہیں ہو سکتی۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَمَنْ أَعْرَضَ عَنْ ذِکْرِیْ فَإِنَّ لَہُ مَعِیْشَۃً ضَنْکًا وَّنَحْشُرُہُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ أَعْمیٰ ٭ قَالَ رَبِّ لِمَ حَشَرْتَنِیْ أَعْمیٰ وَقَدْ کُنْتُ بَصِیْرًا ٭ قَالَ کَذٰلِکَ أَتَتْکَ آیَاتُنَا فَنَسِیْتَہَا وَکَذٰلِکَ الْیَوْمَ تُنْسیٰ﴾
(طہ20:126-124)
ترجمہ: “اور جو شخص میرے ذکر سے روگردانی کرے گا، وہ دنیا میں یقیناً تنگ حال رہے گا اور روزِ قیامت ہم اسے اندھا کرکے اٹھائیں گے۔ وہ کہے گا: اے میرے رب! تو نے مجھے اندھا کیوں اٹھایا حالانکہ میں دیکھنے والا تھا؟ اللہ کہے گا: اسی طرح تمہارے پاس ہماری آیات آئیں تو تم نے انہیں بھلا دیا، اور اسی طرح آج تم بھی بھلا دیے جاؤ گے۔”

توحید: ایمان باللہ کا سب سے بڑا تقاضا

خوشحالی کے لیے دینِ الٰہی کو مضبوطی سے تھامنا لازم ہے۔ سب سے بڑا حکم:
❀ صرف اللہ کی عبادت
❀ اسی کو پکارنا
❀ نفع و نقصان کا مالک صرف اسی کو ماننا
❀ “داتا، مددگار، حاجت روا، مشکل کشا” کے حقیقی معنی میں صرف اللہ کو سمجھنا

جو لوگ غیر اللہ کے آگے جھکتے، نذر و نیاز پیش کرتے اور غیر اللہ سے مدد مانگتے ہیں، انہیں ذلت و خواری کے سوا کچھ نہیں ملتا۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَمَنْ یُّشْرِکْ بِاللّٰہِ فَکَأَنَّمَا خَرَّ مِنَ السَّمَآئِ فَتَخْطَفُہُ الطَّیْرُ أَوْ تَہْوِیْ بِہِ الرِّیْحُ فِیْ مَکاَنٍ سَحِیْقٍ﴾
(الحج22:31)
ترجمہ: “اور جو شخص اللہ کے ساتھ شریک ٹھہراتا ہے، وہ ایسا ہے گویا آسمان سے گر پڑا، پھر پرندے اسے اچک لے جائیں یا تیز ہوا اسے کسی دور دراز جگہ میں پھینک دے۔”

اتباعِ رسول ﷺ: ایمان بالرسل کا لازمی تقاضا

اللہ تعالیٰ کا دوسرا بڑا حکم: رسول اللہ ﷺ کی اتباع اور نافرمانی سے اجتناب۔ بدعات اور سنت سے اعراض دنیا میں فتنوں کا سبب اور آخرت میں محرومی کا ذریعہ بنتا ہے۔
﴿ فَلْیَحْذَرِالَّذِیْنَ یُخَالِفُوْنَ عَنْ أَمْرِہٖ أَنْ تُصِیْبَہُمْ فِتْنَۃٌ أَوْ یُصِیْبَہُمْ عَذَابٌ أَلِیْمٌ﴾
(النور24:63)
ترجمہ: “پس جو لوگ (رسول ﷺ) کے حکم کی مخالفت کرتے ہیں، انہیں ڈرنا چاہیے کہ کہیں وہ کسی فتنہ میں مبتلا نہ کر دیے جائیں یا ان پر دردناک عذاب نہ آ جائے۔”

خلاصہِ اصولِ اوّل

کامیاب زندگی کی بنیاد ایمان + عمل صالح ہے۔ توحید پر قائم رہنا اور سنت کی کامل اتباع کرنا اسی کی روح ہے۔

دوسرا اصول: نماز

کامیاب اور خوشحال زندگی کا دوسرا اصول نماز ہے، جو اللہ کا قرب حاصل کرنے کا بہترین ذریعہ ہے۔ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا:

(( أَقْرَبُ مَا یَکُوْنُ الْعَبْدُ مِنْ رَبِّہٖ وَہُوَ سَاجِدٌ فَأَکْثِرُوا الدُّعَائَ ))
(صحیح مسلم:482)
ترجمہ: “بندہ اپنے رب کے سب سے زیادہ قریب اس وقت ہوتا ہے جب وہ سجدے میں ہوتا ہے، لہٰذا سجدے میں زیادہ دعا کیا کرو۔”

اللہ تعالیٰ نے نماز کے ذریعے مدد طلب کرنے کا حکم دیا:
﴿ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اسْتَعِیْنُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَۃِ إِنَّ اللّٰہَ مَعَ الصَّابِرِیْنَ﴾
(البقرۃ2:1539)
ترجمہ: “اے ایمان والو! (جب کوئی مشکل پیش آئے تو) صبر اور نماز کے ذریعے مدد طلب کرو، یقیناً اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔”

نماز دلوں کا اطمینان، غموں کا مداوا اور مشکلات کے وقت اللہ کی مدد کا سبب ہے۔ اسی لیے نبی ﷺ نے فرمایا:
(( … وَجُعِلَتْ قُرَّۃُ عَیْنِیْ فِیْ الصَّلَاۃِ ))
(أحمد، نسائی۔ صحیح الجامع للألبانی:3124)
ترجمہ: “میری آنکھوں کی ٹھنڈک نماز میں رکھی گئی ہے۔”

ایک عبرتناک قصہ: نماز کے ذریعے مدد کی حقیقت

حافظ ابن عساکر رحمہ اللہ نے تاریخ دمشق میں ذکر کیا ہے کہ ایک فقیر آدمی اپنے خچر پر لوگوں کو سوار کر کے دمشق سے زیدانی تک پہنچاتا اور کرایہ لیتا تھا۔ اس نے اپنا ایک واقعہ یوں سنایا:

ایک مرتبہ میرے ساتھ ایک آدمی سوار ہوا۔ راستے میں اس نے کہا: “یہ راستہ چھوڑ دو اور دوسرے راستے سے چلو، اس سے ہم جلدی پہنچ جائیں گے۔” میں نے کہا: “میں وہ راستہ نہیں جانتا، اور یہی راستہ زیادہ قریب ہے۔” اس نے اصرار کیا: “نہیں، تمہیں اسی سے جانا ہوگا، وہی زیادہ قریب ہے۔” چنانچہ ہم اسی راستے پر چل پڑے۔

آگے جا کر ایک انتہائی دشوار گزار راستہ آیا جو ایک گہری وادی میں اترتا تھا، اور وہاں بہت سی لاشیں پڑی تھیں۔ اس نے کہا: “یہیں رک جاؤ!” میں رک گیا۔ وہ نیچے اترا اور اترتے ہی چھری سے مجھ پر حملہ آور ہو گیا۔ میں بھاگ کھڑا ہوا—میں آگے آگے اور وہ میرے پیچھے پیچھے۔ آخر میں نے اسے اللہ کی قسم دے کر کہا: “خچر اور اس پر لدا میرا سامان لے لو، بس میری جان بخش دو!” اس نے کہا: “یہ تو میرا ہے ہی، میں تمہیں قتل کر کے ہی دم لوں گا!”

میں نے اسے اللہ سے ڈرایا، قتل کی سزا یاد دلائی، مگر اس نے ایک نہ سنی۔ پھر میں نے کہا: “بس مجھے دو رکعت نماز پڑھنے کی مہلت دے دو!” اس نے کہا: “ٹھیک ہے، جلدی پڑھ لو!”

میں قبلہ رخ ہو کر نماز میں کھڑا ہو گیا، مگر خوف اتنا شدید تھا کہ زبان پر قرآن کا ایک حرف بھی نہیں آ رہا تھا۔ ادھر وہ بار بار کہتا: “جلدی ختم کرو!” میں سخت حیران و پریشان تھا۔ آخرکار اللہ تعالیٰ نے میری زبان پر قرآن مجید کی یہ آیت جاری کر دی:

﴿ أَمَّنْ یُّجِیْبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاہُ وَیَکْشِفُ السُّوْئَ﴾
ترجمہ: “بھلا کون ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے جب وہ اسے پکارتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے؟”

پھر میں نے اچانک دیکھا کہ ایک گھوڑ سوار، ہاتھ میں نیزہ لیے، وادی کے دہانے سے نمودار ہو رہا ہے۔ اس نے آتے ہی نیزہ اس شخص کو دے مارا جو مجھے قتل کرنے کے درپے تھا۔ نیزہ اس کے دل میں پیوست ہوا اور وہ مر گیا۔ میں نے گھوڑ سوار سے اللہ کا واسطہ دے کر پوچھا: “تم کون ہو؟” اس نے کہا:

“مجھے اس نے بھیجا ہے جو لاچار کی فریاد رسی کرتا ہے اور اس کی تکلیف کو دور کر دیتا ہے!”

پھر میں اپنا خچر اور سامان لے کر سلامتی سے واپس لوٹ آیا۔

یہ قصہ واضح دلیل ہے کہ بندۂ مومن جب نماز کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مدد مانگتا ہے تو اللہ اسے بے یار و مددگار نہیں چھوڑتا، بلکہ مشکل کے وقت غیر متوقع انداز سے راستہ کھول دیتا ہے۔

نماز کی ترجیحات: فرض، سنت، نفل اور تہجد

یاد رہے کہ سب سے پہلے فرض نمازوں کا اہتمام ضروری ہے کیونکہ یہی دین کا ستون ہیں۔ اس کے بعد سنت و نفل—خصوصاً فرائض سے پہلے اور بعد کی سنتیں—پھر تہجد۔

تہجد کے متعدد فوائد میں ایک عظیم فائدہ یہ بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ تہجد گزار کو جسمانی بیماریوں سے شفا عطا فرماتا ہے۔ رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے:

(( عَلَیْکُمْ بِقِیَامِ اللَّیْلِ،فَإِنَّہُ دَأْبُ الصَّالِحِیْنَ قَبْلَکُمْ،وَہُوَ قُرْبَۃٌ إِلٰی رَبِّکُمْ، وَمُکَفِّرٌ لِّلسَّیِّئَاتِ،وَمَنْہَاۃٌ لِلْآثَامِ،وَمَطْرَدَۃٌ لِلدَّائِ عَنِ الْجَسَدِ ))
(أحمد والترمذی :صحیح الجامع للألبانی:4079)
ترجمہ: “تم رات کا قیام ضرور کیا کرو، کیونکہ یہ تم سے پہلے صالحین کی عادت تھی۔ اور رات کا قیام اللہ کے قریب کرتا ہے، گناہوں کو مٹاتا ہے، برائیوں سے روکتا ہے، اور جسمانی بیماری کو دور کرتا ہے۔”

خلاصۂ اصولِ نماز

جب دکھ، صدمے اور پریشانیاں دل کو بے چین کر دیں تو وضو کر کے اللہ کے حضور کھڑے ہوں، سجدے میں گریہ و مناجات کریں، گناہوں پر ندامت کریں اور مشکل کے ازالے کی دعا کریں—اللہ کے حکم سے بے چینی ختم، سکون پیدا اور راستے آسان ہو جائیں گے۔

تیسرا اصول: تقویٰ

کامیاب و خوشحال زندگی اور پریشانیوں سے نجات کے لیے تیسرا عظیم اصول تقویٰ ہے، خاص طور پر ان لوگوں کے لیے جو بے روزگاری، غربت اور قرضوں کی وجہ سے پریشان رہتے ہیں۔

تقویٰ سے مراد یہ ہے کہ بندہ اللہ تعالیٰ سے ایسا خوف کھائے جو اسے نافرمانی اور حرام سے روک دے۔ جب دل میں یہ خوف راسخ ہو جائے اور انسان پرہیزگار بن کر حرام سے بچنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے واضح وعدہ فرمایا ہے:

﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مَخْرَجًا ٭ وَّیَرْزُقْہُ مِنْ حَیْثُ لاَ یَحْتَسِبُ﴾
(الطلاق65 :3-2)
ترجمہ: “اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے لیے (ہر تنگی سے) نکلنے کی راہ بنا دیتا ہے، اور اسے وہاں سے رزق دیتا ہے جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوتا۔”

اور فرمایا:
﴿ وَمَنْ یَّتَّقِ اللّٰہَ یَجْعَلْ لَّہُ مِنْ أَمْرِہٖ یُسْرًا﴾
(الطلاق65 :4)
ترجمہ: “اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے کام میں آسانی پیدا کر دیتا ہے۔”

نیز فرمایا:
﴿وَلَوْ أَنَّ أَہْلَ الْقُریٰ آمَنُوْا وَاتَّقَوْا لَفَتَحْنَا عَلَیْہِمْ بَرَکَاتٍ مِّنَ السَّمَآئِ وَالْأَرْضِ﴾
(الأعراف7:96)
ترجمہ: “اور اگر بستیوں والے ایمان لاتے اور (اللہ کی نافرمانی سے) بچتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین کی برکتوں کے دروازے کھول دیتے۔”

ان آیات سے واضح ہوتا ہے کہ تقویٰ اختیار کرنے سے:
◈ پریشانیوں سے نکلنے کی راہیں کھلتی ہیں
◈ معاملات میں آسانی پیدا ہوتی ہے
◈ رزق اور برکت کے دروازے کھلتے ہیں

خود احتسابی: خوشحالی کی تمنا اور نافرمانی کی حقیقت

اب ذرا ہم اپنا جائزہ لیں: ہم خوشحالی چاہتے بھی ہیں مگر نافرمانی بھی جاری رکھتے ہیں—مثلاً نماز میں سستی، جھوٹ، غیبت، چغل خوری، سودی لین دین، والدین و رشتہ داروں سے بدسلوکی، فلم بینی اور گانے وغیرہ۔ تو کیا ایسی حالت میں خوشحالی ممکن ہے؟ کیا یوں پریشانیوں کا ازالہ ہو سکتا ہے؟

یاد رہے: نافرمانیوں کے ساتھ خوشحالی تو بہت دور کی بات ہے، موجودہ نعمتیں چھن جانے کا بھی خطرہ ہوتا ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام اور حضرت حواء علیہا السلام کے واقعے میں یہی سبق ہے: ایک منع کیے گئے درخت کے قریب جانے پر جب انہوں نے چکھا تو نعمتوں سے محرومی اور زمین پر اترنا ہوا۔ آج ہم گناہ پر گناہ کرتے جائیں اور پھر خوشحالی چاہیں—یہ محض غلط فہمی ہے۔ اگر واقعی خوشحال زندگی چاہیے تو نافرمانیوں سے قطعی اجتناب لازم ہے۔

چوتھا اصول: توبہ اور استغفار

انسان پر جو بھی مصیبت آتی ہے—چاہے جسمانی بیماری ہو، ذہنی و روحانی اذیت ہو، کاروباری نقصان ہو یا گھریلو جھگڑے—یہ سب اس کے اپنے گناہوں کا نتیجہ ہوتے ہیں۔ اس لیے ان مصائب سے نجات کا سب سے مؤثر ذریعہ سچی توبہ اور کثرتِ استغفار ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے اور ان کی پریشانیاں دور فرما دیتا ہے۔

اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:
﴿ وَمَا أَصَابَکُمْ مِّنْ مُّصِیْبَۃٍ فَبِمَا کَسَبَتْ أَیْدِیْکُمْ وَیَعْفُوْ عَنْ کَثِیْرٍ﴾
(الشوریٰ42:30)
ترجمہ: “اور تمہیں جو بھی مصیبت پہنچتی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کرتوتوں کی وجہ سے ہوتی ہے، اور وہ (اللہ) بہت سی باتوں سے درگزر بھی فرما دیتا ہے۔”

استغفار کے فوائد بیان کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا ٭ یُرْسِلِ السَّمَآئَ عَلَیْکُمْ مِّدْرَارًا ٭ وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَلْ لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَّیَجْعَلْ لَّکُمْ أَنْہَارًا﴾
(نوح71:12-10)
ترجمہ: “پس میں نے کہا: اپنے رب سے معافی مانگو، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے۔ وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا، تمہیں مال اور بیٹوں سے مدد دے گا، تمہارے لیے باغات بنائے گا اور نہریں جاری کرے گا۔”

یہ تمام نعمتیں دراصل خوشحالی اور سعادتمندی کی علامت ہیں، اور ان کا راستہ استغفار سے ہو کر گزرتا ہے۔

پانچواں اصول: دعا

خوشحال زندگی کے حصول کا پانچواں اصول دعا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ سے براہِ راست سوال کرنا، کیونکہ خوشحالی کے تمام خزانے اسی کے پاس ہیں اور مصائب سے نجات دینے والا بھی وہی ہے۔

حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( إِنَّ اللّٰہَ حَیِیٌّ کَرِیْمٌ یَسْتَحْیِیْ إِذَا رَفَعَ الرَّجُلُ إِلَیْہِ یَدَیْہِ أَنْ یَرُدَّہُمَا صِفْرًا خَائِبَتَیْنِ))
(سنن الترمذی:3556، ابو داود:1488، سنن ابن ماجہ:3865، وصححہ الألبانی)
ترجمہ: “بے شک اللہ تعالیٰ حیا والا اور کریم ہے، بندہ جب اس کی طرف ہاتھ اٹھاتا ہے تو اسے حیا آتی ہے کہ وہ انہیں خالی اور ناکام واپس لوٹا دے۔”

دعا کرنے سے تین میں سے ایک فائدہ ضرور حاصل ہوتا ہے:
➊ دعا قبول ہو جاتی ہے
➋ آخرت کے لیے ذخیرہ بن جاتی ہے
➌ کسی آنے والی مصیبت کو ٹال دیا جاتا ہے

یہ سب صحیح احادیث سے ثابت ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:
﴿وَإِذَا سَأَلَکَ عِبَادِیْ عَنِّیْ فَإِنِّیْ قَرِیْبٌ أُجِیْبُ دَعْوَۃَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ﴾
(البقرۃ2:186)
ترجمہ: “اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں پوچھیں تو میں قریب ہوں، دعا کرنے والے کی دعا قبول کرتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔”

چھٹا اصول: ذکرِ الٰہی

پریشان دلوں کے سکون اور مضطرب نفس کے اطمینان کے لیے چھٹا اصول ذکرِ الٰہی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿اَلَّذِیْنَ آمَنُوْا وَتَطْمَئِنُّ قُلُوْبُہُمْ بِذِکْرِ اللّٰہِ أَلاَ بِذِکْرِ اللّٰہِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوْبُ﴾
(الرعد13:28)
ترجمہ: “جو لوگ ایمان لائے، ان کے دل اللہ کے ذکر سے مطمئن ہو جاتے ہیں، خبردار! دل اللہ کے ذکر ہی سے مطمئن ہوتے ہیں۔”

سب سے افضل ذکر لا إلہ إلا اللہ ہے، پھر قرآن کی تلاوت، پھر تسبیحات جیسے:
❀ سبحان اللہ
❀ الحمد للہ
❀ اللہ اکبر
❀ لا حول ولا قوۃ إلا باللہ

افسوس کہ آج بہت سے لوگ غم ہلکا کرنے کے لیے گانے اور فلموں کا سہارا لیتے ہیں، حالانکہ یہ حرام ہیں اور دل کے سکون کے بجائے مزید بے چینی کا سبب بنتے ہیں۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَیَکُوْنَنَّ مِنْ أُمَّتِیْ أَقْوَامٌ یَسْتَحِلُّوْنَ الْحِرَ، وَالْحَرِیْرَ، وَالْخَمْرَ، وَالْمَعَازِفَ))
(صحیح البخاری:5590)
ترجمہ: “میری امت میں ایسے لوگ ضرور ہوں گے جو زنا، ریشم، شراب اور موسیقی کو حلال سمجھ لیں گے۔”

ساتواں اصول: شکر

خوشحال زندگی کا ساتواں اصول شکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا ہے کہ شکر کرنے سے نعمتیں بڑھتی ہیں:

﴿وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّکُمْ لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَأَزِیْدَنَّکُمْ وَلَئِنْ کَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْدٌ﴾
(إبراہیم14:7)
ترجمہ: “اگر تم شکر کرو گے تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا، اور اگر ناشکری کرو گے تو میرا عذاب سخت ہے۔”

شکر محض زبان سے نہیں بلکہ عمل سے بھی ہونا چاہیے۔ رسول اللہ ﷺ راتوں کو طویل قیام کرتے حتیٰ کہ پاؤں سوج جاتے۔ جب حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وجہ پوچھی تو فرمایا:
(( أَفَلَا أُحِبُّ أَنْ أَکُوْنَ عَبْدًا شَکُوْرًا ))
(صحیح البخاری:4837، صحیح مسلم:2820)
ترجمہ: “کیا میں شکر گزار بندہ بننا پسند نہیں کرتا؟”

آٹھواں اصول: صبر

دنیا میں خوشحالی اور سعادتمندی کے حصول کا آٹھواں اصول صبر ہے۔ یعنی جب بندۂ مومن کو کوئی تکلیف، پریشانی یا آزمائش پیش آئے تو وہ اللہ تعالیٰ کی تقدیر پر راضی رہے، گھبراہٹ اور شکوہ کے بجائے صبر و تحمل اختیار کرے اور اللہ سے اجر و ثواب کی امید رکھے۔ ایسا کرنے سے اللہ تعالیٰ اس کے گناہوں کو مٹا دیتا ہے اور اسے قلبی سکون عطا فرماتا ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ وَلَنَبْلُوَنَّکُمْ بِشَیْئٍ مِّنَ الْخَوْفِ وَالْجُوْعِ وَنَقْصٍ مِّنَ الْأَمْوَالِ وَالْأَنْفُسِ وَالثَّمَرَاتِ وَبَشِّرِ الصَّابِرِیْنَ ٭ الَّذِیْنَ إِذَا أَصَابَتْہُمْ مُّصِیْبَۃٌ قَالُوْا إِنَّا لِلّٰہِ وَإِنَّا إِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ ٭ أُوْلٰئِکَ عَلَیْہِمْ صَلَوَاتٌ مِّنْ رَّبِّہِمْ وَرَحْمَۃٌ وَّأُوْلٰئِکَ ہُمُ الْمُہْتَدُوْنَ﴾
(البقرۃ2:157-155)
ترجمہ: “اور ہم تمہیں ضرور آزمائیں گے کچھ خوف، بھوک، مال و جان اور پھلوں کی کمی سے، اور صبر کرنے والوں کو خوشخبری دے دو۔ وہ لوگ کہ جب ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو کہتے ہیں: بے شک ہم اللہ ہی کے ہیں اور ہمیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے۔ یہی وہ لوگ ہیں جن پر ان کے رب کی طرف سے رحمتیں اور نوازشیں ہیں، اور یہی ہدایت یافتہ ہیں۔”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَا یُصِیْبُ الْمُسْلِمَ مِنْ نَصَبٍ وَلَا وَصَبٍ وَلَا ہَمٍّ وَلَا حَزَنٍ وَلَا أَذیً وَلاَ غَمٍّ،حَتّٰی الشَّوْکَۃُ الَّتِیْ یُشَاکُہَا إِلاَّ کَفَّرَ اللّٰہُ بِہَا مِنْ خَطَایَاہُ ))
(صحیح البخاری:5642، صحیح مسلم:2573)
ترجمہ: “مسلمان کو جو بھی تھکن، بیماری، غم، رنج یا تکلیف پہنچتی ہے حتیٰ کہ اگر کانٹا بھی چبھتا ہے تو اللہ اس کے بدلے اس کے گناہ مٹا دیتا ہے۔”

نواں اصول: توکل

خوشحال زندگی کا نواں اصول توکل ہے، یعنی ہر حال میں صرف اللہ تعالیٰ پر بھروسہ رکھنا۔ دشمنوں کے خوف، مستقبل کی بے یقینی اور رزق کی تنگی سے نجات کا واحد راستہ یہی ہے۔

اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
﴿ قُلْ لَّنْ یُصِیْبَنَا إِلَّا مَا کَتَبَ اللّٰہُ لَنَا ہُوَ مَوْلَانَا وَعَلیَ اللّٰہِ فَلْیَتَوَکَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ﴾
(التوبۃ9:51)
ترجمہ: “کہہ دیجئے! ہمیں ہرگز کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی مگر وہی جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے، وہی ہمارا کارساز ہے اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔”

اور فرمایا:
﴿ وَمَنْ یَّتَوَکَّلْ عَلَی اللّٰہِ فَہُوَ حَسْبُہُ ﴾
(الطلاق65:3)
ترجمہ: “اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو وہ اس کے لیے کافی ہے۔”

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( لَوْ أنَّکُمْ تَوَکَّلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ حَقَّ تَوَکُّلِہٖ لَرَزَقَکُمْ کَمَا یَرْزُقُ الطَّیْرَ ))
(صحیح الجامع للألبانی:5254)
ترجمہ: “اگر تم اللہ پر اس طرح بھروسہ کرو جیسا بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تمہیں ایسے رزق دے گا جیسے پرندوں کو دیتا ہے۔”

دسواں اصول: قناعت

دسواں اصول قناعت ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے جو رزق عطا کیا ہے اس پر راضی رہنا اور اپنے سے زیادہ والوں کو حسرت سے دیکھنے کے بجائے اپنے سے کم والوں کو دیکھنا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( اُنْظُرُوْا إِلیٰ مَنْ ہُوَ أَسْفَلَ مِنْکُمْ،وَلاَ تَنْظُرُوْا إِلیٰ مَنْ ہُوَ فَوْقَکُمْ ))
(صحیح مسلم:2963)
ترجمہ: “اپنے سے کم تر کو دیکھو، اپنے سے اوپر والے کو مت دیکھو، تاکہ اللہ کی نعمتوں کو حقیر نہ سمجھو۔”

اور فرمایا:
(( مَنْ أَصْبَحَ مِنْکُمْ مُعَافیً فِیْ جَسَدِہٖ،آمِنًا فِیْ سِرْبِہٖ،عِنْدَہُ قُوْتُ یَوْمِہٖ فَکَأَنَّمَا حِیْزَتْ لَہُ الدُّنْیَا ))
(سنن الترمذی:2346، سنن ابن ماجہ:4141)
ترجمہ: “جس نے اس حال میں صبح کی کہ وہ تندرست ہو، پرامن ہو اور اس کے پاس ایک دن کی خوراک ہو تو گویا اس کے لیے پوری دنیا جمع کر دی گئی۔”

گیارہواں اصول: فارغ اوقات کا درست استعمال

فارغ وقت اللہ تعالیٰ کی عظیم نعمت ہے، مگر اکثر لوگ اسے فضولیات میں ضائع کر دیتے ہیں۔ اس کے بجائے قرآن، حدیث، سیرت اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زندگیوں کا مطالعہ کیا جائے۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( نِعْمَتَانِ مَغْبُوْنٌ فِیْہِمَا کَثِیْرٌ مِنَ النَّاسِ: اَلصِّحَّۃُ وَالْفَرَاغُ ))
(صحیح البخاری:6412)
ترجمہ: “دو نعمتیں ایسی ہیں جن میں بہت سے لوگ گھاٹے میں ہیں: صحت اور فارغ وقت۔”

بارہواں اصول: مسلمانوں کی پریشانیاں دور کرنا

خوشحالی کا بارہواں اصول یہ ہے کہ آپ اپنے مسلمان بھائیوں کی مشکلات دور کریں۔ اللہ تعالیٰ آپ کی مشکلات آسان فرما دے گا۔

رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:
(( مَنْ أَرَادَ أَنْ تُسْتَجَابَ دَعْوَتُہُ وَأَنْ تُکْشَفَ عَنْہُ کُرْبَتُہُ،فَلْیُفَرِّجْ عَنْ مُعْسِرٍ))
(مسند احمد:23/2)
ترجمہ: “جو چاہتا ہو کہ اس کی دعا قبول ہو اور اس کی پریشانی دور ہو، وہ کسی تنگ دست کی تنگی دور کرے۔”

نتیجہ

اگر ہم واقعی باوقار، پرسکون اور خوشحال زندگی چاہتے ہیں تو ہمیں ان اصولوں کو محض پڑھنے تک محدود نہیں رکھنا بلکہ اپنی عملی زندگی کا حصہ بنانا ہوگا۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ان پر عمل کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔