مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ کا حکم

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

کیا خودکشی کرنے والے کی نماز جنازہ پڑھنا ممنوع ہے؟

جواب :

سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے :
”ایک آدمی بیمار ہو گیا، اس پر چیخ پکار کی گئی، اس کا پڑوسی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، اس نے کہا: ”وہ مر گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”تجھے کیسے معلوم ہوا ؟“ اس نے کہا: ”میں نے اسے دیکھا ہے۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ نہیں مرا۔“ وہ آدمی واپس لوٹا تو اس آدمی پر چیخ پکار کی جا رہی تھی، اس نے آ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا : ”وہ مر گیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”وہ نہیں مرا۔“ وہ پھر واپس لوٹا تو اس پر چیخ پکار کی جا رہی تھی۔ اس آدمی کی بیوی نے کہا : ”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر انہیں خبر دے۔“ تو اس آدمی نے کہا: ”اے اللہ ! اس پر لعنت کر۔“ پھر وہ آدمی اندر آ گیا۔ اس نے جا کر دیکھا کہ اس نے اپنے نیزے کے پھل کے ساتھ اپنا گلا کاٹ لیا ہے۔“ پھر وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی کہ وہ اب مر گیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ”تجھے کیسے معلوم ہوا ؟“ اس نے کہا: ”میں نے اسے دیکھا ہے کہ اس نے اپنے نیزے کے پھل سے اپنا گلا کاٹ لیا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :
« اذا لا اصلي عليه »
میں اس پر جنازہ نہیں پڑھوں گا۔“ [أبوداؤد، كتاب الجنائز : باب الإمام لا يصلي على من قتل نفسه 3185، ترمذي 161/2، ابن ماجه 1526، حاكم 364/1، بيهقي 19/4، مسند طيالسي 779، مسند أحمد 87/5]
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ خودکشی کرنے والے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نمازِ جنازہ نہیں پڑھی۔
مولانا عبدالرحمٰن مبارکپوری رحمہ اللہ نے مذکورہ روایت اور اس سے پہلے ایک خائن آدمی کی نمازِ جنازہ پڑھنے کی روایت نقل کر کے لکھا ہے :
”اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ فاسق بدکار مسلمان کے جنازہ کی نماز نہیں پڑھنی چاہیے۔ یہی مذہب حضرت عمر بن عبدالعزیز اور امام اوزاعی رحمۃ اللہ علیہما وغیرہ کا ہے۔ مگر امام مالک، امام شافعی اور امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہم کا مذہب یہ ہے کہ فاسق کے جنازے کی نماز پڑھنی چاہیے۔ وہ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کی اس حدیث کا جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود بذاتہ لوگوں کی عبرت و تنبیہ کے لیے نماز نہیں پڑھی تھی، لیکن صحابہ رضی اللہ عنہم نے پڑھی تھی۔“ اس کی تائید اس سے ہوتی ہے کہ نسائی کی روایت میں ہے : ”لیکن میں اس کے جنازے کی نماز نہیں پڑھوں گا۔“ [كتاب الجنائز ص/61، 62]
مندرجہ بالا بحث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ بہرکیف مسلم معاشرے کے ممتاز صاحبِ علم و بصیرت افراد ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ نہ پڑھائیں۔ البتہ عوام الناس پڑھ لیں کیونکہ مرنے والا مسلمان آدمی ہے۔ جب قوم کے ممتاز افراد ایسے لوگوں کی نمازِ جنازہ نہیں پڑھائیں گے تو اس طرح ایسے فاسق اور بے عمل افراد کو تنبیہ ہو گی اور برائی کی حوصلہ شکنی ہو گی۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔