مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خوارج کی نشانی اور سر کے بال منڈوانے کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 515

سوال

سنن ابن ماجہ میں باب الخوارج کے تحت ایک حدیث میں یہ ذکر ہے کہ ان (خوارج) کی نشانی یہ ہے کہ وہ پورا سر منڈواتے ہیں۔ کیا اس سے سر (یا دیگر اعضاء) کے بال منڈوانے کی ممانعت ثابت ہوتی ہے؟

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اس حدیث سے سر کے تمام بال منڈوانے کی ممانعت ثابت نہیں ہوتی، کیونکہ یہ صرف خوارج کی ایک نشانی کے طور پر بیان کی گئی ہے۔ نشانی کے طور پر بیان کی گئی چیز لازمی طور پر ممنوع نہیں ہوتی۔ مزید یہ کہ یہ نشانیاں بعض اوقات حق پرست لوگوں میں بھی پائی جاتی ہیں۔ لہٰذا صرف نشانی کے بیان ہونے سے ممانعت لازم نہیں آتی۔

صحیح سند کے ساتھ ابو داود میں یہ حدیث موجود ہے:

((عن ابن عمر رضى الله عنه أن النبى صلى الله عليه وسلم رأى صبيّاً قد حلق بعض رأسه وترك بعضه فنهاهم عن ذالك فقال: أحلقوه كله أو أتركوه كله))
سنن ابوداود، كتاب الترجل، باب في الذبي له رواية

یعنی: رسول اللہ ﷺ نے ایک بچے کو دیکھا جس کے سر کے کچھ بال مونڈے گئے تھے اور کچھ چھوڑ دیے گئے تھے۔ آپ ﷺ نے اس سے منع فرمایا اور ارشاد کیا: "یا تو پورا سر منڈوا دو یا پورا ہی چھوڑ دو۔”

اس حدیث سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ پورا سر منڈوانا ناجائز نہیں ہے، بلکہ منع صرف یہ ہے کہ کچھ بال مونڈے جائیں اور کچھ چھوڑ دیے جائیں۔

اسی طرح حج میں پورا سر منڈوانا بڑے اجر و ثواب کا باعث ہے۔ اگر سر منڈوانا ناجائز ہوتا تو حج جیسے عبادت میں اس کا حکم نہ دیا جاتا، کیونکہ حج میں کسی ایسی چیز کی اجازت نہیں دی جاتی جس کی پہلے ممانعت ہو۔

البتہ سر منڈوانے کے بجائے بال رکھنا افضل ہے، کیونکہ رسول اللہ ﷺ نے حج کے علاوہ کسی اور موقع پر پورا سر منڈوایا نہیں تھا۔ لہٰذا بال رکھنا سنت ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔