مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خواتین کے لیے سونے کے زیورات کا شرعی حکم حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

مشکوۃ کی جلد دوم میں حدیث ہے کہ اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو عورت سونے کا ہار پہنے قیامت کے دن اس کی گردن میں اس کی مانند آگ کا ہار پہنایا جائے گا اور جو عورت سونے کی بالیاں پہنے قیامت کے دن اس کے کان میں اس کی مانند آگ کی بالیاں پہنائی جائیں گی۔“ سوال یہ ہے کہ کیا خواتین کو بھی سونے کا استعمال منع ہے، یا حدیث میں وہ خواتین مراد ہیں جو نمائش کے طور پر زیور پہنتی ہیں؟

جواب :

خواتین کے لیے سونے کا زیور پہننا جائز ہے، خواہ گولائی والا ہو یا نہ ہو۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن حکیم میں فرمایا ہے :
﴿أَوَمَن يُنَشَّأُ فِي الْحِلْيَةِ وَهُوَ فِي الْخِصَامِ غَيْرُ مُبِينٍ﴾
(الزخرف: 18)
”کیا وہ جو زیور میں پرورش پائے اور جھگڑے کے وقت بات کی وضاحت نہ کر سکے۔“
اس آیت کریمہ میں عورت کی پرورش زیور میں بیان کر کے اللہ تعالیٰ نے زیورات پہننے کی تردید نہیں کی اور اس قول میں عموم ہے، زیور گولائی والا ہو یا کسی اور طرز پر تیار کیا گیا ہو، امام ابن کثیر رحمہ اللہ اس آیت کی تفسیر میں فرماتے ہیں:
المرأة ناقصة يحمل نقصها بلبس الحلي منذ تكون طفلة
(تفسیر ابن کثیر (519/5) بتحقیق عبد الرزاق المهدی)
”عورت ناقص ہے، اس کا نقص بچپن ہی سے زیور پہنا کر پورا کیا جاتا ہے۔“
امام مجاہد فرماتے ہیں: ”رخص للنساء فى الذهب والحرير“ ”عورتوں کو سونے اور ریشم کی اجازت دی گئی ہے۔“ اور پھر یہی آیت پڑھی۔ امام کیا الہراسی فرماتے ہیں: ”فيه دلالة على إباحة الحلي للنساء والإجماع منعقد عليه والأخبار فيه لا تحصى“ اس آیت کریمہ میں عورتوں کے لیے زیور مباح ہونے کی دلیل ہے اور اس پر اجماع منعقد ہے اور احادیث اس بارے میں شمار نہیں کی جاسکتیں۔
(تفسیر قرطبی (18/16)، مختصر قرطبی (02/2) تفسیر القرآن للکیا الہراسی (391/4))
ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حرم لباس الحرير والذهب على ذكور أمتي وأحل لإناثهم
(مسند احمد (393/1 ج: 19732)، نسائی کتاب الزینۃ باب تحریم الذہب على الرجال (5151))
ریشم کا لباس اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام کیا گیا ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال کیا گیا ہے۔“
سیدنا عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
حرم لباس الحرير والذهب على ذكور أمتي وأحل لإناثهم
(تحفة الأخیار (6) ترتیب شرح مشکل الآثار (4197) (250/6))
”ریشم اور سونا میری امت کے مردوں پر حرام ہے اور ان کی عورتوں کے لیے حلال ہے۔ “
عبد اللہ بن زریر الغافقی کہتے ہیں:
سمعت عليا يقول أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم ذهبا بيمينه وحريرا بشماله ثم رفع بهما يديه فقال هذان حرام على ذكور أمتي
(مسند أحمد (96/1 ح: 750)، نسائی (0147 تا 5150)، ابوداود (4057)، ابن ماجه (3595)، ابن حبان (5434)، ابن سعد میں لَا جَلَّ لِأَنَاثِهِمْ کے الفاظ بھی ہیں۔ یہ حدیث حسن ہے)
میں نے علی رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ کہہ رہے تھے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ میں سونا اور بائیں ہاتھ میں ریشم پکڑا اور پھر دونوں ہاتھوں کو ان کے ساتھ بلند کیا اور فرمایا: یہ دونوں چیزیں میری امت کے مردوں پر حرام ہیں۔“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے:
أن امرأتين أتتا رسول الله صلى الله عليه وسلم وفي أيديهما سواران من ذهب فقال لهما أتؤديان زكاته قالتا لا قال فقال لهما رسول الله صلى الله عليه وسلم أتحبان أن يسوركما الله بسوارين من نار قالتا لا قال فأديا زكاته
(ترمذی باب ما جاء في زكوة الحلى (637)، أبو داود (1563) نسائی (140/4 ح: 7549)، شیخ البانی نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔ ارواء الغليل (296/3) ابن قطان نے اسے صحیح کہا ہے، نصب الرایة (370/2))
دو عورتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں اور ان کے ہاتھوں میں سونے کے کنگن تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے کہا: کیا تم ان کی زکوٰۃ ادا کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: ”نہیں“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم دونوں پسند کرتی ہو کہ اللہ تمھیں ان کے بدلے میں آگ کے کنگن پہنائے؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں!“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”پھر ان کی زکوٰۃ دو“۔
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے:
دخل على رسول الله صلى الله عليه وسلم فرأى فى يدي فتخات من ورق فقال ما هذا يا عائشة فقلت صنعتهن أتزين لك يا رسول الله قال أتؤدين زكاتهن قلت لا أو ما شاء الله قال هو حسبك من النار
(ابو داود کتاب الزكاة باب الكنز ما هو وزكاة الحلى (1565)، حاکم ( 389/1 ، 390 ح: 1437)، بیہقی (139/4 ح: 7547))
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاتھ میں چاندی کی چوڑیاں دیکھیں، آپ نے کہا: ”اے عائشہ! یہ کیا ہے؟“ میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں نے انھیں تیار کیا ہے کہ آپ کے لیے زینت بناؤں گی۔“ آپ نے فرمایا: ”کیا تم ان کی زکوٰۃ دیتی ہو؟“ میں نے کہا: ”نہیں، یا جو اللہ نے چاہا۔“ آپ نے فرمایا: ”یہ آگ سے تجھے کافی ہیں۔“
امام حاکم نے اسے شیخین کی شرط پر صحیح کہا اور امام ذہبی نے ان کی موافقت کی ہے، علامہ البانی نے فرمایا: ”یہ حدیث اسی طرح ہے جیسے حاکم وذہبی نے کہا۔“ (ارواء الغلیل (297/3)) ان احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ عورت سونے و چاندی کا زیور پہن سکتی ہے اور اس پر ان زیورات کی زکوٰۃ ہے، اگر زکوٰۃ ادا نہیں کرتی تو اس کی سزا جہنم کی آگ ہوگی۔
امام بیہقی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
فهذه الأخبار وما ورد فى معناها تدل على إباحة التحلي بالذهب للنساء واستدللنا بحصول الإجماع على إباحته لهن على نسخ الأخبار الدالة على تحريمه فيهن خاصة
(بیہقی (142/4))
”یہ اور جو دیگر احادیث اس معنی میں وارد ہوئی ہیں، عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کی اباحت پر دلالت کرتی ہیں اور خاص طور پر جن روایات میں عورتوں کے لیے سونے کی حرمت کا ذکر ہے، ان اخبار کے منسوخ ہونے پر ہم نے اجماع سے استدلال کیا ہے کہ عورتوں کے لیے سونے کے زیورات حلال ہیں۔“
امام نووی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
يجوز للنساء لبس الحرير والتحلي بالفضة وبالذهب بالإجماع الصحيحة
(المجموع (442/4))
عورتوں کے لیے ریشم پہننا اور سونے وچاندی کے زیورات پہننا احادیث صحیحہ کی رو سے بالاجماع جائز ہیں۔“
نیز فرماتے ہیں:
جمع المسلمون على أنه يجوز للنساء لبس أنواع الحلي من الفضة والذهب جميعا كالطوق والعقد والعلم والبار والخلخال والدمالج والقلائد والمحاني وكل ما يتخذ فى العنق وغيره وكل ما يعتاد لبسه ولا خلاف فى شيء من هذا
(المجموع (40/6))
”مسلمانوں کا اس بات پر اجماع ہے کہ عورتوں کے لیے سونے اور چاندی کا ہر طرح کا زیور جائز ہے، جیسے طوق، ہار، انگوٹھی،کنگن، پازیب، پہنچیاں، گلوبند، اور ہر وہ چیز جو گلے وغیرہ میں پہنی جاتی ہے اور ہر وہ چیز جسے پہنے کی وہ عادی ہوں، اس میں سے کسی چیز میں اختلاف نہیں۔“
صحیح بخاری میں براء بن عازب رضی اللہ عنہ کی وہ حدیث جس میں مردوں کو سات چیزوں سے منع کیا گیا، اس کی شرح میں حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
وإذا تقرر هذا فالنهي عن خاتم الذهب أو التختم به مختص بالرجال دون النساء فقد نقل الإجماع على إباحته للنساء
(فتح الباري (317/10))
”جب یہ بات مقرر ہو چکی تو یہ ممانعت جو سونے کی انگوٹھی کے متعلق آئی ہے، مردوں کے ساتھ خاص ہے، عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں اور عورتوں کے لیے اس کے حلال ہونے پر اجماع نقل کیا گیا۔“
پھر اس کے بعد ابن حجر و ابن ابی شیبہ سے ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث لائے ہیں کہ نجاشی نے سونے کی انگوٹھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ہدیہ بھیجی، تو آپ نے وہ انگوٹھی اپنی نواسی امامہ بنت زینب رضی اللہ عنہا کو پہنائی۔ ابوبکر جصاص رحمہ اللہ رقمطراز ہیں:
الأخبار الواردة فى إباحته للنساء عن النبى صلى الله عليه وسلم والصحابة أظهر وأشهر من أخبار الحظر ودلالة الآية أيضا ظاهرة فى إباحته للنساء وقد استفاض لبس الحلي بالماء منذ زمن النبى صلى الله عليه وسلم والصحابة إلى يومنا هذا من غير نكير من أحد عليهن
(أحكام القرآن (388/3))
عورتوں کے لیے سونے کے زیورات کے مباح ہونے پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اتنی زیادہ روایات مروی ہیں کہ ممانعت والی روایات سے زیادہ ظاہر اور مشہور ہیں اور اسی طرح آیات کی دلالت عورتوں کے لیے زیورات کے مباح ہونے پر واضح ہے اور عورتوں کا زیورات پہننا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے لے کر ہمارے اس دن تک بغیر کسی انکار کے مستفیض و مشہور ہو چکا ہے۔“
لہذا عورتوں کے لیے سونے کے زیورات پہننا بالکل واضح اور ظاہر ہے۔ رہی وہ روایت جو آپ نے ذکر کی ہے، وہ مشکوۃ المصابیح (4402)، ابوداؤد (4238) ، نسائی (157/8) اور مسند احمد (420/2) میں موجود ہے۔ اس کی سند میں محمود بن عمرو ہے جسے ابن حبان کے سوا کسی نے ثقہ قرار نہیں دیا اور ابن حبان کا راویوں کی توثیق کے بارے قاعدہ معروف ہے کہ ہر وہ راوی جس پر کسی نے جرح نہ کی ہو اسے انھوں نے کتاب الثقات میں درج کر دیا ہے۔ محمود بن لبید بن یزید بن اسکن کے بارے ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں مقبول ہے، یعنی متابعت کے وقت، ابن حزم نے اسے ضعیف کہا ہے۔ نیز دیکھیں المحلی (83/10) (1919)، امام ابن القطان الفاسی اسماء بنت یزید کی زیر بحث روایت کے تحت لکھتے ہیں:
علته هي أن محمود بن عمرو هذا مجهول الحال وإن كان قد روى عنه جماعة
(بيان الوهم والإبهام (590/3))
”اس روایت کی علت یہ ہے کہ محمود بن عمرو مجہول الحال ہے، اگر چہ اس سے ایک جماعت نے روایت کیا ہے۔“
لہذا یہ روایت ضعیف ہونے کی وجہ سے صحیح احادیث اور قرآنی دلالت کا معارضہ نہیں کر سکتی۔ پس اس تحقیق سے ثابت ہو گیا کہ عورتوں کے لیے سونے اور چاندی وغیرہ کے زیورات پہننا مباح اور جائز ہیں۔ البتہ خواتین پر لازم ہے کہ اپنے زیورات کی زکوٰۃ ادا کیا کریں۔ جن زیورات کی زکوٰۃ ادا کی جاتی ہے وہ کنز و خزانہ شمار نہیں ہوتے اور پہننے والی خاتون کے لیے جہنم جانے کا باعث نہیں بنتے۔

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔