خواتین کے اعتکاف کا طریقہ قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس اُم عبدمُنیب لی کتاب ”اعتکاف اور خواتین“ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

اعتکاف اور خواتین

اعتکاف کا لغوی مطلب ٹھہرنا رک جانا جم جانا ہے، شرعی اصطلاح میں اعتکاف کی تعریف ابن حجر رحمہ اللہ نے ان الفاظ میں کی ہے:
اعتكاف فى المسجد من شخص مخصوص على صفة مخصوصة
مخصوص شخص کا مخصوص صفت پر مسجد میں ٹھہرے رہنے کا نام اعتکاف ہے۔ (فتح الباری 271/4)
یعنی ثواب اور قرب الہی کی نیت سے اپنے آپ کو کسی مخصوص وقت کے لئے مسجد میں دنیوی اشغال اور حقوق العباد سے خود کو روک لینے کا نام اعتکاف ہے۔

◈ اعتکاف کی مدت:

اعتکاف رمضان میں بھی اور غیر رمضان میں بھی کیا جا سکتا ہے لیکن رمضان میں کیا گیا اعتکاف افضلیت رکھتا ہے، رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت ہے۔
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں دس دن اعتکاف کیا کرتے تھے جس سال آپ فوت ہوئے، اس سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس دن اعتکاف کیا۔ (صحیح بخاری 245/4)
اعتکاف گھنٹہ بھر کے لئے بھی کیا جا سکتا ہے اور طویل دنوں تک بھی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے زیادہ سے زیادہ بیس دن تک اعتکاف کیا جس کی دلیل مذکورہ بالا حدیث ہے۔
یعلی بن امیہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ جب میں مسجد جاتا ہوں خواہ ایک گھڑی کے لئے ہی جاؤں اعتکاف کی نیت کر لیتا ہوں۔
نفل اعتکاف کرنے والا جب چاہے اعتکاف ختم کر سکتا ہے، چاہے جس مدت کی نیت کی تھی اس سے پہلے ہی ختم کر دے اس پر کوئی گناہ یا قضا نہیں ہے لیکن واجب اعتکاف کے لئے ضروری ہے کہ جتنی مدت کی نیت کی تھی اتنی مدت پوری کی جائے۔

◈ اعتکاف کی شرائط:

اعتکاف کرنے والے کے لئے مندرجہ ذیل شرائط کا پایا جانا ضروری ہے۔
● مسلمان ہونا۔
● عاقل بالغ ہو، لہذا بچے کا اعتکاف نہیں ہوگا۔
بدن پاک ہو، اگر اعتکاف کے دوران معتکف کسی ایسے سبب سے جنبی ہو جائے جو اعتکاف کو باطل کرنے والا ہو مثلاً احتلام ہو جائے تو وہ جائے اعتکاف سے نکل کر غسل کے لئے جا سکتا ہے۔ غسل کر کے وہ دوبارہ مسجد میں داخل ہو جائے اس سے اس کا اعتکاف نہیں ٹوٹے گا بلکہ جاری رہے گا۔
اگر عورت کو حیض یا نفاس جاری ہو جائے تو جائے اعتکاف سے اٹھ جائے اور حیض و نفاس کے دن پورے کرنے کے بعد اس نے جتنے دنوں کے اعتکاف کی نیت کی تھی اس میں سے ابھی کچھ دن باقی ہوں تو وہ دوبارہ اعتکاف میں داخل ہو جائے اور باقی وقت اعتکاف ہی میں گزارے۔ اگر اعتکاف نفل نہیں بلکہ واجب ہے یعنی نذر کا اعتکاف تو ایسی صورت میں جتنے دنوں کے اعتکاف کی نیت کی تھی اتنے دنوں کی مدت پوری کرنا فرض ہے۔ (تفصیل کے لئے دیکھئے فقہ النساء از محمد عطیہ خمیس)
عورت کے لئے اعتکاف کی دو شرائط مزید ہیں جو مندرجہ ذیل ہیں:

❀ خاوند کی اجازت:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تصوم المرأة وزوجها شاهد يوما من غير رمضان إلا بإذنه
کوئی عورت اپنے شوہر کی موجودگی میں اس کی اجازت کے بغیر سوائے رمضان کے روزوں کے نفلی روزہ نہ رکھے۔ (سنن ترمذی، ابواب الصوم)
جب کہ صحیح بخاری میں ہے:
عورت کے لئے یہ حلال نہیں کہ اس کا شوہر موجود ہو اور وہ اس کی اجازت کے بغیر نفلی روزہ رکھے۔ (بخاری، مسلم)
لہذا عورت کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے خاوند کی اجازت کے بغیر اعتکاف بیٹھے۔ (المغنی 485/4 محدث ماہنامہ اکتوبر 2004ء)
جس طرح عورت کا نفل نماز اور نفل روزے کے لئے اپنے خاوند کی اجازت حاصل کرنا ضروری ہے، اسی طرح عورت کا اعتکاف کے لئے بھی اپنے خاوند کی اجازت لینا ضروری ہے۔ اگر خاوند اجازت نہ دے تو عورت کا اعتکاف کرنا درست نہیں۔ جو عورت مرد کی ناگواری کے باوجود اعتکاف کر لیتی ہے وہ خاوند کی نافرمانی کا گناہ مول لیتی ہے اور عورت کا خاوند کو ناراض کر کے کوئی بھی نفلی عبادت ادا کرنا درست نہیں۔ خاوند کی اجازت کی شرط نفلی عبادت میں اس لئے رکھی گئی ہے کہ ممکن ہے کہ مرد کو عورت سے کوئی خدمت لینا ہو یا اپنی حاجت پوری کرنا ہو۔ جب وہ حالت عبادت میں ہوتی ہے تو مرد ایسا نہیں کر سکتا۔
عورت فرض نماز کے لئے بھی مسجد میں جانا چاہے تو اس کا اپنے خاوند سے اجازت لینا ضروری ہے۔ چنانچہ فرمان نبوی صلی اللہ علیہ وسلم ہے:
لا تمنعوا إماء الله مساجد الله
اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مسجدوں میں جانے سے نہ روکو۔ (صحیح مسلم)
جب تم میں سے کسی کی بیوی (مسجد میں جانے کی )اجازت مانگے تو اسے اجازت دے دیا کرو۔ (بخاری: 873)
اس حدیث سے یہ واضح ہوتا ہے کہ عورت گھر سے باہر نماز کے لئے نکلے یا اعتکاف کے لئے یا کسی اور کام کے لئے وہ اپنے خاوند سے اجازت لینے کی پابند ہے اور خاوند کو یہ تاکید کی گئی ہے کہ وہ عورت کو مسجد میں جانے سے نہ روکے۔ یاد رہے کہ گھر سے باہر نکلنے کے لئے یا مسجد میں جانے کے لئے عورت پر کچھ شرائط ہیں جن کا پورا کرنا ضروری ہے اور وہ شرائط یہ ہیں:
⋆ عورت بغیر خوشبو کے جائے گی۔
⋆ کپڑے سادہ اور معمولی پہن کر نکلے گی۔
⋆ بجنے والا زیور، آواز پیدا کرنے والا جوتا اور کھڑکھڑاہٹ پیدا کرنے والے کپڑے پہن کر نہیں نکلے گی۔
⋆ بناؤ سنگھار کر کے گھر سے باہر نہیں نکلے گی۔
⋆ اپنے پورے جسم کو چہرے سمیت ایک بڑی چادر (جلباب) سے ڈھانپ لے گی تا کہ اس کے جسم، اس کے کپڑے، اس کا زیور اور مہندی وغیرہ کی زینت ظاہر نہ ہو۔ چنانچہ عورت جب اعتکاف کے لئے بھی گھر سے نکل کر مسجد میں جائے تو مندرجہ بالا امور کا خیال رکھنے کی پابند ہے۔

❀ ماحول پُرامن ہو:

عورت کے اعتکاف کے لئے دوسری شرط یہ ہے کہ عورت نے جہاں اعتکاف کرنا ہے وہاں ماحول پر امن ہو اور کسی فتنے کا اندیشہ نہ ہو۔ مساجد محفوظ ہوں، مردوں کی طرف سے کسی چھیڑ چھاڑ یا تا تک جھانک کا کوئی امکان نہ ہو تا کہ عورت کی عصمت و عفت کی حفاظت کے حوالے سے خاوند کو کسی ناگوار صورت حال کا سامنا نہ کرنا پڑے اور معاشرتی لحاظ سے اس کی عزت پر کوئی انگلی نہ اٹھ سکے۔
ماحول پر امن ہونے کی شرط سے ہی یہ مسئلہ بھی نکلتا ہے کہ کنواری یا بے شوہر عورت اپنے ولی کی اجازت کے ساتھ اعتکاف کرے گی جس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکی نے گھر سے نکل کر مسجد میں جانا ہے لہذا اس کا سرپرست یہ بہتر جانتا ہے کہ اس کے گھر سے نکلنےمیں کیا کیا مفاسد ہیں؟ اگر وہ محسوس کرے کہ لڑکی کے گھر سے نکلنے سے کوئی فتنہ پیدا ہو سکتا ہے تو وہ اپنے زیر سرپرستی عورتوں کو اعتکاف سے روکنے کا حق استعمال کر سکتا ہے۔
بعض خواتین کو اعتکاف بیٹھنے کا بہت شوق ہوتا ہے اور وہ جذبات میں آ کر اپنے خاوند یا اپنے سرپرست کی طرف سے دلی رضامندی کے بغیر اعتکاف کر لیتی ہیں لیکن شرعی حدود کے لحاظ سے یہ محل نظر ہے۔ بعض خاوند یا ولی کچھ خدشات ہونے کے باوجود اس لئے اعتکاف سے منع نہیں کرتے کہ کہیں نیکی کے کام سے روکنے کا انہیں گناہ نہ ہو۔ یاد رہے کہ نفلی عبادات میں اگر کوئی حقیقی مانع ہو یا حقیقی خطرے کا خدشہ ہو تو مرد خاوند ہو یا سرپرست عورت کو نفلی عبادت خصوصاً گھر سے باہر جا کر انجام دینے والی عبادت سے روک سکتا ہے۔ کیوں کہ عورت کی عفت وعصمت کی حفاظت اور معاشرے میں اپنے گھرانے کی حیثیت اور تقدس کا تحفظ کرنا فرض ہے اور زیر بحث عبادت نفلی ہے۔ لہذا فرض پر نفل کو ترجیح نہیں دی جائے گی۔

◈ اعتکاف کی اقسام:

اعتکاف کی تین قسمیں ہیں:
● نفل: یہ وہ اعتکاف ہے جو کسی وقت بھی کسی بھی مدت تک ،مسجد میں کیا جا سکتا ہے۔
● رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنا سنت ہے۔ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان کے اخیر عشرہ میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔
● واجب اعتکاف ہے جس کی نذر (منت) مانی جائے۔

◈ نذر کا اعتکاف:

جس طرح نفلی نماز نفلی روزے نفلی حج نفلی صدقے وغیرہ کی منت مان لی جائے تو اس کا پورا کرنا واجب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی شخص اعتکاف کی منت مان لے تو اس پر یہ منت پوری کرنا واجب ہے۔ جیسا کہ اس روایت سے ثابت ہے:
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے جاہلیت کے زمانے میں اعتکاف کی منت مانی تھی کہ وہ مسجد حرام میں ایک رات اعتکاف کریں گے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے بارے پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أوف بنذرك واعتكف ليلة
اپنی نذر پوری کرو اور ایک رات اعتکاف کر لو۔ (بخاری 237/4 مسلم رقم الحدیث 1656)
اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اگر جاہلیت میں کسی ایسے کام کی منت مانی ہو جس میں کوئی شرک، کفر یا معصیت کی بات نہ پائی جائے تو اس کو زمانہ اسلام میں پورا کرنا لازم ہے۔ نیز یہ کہ اعتکاف بغیر روزے کے بھی ہو سکتا ہے۔

◈ اعتکاف لغیر اللہ:

غیر اللہ کے سامنے یا غیر اللہ سے حصول ثواب حصول برکت یا رفع مصائب کی نیت سے اعتکاف کی طرح جم کر بیٹھنا شرک ہے۔ کیوں کہ یہی غیر اللہ کی عبادت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم علیہ السلام کی زبان سے مشرک قوم کو مخاطب کرتے ہوئے یہ بتایا ہے کہ انہوں نے کہا:
﴿مَا هَٰذِهِ التَّمَاثِيلُ الَّتِي أَنتُمْ لَهَا عَاكِفُونَ﴾
”یہ کیسی مورتیاں ہیں جن کے سامنے تم جم کر بیٹھتے ہو۔“ (21-الأنبياء:52)

◈ اعتکاف کے لئے روزے کی شرط:

اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا شرط نہیں ہے لہذا اگر کوئی شخص روزہ نہیں رکھ سکتا تو وہ بغیر روزے کے بھی اعتکاف کر سکتا ہے اور جو شخص روزہ رکھ سکتا ہے اور وہ رمضان میں اعتکاف کرے تو اس پر رمضان ہونے کی وجہ سے روزہ رکھنا فرض ہے۔ رہا واجب اعتکاف یعنی نذر کا اعتکاف تو اس میں روزہ رکھنا شرط نہیں ہے۔ البتہ اگر نذر مانتے وقت یہ بھی دل میں نیت ہو کہ اعتکاف کے ساتھ ساتھ روزہ بھی رکھیں گے تو روزہ رکھنا واجب ہے۔ مالکیوں کے نزدیک نفلی اور واجب دونوں اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا شرط ہے۔
حنفیوں کے نزدیک واجب اعتکاف یعنی نذر کے اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا شرط ہے لیکن نفلی اعتکاف کے لئے روزہ رکھنا ضروری نہیں الا یہ کہ رمضان کا مہینہ ہو اور روزہ رکھنے کی ہمت و طاقت ہو۔

◈ جائے اعتکاف میں داخل ہونے کا وقت:

20 رمضان المبارک کی شام کو اعتکاف کرنے والا مسجد پہنچ جائے اور اگلے روز صبح فجر کے بعد اعتکاف کی جگہ میں داخل ہو جائے جمہور علماء اور ائمہ اربعہ اسی کے قائل ہیں۔ (تحفۃ الاحوذی 584/3 فیض القدیر 16/5 فتح الباری 323/3 فقہ الحدیث از عمران ایوب لاہوری)

◈ اعتکاف میں جائز امور:

⋆ اعتکاف کی جگہ چار پائی اور بستر بھی رکھا جا سکتا ہے۔ (ابن ماجہ: 1774)
⋆ شوہر کی زیارت کے لئے بیوی مسجد میں آ سکتی ہے نیز کوئی عزیز بھی ملنے آ سکتا ہے۔ (بخاری: 2038)
⋆ استحاضہ کی بیماری میں مبتلا خواتین کے لئے اعتکاف بیٹھنا درست ہے۔ (بخاری 2037)
⋆ اعتکاف کے لئے مسجد میں خیمہ لگانا درست ہے۔ (بخاری: 2033)

◈ دوران اعتکاف ممنوع افعال:

⋆ کبائر کا ارتکاب
⋆ہم بستری
⋆بغیر ضرورت مسجد سے باہر نکلنا
⋆ مریض کی عیادت، جنازے میں شرکت البتہ مسجد ہی میں جنازہ یا عیادت کا موقع بن جائے تو کر سکتے ہیں۔
⋆ عورت کا ناپاکی کی حالت میں اعتکاف کرنا۔
⋆ عورت کا شوہر کی اجازت کے بغیر اعتکاف کرنا۔

◈ اعتکاف باطل کر دینے والے افعال:

⋆ مباشرت
⋆ ارتداد
⋆ کبیرہ گناہوں کا ارتکاب
⋆ بغیر ضرورت مسجد سے باہر جانا

اعتکاف کی جگہ

اعتکاف کی جگہ اللہ تعالیٰ نے خود مخصوص کر دی ہے اور وہ مساجد ہیں جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
﴿وَلَا تُبَاشِرُوهُنَّ وَأَنتُمْ عَاكِفُونَ فِي الْمَسَاجِدِ﴾
اور تم ان (عورتوں) سے ملاپ نہ کرو اس حالت میں کہ تم مساجد میں ہو۔ (2-البقرة:187)
اس آیت میں مسجد سے مراد وہ جگہ ہے جسے مسلمانوں نے نماز با جماعت کے لئے مستقل طور پر مقرر کر کے وقف کر دیا ہو اور اس پر تمام احکام المساجد کا اطلاق ہوتا ہو۔ مثلاً اس میں اذان ہوتی ہو ،جماعت ہو، مقیم ،مسافر ،اجنبی غرض سب کو کھلے عام آ کر نماز ادا کرنے کی اجازت ہو ایسی مسجد میں جنبی اور حائضہ وغیرہ کا جانا جائز نہیں۔
مسجد الحرام کے بارے اللہ تعالیٰ نے ابراہیم اور اسماعیل علیہما السلام سے فرمایا تھا:
﴿أَن طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّائِفِينَ وَالْعَاكِفِينَ وَالرُّكَّعِ السُّجُودِ﴾
کہ میرے گھر کو پاک رکھو طواف کرنے والوں ، رکوع کرنے والوں اور سجدہ کرنے والوں کے لئے۔ (2-البقرة:125)
مسجد کا مطلب یوں تو سجدہ گاہ پر بھی ہوتا ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے:
جعلت لي الأرض مسجدا وطهورا
”میرے لئے تمام زمین سجدہ گاہ اور پاک بنادی گئی ہے۔“
(صحیح بخاری، کتاب الصلوٰۃ، حدیث: 423۔ ایک طویل حدیث کا حصہ)
لیکن اعتکاف کے لئے مسجد سے مراد وہ اصطلاحی مسجد ہے جو مسلمان معاشرے میں اپنے تمام احکام و آداب کے ساتھ معروف ہے۔

◈ عورت اعتکاف کہاں کرے گی؟

اعتکاف کرنے کی جگہ میں مرد اور عورت کے لئے کوئی تخصیص نہیں ہے لہذا عورت بھی مسجد ہی میں اعتکاف کرے گی کیوں کہ قرآن حکیم اور احادیث نبویہ میں عورت کے لئے کوئی تخصیص نہیں بتائی گئی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیویاں بھی مسجد میں اعتکاف کیا کرتی تھیں۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث سے اس کا ثبوت ملتا ہے۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر رمضان میں اعتکاف کیا کرتے تھے۔ آپ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد اپنے خیمے میں جایا کرتے تھے۔
راوی کہتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اعتکاف کی اجازت چاہی، تو آپ نے انہیں اجازت دے دی۔ اس لیے انہوں نے بھی خیمہ لگا لیا۔ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے بھی سنا تو انہوں نے بھی خیمہ لگا لیا۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا نے بھی سنا تو انہوں نے بھی خیمہ لگا لیا۔ جب آپ نماز پڑھ کر لوٹے تو چار خیمے نظر آئے۔ آپ نے دریافت فرمایا: یہ کیا ہے؟ آپ کو حقیقت حال کی اطلاع دی گئی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
البر تقولون بهن
” کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ انہوں نے ثواب کی نیت سے ایسا کیا؟“
ان کے خیمے اکھاڑ دو۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوٹ گئے اور اعتکاف نہیں کیا اور اس کے بعد شوال کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا۔ (بخاری کتاب الصوم ابواب الاعتکاف: 2041)
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا کہ تمہارا مسجد میں اعتکاف کرنا درست نہیں ہے بلکہ یہ فرمایا کہ یہ حصول ثواب کے لئے نہیں بلکہ دیکھا دیکھی اعتکاف کیا جا رہا ہے۔ معلوم ہوا کہ دیکھا دیکھی نہیں بلکہ ثواب کے حصول کے لئے اعتکاف کرنا چاہئے۔
حنفی مسلک کے مطابق عورت نے اپنے گھر میں جو جگہ نماز کے لئے مخصوص کر رکھی ہے اس میں اعتکاف کرے گی۔ بلکہ ان کے نزدیک عورت کا ایسی مسجد میں اعتکاف کرنا مکروہ تنزیہی ہے جس میں باجماعت نماز ہوتی ہو۔ انہوں نے اپنے مسلک کی دلیل اس حدیث سے لی ہے جس میں یہ ہے کہ زوجہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے آپ کے ساتھ نماز پڑھنا بہت پسند ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
قد علمت أنك تحبين الصلاة معي وصلاتك فى بيتك خير من صلاتك فى حجرتك وصلاتك فى حجرتك خير من صلاتك فى دارك وصلاتك فى دارك خير من صلاتك فى مسجدي
مجھے معلوم ہے کہ تم میرے ساتھ نماز ادا کرنا پسند کرتی ہو لیکن تمہاری وہ نماز جو تم گھر کے اندرونی حصے میں ادا کرتی ہو اس نماز سے بہتر ہے جو برآمدہ میں پڑھی جائے اور برآمدہ میں پڑھی جانے والی نماز سے وہ نماز بہتر ہے جو تم گھر کے صحن میں پڑھتی ہو اور صحن میں پڑھی جانے والی نماز اس نماز سے بہتر ہے جو تم میری مسجد میں پڑھو۔ (مسند احمد بن حنبل ، ابن خزیمہ)
راوی کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس ارشاد کے بعد زوجہ ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہا نے اپنے گھر کے تاریک گوشے میں نماز کی جگہ مقرر کر لی اور تمام عمر وہ وہیں نماز ادا کرتی رہیں۔ (مسند احمد: 371/6۔ ابن حبان، ابن خزیمہ)
حنفیہ کی دلیل یہ ہے کہ گو نماز مختصر وقت کے لئے ہوتی ہے لیکن اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مسجد میں ادا کرنے کے بجائے گھر میں ادا کرنے کا حکم دیا ہے اور اعتکاف تو اس سے زیادہ وقت میں مقید ہوتا ہے اس لئے عورت کا گھر میں اعتکاف کرنا زیادہ اولی ہے۔
فقہ النساء کے مصنف کی رائے یہ ہے کہ عورت کو مسجد میں اعتکاف سے روکنے کے لئے یہ شرط ہی کافی ہے کہ فتنہ پیدا ہونے کا خطرہ نہ ہو اور اس شرط کا پورا ہونا دور حاضر میں ممکن نہیں۔
مالکی فقہ کے مطابق جب حج فرض ہے اور اس عورت کے لئے محرم کی شرط ہے یا قابل اعتماد عورتوں کی جماعت کا ساتھ ہونا ضروری ہے بشرطیکہ عورت کو فتنہ سے امن ہو۔ اس روشنی میں عورت کا اعتکاف جو فرض بھی نہیں اس کے لئے یہ شرط بدرجہ اولی ہونا چاہئے [یعنی فتنہ کا امکان نہ ہو اور محرم بھی ساتھ ہو۔] (تفصیل کے لئے دیکھئے فقہ النساء از عطیہ خمیس)
حنفی ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنہا کے اس قول کو بھی اپنے دعوے کی تائید میں پیش کرتے ہیں:
اب عورتوں نے جو نئی نئی باتیں پیدا کر لی ہیں اگر یہ سب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں ہوتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم عورتوں کو مسجد میں جانے سے منع فرمادیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو منع کیا گیا تھا۔ راوی کہتے ہیں میں نے عرض کیا: کیا بنی اسرائیل کی عورتوں کہ (مساجد میں آنے سے) روک دیا دیا گیا تھا؟
ام المومنین نے کہا: جی ہاں! (بخاری: 869 مسلم: 999۔ ابوداؤد: 569)

◈ اعتکاف کا مقصد:

اعتکاف یوں تو کسی بھی مہینے یا ایام میں کیا جا سکتا ہے لیکن رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کرنا سنت مؤکدہ ہے اور اس پر پوری امت کا تواتر اس قدر زیادہ ہے کہ اعتکافِ رمضان ایک شعار بن چکا ہے۔ رمضان میں کئے گئے اعتکاف میں بیک وقت تین ایسے موجبات شامل ہو جاتے ہیں جو روحانی بالیدگی اور تعلق باللہ میں مضبوطی کا اپنی اپنی جگہ پر بہت بڑا محرک ہیں اور وہ یہ ہیں (1) صوم (2) لیلۃ القدر کا عشرہ (3) اور ماہ رمضان ہونے کی بنا پر نیکی کا ماحول اور نیکی آسان ہونا۔
روزے کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الصِّيَامُ كَمَا كُتِبَ عَلَى الَّذِينَ مِن قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ﴾
اے ایمان والو! تم پر روزے فرض کئے گئے ہیں جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کئے گئے تھے تا کہ تم متقی بن جاؤ۔ (2-البقرة:183)
روزہ رکھنے کا مقصد تقویٰ کا حصول ہے، تقویٰ کہتے ہیں گناہ سے بچنے اور اللہ تعالیٰ سے ڈرنے کو۔ روزہ دن بھر ایک مسلسل عبادت ہے جس میں کھانے پینے کی ہر چیز پر پابندی عائد ہوتی ہے۔ دوسرے یہ کہ روزے کی حالت میں چغلی، جھگڑا ،گالی، غیبت بد گمانی، بدنظری خیانت ، والدین کی نافرمانی، کسی انسان کی دل آزاری غرض ہر قسم کی ممنوعات کا ارتکاب ممنوع ہے۔ گویہ عام دنوں میں بھی ممنوع ہیں لیکن روزے کی حالت میں ان کا ارتکاب کرنے سے روزہ ،روزہ نہیں رہتا صرف فاقہ رہ جاتا ہے۔
روزہ ایک سال میں تیس دن تک مسلسل صبر و شکر اور باہم ایثار و ہمدردی کی ایک ایسی تربیت اور مشق ہے جس میں تمام عاقل بالغ مسلمان یکساں حصہ لیتے ہیں۔ روزہ ایک مسلمان کو کھانے پینے میں اعتدال سکھاتا ہے اور کھانا سامنے ہوتے ہوئے بھی اللہ کے حکم کی فرماں برداری میں اس سے رکے رہنے نیز مفلس اور بھوک کے ستائے ہوئے لوگوں کا دکھ محسوس کر کے ان کے لئے ایثار و ہمدردی اور تعاون کرنے کا ایسا سبق دیتا ہے کہ یہ صفات مسلمان کی عادت ثانیہ بن جاتی ہیں۔ وہ اپنے پیٹ کی بجائے دوسرے کے دکھ کا مداوا کرنے کے لئے بے قرار رہنے لگتا ہے۔
روزہ یوں تو بذات خود گناہ سے بچنے اور اللہ تعالیٰ کی شعوری اور غیر شعوری اطاعت و عبادت کا نام ہے لیکن پھر بھی بندے کے اپنے رب سے تعلق قائم کرنے میں بہت سے امور حائل ہو جاتے ہیں۔ مثلاً کھانا پکانا ،کمانا ،گھریلو کام کاج، عیادت، تعزیت، جنازہ میل ملاقات وغیرہ اللہ تعالیٰ سے مکمل یک سوئی کے ساتھ تعلق قائم کرنے کے لئے اعتکاف کو مشروع قرار دیا گیا ہے۔
اعتکاف کا مقصد دنیا کے تردّد فکر اور مشغولیت سے ذہن کو فارغ کر کے دل کو پورے طور پر اللہ تبارک و تعالیٰ کی ہمہ وقت یاد کے ذریعے قلب کی صفائی کرنا مقصود ہے کیوں کہ دنیا میں رہتے ہوئے انسان کو بہت سے فکر و پریشانیوں کا سامنا رہتا ہے اور چاہنے کے باوجود بھی انسان ان سے پیچھا نہیں چھڑا سکتا۔
اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے سے دل کا زنگ اترتا ہے، دل پر غفلت اور خواہشات نفسانی جو تہہ در تہہ جم چکی ہوتی ہیں اور آہستہ آہستہ دل کو کمزور اور حق تعالیٰ سے دور کرنے کا سبب بنتی ہیں وہ سب اللہ کے ذکر سے اتر جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے ہمہ وقتی تعلق کی وجہ سے دل کا آئینہ شفاف ہو جاتا ہے۔ دنیوی اشغال میں مصروف رہنے کی وجہ سے دل کا اطمینان کھو جانے کا خدشہ ہوتا ہے جب کہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے دل کو اطمینان نصیب ہوتا ہے۔ فرمان الہی ہے:
﴿أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ﴾ ‎
”خبر دار اللہ کے ذکر ہی سے قلوب اطمینان حاصل کرتے ہیں۔“ (13-الرعد:28)
اللہ تعالیٰ کا یک سوئی سے پکارنے سے اللہ تعالیٰ بھی اپنے بندے کی طرف خصوصی توجہ فرماتا ہے، ارشاد ہے:
‏ ﴿فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ وَاشْكُرُوا لِي وَلَا تَكْفُرُونِ﴾ ‎
”سو تم مجھے یاد کیا کرو اور میرا احسان مانتے رہنا اور ناشکری نہ کرنا۔“ (2-البقرة:152)
ایک مومن دن میں پانچ بار دنیوی علائق سے ناطہ توڑ کر بارگاہ ربانی میں حاضر ہوتا ہے اور اس کے حضور حاضری کے وہ قلبی ،قولی اور جسمانی آداب بجالاتا ہے جن کا خود اللہ تعالیٰ نے اپنی بارگاہ میں حاضری کے وقت بجالانے کا حکم دیا ہے۔
روزانہ پانچ بار کا یہ عمل بندے کو یہ یاد دلاتا ہے کہ اس کا ایک مالک، خالق اور رب ہے جس کو اس نے اپنی زندگی کے لئے لمحے لمحے کا حساب دینا ہے۔ نماز کی صورت وہ اللہ تعالیٰ کا ذکر یکسوئی سے کر کے دل کا زنگ اتارتا ہے۔
اعتکاف کی صورت شریعت اسے یہ موقع فراہم کرتی ہے کہ وہ رضا کارانہ طور پر زیادہ دنوں اور راتوں کے لئے اپنے خالق و مالک سے مسلسل رابطہ تعلق قائم کرے اور اس تعلق میں دنیوی امور اور بندوں کے حقوق دونوں ہی حائل نہ ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ اعتکاف کے دوران جنازہ عیادت، تعزیت ، بیوی سے تعلق قائم کرنے، کسی سے ملاقات کے لئے جانے اور کسی ناگزیر ضرورت کے علاوہ باتیں کرنے کی بھی اجازت نہیں ، البتہ وہ اہم ضروریات اور حاجات جو انسان کے لئے ناگزیر ہیں انہیں پورا کرنے کی اجازت ہے۔ مثلاً قضائے حاجت کے لئے جانا ،وضو کرنا ،غسل کرنا ،کپڑے تبدیل کرنا ،بہ قدر ضرورت کھانا پینا ،بہ قدر ضرورت سونا ،تیل لگانا، کنگھی کرنا، مسواک کرنا ناخن کاٹنا، گھر سے اگر کوئی عورت ملنے آئے اور جاتے وقت رات کے اندھیرے میں وہ اکیلی ہو اور گھر زیادہ دور بھی نہ ہو تو مرد اسے دروازے تک چھوڑنے جا سکتا ہے۔ البتہ عورت اپنی جائے اعتکاف سے سوائے غسل، وضو اور قضائے حاجت وغیرہ کے کسی اور کام کے لئے نہ ہی نکلے تو بہتر ہے۔

خواتین کے اعتکاف کے حوالے سے چند قابل توجہ امور

دور حاضر میں فتنے ایک نہیں بلکہ ہزاروں فتنے نمودار ہو چکے ہیں انٹرنیٹ، ٹی وی، موبائل، رسائل و اخبارات اور ہیجان پیدا کرنے والے دیگر بہت سے عوامل ہر جگہ گندے نالوں کی طرح بہہ رہے ہیں۔ ایسے میں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر عورت اعتکاف کرے تو وہ ان منقول شرائط کے علاوہ جو قرآن وحدیث اور فقہاء سے ثابت ہیں اور کن امور کا اعتکاف کے دوران خیال رکھنے کی پابند ہے۔ نیز عملاً اعتکاف کیا صورت اختیار کر چکا ہے۔
جہاں تک حنفی مسلک کا تعلق ہے اس میں عورت کے لئے مسجد میں اعتکاف اور نماز ادا کرنے کے بجائے گھر کو اعتکاف اور نماز کے لئے ترجیح دی گئی ہے۔ زوجہ ابو حمید ساعدی کی بیوی سے روایت کردہ حدیث کی روشنی میں ہمارے یہاں عورتیں گھر کے ہی کسی کمرے کے اندرونی حصے میں خیمہ لگا کر اعتکاف کر لیتی ہیں نیز وہ اعتکاف میں بہت سے امور ایسے ہیں جن پر سختی سے کاربند ہوتی ہیں۔ مثلاً
کوئی ملنے آئے یا بات کرنا چاہے تو خیمہ کا کپڑا اٹھا کر بات نہیں کرتیں ،اپنے معتکف سے سوائے قضائے حاجت ، وضو یا غسل کے لیے نہیں اٹھتیں۔ جب معتکف سے نکلتی ہیں تو اپنا منہ تقریباً ڈھانپ لیتی ہیں غالباً ایسا اس لئے کرتی ہیں کہ ادھر ادھر نظر نہ جائے یکسوئی میں خلل واقع نہ ہو اور دیکھنے والے بھی یہ سمجھ جائیں کہ یہ شخص اعتکاف کی حالت میں ہے لہذا ان سے کوئی غیر ضروری بات نہیں کرتا۔
اہل حدیث میں بھی دو قسم کی آرا پائی جاتی ہیں ایک یہ کہ عورت کو اعتکاف مسجد میں کرنا چاہئے لیکن گھر میں بھی اس کا اعتکاف ہو جاتا ہے اور اکثر خواتین اس رائے کے مطابق گھروں میں ہی اعتکاف کرنے کو ترجیح دیا کرتی ہیں۔
دوسری رائے یہ ہے کہ گھر میں عورت کا اعتکاف کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ جس کی دلیل قرآن حکیم کی آیت اعتکاف کے متعلق اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کا اعتکاف کے لئے مسجد میں خیمہ لگانے والی احادیث ہیں۔ برصغیر میں عموماً مساجد کی تعمیر کے وقت عورتوں کے لئے مخصوص حصہ نہیں رکھا جاتا تھا لیکن آہستہ آہستہ اہل حدیث مسلک سے متعلق مساجد میں عورتوں کی نماز اور تدریس و تعلیم کے لئے مخصوص حصہ بنانے کا رواج عام ہوتا گیا۔ جب یہ رواج ہوا تو اکثر خواتین گھروں کے بجائے مساجد میں اعتکاف کرنے لگیں۔ پہلے بہت کم افراد اعتکاف کا اہتمام کیا کرتے تھے لیکن آہستہ آہستہ اس عبادت کا رجحان عام ہوتا گیا اور اب صورت حال یہ ہے کہ مساجد میں اتنے افراد اعتکاف بیٹھتے ہیں کہ نمازیوں کے لئے جگہ کم پڑ جاتی ہے۔ خواتین میں بھی گذشتہ دو تین عشروں میں اعتکاف بیٹھنے کا رجحان کافی زیادہ بڑھا ہے۔
خواتین میں اعتکاف کا بڑھتا ہوا رجحان خوش آئند بات ہے لیکن چند امور قابل توجہ ہیں جن کی اصلاح کی اشد ضرورت ہے اور وہ مندرجہ ذیل ہیں:
➊ ایسی عورت کا اعتکاف بیٹھنا جس کا خاوند نوجوان ہو اور وہ اعتکاف نہ کر رہا ہو، آیا خاوند نے بیوی کو اعتکاف کی اجازت بخوشی دے دی ہے یا عورت اپنی مرضی سے اعتکاف بیٹھ گئی ہے؟
ہو سکتا ہے کہ کسی عورت کا خاوند بوڑھا، بیمار یا معذور ہو اور اسے اس کی ضرورت ہو کہ اس کی دیکھ بھال کرے کیونکہ جیسی دیکھ بھال اور خدمت شوہر کی عورت کر سکتی ہے اور کوئی نہیں کر سکتا۔ مرد کو اس حالت میں چھوڑ کر عورت کا اعتکاف کو ترجیح دینا محل نظر ہے البتہ اگر کوئی دوسرا شخص دیکھ بھال کرنے والا موجود ہے اور خاوند بھی بخوشی اجازت دے رہا ہے تو پھر درست ہے۔
➋ خاوند اور بیوی دونوں ایک ہی مسجد میں اعتکاف کریں تو دونوں کو بار بار باہم بغیر کسی اشد ضرورت کے میل ملاقات سے پرہیز کرنا چاہئے کیوں کہ ایسا کرنے سے مرد کو عورتوں کے حصے کی طرف آنا پڑے گا یا عورت کو مردوں کے حصے کی طرف جانا پڑے گا۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اعتکاف کے لئے مسجد میں خیمہ لگایا تو آپ نے دیکھا کہ ساتھ اور بھی بہت سے خیمے لگ چکے ہیں، پتا چلا کہ یہ امہات المومنین کے خیمے ہیں تو آپ نے اپنا خیمہ اکھاڑ دیا اور اس سال رمضان میں اعتکاف ہی نہیں کیا البتہ شوال میں بیس روز اعتکاف کیا۔ اس کی وجوہات بیان کرتے ہوئے قاضی عیاض رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
آپ کو یہ خوف ہوا کہ کہیں یہ سب امہات المومنین اعتکاف کے بارے غیر مخلص نہ ہوں اور ان کا مقصد باہمی رشک کی بنا پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا قرب حاصل کرنا ہو۔
مسجد میں بہت سے لوگ جمع ہوتے ہیں اور آپ کی خدمت میں بدو اور منافقین بھی مسجد میں حاضر ہوتے ہیں۔ امہات المومنین جب اعتکاف بیٹھیں گی تو ان کو اپنی ضروریات کے لئے خیموں سے باہر آنا جانا ہوگا اور اس طرح نا مناسب صورت حال پیدا ہوگی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خود بھی اعتکاف کر رہے تھے لہذا آپ مسجد میں ٹھہریں گے اور ازواج مطہرات بھی مسجد میں ہی ہوں گی تو گھر کا سا سماں پیدا ہو جائے گا اور اعتکاف کا جو حقیقی مقصد ہے یعنی اہل خانہ اور دنیا والے سب سے کنارہ کش ہو کر اللہ کے گھر بیٹھنا وہ فوت ہو جائے گا۔ یا اتنے خیمے لگ جانے کی وجہ سے جگہ تنگ ہو گئی ہوگی۔ (بحوالہ فقہ النساء)
⋆ بعض مرد کبھی بیوی سے کپڑے لینے، کبھی کنگھی اور مسواک وغیرہ لینے یا دوا لینے یا حال پوچھنے کے لئے بار بار بیویوں سے رابطہ کرتے ہیں، یہی کام بیویاں کرتی ہیں، میاں بیوی کو چاہئے کہ دونوں اعتکاف سے قبل ہی اپنی اپنی ضروریات اپنے اپنے پاس رکھیں نا کہ رابطہ کرنے کی مشکل سے بچے رہیں۔
⋆ جن ماؤں کے بچے ابھی چھوٹے چھوٹے ہوں اور ماں کے علاوہ اور کوئی ان کی دیکھ بھال کرنے والا نہ ہو تو ایسی ماؤں کو بھی اعتکاف نہیں کرنا چاہئے۔ کیوں کہ بچوں کی تربیت اور نگہداشت فرض ہے اور اعتکاف کرنا نفلی عبادت اور فرض امور نفلی امور پر فوقیت اور ترجیح رکھتے ہیں۔ ایسی ماؤں کے بچے ماں کے بغیر روتے اور گھر والوں کو تنگ کرتے ہیں۔ یا پھر بار بار ماں سے ملانے کے لئے انہیں مسجد میں لایا جاتا ہے، گویا جس دنیا اور دنیا کے مکینوں کو چھوڑ کر آئے تھے وہ مسجد میں بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں۔ یوں اعتکاف کے حقوق تو پورے نہیں ہوتے البتہ گھر والوں کے لئے اعتکاف ایک مشکل گھاٹی بن جاتا ہے۔
⋆ اعتکاف کے دوران ملنے ملانے کی اجازت ہے لیکن اس اجازت سے بعض لوگ لا محدود فائدہ اٹھاتے ہیں حالانکہ اجازت کا مقصد ہی یہ ہوتا ہے کہ بوقت ضرورت ایسا کیا جا سکتا ہے نہ یہ کہ ہر وقت ملنے ملانے والوں کا تانتا بندھا رہے۔ صحیح بات تو یہ ہے کہ جن افراد کا اعتکاف کرنے والے سے بغیر ملے گزارہ ہو سکتا ہے یا وہ اعتکاف سے اٹھنے کے بعد مل ہی لیں گے، ان کو دوران اعتکاف ملنے ملانے کا تکلف نہیں کرنا چاہئے۔ خود اعتکاف کرنے والے کو بھی چاہئے کہ ملنے ملانے آنے والوں کی حوصلہ شکنی کرے۔
⋆ بعض خواتین اعتکاف کرنے بیٹھتی ہیں تو گھر کے دھندوں کی کلید اپنی جیب ہی میں لے آتی ہیں خصوصاً دیہاتی خواتین! کیونکہ ہر چیز کی چابی اماں جی ہی کے پاس ہوتی ہے اس لئے بار بار گھر والے اماں جی کی طرف رجوع کرتے ہیں کبھی چینی کے لئے ، کبھی گھی کے لئے اور کبھی آج کیا پکایا جائے؟ پوچھنے کے لئے حالانکہ اعتکاف سے قبل ہی یہ ساری ذمہ داریاں کسی اور کو سمجھا بجھا کر اس کے حوالے کر کے آنا چاہئے تا کہ دنیوی علائق سے رشتہ ٹوٹا رہے اور اللہ کے سامنے بغیر کسی خلل کے رابطہ جڑا رہے۔
⋆ بعض خواتین اپنے پاس موبائل رکھتی ہیں۔ ناگزیر اور مجبوری کے وقت یہ رابطہ آسان اور بہت سی مشکلات سے بچنے کا واحد ذریعہ ہے لیکن جس طرح عام زندگی میں اس کا غلط اور فضول استعمال کیا جا رہا ہے، اسی طرح دوران اعتکاف بھی اس کا فضول استعمال زیادہ کیا جاتا ہے اور حقیقی استعمال بہت کم، طویل باتیں کرنا یا ہم جنسی مذاق کرنا اور چھوٹی چھوٹی ضرورتوں پر بھی کال کرنا اعتکاف جیسی عبادت کے قطعاً مناسب نہیں۔ اگر واقعتاً مجبوری ہو تو پھر رابطہ ہونا چاہئے اور وہ بھی مختصر بات کے ذریعے۔ جب کہ اعتکاف کا ایک بنیادی مقصد چھوٹی ضرورتوں کو چھوڑ کر قناعت پیدا کرنا بھی ہے، اس لئے چھوٹی بڑی ضرورتوں کو ترک کرنا ہی افضل ہے۔
⋆ موبائل کی اطلاعی گھنٹی عموماً کسی ساز وغیرہ کی آواز پر رکھی جاتی ہے۔ جب کہ ساز اور گھنٹی شیطانی آلہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
الجرس مزامير الشيطان
”گھنٹی شیطان کا باجا ہے۔ “ (مسلم، باب کراہیة الكلب والجرس في السفر، حدیث 844)
نیز فرمایا:
لا تصحب الملائكة رفقة فيها كلب ولا جرس
فرشتے ان مسافروں کے ساتھ نہیں ہوتے جن کے ساتھ کتا یا گھنٹا ہو۔ (مسلم 842)
مساجد جو عبادت گاہیں ہیں ان میں ایسی گھنٹی کا بجنا مساجد کے احترام کے منافی ہے۔ اگر موبائل کی اطلاعی آواز رکھیں بھی تو ایسی رکھیں جس پر گھنٹی یا ساز کا شبہ نہ ہوتا ہو۔ مثلاً کسی انسان یا پرندے کی آواز۔
⋆ بعض ہی مساجد میں ٹیلی فون کا انتظام ہوتا ہے جن خواتین کے پاس ہو وہ بار بار ٹیلی فون کی طرف دوڑتی ہیں اور یوں ان کی توجہ اللہ تعالیٰ کے ذکر سے ہٹ کر دنیوی امور کی طرف مرکوز ہوتی رہتی ہے۔
⋆ بعض مساجد میں اعتکاف کرنے والوں کی اس قدر تعداد ہو جاتی ہے کہ نمازیوں کو مسجد سے باہر صحن میں یا گلیوں میں انتظام کرنا پڑتا ہے۔ جس کا ایک سبب یہ بھی ہے کہ لوگ دور دور سے آ کر بعض مساجد میں اعتکاف کرنا پسند کرتے ہیں۔
⋆ بعض خواتین اعتکاف میں غیر شرعی اور غیر ساتر لباس میں ہوتی ہیں، اگر واقعتاً اپنی اصلاح کرنا اور اللہ تعالیٰ کی فرماں برداری کرنا اور اس کی رضا حاصل کرنا مطلوب ہے تو اپنی عادات، معمولات اور پسند و نا پسند پر بھی غور کرنا چاہئے اور انہیں تابع اسلام بنانا چاہئے۔
⋆ بعض خواتین روزانہ کپڑے استری کرنا اور روز نہانے کا اہتمام کرتی ہیں، یہ عام زندگی کا تو معمول ہو سکتا ہے لیکن اعتکاف جیسی ایک جگہ جم کر کی جانے والی عبادت کے لئے قطعاً مناسب نہیں ہے۔
⋆ بعض خواتین نماز میں سستی کرتی ہیں جب جماعت کھڑی ہونے لگتی ہے تو وہ وضو کرنے کے لئے جاتی ہیں، یوں ان کی تکبیر اولی ضائع ہو جاتی ہے جب کہ اعتکاف نام ہے مکمل طور پر عبادت میں جتے رہنے کا اور یہ کیسی عبادت ہے جس میں فرائض بھی فوت ہو رہے ہوں۔
⋆ اعتکاف میں بیٹھی ہوئی خواتین کی باہم چشمک، طنز و مزاح ،غیبت ،بات چیت ،مختلف دنیوی امور پر تبصرے، گھریلو نزاع سب کچھ جاری رہتا ہے حالانکہ یہ سب اعتکاف میں خصوصاً درست نہیں جب کہ عام زندگی میں بھی چغلی ،غیبت اور طعن و تشنیع کرنا درست نہیں۔
⋆ بعض خصوصی مساجد میں لوگ دوسرے شہروں سے بھی اعتکاف کرنے کے لئے آتے ہیں۔ ہو سکتا ہے دوسرے شہر سے اعتکاف کے لئے آنا جانا جائز ہو لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر رمضان میں اپنے آپ کو مسافرت کی مشکل میں ڈالنا اور وہ بھی ایک نفل عبادت کے لئے، اس کا اللہ تعالیٰ نے تو کہیں بھی حکم نہیں دیا، اس کے برعکس سفر اور مسافرت اگر ناگزیر ہو تو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے آسانی رکھی ہے کہ وہ سفر میں روزہ قضا کر لیں اور فرض نمازوں کو قصر کر لیا کریں۔ گویا فرائض بھی ہلکے یا کم ہو جاتے ہیں، اعتکاف جیسی نفلی عبادت کے لئے دوسرے شہر میں جانا محل نظر ہے۔
⋆ شد رحال یعنی کجاوے کس کر اور سواری وسفر کی تکلیف برداشت کر کے عبادت، حصول برکت اور زیارت کی نیت سے جانا صرف تین مساجد کے لئے جائز قرار دیا گیا ہے، مسجد الحرام ،مسجد نبوی اور بیت المقدس۔ (بخاری: 1189۔ مسلم: 3384۔ ابوداؤد: 2033۔ نسائی: 699)
نا معلوم اعتکاف کے لئے جو لوگ مصیبت اٹھا کر اپنے شہر سے نکل کر پردیسی بن کر آتے ہیں ان کا یہ سفر شریعت کی نظر میں پسندیدہ بھی ہے یا نہیں۔
⋆ بعض مساجد میں اعتکاف بیٹھنے والوں کی اس قدر تعداد بڑھ جاتی ہے کہ نمازیوں کو مسجد سے باہر نماز ادا کرنا پڑتی ہے، کیا یہ بہتر نہیں کہ یہ لوگ اپنے اپنے محلے کی مساجد میں اعتکاف بیٹھیں جہاں نہ یہ پردیسی ہوں نہ مسافر ، جہاں ان کے گھر قریب ہوں، گھر والوں کو کھانا وغیرہ پہنچانے کی سہولت ہو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اپنی بیویوں کے خیموں کی بھیڑ دیکھ کر اعتکاف ہی کا ارادہ ملتوی کر دیا تھا۔
⋆ جس طرح نماز کے لئے محلہ کی مسجد چھوڑ کر کسی دور کی مسجد میں جانا محل نظر ہے اس طرح اعتکاف کے لئے بھی اپنے محلے کی مسجد چھوڑ کر دور کی مسجد میں جانا کچھ مناسب نہیں لگتا البتہ مسجد ایسی ہونی چاہئے جس میں جمعہ اور جماعت ہوتی ہو کیوں کہ مردوں پر جمعہ و جماعت فرض ہے۔
⋆ کثرت تعداد کی وجہ سے بعض اہم مساجد میں انتظامی کمیٹی کے ذمہ داران کو با قاعدہ مشاورت طلب کر کے معتکف حضرات کی جگہ کے لئے اجازت نامے جاری کرنا پڑتے ہیں ان کے شناختی کارڈ کی فوٹو کاپیاں اور لواحقین کی شناختی کارڈ کی فوٹو کاپی بھی لی جاتی ہے، اتنی بڑی تعداد کے لئے سحر و افطاری کا انتظام بھی مسجد کی انتظامیہ ہی کرتی ہے۔
جب ایک ایک مسجد میں تین تین سو افراد اعتکاف بیٹھے ہوں تو ان کے لئے غسل خانے، پانی کا استعمال، وضو کا انتظام ایک بہت بڑا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ملنے ملانے آنے والوں کی شناخت کرنا پڑتی ہے اور تحقیق کی جاتی ہے کہ آیا یہ جس شخص کو ملنا چاہ رہا ہے اس کا واقعی رشتہ دار بھی ہے یا نہیں؟
یوں مساجد کی انتظامیہ کمیٹی کے ذمہ داران اور اعتکاف کے لئے آنے والے سب کا کردار دفتری کارروائی کی شکل اختیار کر جاتا ہے اور یہ سارے مسئلے صرف اس لئے کھڑے ہوتے ہیں کہ لوگ محلے کی مساجد چھوڑ کر دور کی مساجد میں اعتکاف کے لئے جاتے ہیں، محلے کے لوگ تو ایک دوسرے سے عموماً واقف ہوتے ہیں لہذا انہیں اعتکاف کے لئے آنے والوں اور ان کے ملنے آنے والوں کی شناخت کی دردسری نہیں کرنا پڑتی۔ اہل خانہ خود معتکف کو دو وقت کھانا پہنچا دیتے ہیں لہذا انتظامیہ اس ذمہ داری سے بھی فارغ رہتی ہے۔ نیز انتظامی کمیٹی کے لوگ بھی یکسوئی سے اپنا عشرہ رمضان گزار سکتے ہیں۔

◈ مساجد اور افطاری:

مساجد میں افطاری کا انتظام اکثر مخیر حضرات اس لئے کرتے ہیں کہ انہیں روزہ افطار کرانے کا ثواب حاصل ہوگا۔ دور حاضر میں افطاری کرانے کا رجحان کافی زیادہ بڑھ چکا ہے اس سلسلے میں چند امور قابل توجہ ہیں۔
⋆ احادیث میں روزہ افطار کرانے پر اجر کی بشارت دی گئی ہے باقاعدہ کھانا کھلانے کا ذکر نہیں ہے لہذا اجر تو ایک کھجور یا دو گھونٹ پانی پلا کر بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔
⋆ بغیر پیشگی اطلاع دیئے افطاری کے وقت بہت سے افراد کی طرف سے کھانے پینے کی اشیاء آ جاتی ہیں نتیجہ یہ کہ یا تو روزہ افطار کرنے والے رنگارنگ اشیاء دیکھ کر ضرورت سے زیادہ کھا لیتے ہیں یا پھر وہ چیزیں زیادہ ہونے کی وجہ سے بچ جاتی ہیں چونکہ اب دوسرے وقت تازہ کھانا کھانے کا رواج ہے یا اتنے زیادہ کھانے کو سنبھالنے کے لئے کوئی مناسب جگہ نہیں ہوتی، لوگ بھی زیادہ کھانا دیکھ کر اس کی قدر نہیں کرتے، یوں بہت سارا رزق ضائع ہو جاتا ہے حالانکہ یہ وہ رزق ہے جس کے ایک ایک ریزے کا حساب ہم نے اللہ تعالیٰ کو دینا ہے۔
⋆ افطاری کی اشیاء ایک دوسرے پر فخر و مباہات کی وجہ سے بڑھ چڑھ کر بنائی اور کھلائی جاتی ہیں۔
⋆ بعض لوگ قرض اٹھا کر افطاری کرواتے ہیں، ان کا خیال یہ ہوتا ہے کہ یہ رسم جب سب لوگ ادا کر رہے ہیں تو ہم پیچھے کیوں رہیں۔
⋆ روزہ دار بھی تمام دن کھانے پینے سے رک کر خوب صبر کرتے ہیں لیکن روزہ کھلتے ہی رنگ برنگ اشیاء دیکھ کر بے صبر ہو جاتے ہیں اور چھینا چھینی شروع کر دیتے ہیں۔ ہر شخص اچھی بوٹیاں اچھے کھانے اور اچھے پھل پر قبضہ کرنے کی کوشش میں لگ جاتا ہے، جن لوگوں کو حسب پسند اشیاء نہ مل سکیں وہ دوسروں کی خوب نکتہ چینیاں کرتے ہیں اور ان پر غصہ نکالتے ہیں، اس وقت یوں لگتا ہے جیسے یہ کوئی مہذب انسان نہیں بلکہ حیوان ہیں جو اپنے شکار پر قبضہ کرنے کے لئے لڑ رہے ہیں۔ (تفصیل کے لیے دیکھیے سحری، افطاری اور افطاریاں)
⋆ غیر ضروری کھانے کی چیزوں کو بھی ہم نے ضرورت بنالیا ہے گو روزہ تربیت و اصلاح اور تزکیہ نفس کے لئے ہے لیکن ہم نفس کے بندے روزہ رکھ کر بھی تربیت و اصلاح کے عمل سے خود کو نہیں گزارتے جب کہ اعتکاف تو ہے ہی دنیوی امور سے کٹنے کا نام۔
⋆ جو لوگ اعتکاف بیٹھے ہوتے ہیں ان میں سے اکثر اپنا خصوصی حق سمجھتے ہیں کہ انہیں کھانے کا بہترین حصہ ملے۔ لہذا وہ اپنا حق حاصل کرنے سے نہیں رکتے مسجد اور اعتکاف کے تمام احترام اور حدود کو نظر انداز کر کے آپس میں کھانے کے لئے بحث و تکرار کی جاتی ہے، عورتیں چونکہ مردوں سے بھی زیادہ بے صبری ہوتی ہیں لہذا وہ اعتکاف کے بعد یہ تذکرہ کرتی رہتی ہیں کہ فلاں عورت اتنی اتنی بوٹیاں ، اتنی پلیٹیں چاول اور اتنے اتنے کیلے مالٹے کھا جاتی ہے اور اتنے اتنے کپ چائے یا اتنے گلاس شربت پی جاتی ہے۔
بعض عورتیں اعتکاف کرنے والیوں سے نہیں نمٹ سکیں تو مردوں کے حوالے یہ ذمہ داری کرنا پڑی اور دوران اعتکاف عورتوں کی اجنبی مردوں سے راہ و رسم کی ایک صورت پیدا ہو گئی جس کے مضمرات اپنی جگہ بہت ہی مہلک ہیں۔
⋆ بعض مساجد میں چولہا چوکا بھی ہوتا ہے اور عورتوں کو چولہے چوکے سے خصوصی نسبت ہے لہذا وہ رات کو دوران اعتکاف بھی اٹھ اٹھ کر گرم گرم چائے پیتی اور کھانا گرم کر کے کھاتی ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ما ملأ آدمي وعاء شرا من بطن بحسب ابن آدم أكلات يقمن صلبه فإن كان لا محالة فثلث لطعامه وثلث لشرابه وثلث لنفسه
کسی آدمی نے کوئی برتن اپنے پیٹ سے زیادہ برا نہیں بھرا آدمی کے لئے تو چند لقے ہی کافی ہیں جو اس کی پشت کو سیدھا رکھیں اور اگر زیادہ ہی کھانا ضروری ہو تو پھر پیٹ کا تیسرا حصہ اپنے کھانے کے لئے، تیسرا حصہ پانی کے لئے اور تیسرا حصہ سانس لینے کے لئے۔ (سنن ترمذی ابواب الزهد باب ما جاء في كراهية كثرة الاكل، رقم الحدیث 2368 اسے ابن حبان نے موارد 1339 اور ذہبی نے تلخیص المستدرک 121/4 میں صحیح کہا ہے ریاض الصالحین رقم الحدیث 516)
خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زندگی بھر کبھی پیٹ بھر کر نہیں کھایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ایک وقت میں زیادہ قسم کے کھانوں کو اسراف میں شمار کرتے اور ایک وقت میں ایک قسم کے کھانے ہی کو پسند کرتے تھے۔ چنانچہ ایک بار سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں آپ کے سامنے ٹھنڈا شوربا اور روٹی پیش کی گئی اور شوربے پر زیتون کا تیل ڈال دیا گیا۔ یہ دیکھ کر آپ نے فرمایا:
ایک برتن میں دو سالن یعنی شوربا اور تیل، میں مرتے دم تک ایسا سالن نہیں چکھ سکتا۔ (از سیرت عمر ابن جوزی)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
المؤمن يأكل فى معى واحد والكافر يأكل فى سبعة أمعاء
مومن ایک آنت سے کھاتا ہے اور کافر سات آنتوں سے کھاتا ہے۔ (مسلم کتاب الاشربہ رقم الحدیث 6720)
لہذا ایک مسلمان کو بہت اچھے اور بہت زیادہ کھانے کھانا سنت نبوی اور صحابہ کرام کے طریقے کی روشنی میں بھی زیب نہیں دیتا۔ ہمارے ہاں ایک وقت میں زیادہ کھانے پکانے یا خصوصاً افطاریوں میں زیادہ کھانے کی چیزوں کا جو رواج چل نکلا ہے، اس پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ اعتکاف تو نام ہے کھانا ،سونا، بولنا، ملنا اور دیگر دنیوی مشاغل کو کم سے کم کر دینے کا۔ اگر یہ سب مشاغل بدستور جاری رہیں تو پھر وہ اعتکاف کی توہین ہے۔
اعتکاف نام ہے بیوی، بچوں، شوہر اور دیگر تمام دنیوی علائق سے قطع تعلق کر کے اللہ سے تعلق جوڑنے کا، اگر بیوی بچوں کے مسائل دوران اعتکاف بھی اسی طرح حاوی رہیں تو پھر یہ اعتکاف نہیں ہے۔
اپنے محلے کی مساجد کو چھوڑ کر دور کی مساجد میں جانے کا رجحان ختم کرنا چاہئے ہر مسجد اللہ کا گھر ہے اور ہر مسجد میں کی گئی عبادت یکساں اللہ کو پسند ہے۔
اعتکاف نام ہے انسان کے ایک جگہ جم کر بیٹھ جانے کا لہذا بار بار جائے اعتکاف سے اٹھنے کا تکلف ختم ہونا چاہئے۔ اعتکاف جیسی اصلاح و تربیت، تزکیہ نفس اور تطہیر فکر و روح کرنے والی عبادت کی ادائیگی میں مختلف ممنوعات کا ارتکاب اس بات کی علامت ہے کہ اعتکاف بیٹھنے والے اس مہتم بالشان عبادت کے مقاصد، آداب اور احترام سے واقف ہی نہیں۔ اس عبادت کی ادائیگی میں مساجد میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ اس سے کہیں زیادہ ہے جو بیان کیا گیا ہے۔
تھوڑی دیر کے لئے سوچئے اگر کوئی دنیا کے سب سے بڑے بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوتے ہوئے، اسے اپنی طرف متوجہ کرتے ہوئے اور اس سے راز و نیاز کرنے میں مصروف ہو، اسے اس بادشاہ سے حاجات پوری کرانا ہوں اور ایسے میں اچانک فون کی گھنٹی بج اٹھے یا پُرتکلف کھانا سامنے آ جائے یا کوئی گھر کا فرد ملنے آ جائے تو اس شخص کا رد عمل کیا ہوگا؟ وہ فون کی بیل ہی بند کر دے گا یا سرے سے فون ہی اپنے پاس نہیں رکھے گا تاکہ بادشاہ کی حاضری کا مکمل یکسوئی سے فائدہ اٹھا سکے ،اگر کوئی ملنے آ جائے تو اسے یہ کہہ کر ملنے سے انکار کر دے گا کہ میں اس وقت انتہائی ضروری کام میں مصروف ہوں، کھانا سامنے دیکھ کر بھی اس کا خیال کھانے کی طرف نہیں جائے گا کیونکہ اس کا خیال اس کائنات کے بادشاہ کی طرف مرکوز ہے جس کی توجہ اور رحمت اسے دنیا کی ہر چیز سے بے نیاز کر سکتی ہے۔
رہی خواتین کے اعتکاف کی بات تو اس ضمن میں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے قول پر ایک بار پھر غور کیا جائے جب عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے عہد رسالت کے چند سال بعد ہی لوگوں کے حالات میں تغیر محسوس کیا تو فرمایا: آج عورتوں میں جو نئی نئی باتیں پیدا ہو گئی ہیں اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دیکھ لیتے تو ان کو مسجد میں جانے سے روک دیتے جس طرح بنی اسرائیل کی عورتوں کو روک دیا گیا تھا۔ (بخاری: 869)
آج جب کہ آپ کے بعد چودہ سو سال کا عرصہ گزر چکا ہے فتنے کس قدر زیادہ ہو چکے ہیں، اس سے ہر ذی شعور شخص بخوبی واقف ہے۔ فتنوں کے اس دور میں عورت کی پناہ گاہ اس کا گھر ہے لہذا اس کو چاہئے کہ رمضان میں جس قدر عبادت کر سکتی ہے کرے لیکن گھر ہی میں رہ کر۔ اعتکاف فرض نہیں ہے کہ اس کے لئے خود کو آزمائش میں ڈالے۔ چاہے تو وہ گھر کے کسی کونے، کھدرے یا کمرے میں خیمہ کر پوری یکسوئی سے اللہ تعالیٰ کی عبادت اور اس کا ذکر کرے، اس پر شرعی اعتکاف کا اطلاق تو نہیں ہوتا یا شرعی اعتکاف کا اجر تو شاید نہ ملے لیکن عبادت کرنے کا اور فتنوں سے بچنے کی نیت سے گھر سے باہر نہ نکلنے پر اضافی اجر بھی ان شاء اللہ ملے گا۔
بعض لوگوں کی یہ غلط فہمی کہ مسجدیں محفوظ ہیں صرف غلط فہمی ہے، واقفانِ حال جانتے ہیں کہ اعتکاف کے دوران مساجد میں کیا کیا فتنے سر اٹھاتے ہیں۔
نیز جب عہد رسالت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے امہات المومنین کے مسجد میں خیمے دیکھ کر ناگواری کا اظہار کیا اور انہیں تنبیہ کرنے کے لئے اپنا خیمہ بھی اٹھا لیا تو اس واقعہ سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عورتوں کا دیکھا دیکھی یا شہرت کے لیے مساجد میں اعتکاف کے لئے آنا پسندیدہ نہیں۔
نیز عہد رسالت کے اس واقعہ کے بعد صحابیات اور ان کے بعد کے ادوار میں بھی کسی خاتون کے بارے یہ نہیں ملتا کہ اس نے مسجد نبوی میں اعتکاف کیا ہو، البتہ مسجد حرام میں عورتیں اعتکاف کرتی آرہی ہیں لیکن مسجد حرام کا معاملہ دیگر مساجد سے مختلف ہے۔
یہ بات درست ہے کہ ہر جگہ کا معاملہ یکساں نہیں ہوتا، بعض مساجد کی انتظامیہ بھی حدود شریعت کا پوری طرح خیال رکھتی ہے اور ایسی عورتیں بھی اعتکاف بیٹھنے والی ہوتی ہیں جو اعتکاف کے احترام اور مقاصد کو اچھی طرح جانتی اور انہیں قائم رکھنے کی پوری پوری کوشش بھی کرتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ انہیں اس کا اجر عطا فرمائیں۔ آمین۔

◈آخری بات

عورتوں کو مساجد میں اعتکاف کے لئے مساجد کے احترام کا خیال رکھنا ضروری ہے۔ جن مساجد میں خواتین کے لئے معقول انتظام ہے اور جن ناروا امور کی نشاندہی کی گئی ہے وہ بھی پیش نہیں آتے بلکہ سکون، یکسوئی اور پوری توجہ کے ساتھ عبادت ادا کی جا سکتی ہے۔ ان خواتین کو مساجد ہی میں اعتکاف کرنا چاہئے اور اس کا نام شرعی اعتکاف ہے۔
یاد رہے کہ مساجد کا ماحول بھی خواتین خود ہی بناتی ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ وہ اعتکاف کو دنیا سے ہٹ کر ، ہر کام سے کٹ کر ،صرف اللہ سے جڑنے کے عہد اور کوشش کے ساتھ پورا کریں کہ یہی اس عبادت کا تقاضا ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ تمام خواتین یکساں نہیں ہوتیں، عموماً ایک، دو یا چند خواتین کے نازیبا رویہ کی وجہ سے دیگر خواتین کی توجہ بھی ہٹ جاتی ہے اور اعتکاف کا توجہ الی اللہ کا مقصد حاصل نہیں ہو پاتا۔ مساجد کی انتظامیہ کمیٹی میں شامل افراد یا نگرانی پر مامور خواتین جس عورت کے غیر ذمہ دارانہ رویہ کو دوران اعتکاف محسوس کریں ان کی ساتھ ساتھ اصلاح کرنا بھی ضروری ہے بلکہ خواتین کے لئے پانچ دس منٹ کے روزانہ خصوصی درس کا اہتمام بھی کیا جا سکتا ہے جس میں انہیں مساجد اور شرائط اعتکاف کے بارے یاد دہانی کروائی جائے۔
و ما توفيقي إلا بالله