مضمون کے اہم نکات
عورتوں کے لیے افضل جگہ:
❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
صلاة المرأة فى بيتها أفضل من صلاتها فى حجرتها، وصلاتها فى مخدعها أفضل من صلاتها فى بيتها
عورت کے لیے اپنے گھر (کے دالان) میں نماز پڑھنا صحن کی نسبت بہتر ہے اور اندرونی کمرے میں نماز پڑھنا کھلے مکان میں نماز پڑھنے سے بھی بہتر ہے۔
[ابو داود، کتاب الصلاة، باب التشديد في ذلك: 570۔ صحیح]
خواتین کو مسجد میں نماز کی اجازت:
❀ خواتین کو مساجد میں جا کر نماز پڑھنے کی اجازت ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
لا تمنعوا إماء الله مساجد الله
اللہ کی بندیوں کو اللہ کی مساجد میں جانے سے منع نہ کرو۔
[بخاری، کتاب النکاح، باب استئذان المرأة زوجها إلى المسجد وغيره: 5238۔ مسلم: 442/136]
خواتین کی خاص مساجد:
گھر میں جماعت کے لیے ایک جگہ مخصوص کی جا سکتی ہے، جیسا کہ سیدنا انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ام سلیم رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی کہ آپ میرے گھر میں تشریف لا کر نماز پڑھیں، پھر میں اس جگہ کو اپنے لیے مسجد بنا لوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے تو ام سلیم رضی اللہ عنہا نے ایک چٹائی پکڑی اور اس پر پانی کے چھینٹے مارے، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر نماز پڑھی اور انھوں نے بھی آپ کے ساتھ نماز ادا کی۔
[نسائی، کتاب المساجد، باب الصلاة على الحصير: 738۔ إسناده صحیح]
❀ اسی طرح خواتین کی مخصوص جگہوں میں مثلاً خواتین کے سکول، مدرسہ وغیرہ میں مسجد بنانی چاہیے۔ لیکن مردوں کی طرح عام معاشرے میں عورتوں کے لیے مخصوص مساجد کہ جس کا آج کل کفار نے حقوق نسواں کے نام پر شوشہ چھوڑا ہے، قرآن و سنت یا تاریخ اسلام میں اس کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ لہذا عام معاشرے میں خواتین کے لیے علیحدہ مساجد بنانا جائز نہیں، کیونکہ یہ سراسر فتنے کا باعث ہے۔
خواتین کی جماعت:
❀ عورتیں بھی جماعت سے نماز ادا کریں تو بہتر ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بلا تخصیص فرمایا:
جماعت کے ساتھ پڑھی جانے والی نماز تنہا کی نماز سے ستائیس گنا بہتر ہے۔
[بخاری، کتاب الأذان، باب فضل صلاة الجماعة: 645۔ مسلم: 650]
❀ گھر میں خواتین جماعت کروا سکتی ہیں۔ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ملاقات کے لیے اس کے گھر میں تشریف لائے اور اس کے لیے ایک مؤذن مقرر کیا اور اسے (یعنی مجھے) گھر والوں کی جماعت کروانے کا حکم دیا۔
[ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب إمامة النساء: 592۔ حسن]
❀ سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا بڑی نجی گھر میں موجود صرف عورتوں کو جماعت کرواتی تھیں، کیونکہ دارقطنی میں الفاظ ہیں: وتؤم نساءها یعنی وہ اپنے گھر کی عورتوں کی امامت کرائے۔
[الدار قطني: 1069۔ إسناده حسن]
خواتین کی جماعت فرض و نفل دونوں کے لیے جائز ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ام ورقہ رضی اللہ عنہا کو مطلق گھر والوں کو نماز پڑھانے کا حکم دیا تھا، فرض اور نفل کی تفریق نہیں کی۔
خواتین کی جماعت کروانے کا طریقہ:
❀ عورت امام صف ہی میں کھڑی ہوگی، مرد امام کی طرح آگے بڑھ کر نہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا جماعت کرواتے وقت صف میں کھڑی ہوتی تھیں۔
[الدار قطني: 0404/1، حدیث: 1429۔ إسناده حسن لذاته]
❀ اس کی قراءت کی آواز بس اسی قدر ہو کہ مقتدی عورتیں سن سکیں۔
خواتین کے لیے مسجد جانے کے آداب:
❀ عورتوں کو خوشبو لگا کر (یا بھڑکیلا لباس پہن کر) مسجد میں نہیں آنا چاہیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تم میں سے کوئی مسجد میں آنا چاہے تو وہ خوشبو نہ لگائے۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد: 443/142]
❀ اگر فتنے کا خطرہ ہو تو عورت کو مسجد میں جانے کی اجازت نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أيما امرأة أصابت بخورا فلا تشهد معنا العشاء الآخرة
جو عورت خوشبو لگائے وہ نماز عشاء میں ہمارے ساتھ شامل نہ ہو۔
[مسلم، کتاب الصلاة، باب خروج النساء إلى المساجد: 444۔ بخاری: 869]