خنزیر کی چربی اور تمام اجزاء کا حکم – امت کا اجماع

ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

خنزیر کی چربی کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟

جواب:

خنزیر کے تمام اعضا حرام ہیں ، ان سے انتفاع جائز نہیں۔
❀ فرمان باری تعالیٰ ہے:
﴿أَوْ لَحْمَ خِنْزِيرٍ فَإِنَّهُ رِجْسٌ.﴾
(الأنعام : 145)
”خنزیر کا گوشت ( بھی حرام کیا گیا ہے) کیونکہ وہ (خنزیر) نجس ہے۔“
❀ علامہ عینی حنفی رحمہ اللہ (855ھ) فرماتے ہیں:
الضمير يرجع على الخنزير، فتكون جميع أجزائه نجسا.
﴿فَإِنَّه﴾ کی ضمیر خنزیر کی طرف لوٹتی ہے، لہذا خنزیر کے تمام اجز انجس ہیں ۔“
(منحة السلوك، ص 48)
❀ علامہ ابن حزم رحمہ اللہ (456 ھ ) فرماتے ہیں:
اتفقوا أن لحم الخنزير وشحمه وودكه وغضروفه ومحه وعصبه حرام كله وكل ذلك نجس.
”اہل علم کا اتفاق ہے کہ خنزیرکا گوشت، چربی ، چکنائی ، نرم ہڈی بھیجہ اور اعصاب سب کچھ حرام ہے، نیز سب نجس ہے۔“
(مراتب الإجماع، ص 23)
❀ علامہ ابن العربی رحمہ اللہ (543ھ) فرماتے ہیں:
اتفقت الأمة على أن لحم الخنزير حرام بجميع أجزائه .
” اہل علم کا اتفاق ہے کہ خنزیر کے گوشت کے تمام اجزا حرام ہیں۔“
(أحكام القرآن :80/1)
❀ علامہ قرطبی رحمہ اللہ (671 ھ ) فرماتے ہیں:
أجمعت الأمة على تحريم شحم الخنزير، فإن اللحم مع الشحم يطلق عليه اسم اللحم، فقد دخل الشحم فى مسمى اللحم ولا يدخل اللحم فى مسمى الشحم، وقد حرم الله تعالى لحم الخنزير، فشمل ذكر لحمه شحمه، لأنه دخل تحت مسمى اللحم.
”اُمت کا اجماع ہے کہ خنزیر کی چربی حرام ہے۔ کیونکہ چربی والے گوشت پر بھی گوشت کا لفظ بولا جاتا ہے، چربی کا لفظ گوشت کے لفظ میں داخل ہوتا ہے، مگر چربی کے لفظ میں گوشت کا لفظ داخل نہیں ہوتا، اللہ تعالیٰ نے خنزیر کا گوشت حرام کیا ہے، اللہ تعالیٰ نے گوشت کا لفظ ذکر کر کے چربی کو بھی شامل کر دیا ہے، کیونکہ چربی گوشت کے لفظ کے تحت آتی ہے۔“
(تفسير القرطبي : 222/2)

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️