خلع میں حق مہر اور مرد کا دوسرا نکاح قرآن و حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال:

میری بیوی روٹھی ہوئی ہے اور طلاق کا مطالبہ کر رہی ہے، حق مہر میں دو تولے زیورات لکھے ہوئے ہیں، کیا طلاق دیتے وقت زیورات مجھے واپس لینے پڑیں گے؟ دوسرا سوال یہ ہے کہ کیا میں اس کی غیر موجودگی میں دوسرا نکاح کر سکتا ہوں؟ کتاب و سنت کی روشنی میں جواب تحریر فرمائیں۔

جواب:

جب کوئی عورت اپنے شوہر سے طلاق کا مطالبہ کرے تو اسے شرعاً خلع کہا جاتا ہے، خلع میں شوہر اپنا دیا ہوا حق مہر واپس لینا چاہے تو لے سکتا ہے اور اگر معاف کر دے تو اس کی مرضی ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ نے خلع کا ذکر یوں فرمایا ہے:
﴿فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهُ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ﴾
(البقرة: 229)
”اگر تمھیں ڈر ہو کہ یہ دونوں اللہ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت کے فدیہ دینے میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔“
اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے عورت کو مال دے کر رہائی کی اجازت دی ہے یعنی وہ مہر واپس کر کے طلاق لے سکتی ہے، مرد کا مہر واپس لینا گناہ نہیں۔ حبیبہ بنت سہل انصاریہ رضی اللہ عنہا ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک روز صبح کو جب نکلے تو حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کو اندھیرے میں اپنے دروازے پر پایا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ کہنے لگی: میں حبیبہ بنت سہل ہوں۔ آپ نے پوچھا: تیرا کیا معاملہ ہے؟ کہنے لگی: میں اور ثابت بن قیس اکٹھے نہیں رہ سکتے۔ پھر جب ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے جو اللہ نے چاہا بیان کر دیا ہے۔ حبیبہ رضی اللہ عنہا نے کہا: یا رسول اللہ! جو کچھ اس نے مجھے عطا کیا ہے وہ سب میرے پاس ہے۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس سے مال لے لو اور اسے چھوڑ دو۔ چنانچہ اس نے مال لے لیا اور وہ اپنے اہل میں جا کر بیٹھ گئیں۔
(أبو داؤد، كتاب الطلاق، باب في الخلع 2227، سنن النسائي، كتاب الطلاق، باب ما جاء في الخلع 3528)
ابو داؤد کی حدیث (2228)میں ہے کہ حبیبہ بنت سہل رضی اللہ عنہا کی بیوی کو ثابت رضی اللہ عنہ نے مارا تھا اور اس کی کوئی ہڈی توڑ دی تھی، نماز فجر کے بعد وہ شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ثابت رضی اللہ عنہ کو بلایا اور فرمایا: اس کا کچھ مال لے لو اور اسے چھوڑ دو۔ وہ بولے: یا رسول اللہ! کیا یہ جائز ہے؟ آپ نے فرمایا: ہاں۔ انہوں نے کہا: میں نے اسے دو باغ مہر میں دیے ہیں اور وہ دونوں اس کے قبضے میں ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دونوں لے لو اور اسے چھوڑ دو۔ چنانچہ انہوں نے ایسا ہی کیا۔
معلوم ہوا کہ عورت جب طلاق کا مطالبہ کرتی ہے تو حق مہر واپس لے کر طلاق دی جا سکتی ہے۔ لہٰذا سائل دو تولے زیورات جو حق مہر ہیں واپس لے لے اور اسے طلاق دے دے۔ رہا دوسرا سوال تو دوسرے نکاح کے لیے پہلی عورت کی موجودگی یا عدم موجودگی کا کوئی مسئلہ نہیں، مرد اگر انصاف کر سکتا ہے تو دوسری شادی جب چاہے کر سکتا ہے، اس میں کوئی شرعی رکاوٹ نہیں۔ یہ مرد کا شرعی حق ہے، پہلی بیوی کو اس میں دخل اندازی کی شرعاً کوئی اجازت نہیں۔