مضمون کے اہم نکات
خلع کے احکام
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
خلع سے مراد یہ ہے کہ شوہر، بیوی کے مطالبے پر مخصوص الفاظ کے ذریعے اسے اپنے نکاح سے الگ کر دے۔ لغت میں خلع کا معنی ہے: الگ کرنا اور اتار دینا، کیونکہ عورت اپنے آپ کو شوہر سے اس طرح جدا کر لیتی ہے جیسے لباس اتارا جاتا ہے، اسی لیے اسے خلع کہا جاتا ہے۔ یہ بات بھی ملحوظ رہے کہ میاں اور بیوی ایک دوسرے کے لیے لباس کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"هُنَّ لِبَاسٌ لَكُمْ وَأَنْتُمْ لِبَاسٌ لَهُنَّ”
“وہ (بیویاں) تمھارا لباس ہیں اور تم ان کے لیے لباس ہو۔” [البقرۃ:2/187]
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ نکاح مرد اور عورت کو باہم جوڑنے کا ذریعہ ہے، خوشگوار زندگی گزارنے کا سبب ہے، محبت کی بنیاد رکھتا ہے، خاندان کی تشکیل کرتا ہے اور نئی نسل کی پرورش کا وسیلہ بنتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَمِنْ آَيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُمْ مَوَدَّةً وَرَحْمَةً "
“اور(یہ بھی)اس کی نشانیوں میں سے ہے کہ اس نے تمھارے لیے تمھاری ہی جنس سے بیویاں پیدا کیں تاکہ تم ان سے آرام پاؤ اور اس نے تمھارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔” [الروم:30۔21]
لیکن اگر نکاح کے بعد یہ مقاصد حاصل نہ ہوں، میاں بیوی میں محبت پیدا نہ ہو، یا محبت برقرار نہ رہ سکے، یا شوہر کی طرف سے محبت و الفت کا اظہار نہ ہو، اور ان کی زندگی تنگی اور تکلیف میں گزرنے لگے، نیز اصلاح و علاج کی کوئی صورت باقی نہ رہے، تو شوہر کے لیے مناسب ہے کہ وہ بیوی کو اچھے طریقے سے چھوڑ دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ”
“پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔” [البقرۃ:2/229]
اور ایک اور مقام پر فرمایا:
"وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا”
“اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا۔ اللہ وسعت والا حکمت والا ہے۔” [النساء:4/130]
اگر شوہر کو بیوی سے محبت ہو مگر بیوی کے دل میں شوہر کی محبت نہ رہے، یا وہ اس کے کسی اخلاقی عیب سے دل گرفتہ ہو، یا اس کی شکل و صورت پسند نہ کرے، یا اس کی کسی دینی کمزوری کی وجہ سے اس سے نفرت محسوس کرے، یا اسے یہ اندیشہ ہو کہ وہ شوہر کے حقوق پورے نہ کر سکے گی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں گناہ گار ٹھہرے گی، تو ایسے حالات میں عورت کے لیے جائز ہے کہ وہ کسی چیز کے عوض اپنے شوہر سے علیحدگی کا مطالبہ کرے، اور حاکم اس کی درخواست قبول کر کے نکاح فسخ کر دے اور دونوں کو الگ کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ”
“اگر تمھیں ڈر ہوکہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔” [البقرۃ:2/229]
خلع کے جواز میں یہ حکمت ہے کہ بیوی اس طرح اپنے آپ کو شوہر سے الگ کر لیتی ہے کہ اس میں رجوع کی گنجائش باقی نہیں رہتی، لہٰذا یہ دونوں کی مشکل کا ایک منصفانہ حل بن جاتا ہے۔ ایسی صورت میں شوہر کو چاہیے کہ عورت کا مطالبہ قبول کر لے۔ البتہ اگر شوہر کو اس سے محبت ہو تو عورت کے لیے بہتر ہے کہ صبر کرے اور خلع نہ لے۔
خلع مباح ہے، بشرطیکہ مذکورہ آیت میں بیان کردہ سبب موجود ہو، یعنی شوہر اور بیوی دونوں کو یہ خوف ہو کہ اگر وہ نکاح میں باقی رہے تو اللہ تعالیٰ کی حدود قائم نہ رکھ سکیں گے۔ اگر یہ سبب موجود نہ ہو تو عورت کی طرف سے خلع کا مطالبہ ناپسندیدہ ہے، بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک ایسے حال میں حرام ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَيُّمَا امْرَأَةٍ سَأَلَتْ زَوْجَهَا طَلاقًا فِي غَيْرِ مَا بَأْسٍ فَحَرَامٌ عَلَيْهَا رَائِحَةُ الْجَنَّة”
“جس عورت نے اپنے خاوند سے بلاوجہ طلاق کا مطالبہ کیا اس پر جنت کی خوشبو حرام ہے۔” [سنن ابی داؤد الطلاق فی الخلع حدیث 2226، جامع الترمذی الطلاق باب ماجاء فی المختلعات حدیث 1187، سنن ابن ماجہ الطلاق باب کراھیہ الخلع للسراۃ حدیث 2055، مسند احمد 5/277]
شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “شریعت نے جس خلع کی اجازت دی ہے وہ یہ ہے کہ عورت کسی معقول سبب کی بنا پر اپنے شوہر کو ناپسند کرے اور اپنے آپ کو فدیہ دے کر اس سے آزاد کرالے۔” [مجموع الفتاوی 16/397]
اگر شوہر بیوی سے محبت نہیں کرتا، لیکن محض اس غرض سے اسے اپنے پاس روکے رکھتا ہے کہ وہ تنگ آکر کچھ معاوضہ دے کر چھٹکارا حاصل کرے، تو ایسا شوہر اللہ کے نزدیک ظالم ہوگا، اور اس کے لیے یہ حرام ہے کہ وہ علیحدگی کے بدلے کچھ لے۔ شرعاً ایسا خلع درست نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَلَا تَعْضُلُوهُنَّ لِتَذْهَبُوا بِبَعْضِ مَا آتَيْتُمُوهُنَّ”
“اور انھیں اس لیے روک نہ رکھو کہ جو(مہر )تم نے انھیں دے رکھا ہے اس میں سے کچھ لے لو۔” [النساء:4/19]
یعنی عورتوں کو تنگ نہ کرو تاکہ وہ مہر کا کچھ حصہ یا پورا مہر واپس کر دیں یا اپنے کسی حق سے دستبردار ہو جائیں۔ ہاں اگر عورت کی کھلی بے حیائی ظاہر ہو جائے تو شوہر مہر واپس لینے کے لیے ایسا کر سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"إِلَّا أَن يَأْتِينَ بِفَاحِشَةٍ مُّبَيِّنَةٍ ۚ "
“ہاں یہ اور بات ہے کہ وہ کوئی کھلی برائی اور بے حیائی کریں۔” [النساء:4/19]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بھی یہی موقف ہے۔
خلع کے جواز کی دلیل، جب اسباب پائے جائیں، کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔ قرآن مجید میں فرمایا گیا:
"فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ”
“اگر تمھیں ڈر ہوکہ یہ دونوں اللہ کی حدیں قائم نہ رکھ سکیں گے تو عورت رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔” [البقرۃ:2/229]
اور سنت سے دلیل سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیوی کا واقعہ ہے جو صحیح بخاری میں مذکور ہے۔ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا: اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! میں اپنے شوہر ثابت بن قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دین اور اخلاق میں کوئی عیب نہیں پاتی، لیکن مجھے یہ ناپسند ہے کہ میں اسلام میں رہتے ہوئے شوہر کی ناقدری کروں اور گناہ میں پڑ جاؤں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَتَرُدِّينَ عَلَيْهِ حَدِيقَتَهُ ؟ قَالَتْ : نَعَمْ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : اقْبَلْ الْحَدِيقَةَ وَطَلِّقْهَا تَطْلِيقَةً”
“کیا تم اس کا باغ (جو اس نے مہر میں دیا تھا)واپس کرو گی؟اس نے کہا:جی ہاں!آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے خاوند کو فرمایا کہ باغ واپس لے لو اور اسے ایک طلاق دے کر الگ کر دو۔” [صحیح البخاری الطلاق باب الخلع و کیف الطلاق فیہ؟ حدیث 73۔52]
جہاں تک اجماع کا تعلق ہے تو علامہ ابن عبدالبر رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ ہمیں خلع کے جواز کا انکار کسی سے معلوم نہیں، سوائے مزنی رحمۃ اللہ علیہ کے۔ ان کے نزدیک خلع کے جواز والی آیت، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے منسوخ ہے:
"وَإِنْ أَرَدتُّمُ اسْتِبْدَالَ زَوْجٍ مَّكَانَ زَوْجٍ وَآتَيْتُمْ إِحْدَاهُنَّ قِنطَارًا فَلَا تَأْخُذُوا مِنْهُ شَيْئًا ۚ "
“اگر تم ایک بیوی کی جگہ دوسری بیوی کرنا چاہو اور ان میں سے کسی کو تم نے خزانہ بھر مال دے رکھا ہو تو بھی اس میں سے کچھ نہ لو۔” [النساء:4/20]
خلع کے صحیح ہونے کے لیے شرط ہے کہ اس میں مالی معاوضہ ہو، اور معاوضہ دینے والا ایسا ہو جس کے لیے مالی تصرف شرعاً جائز ہو۔ نیز خلع ایسے شوہر کی طرف سے ہو جس کی طلاق معتبر ہو، اور وہ بیوی کو ناحق تنگ نہ کر رہا ہو کہ وہ مجبور ہو کر معاوضہ دے۔ مزید یہ کہ خلع کے لیے خلع کا لفظ استعمال کیا جائے۔
اگر شوہر نے صریح الفاظِ طلاق یا کنایہ کے الفاظ نیتِ طلاق کے ساتھ استعمال کیے تو وہ طلاق ہوگی، خلع نہیں؛ اور ایسی طلاق میں رجوع کی گنجائش نہیں، البتہ نیا عقد کر کے دوبارہ نکاح کیا جا سکتا ہے، اور کسی دوسرے مرد سے نکاح کی شرط نہیں، بشرطیکہ وہ پہلے دو طلاقیں دے چکا ہو، تین نہ ہوئی ہوں۔
اور اگر اس نے خلع، فسخ نکاح، یا فدیہ کے الفاظ استعمال کیے اور طلاق کی نیت نہ کی، تو نکاح فسخ ہوگا، طلاق شمار نہ ہوگی، اور طلاق کی تعداد میں کمی واقع نہ ہوگی۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا یہی موقف ہے۔ ان کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ”
“طلاق رجعی دو مرتبہ ہے۔” [البقرۃ:2/229]
پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ "
“پھرجو وہ اپنی رہائی پانے کے لیے کچھ دے ڈالے اس میں دونوں پر کوئی گناہ نہیں۔” [البقرۃ:2/229]
پھر اس کے بعد فرمایا:
"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ”
“پھر اگر وہ اس کو(تیسری ) طلاق دے دے تو اب اس کے لیے وہ (عورت ) حلال نہیں جب تک کہ وہ اس کے سوا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔” [البقرۃ:2/230]
اس ترتیب سے واضح ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دو طلاقوں کے ذکر کے بعد خلع کا بیان فرمایا، پھر اس کے بعد ایک اور طلاق کا ذکر فرمایا۔ اگر خلع بھی طلاق ہی ہوتا تو آخری طلاق چوتھی شمار ہوتی، اور یہ درست نہیں۔ واللہ اعلم۔
طلاق کے احکام
طلاق کے لغوی معنی ہیں: چھوڑ دینا اور آزاد کرنا۔ اسی سے “طلقت الناقة” آتا ہے، یعنی اونٹنی آزاد ہوگئی، جب اسے کھلا چھوڑ دیا جائے کہ جہاں چاہے چر لے۔
اور شرعی معنی یہ ہیں کہ نکاح کے بندھن کو کلی یا جزوی طور پر کھول دینا۔
حالات اور اسباب کے اختلاف سے طلاق کا حکم بھی بدل جاتا ہے۔ کبھی یہ مباح ہوتی ہے، کبھی مکروہ، کبھی مستحب، کبھی واجب، اور کبھی حرام۔ اس طرح اس پر پانچوں شرعی احکام منطبق ہوتے ہیں۔ ان کی تفصیل یہ ہے:
① مباح طلاق
اگر بیوی کا اخلاق خراب ہو اور وہ شوہر کے لیے ضرر کا باعث بن رہی ہو، اور نکاح باقی رکھنے سے مقصدِ نکاح حاصل نہ ہو رہا ہو، تو شوہر کے لیے طلاق دینا جائز اور مباح ہے۔
② مکروہ طلاق
اگر میاں بیوی کے حالات درست ہوں، طلاق دینے کی کوئی ضرورت یا وجہ نہ ہو، تو طلاق دینا مکروہ ہے۔ بعض ائمہ کے نزدیک ایسی حالت میں طلاق دینا حرام ہے۔ حدیث میں ہے:
"أَبْغَضُ الْحَلالِ إِلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ الطَّلاقُ "
“اللہ عزوجل کے ہاں حلال اشیاء میں سے سب سے زیادہ ناپسندشے طلاق ہے۔” [(ضعیف) سنن ابی داؤد الطلاق باب فی کراھیہ الطلاق حدیث 2178]
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے طلاق کو حلال قرار دیا ہے، اگرچہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے، جس سے معلوم ہوا کہ اس کیفیت میں مباح ہونے کے باوجود یہ مکروہ ہے۔ کراہت کی وجہ یہ ہے کہ طلاق سے وہ نکاح ختم ہو جاتا ہے جو معاشرتی مصلحتوں اور فوائد پر مشتمل تھا۔
③ مستحب طلاق
جب طلاق کی ضرورت ہو اور نکاح قائم رکھنے سے عورت کو نقصان پہنچ رہا ہو، مثلاً میاں بیوی کے درمیان نزاع اور اختلاف پیدا ہو چکا ہو، عورت شوہر کو ناپسند کرتی ہو، تو اس صورت میں نکاح کو باقی رکھنا عورت کے حق میں ضرر کا باعث ہے، لہٰذا اسے طلاق دینا مستحب ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا ضرر ولا ضرار”
“نہ نقصان اٹھاؤ اور نہ نقصان پہنچاؤ۔” [سنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ ما یضربجارہ حدیث 2340]
④ واجب طلاق
اگر عورت دینی اعتبار سے کمزور ہو، مثلاً نماز چھوڑتی ہو، یا بلا وجہ نماز میں تاخیر کی عادی ہو، سمجھانے سے نہ سمجھتی ہو، یا اپنی عزت و عفت کی حفاظت نہ کرتی ہو، تو صحیح بات یہ ہے کہ ایسی عورت کو طلاق دینا واجب ہے۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
“جب بیوی زانیہ ہو تو اسے نکاح میں رکھنا جائز نہیں، ورنہ اسے اپنے پاس رکھنے والا شخص دیوث ہے۔” [الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ باب المحرمات فی النکاح 5/460]
اسی طرح اگر شوہر دینی اعتبار سے درست نہ ہو تو عورت پر لازم ہے کہ وہ طلاق کا مطالبہ کرے یا خلع کے ذریعے الگ ہو جائے، اور ایسی حالت میں ہرگز اس کے ساتھ نہ رہے۔
اسی طرح ایلاء کی صورت میں، یعنی شوہر نے جماع ترک کرنے کی قسم اٹھائی ہو اور چار ماہ گزرنے کے بعد بھی جماع سے باز رہے اور قسم کا کفارہ بھی ادا نہ کرے، تو ایسے شوہر پر طلاق دینا واجب ہے، ورنہ اسے طلاق دینے پر مجبور کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”
“جو لوگ اپنی بیویوں سے(تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے مدت ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والاہے۔” [البقرۃ:2۔226۔227]
⑤ حرام طلاق
بیوی کو حالتِ حیض میں، یا حالتِ نفاس میں، یا ایسے طہر میں جس میں اس سے جماع کیا جا چکا ہو اور حمل کی کیفیت واضح نہ ہو، طلاق دینا حرام ہے۔ اسی طرح جب شوہر تین طلاقیں دے چکا ہو تو مزید طلاق دینا بھی حرام ہے۔ اس کی تفصیل آگے آئے گی، ان شاء اللہ۔
طلاق کی مشروعیت کی دلیل کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع سے ثابت ہے۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ "
“(رجعی) طلاقیں دو مرتبہ ہیں۔” [البقرۃ:2/229]
اور فرمایا:
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ”
“اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔” [الطلاق 1/65]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ”
“طلاق وہی دے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔” [سنن ابن ماجہ الطلاق باب العبد حدیث 2081]
طلاق کی مشروعیت پر متعدد اہل علم نے اجماع نقل کیا ہے۔
طلاق کے جواز میں حکمت بالکل ظاہر ہے۔ یہ اسلام کی خوبیوں میں سے ہے، کیونکہ ضرورت کے وقت نکاح میں پیدا ہونے والی مشکلات کا حل طلاق ہی ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ "
“پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔” [البقرۃ:2/229]
اور فرمایا:
"وَإِنْ يَتَفَرَّقَا يُغْنِ اللَّهُ كُلا مِنْ سَعَتِهِ وَكَانَ اللَّهُ وَاسِعًا حَكِيمًا”
“اور اگر میاں بیوی جدا ہو جائیں تو اللہ اپنی وسعت سے ہر ایک کو بے نیاز کردے گا۔ اللہ وسعت والا حکمت والا ہے۔” [النساء:4/130]
اگر نکاح برقرار رکھنے میں کوئی مصلحت نہ رہے، یا شوہر کے ساتھ رہنے میں عورت کو نقصان پہنچ رہا ہو، یا میاں بیوی میں سے کوئی دینی و اخلاقی اعتبار سے سخت کمزور ہو، تو ایسی صورت میں طلاق تنگی سے نکلنے کا بہترین راستہ ہے۔
بہت سے معاشرے اس لیے مشکلات کا شکار ہیں کہ وہ طلاق کے دروازے کو بند کر دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں تباہی، خودکشی اور خاندانی بگاڑ جیسی خرابیاں جنم لیتی ہیں۔ اسلام نے طلاق کو مباح قرار دے کر، اس کے لیے ایسے ضوابط مقرر کیے ہیں جن سے مصالح حاصل ہوتے ہیں اور مفاسد کا خاتمہ ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے جس نے ہم پر فضل فرمایا۔
طلاق دینے کا اختیار شوہر کو ہے، بشرطیکہ وہ صاحبِ اختیار اور عاقل ہو، یا وہ کسی کو اپنا وکیل بنا دے، تو وکیل اس کی طرف سے طلاق دے سکتا ہے۔ دلیل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے:
"إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ”
“طلاق اسی کی طرف سے ہے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔” [سنن ابن ماجہ الطلاق باب العبد حدیث 2081]
جس شخص کی عقل زائل ہو گئی ہو اور وہ اس باب میں معذور ہو، مثلاً دیوانہ، بے ہوش، سویا ہوا، یا ایسا مریض جس کا شعور ختم ہو گیا ہو، جیسے برسام، یا جسے نشہ آور چیز پینے پر مجبور کیا گیا ہو، یا جس نے دوا کے طور پر بھنگ پی ہو اور اس کی عقل جاتی رہی ہو، تو ایسے اشخاص اگر اپنی بیوی کو طلاق کے الفاظ کہیں تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ سیدنا علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
"وَكُلُّ الطَّلَاقِ جَائِزٌ إِلَّا طَلَاقَ الْمَعْتُوهِ”
“غیر عاقل کے علاوہ ہر ایک کی طلاق جائز (درست) ہے۔” [صحیح البخاری الطلاق باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران قبل حدیث 5269 تعلیقاً]
کیونکہ احکام عقل پر مبنی ہیں۔ واللہ اعلم۔
البتہ اگر کسی نے اپنی مرضی سے نشہ آور چیز استعمال کی اور اس کی عقل جاتی رہی، پھر اس نے طلاق دی، تو اہل علم کے درمیان اختلاف ہے کہ ایسی طلاق واقع ہوگی یا نہیں۔ ایک قول کے مطابق طلاق واقع ہو جائے گی، اور ائمہ اربعہ کے علاوہ اہل علم کی ایک جماعت کی یہی رائے ہے۔
اگر کسی شخص کو دھمکا کر یا زبردستی طلاق دلائی گئی اور اس نے خوف کے تحت طلاق دے دی، تو ایسی طلاق واقع نہ ہوگی، کیونکہ حدیث میں ہے:
"لَا طَلَاقَ وَلَا عَتَاقَ فِي إِغْلَاقٍ”
“جبرواکراہ میں نہ طلاق ہے نہ آزادی۔” [سنن ابی داؤد الطلاق علی غلط حدیث2193، سنن ابی ماجہ الطلاق باب طلاق المکرہ والناسی حدیث 2046، مسند احمد 6/276]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"مَنْ كَفَرَ بِاللَّهِ مِنْ بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالإيمَانِ "
“جو شخص اپنے ایمان کے بعد اللہ سے کفر کرے سوائے اس کے جس پر جبر کیا جائے اور اس کا دل ایمان پر (مطمئن و) برقرار ہو۔” [النحل16/106]
جب جبر میں کفر معاف ہو سکتا ہے، حالانکہ وہ طلاق سے کہیں بڑا معاملہ ہے، تو طلاق بدرجہ اولیٰ معاف ہوگی۔ البتہ جن صورتوں میں طلاق پر مجبور کرنا جائز ہو، وہاں جبری طلاق دلائی جا سکتی ہے۔
غصے کی حالت میں اگر آدمی سمجھتا ہو کہ وہ کیا کہہ رہا ہے، تو اس کی دی ہوئی طلاق واقع ہوگی۔ لیکن اگر غصہ اس قدر شدید ہو کہ اسے شعور نہ ہو کہ وہ کیا بول رہا ہے، تو ایسی حالت کی طلاق واقع نہیں ہوگی۔
مذاق میں دی گئی طلاق بھی واقع ہوجاتی ہے، کیونکہ طلاق کے الفاظ ادا کرنے کا قصد موجود ہوتا ہے، اگرچہ واقع ہونے کا ارادہ نہ ہو۔ واللہ اعلم۔
مسنون اور غیر مسنون طلاق
مسنون طلاق وہ ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے مطابق دی جائے۔
اس کی صورت یہ ہے کہ شوہر صرف ایک طلاق دے، اور وہ بھی ایسے طہر میں جس میں بیوی سے جماع نہ کیا ہو، پھر اسے اسی حالت پر چھوڑ دے یہاں تک کہ عدت مکمل ہو جائے۔ عدت کے اعتبار سے یہ “طلاق مسنون” ہے کیونکہ ایک ہی طلاق دی گئی، اور وقت کے اعتبار سے بھی “مسنون” ہے کیونکہ اسے ایسے طہر میں طلاق دی گئی جس میں جماع نہیں ہوا تھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ”
“اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا چاہو تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔” [الطلاق1/65]
سیدنا ابن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے “لِعِدَّتِهِنَّ” کی تفسیر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ وہ طہر کی حالت میں ہوں اور جماع نہ کیا گیا ہو۔ [السنن الکبری للبیہقی 7/325]
سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: “اگر لوگ طلاق کے بارے میں اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابندی کریں تو مرد کو عورت کے پیچھے بھاگنا نہ پڑے۔ اسے چاہیے کہ ایک طلاق دے، پھر تین حیض تک چھوڑ دے، اگر چاہے تو عدت کے اندر رجوع کر لے۔” [المحلی لابن حزم 10/173]
اللہ تعالیٰ نے طلاق دینے والے کو مہلت دی ہے کہ اگر طلاق دے کر نادم ہو تو عدت کے اندر رجوع کر لے، بشرطیکہ وہ تیسری طلاق نہ ہو۔ لیکن اگر طلاقوں کی تعداد مکمل ہو گئی، یعنی تیسری طلاق دے دی، تو اس نے اپنے لیے رجوع کا دروازہ بند کر لیا۔
غیر مسنون طلاق سے مراد وہ طلاق ہے جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے خلاف دی جائے۔ اس کی صورتیں یہ ہیں:
① ایک ہی مجلس میں تین طلاقیں دے دینا۔
② حیض یا نفاس کی حالت میں طلاق دینا۔
③ ایسے طہر میں طلاق دینا جس میں جماع کیا جا چکا ہو اور حمل کی صورت واضح نہ ہو۔
پہلی صورت عدد کے اعتبار سے غیر مسنون ہے، اور دوسری و تیسری صورت وقت کے اعتبار سے غیر مسنون ہیں۔
عدد کے اعتبار سے غیر مسنون طلاق مؤثر ہو جاتی ہے۔ [ایک ہی مجلس میں دی گئیں تین طلاقیں ایک ہی طلاق شمار ہوگی تین نہیں لہٰذا خاوند کو رجوع کا حق حاصل ہوگا۔ صحیح مسلم میں روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ااور حضرت ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عہد میں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ابتدائی زمانہ خلافت میں بیک وقت تین طلاقوں کو ایک ہی شمار کیا جاتا تھا۔ باقی رہے آیت کریمہ کے کلمات "فَإِن طَلَّقَهَا” تو حدیث شریف کی روشنی میں اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر خاوند نے تیسری مجلس میں یا تیسرے موقع پر تیسری طلاق دے دی تو اس کے لیے وہ حلال نہ ہوگی جب تک کسی اور شخص سے اس کانکاح نہ ہواور وہ اسے طلاق نہ دے یا فوت نہ ہو جائے۔(صارم)]
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ”
“پھر اگر وہ اس کو(تیسری )طلاق دے دے تو اب اس کے لیے وہ (عورت ) حلال نہیں جب تک کہ وہ اس کے سوا دوسرے خاوند سے نکاح نہ کرے۔” [البقرۃ:2/230]
وقت کے اعتبار سے غیر مسنون طلاق میں شوہر کے لیے مستحب ہے کہ رجوع کرے۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں رجوع کرنے کا حکم دیا۔ [صحیح البخاری تفسیر سورۃ الطلاق حدیث 4908، صحیح مسلم الطلاق باب تحریم طلاق الحائض حدیث 1471]
رجوع کے بعد لازم ہے کہ وہ اسے اپنے پاس رکھے یہاں تک کہ حیض سے پاک ہو جائے، پھر اگر چاہے تو پاکی کی حالت میں جماع کیے بغیر طلاق دے۔
شوہر پر حرام ہے کہ وہ غیر مسنون طلاق دے، خواہ عدد کے اعتبار سے ہو یا وقت کے اعتبار سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ”
“یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں۔پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔” [البقرۃ:2/229]
اور فرمایا:
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ”
“اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔” [الطلاق 1/65]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر پہنچی کہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو ایک ساتھ تین طلاقیں دے دی ہیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أَيُلْعَبُ بِكِتَابِ اللَّهِ وَأَنَا بَيْنَ أَظْهُرِكُمْ ؟”
“تعجب ہے! میرے ہوتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی کتاب سے(مذاق کرکے) کھیلا جا رہا ہے۔” [سنن النسائی الطلاق باب الثلاث المجموعہ وما فیہ من التغلیظ حدیث3430]
سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس جب کوئی ایسا شخص لایا جاتا جس نے ایک مجلس میں تین طلاقیں دی ہوتیں تو آپ اسے سزا دیتے تھے۔ اور جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے یہ ذکر آیا کہ ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اپنی بیوی کو حیض کی حالت میں طلاق دی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناراض ہوئے اور انہیں رجوع کا حکم دیا۔
یہ تمام دلائل اس بات کو واضح کرتے ہیں کہ طلاق کے باب میں اللہ تعالیٰ کے احکام کی پابندی کی جائے اور حرام صورتوں سے بچا جائے۔ افسوس یہ ہے کہ بہت سے لوگ ان احکام کو نہ سمجھتے ہیں اور نہ ان کا خیال رکھتے ہیں، جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خود بھی پریشانی اور ندامت کا شکار ہوتے ہیں اور علماء کو بھی مشقت میں ڈالتے ہیں۔ یہ سب اللہ تعالیٰ کی کتاب کے ساتھ کھیلنے کا نتیجہ ہے۔
بعض لوگ طلاق کو ہتھیار بنا لیتے ہیں۔ جب بیوی سے کوئی کام کرانا ہو یا اسے کسی کام سے روکنا ہو تو طلاق کی دھمکی دے کر اپنی بات منوا لیتے ہیں۔ بعض لوگ گفتگو یا معاملات میں طلاق کو قسم کی طرح استعمال کرتے ہیں، مثلاً: اگر میں یہ کام نہ کروں تو میری بیوی کو طلاق، یا اگر میں نے یہ کام کیا تو میری بیوی کو طلاق۔ ایسے لوگوں کو اللہ تعالیٰ سے ڈرنا چاہیے اور اپنی زبان کو اس لفظ سے بچانا چاہیے، الا یہ کہ حقیقی ضرورت ہو، اور اس صورت میں بھی وقت اور عدد کے شرعی ضابطے کو ملحوظ رکھنا چاہیے۔
الفاظِ طلاق کی قسمیں
الفاظِ طلاق دو طرح کے ہیں:
❀ صریح الفاظ: وہ الفاظ جن میں طلاق کے علاوہ کسی اور معنی کا احتمال نہیں ہوتا، مثلاً شوہر اپنی بیوی سے کہے: “میں نے تجھے طلاق دی”، یا “تو طلاق والی ہے”، یا “تجھے طلاق دے دی گئی ہے۔”
❀ کنایہ کے الفاظ: وہ الفاظ جن میں طلاق کے سوا کسی اور معنی کا بھی احتمال ہو، مثلاً: “تو الگ ہے”، “تو بری ہے”، “تو جدا ہے”، “آزاد ہے”، “یہاں سے نکل جا اور اپنے گھر والوں کے پاس چلی جا”، یا “میں نے تجھے چھوڑ دیا” وغیرہ۔ [مصنف نےعرب کے ماحول کے مطابق مثالیں دی ہیں دوسری زبانوں میں ان کے محاورات اور الفاظ کا اعتبار ہوگا یعنی جو الفاظ طلاق کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں اور اپنی آغوش میں دوسرے معانی بھی رکھتے ہیں۔ وہ سب”طلاق کنایہ”میں شامل ہیں(صارم)]
صریح الفاظ کے ذریعے طلاق واقع ہوجاتی ہے، چاہے بولنے والے نے نیت کی ہو یا نہ کی ہو، چاہے سنجیدگی میں کہی ہو یا مذاق میں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” ثَلَاثٌ جِدُّهُنَّ جِدٌّ وَهَزْلُهُنَّ جِدٌّ : النِّكَاحُ ، وَالطَّلَاقُ ، وَالرَّجْعَةُ "
“تین باتیں پکی ہو جاتی ہیں وہ سنجیدگی میں کہی جائیں یا مذاق میں: نکاح طلاق اور رجوع کرنا۔” [سنن ابی داؤد الطلاق باب فی الطلاق علی الھزل حدیث 2194، جامع الترمذی الطلاق باب ماجاء فی الجد والھزل فی الطلاق حدیث1184]
البتہ کنایہ کے الفاظ سے طلاق واقع نہیں ہوتی، جب تک نیتِ طلاق شامل نہ ہو، کیونکہ یہ الفاظ دوسرے معنی بھی دے سکتے ہیں۔ اس لیے نیت کے بغیر طلاق متعین نہیں ہوگی۔ تاہم تین صورتیں ایسی ہیں جن میں کنایہ کے الفاظ سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، خواہ شوہر کہے کہ میری نیت طلاق کی نہ تھی:
① جب میاں بیوی کے درمیان جھگڑا ہو رہا ہو۔
② جب شوہر غصے کی حالت میں یہ الفاظ کہے۔
③ جب بیوی نے طلاق کا مطالبہ کیا ہو اور شوہر کنایہ کے الفاظ استعمال کرے۔
ان حالات میں قرینہ اس کی نیت پر دلالت کرتا ہے، اس لیے اس کا دعویٰ قابل قبول نہیں ہوگا۔ واللہ اعلم۔
شوہر اگر چاہے تو طلاق دینے کے لیے کسی کو اپنا وکیل بنا سکتا ہے، چاہے وہ اجنبی ہو یا خود اس کی بیوی ہو، یعنی طلاق کا اختیار اس کے ہاتھ میں دے دے۔ وکیل صریح، کنایہ اور عدد میں اپنے مؤکل کا قائم مقام ہوگا، الا یہ کہ مؤکل اس کے لیے کوئی حد مقرر کر دے۔
طلاق دینے والے کے لیے، خواہ وہ شوہر ہو یا وکیل، لازم ہے کہ زبان سے الفاظ ادا کرے اور آواز نکالے۔ صرف دل کی نیت سے طلاق واقع نہیں ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إن الله تجاوز عن أمتي ما حدثت به أنفسها ما لم تعمل أو تتكلم”
“اللہ تعالیٰ نے میری امت سے ان امور میں درگزر کیا ہے جو دل میں خیالات کی صورت میں ہوں جب تک ان پر عمل نہ کیا جائے یا انھیں زبان پر نہ لایا جائے۔” [صحیح البخاری الطلاق باب الطلاق فی الاغلاق والکرہ والسکران قبل حدیث 5269]
البتہ دو صورتیں ایسی ہیں جن میں زبان سے ادا کیے بغیر بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے:
① جب صریح الفاظ کے ساتھ طلاق لکھی جائے، وہ واضح طور پر پڑھی جا سکے اور نیت بھی ہو، تو طلاق واقع ہوگی۔ اور اگر نیت نہ ہو تو اس میں علماء کے دو قول ہیں، اکثریت کے نزدیک تب بھی واقع ہوجاتی ہے۔
② جب طلاق دینے والا گونگا ہو اور اس کا اشارہ واضح طور پر طلاق پر دلالت کرے۔
عورت کو کتنی طلاقیں دی جا سکتی ہیں؟
اس کا تعلق مرد کی حیثیت سے ہے کہ وہ آزاد ہے یا غلام۔ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے باب میں مردوں ہی سے خطاب فرمایا ہے:
"يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَطَلِّقُوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ”
“اے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ! (اپنی امت سے کہو کہ) جب تم اپنی بیویوں کو طلاق دینا تو ان کی عدت میں انھیں طلاق دو۔” [الطلاق 1/65]
اور فرمایا:
"وَإِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَاءَ فَبَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ "
“جب تم عورتوں کو طلاق دو اور وہ اپنی عدت ختم کرنے پر آئیں۔” [البقرۃ:2/231]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّمَا الطَّلاَقُ لِمَنْ أَخَذَ بِالسَّاقِ”
“طلاق اسی کی طرف سے ہے جس نے عورت سے نکاح کیا ہے۔” [سنن ابن ماجہ الطلاق باب الطلاق العبد حدیث2081]
آزاد مرد تین طلاقوں کا مالک ہے، اگرچہ اس کے نکاح میں لونڈی ہو۔ اور غلام دو طلاقوں کا مالک ہے، اگرچہ اس کی بیوی آزاد ہو۔ اگر دونوں آزاد ہوں تو بالاتفاق شوہر کو تین طلاقوں کا اختیار ہے۔ اگر دونوں غلام اور لونڈی ہوں تو شوہر کو بلا اختلاف دو طلاقوں کا حق حاصل ہے۔
استثناء اور شرط کے ساتھ طلاق
طلاق کے الفاظ میں استثناء جائز ہے۔ یہ استثناء تعدادِ طلاق میں بھی ہو سکتا ہے، مثلاً کوئی کہے: “تمہیں تین طلاقیں ہیں مگر ایک کم”، یا مطلقات کی تعداد میں ہو، مثلاً: “میری سب بیویوں کو طلاق سوائے فاطمہ کے۔”
استثناء کے صحیح ہونے کے لیے یہ ضروری ہے کہ مستثنیٰ منہ کا نصف یا اس سے کم ہو۔ اگر نصف سے زیادہ ہو، مثلاً کہے: “تمہیں تین طلاقیں مگر دو کم”، تو یہ مؤثر نہ ہوگا۔
استثناء کی ایک شرط یہ بھی ہے کہ وہ زبان سے ظاہر ہو، صرف دل میں نہ ہو۔ لہٰذا اگر کسی نے کہا: “تمہیں طلاقیں”، اور دل میں کہا “مگر ایک”، تو تین طلاقیں ہی واقع ہوں گی۔ [ہم پیچھے حاشیے میں ثابت کر چکے ہیں کہ ایک وقت کی تین طلاقیں ایک طلاق شمار ہو گی۔(صارم)] اس مقام پر الفاظ کا حکم نیت سے زیادہ قوی ہے۔ ہاں عورتوں کے استثناء میں نیت معتبر ہے؛ اگر کسی نے کہا: “میری بیویاں طلاق والی ہیں” اور دل میں ایک بیوی کو مستثنیٰ کیا تو درست ہے، کیونکہ بیویوں کا اطلاق کبھی سب پر اور کبھی بعض پر ہوتا ہے، اس لیے یہاں نیت معتبر ہوگی۔
طلاق کو شرط کے ساتھ معلق کرنا بھی جائز ہے، مثلاً: “اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے۔” اس صورت میں جب وہ اس گھر میں داخل ہوگی تو طلاق واقع ہو جائے گی۔
لیکن شرط اسی وقت معتبر ہوگی جب کہنے والے کی حیثیت شوہر کی ہو۔ اگر کسی نے کہا: “اگر میں فلاں عورت سے شادی کروں تو اسے طلاق”، پھر اس سے نکاح کر لیا، تو طلاق واقع نہ ہوگی، کیونکہ شرط لگاتے وقت وہ اس کا شوہر نہ تھا۔ حدیث میں ہے:
"لاَ نَذْرَ لاِبْنِ آدَمَ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَلاَ عِتْقَ لَهُ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ، وَلاَ طَلاَقَ لَهُ فِيمَا لاَ يَمْلِكُ”
“ابن آدم کے لیے اس امر میں نذر درست نہ ہو گی جس کا وہ مالک نہیں نہ اس کی آزا ی ہوگی جس کا وہ مالک نہیں اور نہ اسے طلاق ہی ہوگی جس کا وہ مالک نہیں۔” [سنن ابی داؤد الایمان والنلور باب الیمین فی قطبعہ الرحم حدیث 3274، جامع الترمذی الطلاق واللعان باب ماجاء لا طلاق قبل النکاح حدیث 1181 واللفظ لہ]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ "
“اے مومنو!جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ پھر تم انھیں طلاق دے دو۔” [الاحزاب:33۔49]
آیت اور حدیث دونوں سے واضح ہے کہ اجنبی عورت کو طلاق نہیں ہوتی۔ غیر مشروط طلاق کے نہ ہونے پر اہل علم کا اجماع ہے، اور مشروط طلاق بھی اکثر کے نزدیک واقع نہیں ہوتی۔
اگر طلاق کسی شرط کے ساتھ معلق ہو تو شرط کے پائے جانے سے پہلے طلاق واقع نہیں ہوتی۔
طلاق میں شک کے احکام
اگر شک پیدا ہو جائے، خواہ طلاق کا لفظ بولنے میں شک ہو، یا تعدادِ طلاق میں، یا شرط کے پورا ہونے میں، تو اس کی تفصیل یہ ہے:
① اگر شک ہو کہ طلاق کے الفاظ ادا کیے تھے یا نہیں، تو صرف شک سے طلاق واقع نہیں ہوگی، کیونکہ نکاح یقینی ہے اور یقین محض شک سے زائل نہیں ہوتا۔
② اگر طلاق میں لگی شرط کے وقوع میں شک ہو، مثلاً اس نے کہا: “اگر تو فلاں گھر میں داخل ہوئی تو تجھے طلاق ہے”، پھر شک ہو کہ وہ گھر میں داخل ہوئی یا نہیں، تو طلاق واقع نہ ہوگی، کیونکہ اصل نکاح کا باقی رہنا ہے۔
③ اگر طلاق کا وقوع یقینی ہو لیکن تعداد میں شک ہو، تو ایک طلاق واقع ہوگی، کیونکہ ایک کا ہونا یقینی اور زائد کا ہونا مشکوک ہے، اور یقین شک سے ختم نہیں ہوتا۔
یہ ایک عام قاعدہ ہے جو تمام شرعی احکام میں مفید ہے، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے ماخوذ ہے:
"تدع ما يريبك إلى مالا يريبك”
“جو چیز تمھیں شک و شبہے میں دالے اسے چھوڑ کروہ اختیار کرو جو شک و شبہے میں نہ ڈالے۔” [صحیح البخاری البیوع باب تفسیر المشبہات قبل حدیث 2052 معلقاً، جامع الترمذی صفہ القیامہ باب حدیث اعقلہا وتوکل حدیث 2518]
اور اسی طرح جس نے طہارت یقینی طور پر حاصل کی ہو، پھر حدث میں شک ہو، اس کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لا ينصرف حتى يسمع صوتا أو يجد ريحا "
“وہ واپس نہ پلٹے حتی کہ وہ آواز سن لے یا بو محسوس کرے۔” [صحیح البخاری والوضو ءباب لا یتوضا من الشک حتی یستیقن حدیث:137]
اس مضمون کی دیگر روایات بھی موجود ہیں۔
یہ تمام احکام اسلام کی خوبصورتی اور کمال پر دلالت کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ہمیں یہ عظیم نعمت عطا فرمائی۔
رجوع کا بیان
جس عورت کو ایک یا دو طلاقیں دی گئی ہوں، اس سے عدت کے اندر بغیر نئے نکاح کے دوبارہ ازدواجی تعلق بحال کر لینے کو رجوع کہتے ہیں۔
رجوع کی دلیل کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت سے ثابت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ "
“ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کے(پورے)حقدار ہیں اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو۔” [البقرۃ:2/228]
نیز فرمایا:
"الطَّلَاقُ مَرَّتَانِ ۖ فَإِمْساكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسانٍ”
“یہ طلاقیں دو مرتبہ ہیں۔پھر یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔” [البقرۃ:2/229]
اور فرمایا:
"فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ "
“پس جب یہ عورتیں اپنی عدت پوری کرنے کے قریب پہنچ جائیں تو انھیں یا تو قاعدے کے مطابق اپنے نکاح میں رہنے دو یا دستور کے مطابق انھیں الگ کر دو۔” [الطلاق:2/65]
سنت سے دلیل سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا واقعہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بارے میں فرمایا:
"مُرْهُ فَلْيُرَاجِعْهَا”
“اسے کہو کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کرے۔” [صحیح البخاری الطلاق باب وقول اللہ تعالیٰ”يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِذَا طَلَّقْتُمُ” حدیث 5251، صحیح مسلم الطلاق الحائض حدیث 1471]
اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو طلاق دی، پھر رجوع فرما لیا۔ [سنن ابی داود الطلاق باب فی المراجعہ حدیث 2283، السنن الکبری للنسائی الطلاق باب الرجعہ حدیث 5755، سنن ابن ماجہ الطلاق باب حدثنا سوید بن سعید حدیث :2016]
اجماع کے بارے میں ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے کہ جب آزاد شخص تین سے کم اور غلام دو سے کم طلاقیں دے تو انہیں عدت کے اندر رجوع کا حق حاصل ہے۔
رجوع کی مہلت میں یہ حکمت ہے کہ اگر شوہر طلاق دے کر پشیمان ہو اور دوبارہ گھر آباد کرنا چاہے تو اسے یہ راستہ کھلا ملے، تاکہ رجوع کر کے گھر دوبارہ قائم کر لے۔ یہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کا ایک حصہ ہے۔
رجوع کی شرائط
① طلاقوں کی تعداد اس سے کم ہو جتنی طلاقوں کا اسے حق حاصل ہے۔ یعنی آزاد نے تین سے کم اور غلام نے دو سے کم طلاقیں دی ہوں۔ اگر آزاد نے تین اور غلام نے دو طلاقیں دے دیں تو رجوع ختم ہو گیا۔ اب اس وقت تک نکاح جائز نہیں جب تک عورت کسی دوسرے مرد سے نکاح نہ کرے۔
② عورت مدخولہ ہو۔ اگر دخول سے پہلے طلاق دی گئی ہو تو رجوع نہیں، کیونکہ اس پر عدت ہی نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتِّعُوهُنَّ وَسَرِّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلا "
“اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔پھر تم انھیں ہاتھ لگانے سے پہلے ہی طلاق دے دو تو ان پر تمھارے لیے کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو۔” [الاحزاب33۔49]
③ طلاق بلا معاوضہ ہو۔ اگر بیوی نے معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کی ہے تو شوہر کے لیے رجوع جائز نہیں، جب تک وہ اس کی رضا سے دوبارہ نکاح نہ کرے، کیونکہ عورت نے اپنے آپ کو فدیہ دے کر آزاد کرایا ہے۔
④ نکاح صحیح ہو۔ اگر نکاح غیر شرعی تھا اور اس کے بعد طلاق دی گئی، تو رجوع نہ ہوگا، کیونکہ وہاں طلاق بائن ہوگی۔
⑤ رجوع عدت کے اندر ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَلِكَ”
“ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔” [البقرۃ: 2/228]
⑥ رجوع کو شرط کے ساتھ معلق کرنا صحیح نہیں، مثلاً یہ کہے: “جب فلاں کام ہوگا تو میں رجوع کروں گا۔”
کیا رجوع کے لیے اصلاح کا ارادہ شرط ہے؟
بعض علماء کے نزدیک یہ شرط ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"إِنْ أَرَادُوا إِصْلَاحًا ۚ "
“اگر ان کا ارادہ اصلاح کا ہو۔” [البقرۃ:2/228]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “رجوع کی اجازت اسی شوہر کو دی جائے گی جو اصلاح کا ارادہ رکھتا ہو اور بیوی کو اچھے طریقے سے رکھنا چاہتا ہو۔” [الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الرجعۃ 5/503]
اور بعض اہل علم کے نزدیک اصلاح کا ارادہ شرط نہیں، بلکہ آیت اصلاح کی ترغیب دیتی ہے اور ضرر سے روکتی ہے۔ لیکن پہلی رائے زیادہ درست معلوم ہوتی ہے۔ واللہ اعلم۔
رجوع کے لیے کوئی خاص متعین لفظ نہیں۔ ہر وہ لفظ کافی ہے جو رجوع پر دلالت کرے، جیسے: “میں نے رجوع کر لیا”، “میں نے اسے واپس لے لیا”، “میں نے اسے اپنے پاس روک لیا” وغیرہ۔ اسی طرح اگر رجوع کی نیت سے بیوی سے جماع کر لیا تو صحیح قول کے مطابق یہ بھی رجوع شمار ہوگا۔
مناسب بلکہ بعض اہل علم کے نزدیک واجب یہ ہے کہ رجوع کے وقت گواہ بنائے جائیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِّنكُمْ "
“اوراپنے میں سے دوعادل شخصوں کوگواہ مقرر کر لو۔” [الطلاق2/65]
امام احمد رحمۃ اللہ علیہ سے بھی ایک روایت اسی کے مطابق ہے۔ شیخ تقی الدین رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: “رجوع کے معاملے کو خفیہ رکھنا کسی حال میں درست نہیں۔” [الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ الرجعۃ 5/503]
جس عورت کو رجعی طلاق ہوئی ہو، وہ عدت کے اندر شوہر کی بیوی ہی شمار ہوتی ہے۔ شوہر پر اس کا نفقہ، لباس اور رہائش واجب ہے، اور عورت پر لازم ہے کہ شوہر کے گھر میں رہے اور زینت و آرائش کا اہتمام کرے تاکہ شوہر کی رغبت باقی رہے۔ عدت کے دوران اگر دونوں میں سے ایک فوت ہو جائے تو دوسرا اس کا وارث ہوگا۔ دونوں سفر کر سکتے ہیں، خلوت بھی کر سکتے ہیں، اور شوہر وطی بھی کر سکتا ہے، البتہ وطی رجوع شمار ہوگی۔
جب عدت ختم ہو جائے، مثلاً عورت تیسرے حیض سے پاک ہو جائے، تو رجوع کا حق بھی ختم ہو جاتا ہے۔ اس کے بعد اگر دوبارہ تعلقات بحال کرنا چاہیں تو ولی اور دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح ہوگا۔ اللہ تعالیٰ کے فرمان:
"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ”
“ان کے خاوند اس مدت میں انھیں لوٹا لینے کےزیادہ حقدار ہیں ۔” [البقرۃ:2/228]
کا یہی مفہوم ہے کہ رجوع عدت کے اندر ہے۔ اگر شوہر نے عدت کے اندر رجوع کر لیا تو باقی طلاقوں کا حق اسے بدستور حاصل رہے گا، اور جس طلاق کے بعد رجوع کیا تھا وہ شمار ہوگی۔
اگر شوہر مکمل تین طلاقیں دے چکا ہو تو اب دونوں کا دوبارہ ازدواجی تعلق قائم کرنا حرام ہے، جب تک عورت کسی دوسرے مرد سے صحیح شرعی نکاح نہ کرے، جو محض حلالہ کی نیت سے نہ ہو، اور وہ اس سے فطری طریقے سے جماع کرے، پھر اسے طلاق دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا تَحِلُّ لَهُ مِن بَعْدُ حَتَّىٰ تَنكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ ۗ فَإِن طَلَّقَهَا فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا أَن يَتَرَاجَعَا إِن ظَنَّا أَن يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ ۗ "
“اگر اس کو طلاق دے دے تو اب اس کے لیے حلال نہیں جب تک کہ وہ عورت اس کے علاوہ دوسرے سے نکاح نہ کرے۔پھر اگر وہ( دوسرا خاوند)بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کر لینے میں کوئی گناہ نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے۔” [البقرۃ:2/230]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دوسرے شوہر کے نکاح اور وطی کے بعد پہلے شوہر کے لیے اس کا حلال ہونا اللہ تعالیٰ کا ایک عظیم احسان ہے۔ تورات میں صرف دوسرے نکاح سے حلت ہو جاتی تھی، وطی شرط نہ تھی، اور انجیل میں طلاق کو بالکل روک دیا گیا تھا۔ اسلام کی شریعت کامل ہے، جس میں بندوں کی مصلحتوں کا پورا لحاظ رکھا گیا ہے۔ مرد کو چار عورتوں تک نکاح کی اجازت ہے، لونڈیاں رکھنے کی اجازت ہے، طلاق کا حق بھی دیا گیا ہے، اور رجوع کی بھی گنجائش رکھی گئی ہے۔ لیکن تیسری طلاق کے بعد واپسی کے لیے شرط رکھی گئی کہ کوئی دوسرا مرد رغبت کے ساتھ نکاح کرے، نہ کہ حیلہ کے طور پر۔ جو شخص حلالہ کی نیت سے نکاح کرے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے “عاریتاً لیا ہوا سانڈ” فرمایا ہے، لہٰذا اس نیت سے کیا ہوا نکاح باطل ہے اور اس کے ذریعے عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں ہوتی۔ واللہ اعلم۔
ایلاء کے احکام
ایلاء کے لغوی معنی ہیں: قسم اٹھانا۔ اور شرعی معنی یہ ہیں کہ کوئی شخص قسم کھائے کہ وہ اپنی بیوی سے جماع نہیں کرے گا۔ فقہاء نے اس کی تعریف یوں کی ہے:
“وطی پر قادر شوہر، اللہ تعالیٰ کی ذات یا اس کی کسی صفت کی قسم کھائے کہ وہ ہمیشہ کے لیے یا چار ماہ سے زیادہ مدت تک اپنی بیوی سے قُبُل کے راستے جماع نہیں کرے گا۔”
اس تعریف سے واضح ہوا کہ ایلاء کے صحیح ہونے کے لیے پانچ شرائط ہیں:
① ایلاء کرنے والا ایسا شخص ہو جو جماع کی قدرت رکھتا ہو۔
② وہ اللہ تعالیٰ یا اس کی کسی صفت کی قسم کھائے، طلاق، آزادی یا نذر کو مقصود نہ بنائے۔
③ وہ قُبُل کے راستے جماع ترک کرنے کی قسم کھائے۔
④ جماع ترک کرنے کی مدت چار ماہ سے زیادہ ہو۔
⑤ بیوی ایسی ہو کہ اس سے جماع ممکن ہو۔
جب یہ پانچ شرطیں جمع ہوں گی تو وہ شرعاً ایلاء کرنے والا شمار ہوگا، اور اس پر ایلاء کے احکام جاری ہوں گے۔ اگر ایک شرط بھی نہ ہو تو ایلاء معتبر نہ ہوگا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ ۖ فَإِن فَاءُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ (226) وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ”
“جو لوگ اپنی بیویوں سے(تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے کی مدت ہے پھر اگر وہ لوٹ آئیں تو اللہ بھی بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔” [البقرۃ:2۔226۔227]
اس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے جماع نہ کرنے کی قسم کھائیں، انہیں چار ماہ کی مہلت ہے۔ اگر اس مدت میں رجوع کر لیں اور اپنی قسم کا کفارہ ادا کر دیں تو اللہ تعالیٰ بخشنے والا ہے۔ [اگر ایلاء میں قسم چار ماہ سے کم عرصے کی ہو جس کو اس نے پورا کر دیا تو اس پر قسم کا کفارہ نہیں۔ اگر ایلاء میں قسم چار ماہ سے زائد عرصے کی ہے تو وہ قسم کا کفارہ دے جو سورۃ مائدہ 5/89۔میں مذکورہے۔(صارم)] اور اگر چار ماہ گزر جائیں اور وہ اپنی ضد پر قائم رہیں تو انہیں مجلسِ قضاء میں لا کر بیوی سے تعلقات بحال کرنے اور کفارہ دینے پر آمادہ کیا جائے۔ اگر انکار کریں تو عورت کے مطالبے پر انہیں طلاق دینے کا حکم ہوگا۔ [63]
اس آیت میں جاہلیت کے اس ظلم کا خاتمہ کیا گیا ہے جس کے تحت شوہر عورت کو محض تکلیف دینے کے لیے طویل مدت تک ایلاء کر کے لٹکائے رکھتا تھا۔ اسلام نے عدل کے ساتھ عورت کو اس ظلم سے بچایا۔
اسلام میں چار ماہ سے زیادہ کے لیے ایلاء حرام ہے، کیونکہ اس سے واجب حق ترک ہوتا ہے۔
ایلاء ہر اس شوہر کی طرف سے منعقد ہو جاتا ہے جس کی طلاق معتبر ہو، خواہ مسلمان ہو یا کافر، آزاد ہو یا غلام، بالغ ہو یا سمجھ رکھنے والا نابالغ، البتہ اس سے بلوغ کے بعد تعلقات بحال کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔ اسی طرح غصے کی حالت میں یا ایسا مریض جس کے اچھا ہونے کی امید ہو، وہ بھی ایلاء کر سکتا ہے۔ حتیٰ کہ جس عورت سے ابھی جماع نہ ہوا ہو، اس کے ساتھ بھی ایلاء ہو سکتا ہے، کیونکہ آیت کے الفاظ عام ہیں۔
دیوانہ یا بے ہوش شخص کی طرف سے ایلاء نافذ نہیں ہوتا، کیونکہ اس میں نیت معتبر ہے اور ان کی بات معتبر نہیں۔
اگر شوہر جماع کرنے سے عاجز ہو، مثلاً نامرد ہو یا عضو مخصوص کٹا ہوا ہو، تو ایلاء منعقد نہ ہوگا، کیونکہ اس صورت میں جماع نہ کرنا قسم کی وجہ سے نہیں بلکہ عجز کی وجہ سے ہے۔
اگر کسی نے کہا: “اللہ کی قسم! میں تجھ سے کبھی جماع نہ کروں گا”، یا چار ماہ سے زیادہ مدت تک جماع نہ کرنے کی قسم کھائی، یا جماع کے لیے ایسی شرط لگا دی جس کے حاصل ہونے کی توقع چار ماہ کے اندر نہیں، مثلاً نزولِ عیسیٰ علیہ السلام یا خروجِ دجال، تو ایسے سب احوال میں ایلاء کا حکم جاری ہوگا۔ اسی طرح اگر اس نے ایسی شرط لگائی جس کا پورا کرنا حرام ہو یا جس کا چھوڑنا واجب ہو، مثلاً کہے: “اللہ کی قسم! میں تجھ سے اس وقت تک جماع نہیں کروں گا جب تک تو نماز نہ چھوڑ دے” یا “جب تک شراب نہ پی لے”، تو اس صورت میں بھی ایلاء ثابت ہوگا، کیونکہ اس نے شرعاً ممنوع شرط لگائی ہے جو حسی طور پر ناممکن شرط کے مشابہ ہے۔
ان حالات میں ایلاء کی مدت مقرر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"لِّلَّذِينَ يُؤْلُونَ مِن نِّسَائِهِمْ تَرَبُّصُ أَرْبَعَةِ أَشْهُرٍ "
“جو لوگ اپنی بیویوں سے (تعلق نہ رکھنے کی) قسمیں کھائیں ان کے لیے چار مہینے کی مدت ہے۔” [البقرۃ:2/228]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ جب چار ماہ سے زیادہ مدت کی قسم کھانے والا شخص چار ماہ پورے کر لے تو اسے قضا کے سامنے کھڑا کر کے طلاق دینے کا کہا جائے گا۔ واضح رہے کہ محض ایلاء سے طلاق واقع نہیں ہوتی، بلکہ طلاق دینے ہی سے واقع ہوگی۔
امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے صحیح بخاری میں چودہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا یہی مسلک نقل کیا ہے۔ سلیمان بن یسار رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے دس سے زیادہ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کو پایا، اور سب کا یہی قول تھا کہ ایلاء کرنے والے کو مجلس میں لایا جائے گا۔ جمہور علماء کا بھی یہی مسلک ہے، اور آیت کا ظاہر بھی اسی پر دلالت کرتا ہے۔
جب ایلاء کے چار ماہ پورے ہو جائیں، اور واضح رہے کہ اس مدت میں عورت کے عذر کے ایام شمار نہیں ہوں گے، تو پھر دو صورتیں ہیں:
① اگر اس نے بیوی سے جماع کر لیا تو سمجھا جائے گا کہ اس نے قسم سے رجوع کر لیا، کیونکہ جماع ہی “فیء” ہے۔ ابن منذر رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر علماء کا اجماع نقل کیا ہے۔ اور آیت کے لفظ “فَإِن فَاءُوا” میں فیء کا معنی اسی کام کی طرف لوٹنا ہے جسے چھوڑ دیا گیا تھا۔ اس سے عورت اپنا حق حاصل کر لیتی ہے۔
② اگر اس نے چار ماہ کے بعد بھی جماع سے انکار کیا تو حاکم یا قاضی عورت کے مطالبے پر اسے طلاق دینے کا حکم دے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَإِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَإِنَّ اللَّـهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ "
“اور اگر طلاق ہی کا قصد کر لیں تو اللہ سننے والا جاننے والا ہے۔” [البقرۃ:2۔226۔227]
یعنی اگر شوہر رجوع نہ کرے اور طلاق دینے کا پختہ ارادہ کر لے تو طلاق واقع ہوگی۔ اور اگر نہ رجوع کرے نہ طلاق دے تو قاضی اس کی طرف سے طلاق دے گا یا نکاح فسخ کرے گا، کیونکہ وہ اس کی طرف سے قائم مقام ہے، اور طلاق میں نیابت جائز ہے۔
فقہاء نے ایلاء کرنے والے کے ساتھ اس شخص کو بھی شامل کیا ہے جو قسم کھائے بغیر، محض بیوی کو تکلیف دینے کے لیے جماع سے پرہیز کرتا رہے۔ اسی طرح جو شخص اپنی بیوی سے ظہار کرے اور پھر کفارہ ادا کر کے تعلقات بحال نہ کرے یہاں تک کہ چار ماہ سے زیادہ مدت گزر جائے، تو وہ بھی ایلاء کرنے والے کے حکم میں ہے۔ واللہ اعلم۔
فقہاء نے یہ بھی کہا ہے کہ اگر ایلاء کی مدت گزر گئی اور میاں بیوی میں سے کوئی ایک جماع پر قادر نہ ہو، تو شوہر کو حکم دیا جائے گا کہ زبان سے رجوع کے الفاظ کہے، مثلاً: “جب مجھے قدرت ہوگی تو میں جماع کروں گا۔” کیونکہ اس سے ظاہر ہو جاتا ہے کہ اس نے عورت کو ستانے کا ارادہ چھوڑ دیا ہے۔ پھر جب عذر دور ہو جائے تو یا جماع کرے یا طلاق دے دے۔
ظہار کے احکام
ظہار یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی سے تعلقات منقطع کرنے کے لیے اسے کہے: “تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے”، یا “میری بہن کی پشت کی طرح ہے”، یا کسی ایسی عورت کے ساتھ تشبیہ دے جس سے نسب، رضاعت یا سسرالی رشتے کی وجہ سے نکاح ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔ [حق یہ ہے کہ ظہار صرف "أنت علي كظهر أمي "تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح ہے۔”سے ثابت ہوتا ہے۔]
ظہار حرام ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا”
“تم میں سے لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں دراصل وہ ان کی مائیں نہیں بن جاتیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وہ پیدا ہوئے یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔” [المجادلہ:58۔2]
اس سے معلوم ہوا کہ ظہار ایک بری، جھوٹی اور ناجائز بات ہے۔ آدمی ایک ایسی چیز کو اپنے اوپر حرام کر رہا ہوتا ہے جسے اللہ تعالیٰ نے حرام نہیں کیا، اور اپنی بیوی کو ماں کے مثل قرار دے رہا ہوتا ہے، حالانکہ وہ ماں نہیں ہے۔
جاہلیت میں ظہار طلاق شمار ہوتا تھا۔ اسلام آیا تو اس نے اسے منکر اور جھوٹ قرار دیا، اور اس پر کفارہ مقرر کیا، جو قسم کے کفارے سے بھی سخت ہے۔ شوہر اور بیوی دونوں پر لازم کیا گیا کہ جب تک شوہر کفارہ ادا نہ کرے، اس وقت تک جماع اور اس کے مقدمات حرام رہیں۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"الَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِنكُم مِّن نِّسَائِهِم مَّا هُنَّ أُمَّهَاتِهِمْ ۖ إِنْ أُمَّهَاتُهُمْ إِلَّا اللَّائِي وَلَدْنَهُمْ ۚ وَإِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ مُنكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَزُورًا ۚ وَإِنَّ اللَّـهَ لَعَفُوٌّ غَفُورٌ ﴿٢﴾ وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٣﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ "
“تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہارکرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے (2) جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے (3) ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے ” [المجادلہ:58۔3۔4]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہار کرنے والے سے فرمایا:
” فَلَا تَقْرَبْهَا حَتَّى تَفْعَلَ مَا أَمَرَكَ اللَّهُ بِهِ "
“تو اپنی بیوی کے قریب نہ جا حتی کہ اللہ تعالیٰ کا مقرر کردہ کفارہ ادا کر لے۔” [سنن ابی داؤد الطلاق باب فی الظہار حدیث 2221، جامع الترمذی الطلاق باب ماجاء فی المظاہر یواقع قبل ان یکفر حدیث 1199 واللفظ لہ]
اکثر اہل علم کے نزدیک ظہار کرنے والے پر جماع سے پہلے کفارہ ادا کرنا واجب ہے، یعنی کفارہ ادا ہونے تک بیوی اس پر حرام رہتی ہے۔
کفارۂ ظہار کی ترتیب
ظہار کا کفارہ اسی ترتیب سے واجب ہے جو قرآن میں آئی ہے:
① ایک غلام یا لونڈی آزاد کرنا، یا اس کی قیمت دینا۔
② اگر اس کی طاقت نہ ہو تو دو ماہ کے مسلسل روزے رکھنا۔
③ اگر بیماری وغیرہ کی وجہ سے یہ بھی ممکن نہ ہو تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالَّذِينَ يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۚ ذَٰلِكُمْ تُوعَظُونَ بِهِ ۚ وَاللَّـهُ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرٌ ﴿٣﴾ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا ۖ فَمَن لَّمْ يَسْتَطِعْ فَإِطْعَامُ سِتِّينَ مِسْكِينًا ۚ ذَٰلِكَ لِتُؤْمِنُوا بِاللَّـهِ وَرَسُولِهِ ۚ وَتِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ ۗ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ”
“جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے (3) ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے” [المجادلہ:58۔3۔4]
“يُظَاهِرُونَ مِن نِّسَائِهِمْ” کا مفہوم یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو کہے کہ تو مجھ پر میری ماں کی پشت کی طرح حرام ہے، یا اس جیسا کوئی لفظ کہے۔
“ثُمَّ يَعُودُونَ لِمَا قَالُوا” کا معنی یہ ہے کہ پھر جس عورت سے ظہار کیا تھا اسی سے جماع کا ارادہ کریں۔
اور “فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مِّن قَبْلِ أَن يَتَمَاسَّا” کا مطلب ہے کہ جماع سے پہلے ایک گردن آزاد کرنا واجب ہے۔
غلام یا لونڈی آزاد کرنے کے لیے اس کا مومن ہونا شرط ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے کفارہ قتل میں مومن گردن کی شرط لگائی ہے:
"وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ”
“جو شخص کسی مومن کو بلا قصد مار ڈالے اس پر ایک مسلمان غلام کی گردن آزاد کرنا ہے۔” [النساء:4/92]
لہٰذا ظہار کے کفارے میں بھی مطلق کو مقید پر محمول کیا جائے گا۔ اسی طرح غلام یا لونڈی کا جسمانی طور پر صحیح سالم ہونا بھی شرط ہے، یعنی ایسا عیب نہ ہو جو اس کے کام کاج میں واضح رکاوٹ بنتا ہو، کیونکہ آزاد کرنے کا مقصد یہ ہے کہ وہ خود اپنے منافع کا مالک بنے، اور یہ تبھی ممکن ہے جب وہ جسمانی طور پر قابل ہو۔
روزوں کی شرائط
کفارۂ ظہار میں روزے رکھنے کے لیے درج ذیل شرطیں ہیں:
① غلام یا لونڈی آزاد کرنے کی استطاعت نہ ہو۔
② دو ماہ کے روزے مسلسل ہوں، درمیان میں ناغہ نہ ہو، الا یہ کہ کوئی ایسا عذر آ جائے جو شرعاً مانع ہو، جیسے رمضان شروع ہو جانا، عید یا ایامِ تشریق آ جانا، یا بیماری و سفر کی صورت میں رخصت کا استعمال۔ ایسی صورتوں میں تسلسل نہیں ٹوٹے گا۔
③ ہر رات کفارے کے روزے کی نیت کرے۔
کھانا کھلانے کی شرائط
اگر ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کی صورت میں کفارہ ادا کیا جائے تو یہ شرطیں ہوں گی:
① روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو۔
② جسے کھانا دیا جائے وہ مسکین، مسلمان اور آزاد ہو، جسے زکوٰۃ دی جا سکتی ہو۔
③ ہر مسکین کو ایک “مد” (نصف کلو) گندم یا دوسری چیز سے نصف “صاع” (ایک کلو) سے کم نہ دیا جائے۔
اور کفارے کی صحت کے لیے نیت شرط ہے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِنَّمَا الأَعْمَالُ بِالنِّيَّاتِ، وَإِنَّمَا لِكُلِّ امْرِئٍ مَا نَوَى”
“اعمال کادارومدارنیتوں پر ہے اور آدمی کو وہی کچھ ملتا ہے جس کی اس نےنیت کی۔” [صحیح البخاری بدءالوحی باب کیف کان بدء لوحی الی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث1]
اس ترتیب کی دلیل قرآن کے علاوہ سیدہ خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا واقعہ بھی ہے۔ وہ فرماتی ہیں:
"ظاهر مني زوجي أوس بن الصامت فجئت رسول الله صلى الله عليه وسلم أشكو إليه ورسول الله صلى الله عليه وسلم يجادلني فيه ويقول اتقي الله فإنه ابن عمك فما برحت حتى نزل القرآن )قد سمع الله قول التي تجادلك في زوجها (إلى الفرض فقال يعتق رقبة قالت لا يجد قال فيصوم شهرين متتابعين قالت يا رسول الله إنه شيخ كبير ما به من صيام قال فليطعم ستين مسكينا قالت ما عنده من شيء يتصدق به قالت فأتي ساعتئذ بعرق من تمر قلت يا رسول الله فإني أعينه بعرق آخر قال قد أحسنت اذهبي فأطعمي بها عنه ستين مسكينا وارجعي إلى ابن عمك "
“میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے مجھ سے ظہار کیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور خاوند کی شکایت کی۔ میں آپ سے بحث و تکرار کرنے لگی تو آپ نے فرمایا:”خولہ !اللہ تعالیٰ سے ڈرو،وہ تو تیرے چچے کا بیٹا ہے”میں ابھی وہیں تھی کہ قرآن مجید کی آیات نازل ہوئیں۔”یقیناً اللہ نے اس عورت کی بات سنی جو آپ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”تیرا خاوند ایک غلام آزاد کرے۔”حضرت خولہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ وہ اس کی طاقت نہیں رکھتا ۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وہ دو ماہ کے مسلسل روزے رکھے۔”وہ کہنے لگیں اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !وہ تو بہت بوڑھا ہے اس میں روزے رکھنے کی قوت کہاں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :” وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔”وہ کہنے لگیں :اس کے پاس صدقہ کرنے کے لیے کچھ بھی نہیں۔ وہ فرماتی ہیں اسی دوران میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کھجوروں کا ایک ٹوکرا لا یا گیا تو میں نے کہا:اے اللہ کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ًایک ٹوکرا میں بھی اسے دےدوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:”بہت بہتر ہے۔ جاؤ اس کی جانب سے یہ ساٹھ مساکین کو کھلا دو اپنے چچے کے بیٹے (خاوند)سے کہو کہ وہ تجھ سے تعلقات بحال کرے۔” [سنن ابی داؤدالطلاق باب فی الظہار حدیث2214]
الحمدللہ! ہمارا دین ایسا عظیم دین ہے جس میں ہر مشکل کا حل رکھا گیا ہے۔ ظہار بھی جاہلیت میں ایک سخت مصیبت تھا جو خاندانوں کی بربادی کا باعث بنتا تھا، مگر اسلام نے اس کا منصفانہ حل پیش کیا۔ مزید یہ کہ کفارے میں شوہر کی گنجائش اور استطاعت کو بھی ملحوظ رکھا گیا ہے۔ الحمدلله علي ذلك
لعان کے احکام
اللہ تعالیٰ نے کسی پاکدامن مرد یا عورت پر زنا کی تہمت لگانے کو حرام قرار دیا ہے، اور تہمت لگانے والے کو سخت سزا کا مستحق ٹھہرایا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"إِنَّ الَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ الْغَافِلَاتِ الْمُؤْمِنَاتِ لُعِنُوا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ﴿٢٣﴾ يَوْمَ تَشْهَدُ عَلَيْهِمْ أَلْسِنَتُهُمْ وَأَيْدِيهِمْ وَأَرْجُلُهُم بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ﴿٢٤﴾ يَوْمَئِذٍ يُوَفِّيهِمُ اللَّـهُ دِينَهُمُ الْحَقَّ وَيَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّـهَ هُوَ الْحَقُّ الْمُبِينُ”
“جو لوگ پاک دامن بھولی بھالی باایمان عورتوں پر تہمت لگاتے ہیں وه دنیا وآخرت میں ملعون ہیں اور ان کے لئے بڑا بھاری عذاب ہے (23) جب کہ ان کے مقابلے میں ان کی زبانیں اور ان کے ہاتھ پاؤں ان کے اعمال کی گواہی دیں گے (24) اس دن اللہ تعالیٰ انہیں پورا پورا بدلہ حق و انصاف کے ساتھ دے گا اور وه جان لیں گے کہ اللہ تعالیٰ ہی حق ہے (اور وہی)ظاہرکرنے والاہے ” [النور:24۔23۔25]
اور اللہ تعالیٰ نے تاکید فرمائی ہے کہ اگر کوئی زنا کی تہمت لگائے اور اپنے دعوے کے حق میں چار گواہ پیش نہ کر سکے تو اسے اسی کوڑے لگائے جائیں، وہ فاسق شمار ہوگا اور اس کی گواہی قبول نہ ہوگی، الا یہ کہ سچی توبہ کر لے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالَّذِينَ يَرْمُونَ الْمُحْصَنَاتِ ثُمَّ لَمْ يَأْتُوا بِأَرْبَعَةِ شُهَدَاءَ فَاجْلِدُوهُمْ ثَمَانِينَ جَلْدَةً وَلَا تَقْبَلُوا لَهُمْ شَهَادَةً أَبَدًا ۚ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْفَاسِقُونَ ﴿٤﴾ إِلَّا الَّذِينَ تَابُوا مِن بَعْدِ ذَٰلِكَ وَأَصْلَحُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ”
“جو لوگ پاک دامن عورتوں پر زنا کی تہمت لگائیں پھر چار گواه نہ پیش کرسکیں تو انہیں اسی کوڑے لگاؤ اور کبھی بھی ان کی گواہی قبول نہ کرو۔ یہ فاسق لوگ ہیں (4) ہاں جو لوگ اس کے بعد توبہ اور اصلاح کرلیں تو اللہ تعالیٰ بخشنےوالا اور مہربانی کرنےوالاہے” [النور:24۔4۔5]
یہ احکام اس وقت ہیں جب کوئی اپنی بیوی کے علاوہ کسی دوسری عورت پر تہمت لگائے۔ لیکن اگر کوئی اپنی بیوی پر زنا کی تہمت لگائے تو اس کا الگ حکم ہے، جسے “لعان” کہتے ہیں، یعنی میاں بیوی دونوں مخصوص قسمیں کھاتے ہیں اور لعنت و غضب کے الفاظ استعمال کیے جاتے ہیں۔
اگر کوئی شخص اپنی بیوی پر زنا کا الزام لگائے اور اس کے پاس شہادت نہ ہو، تو اگر دونوں لعان پر آمادہ ہو جائیں تو کسی پر حد جاری نہ ہوگی۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ وَلَمْ يَكُن لَّهُمْ شُهَدَاءُ إِلَّا أَنفُسُهُمْ فَشَهَادَةُ أَحَدِهِمْ أَرْبَعُ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الصَّادِقِينَ ﴿٦﴾ وَالْخَامِسَةُ أَنَّ لَعْنَتَ اللَّـهِ عَلَيْهِ إِن كَانَ مِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٧﴾ وَيَدْرَأُ عَنْهَا الْعَذَابَ أَن تَشْهَدَ أَرْبَعَ شَهَادَاتٍ بِاللَّـهِ ۙ إِنَّهُ لَمِنَ الْكَاذِبِينَ ﴿٨﴾ وَالْخَامِسَةَ أَنَّ غَضَبَ اللَّـهِ عَلَيْهَا إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ "
“جولوگ اپنی بیویوں پر بدکاری کی تہمت لائیں اور ان کا کوئی گواه بجز خود ان کی ذات کے نہ ہو تو ایسے لوگوں میں سے ہر ایک کاثبوت یہ ہے کہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ وه سچوں میں سے ہیں (6) اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو اگر وه جھوٹوں میں سے ہو (7) اور اس عورت سے سزا اس طرح دور ہوسکتی ہے کہ وه چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر کہے کہ یقیناً اس کا مرد جھوٹ بولنے والوں میں سے ہے (8) اور پانچویں دفعہ کہے کہ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو اگر اس کا خاوند سچوں میں سے ہو” [النور:24۔6۔9]
شوہر چار مرتبہ یہ کہے گا کہ اللہ کی قسم! میری یہ بیوی زنا کی مرتکب ہوئی ہے۔ اگر بیوی سامنے ہو تو اس کی طرف اشارہ بھی کرے، اور اگر حاضر نہ ہو تو اس کا نام لے، تاکہ تعین واضح ہو جائے۔ پانچویں مرتبہ کہے گا کہ اگر میں جھوٹا ہوں تو مجھ پر اللہ کی لعنت ہو۔
پھر بیوی چار مرتبہ قسم اٹھا کر کہے گی کہ میرے شوہر نے مجھ پر جو الزام لگایا ہے اس میں وہ جھوٹا ہے، اور پانچویں مرتبہ کہے گی کہ اگر میرا شوہر سچا ہو تو مجھ پر اللہ تعالیٰ کا غضب ہو۔
لعان میں عورت کے لیے “غضب” کا لفظ اس لیے رکھا گیا ہے کہ مغضوب وہ ہوتا ہے جو حق کو جانتے ہوئے قبول نہ کرے۔
لعان کے صحیح ہونے کے لیے یہ شرط ہے کہ میاں بیوی مکلف ہوں، یعنی عاقل و بالغ ہوں، اور تہمت زنا ہی کی ہو، اور عورت مسلسل شوہر کی تکذیب کرتی رہے، یہاں تک کہ لعان مکمل ہو جائے اور حاکم اس کی تکمیل کا فیصلہ دے دے۔
جب یہ صورت اور شرطیں پائی جائیں تو اس پر تین احکام مترتب ہوں گے:
① شوہر پر قذف کی حد نہیں لگے گی۔
② شوہر اور بیوی ہمیشہ کے لیے ایک دوسرے سے جدا ہو جائیں گے، اب ان کا باہم ازدواجی تعلق حرام ہوگا۔
③ اگر شوہر نے لعان میں بچے کی نسبت بھی اپنے سے نفی کر دی تو وہ بچہ اس شوہر کی طرف منسوب نہ ہوگا۔
شوہر لعان کا راستہ اسی وقت اختیار کرے گا جب اس نے اپنی بیوی کو زنا کا مرتکب پایا ہو لیکن اس کے پاس ایسی شہادت نہ ہو جو عدالت میں پیش کی جا سکے، یا اس کے پاس قوی قرائن ہوں، مثلاً کسی بدکار شخص کو اپنی بیوی کے پاس آتے جاتے دیکھتا رہا ہو۔
لعان کی مشروعیت میں حکمت یہ ہے کہ زانیہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا شوہر کے لیے باعثِ عار ہے، اور غیر کے بچے کا نسب اپنے ساتھ ملنے کا خطرہ بھی ہے۔ شوہر کو اپنے دعوے کا یقین ہے، مگر ثبوت نہیں، اور عورت اعتراف بھی نہیں کرتی بلکہ شوہر کو جھوٹا کہتی ہے، تو ایسے مقام پر سخت قسموں کے ذریعے فیصلہ کرنا ہی مناسب ہے۔ شریعت نے اسی مشکل کے حل کے لیے لعان کا راستہ رکھا ہے۔
اگر شوہر کے پاس اپنی ذات کے سوا کوئی گواہ نہ ہو تو عورت کو موقع دیا جائے گا کہ وہ شوہر کی قسموں کے جواب میں قسمیں کھا کر الزام کی نفی کرے، جس سے اس سے حد دور ہو جائے گی۔ اگر شوہر قسمیں کھانے سے انکار کرے تو اسے قذف کی حد، یعنی اسی کوڑے لگائے جائیں گے۔ اور اگر شوہر کے قسمیں کھانے کے بعد عورت قسموں سے انکار کر دے تو مرد کی قسمیں اور عورت کا انکار اس بات کی قوی دلیل بن جائیں گے کہ جرم اسی سے سرزد ہوا ہے۔
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ دلائل اسی بات پر قائم ہیں، اور امام احمد، امام شافعی اور امام مالک رحمہم اللہ نے بھی یہی کہا ہے کہ اگر عورت قسمیں کھانے سے انکار کرے تو اس پر زنا کی حد جاری ہوگی۔ یہی صحیح قول ہے، اور قرآن مجید بھی اس کی تائید کرتا ہے۔
سنت میں لعان کی دلیل سیدنا ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی وہ واقعہ ہے کہ ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اگر کوئی آدمی اپنی بیوی کو کسی مرد کے ساتھ دیکھے تو کیا کرے؟ اگر زبان کھولے تو بڑی بات، اور اگر خاموش رہے تو بھی برداشت سے باہر۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر وہ شخص دوبارہ آیا اور کہا کہ اب مجھے یہی معاملہ پیش آگیا ہے۔ تب سورۃ نور کی آیات:
"وَالَّذِينَ يَرْمُونَ أَزْوَاجَهُمْ …..إِن كَانَ مِنَ الصَّادِقِينَ "
نازل ہوئیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں پڑھ کر سنائیں، وعظ فرمایا کہ دنیا کی سزا آخرت کی سزا کے مقابلے میں بہت ہلکی ہے۔ شوہر نے کہا کہ میں جھوٹا نہیں۔ پھر عورت کو بلایا گیا، اسے بھی نصیحت کی گئی، اس نے بھی کہا کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ پھر شوہر نے چار قسمیں کھائیں کہ وہ سچا ہے اور پانچویں بار کہا کہ اگر وہ جھوٹا ہے تو اس پر اللہ کی لعنت ہو۔ پھر عورت نے چار قسمیں کھائیں کہ اس کا شوہر جھوٹا ہے اور پانچویں بار کہا کہ اگر شوہر سچا ہے تو اس پر اللہ کا غضب ہو۔ اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں کے درمیان جدائی کر دی۔ [صحیح مسلم اللعان حدیث 1493]
نسب کے اثبات کا بیان
اگر کسی شخص کی بیوی یا لونڈی بچہ جنے، اور یہ ممکن ہو کہ بچہ اسی کا ہو، تو بچے کا نسب اسی شخص سے ملایا جائے گا، کیونکہ وہ اسی کے بستر پر پیدا ہوا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الولد للفراش”
“بچہ اسی کا ہے جس کا بستر ہے۔” [صحیح البخاری الحدود باب للعاہر الحجر حدیث 68۔18، جامع الترمذی الرضاع باب ماجاء ان الولد للفراش حدیث1157]
مندرجہ ذیل صورتوں میں بچے کو اسی شخص کی جائز اولاد شمار کیا جائے گا:
① عورت شوہر کے نکاح میں ہو، اور جماع کے امکان کے بعد کم از کم چھ ماہ کی مدت میں بچہ جنے، خواہ شوہر اس کے پاس ہو یا غائب۔ اس صورت میں بچے کا اس شوہر سے ہونا ممکن ہے اور اس کے خلاف کوئی قوی قرینہ بھی نہیں۔
② عورت شوہر کے نکاح میں نہ رہی ہو، یعنی شوہر نے اسے الگ کر دیا ہو، اور وہ طلاق کے بعد چار سال سے کم مدت میں بچہ جنے، تو بچہ سابقہ شوہر کی جائز اولاد سمجھا جائے گا، کیونکہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت چار سال مانی گئی ہے، لہٰذا غالب امکان ہے کہ بچہ اسی کا ہے۔
ان دونوں صورتوں میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ مرد اور عورت دونوں بچہ پیدا کرنے کے قابل ہوں، یعنی ان کی عمر دس سال یا اس سے زائد ہو، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مُرُوا أَوْلادَكُمْ بِالصَّلاةِ وَهُمْ أَبْنَاءُ سَبْعِ سِنِينَ وَاضْرِبُوهُمْ عَلَيْهَا وَهُمْ أَبْنَاءُ عَشْرٍ وَفَرِّقُوا بَيْنَهُمْ فِي الْمَضَاجِعِ "
“اپنے بچوں کو نماز کا حکم کرو جب ان کی عمریں سات سال ہوں اور جب ان کی عمردس سال ہو جائے اور نماز نہ پڑھیں تو ان کو مارو اور ان کے بستر جدا جدا کر دو۔” [سنن ابی داؤد الصلاۃ باب متی یومر الغلام بالصلاۃ حدیث 495]
اس سے استدلال کیا گیا ہے کہ دس سال کی عمر میں وطی کا امکان ہوتا ہے۔ [مؤلف کے استدلال کو جمہور علماء نے تسلیم نہیں کیا۔ لہٰذا یہ محل نظر ہے(صارم)]
③ اگر کسی نے اپنی بیوی کو رجعی طلاق دی، پھر طلاق کے وقت سے چار سال گزرنے سے پہلے، اور عدت ختم ہونے سے پہلے اس نے بچہ جنم دیا، تو بچے کا نسب طلاق دینے والے سے ملے گا، کیونکہ رجعی مطلقہ بیوی کے حکم میں ہوتی ہے۔
لونڈی سے پیدا ہونے والے بچے کا نسب مالک سے ملانے کے لیے یہ امور کافی ہیں:
اولاً: مالک اعتراف کرے کہ اس نے لونڈی سے وطی کی تھی، یا اس کے حق میں واضح شہادت موجود ہو۔
ثانیاً: اس وطی کے اعتراف یا ثبوت کے بعد عورت چھ ماہ یا اس سے زیادہ مدت میں بچہ جنے۔
اس صورت میں بچے کا نسب مالک سے ملے گا، کیونکہ وہ صاحبِ فراش ثابت ہو گیا، لہٰذا حدیث “الولد للفراش” کے عموم میں داخل ہے۔ [صحیح البخاری الجدودباب للعاہر الحجر حدیث:6818]
اسی طرح اگر مالک نے لونڈی سے وطی کا اعتراف کیا، پھر اسے بیچ دیا یا آزاد کر دیا، اور وہ عورت فروخت یا آزادی کے چھ ماہ پورے ہونے سے پہلے بچہ جنے اور وہ بچہ زندہ رہے، تو بھی نسب اسی مالک سے ملایا جائے گا، کیونکہ کم از کم مدتِ حمل چھ ماہ ہے، اس سے معلوم ہوا کہ حمل اس کی ملکیت کے زمانے ہی میں قرار پا چکا تھا۔
دو صورتیں ایسی ہیں جن میں بچے کا نسب شوہر سے نہ ملے گا:
① جب عورت نکاح کے چھ ماہ سے پہلے بچہ جنے اور وہ بچہ زندہ رہے، کیونکہ اتنی مدت میں نکاح کے بعد حمل قرار پانا اور بچہ زندہ پیدا ہونا ممکن نہیں، لہٰذا سمجھا جائے گا کہ وہ پہلے سے حاملہ تھی۔
② جب آدمی نے بیوی کو طلاقِ بائن دی، پھر عورت نے طلاق کے وقت سے چار سال سے زیادہ مدت کے بعد بچہ جنا، تو بچے کا نسب طلاق دینے والے سے نہ ملے گا، کیونکہ یہ حمل کی زیادہ سے زیادہ مدت سے زائد ہے۔
اگر مالک نے لونڈی سے وطی کے بعد استبرائے رحم کا دعویٰ کیا، پھر اس کے بعد وہ بچہ جنے، تو اس بچے کا نسب مالک سے نہ ملایا جائے گا، کیونکہ وہ استبراء کا مدعی ہے۔ چونکہ استبرائے رحم ایک مخفی معاملہ ہے، اس لیے اس کا دعویٰ قسم کے ساتھ قبول کیا جائے گا۔
اگر کسی بچے کے بارے میں نسب میں اشتباہ ہو، تو صاحبِ فراش کو مقدم کیا جائے گا۔ مثلاً مالک کہے یہ بچہ میرا ہے، اور دوسرا شخص شبہ کی وطی کی بنا پر دعویٰ کرے کہ بچہ میرا ہے، تو بچہ مالک کا قرار پائے گا، کیونکہ:
"الولد للفراش”
“بچہ اسی کا ہے جس کا بستر ہے۔” [صحیح البخاری الجدود باب للعاہر الحجر حدیث68۔18]
بچہ نسب میں باپ کے تابع ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ”
“لے پالکوں کو ان کے(حقیقی باپوں کی طرف نسبت کر کے بلاؤ)” [الاحزاب 5/33]
دین میں بچہ ماں باپ میں سے بہتر دین والے کے تابع ہوگا۔ مثلاً نصرانی اور بت پرست میں سے بچہ نصرانی کے تابع ہوگا۔
آزادی اور غلامی میں بچہ ماں کے تابع ہوگا، الا یہ کہ آزاد کرنے والے نے شرط لگائی ہو، یا دھوکے کی کوئی مخصوص صورت ہو۔
اسلام نے نسب کے یہ احکام اس لیے بیان کیے ہیں کہ انساب محفوظ رہیں، کیونکہ ان کے ساتھ صلہ رحمی، وراثت، سرپرستی اور بہت سے دوسرے احکام وابستہ ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ إِنَّا خَلَقْنَاكُم مِّن ذَكَرٍ وَأُنثَىٰ وَجَعَلْنَاكُمْ شُعُوبًا وَقَبَائِلَ لِتَعَارَفُوا ۚ إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِندَ اللَّـهِ أَتْقَاكُمْ ۚ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ”
“اے لوگو! بلاشبہ ہم نے تم سب کو ایک (ہی)مرد اور عورت سے پیدا کیا ہے اور تمھارے کنبے اور قبیلے بنا دیے ہیں تاکہ تم آپس میں ایک دوسرے کو پہچانو ۔ اللہ کے نزدیک تم سب میں سے باعزت وہ ہے جو سب سے زیادہ ڈرنے والا ہے یقین مانو کہ اللہ دانا اور خوب باخبر ہے۔” [الحجرات:13۔49]
پس حسب و نسب کی معرفت کا مقصد تفاخر اور جاہلی فخر نہیں، بلکہ باہمی تعاون، صلہ رحمی اور ایک دوسرے پر رحمت و شفقت کرنا ہے۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو وہ اعمال کرنے کی توفیق دے جو اسے محبوب اور پسندیدہ ہوں۔ آمین۔
عدت کے احکام
طلاق کے بعد عدت واجب ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ عورت شریعت کی طرف سے مقرر کردہ بعض پابندیوں کے ساتھ ایک متعین مدت تک انتظار کرے۔
عدت کی دلیل کتاب اللہ، سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور اجماع امت ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ "
“طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔” [البقرۃ:2/228]
اور فرمایا:
"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ ۚ وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ "
“تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں۔ اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور ان کی بھی جنھیں حیض آنا شروع ہی نہ ہوا ہواور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔” [الطلاق:4/55]
یہ آیات زندگی میں علیحدگی کی عدت سے متعلق ہیں۔ اور اگر شوہر کی وفات کے سبب عدت ہو تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ "
“تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔” [البقرۃ:2/234]
سنت سے دلیل سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت ہے:
” أمرت بريرة أن تعتد بثلاث حيض "
“بریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو حکم دیا گیا کہ وہ تین حیض عدت گزارے۔” [سنن ابن ماجہ الطلاق باب خیار الا مۃ اذ اعفت حدیث2077]
عدت کی مشروعیت میں حکمت یہ ہے کہ رحم میں حمل کی حالت واضح ہو جائے اور نسب میں اختلاط نہ ہو۔ اسی طرح رجعی طلاق میں شوہر کو مہلت ملتی ہے کہ اگر نادم ہو تو رجوع کر لے۔ اس میں نکاح کی حرمت و احترام، شوہر کے حق کی تعظیم، اور اگر عورت حاملہ ہو تو حمل کی حفاظت بھی شامل ہے۔ غرض عدت نکاح کے احترام کی حفاظت کا ذریعہ ہے۔
عدت ہر اس عورت پر لازم ہے جو شوہر سے جدا ہوئی ہو، خواہ سبب طلاق ہو، خلع ہو، فسخِ نکاح ہو یا شوہر کی وفات، بشرطیکہ شوہر نے اس سے خلوت یا جماع کیا ہو، خواہ عورت آزاد ہو یا لونڈی، بالغ ہو یا ایسی نابالغ ہو کہ اس سے جماع ممکن ہو۔
اگر کسی عورت کو زندگی میں جماع سے پہلے ہی طلاق دے دی گئی ہو تو اس پر عدت نہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَاتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِن قَبْلِ أَن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا ۖ "
“اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو۔ پھر تم انھیں ہاتھ لگانے سے قبل(ہی) طلاق دے دو تو ان پر تمھارے لیے کوئی عدت نہیں جسے شمار کرو۔” [الاحزاب:33۔49]
آیت میں “تَمَسُّوهُنَّ” سے مراد جماع ہے۔ اہل علم کا اس پر اجماع ہے۔ اور “الْمُؤْمِنَاتِ” کا لفظ تغلیباً ہے، کیونکہ یہ حکم اہل کتاب عورتوں کے لیے بھی ہے۔
لیکن اگر شوہر فوت ہو جائے تو عورت پر عدت ہے، خواہ جماع ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، کیونکہ آیت عام ہے اور اس کے خلاف کوئی تخصیص نہیں:
"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ "
“تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑ جائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں” [البقرۃ:2/234]
عدت گزارنے والی عورتیں چھ قسم کی ہیں:
① حاملہ
② غیر حاملہ جس کا شوہر فوت ہو گیا ہو
③ غیر حاملہ مطلقہ جسے حیض آتا ہو
④ مطلقہ جسے حیض نہ آتا ہو
⑤ وہ جس کا حیض بڑھاپے یا کمی عمری یا کسی علت کی وجہ سے بند ہو
⑥ وہ جس کا شوہر لاپتہ ہو
حاملہ کی عدت
حاملہ عورت کی عدت وضع حمل تک ہے، خواہ علیحدگی شوہر کی طلاق سے ہوئی ہو یا اس کی وفات سے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ "
“حاملہ عورتوں کی عدت ان کے وضع حمل تک ہے۔” [الطلاق:4/65]
اس آیت سے معلوم ہوا کہ حاملہ کی عدت بچے کی پیدائش پر ختم ہوتی ہے، خواہ شوہر فوت ہوا ہو یا طلاق دے کر الگ کیا ہو۔ بعض سلف کا موقف تھا کہ وفات والے معاملے میں دو عدتوں میں جو زیادہ ہو وہ پوری کی جائے، لیکن بعد میں اہل علم کا اتفاق ہو گیا کہ وضع حمل سے عدت ختم ہو جاتی ہے۔
البتہ ہر خارج ہونے والی چیز سے عدت ختم نہیں ہوگی، بلکہ وہ بچہ ہو جس میں انسانی شکل و صورت نمایاں ہو۔ اگر صرف گوشت کا لوتھڑا ہو اور اس میں خلقتِ انسانی واضح نہ ہو تو عدت ختم نہیں ہوگی۔
اسی طرح وہ حمل اسی شوہر کا ہونا چاہیے جس نے عورت کو الگ کیا ہے۔ اگر حمل اس شوہر کا نہ ہو، مثلاً شوہر اتنی کم عمر ہو کہ اولاد پیدا نہ کر سکتا ہو، یا پیدائشی عیب کی وجہ سے اس قابل نہ ہو، یا عورت نے نکاح کے چھ ماہ سے پہلے بچہ جنا ہو جو زندہ ہو، تو اس سے عدت ختم نہ ہوگی، کیونکہ نسب اس شوہر سے ثابت نہیں۔
حمل کی کم از کم مدت چھ ماہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَحَمْلُهُ وَفِصَالُهُ ثَلاثُونَ شَهْرًا”
“اس کے حمل کا اور اس کے دودھ چھڑانے کا زمانہ تیس مہینے کا ہے۔” [الاحقاف:46۔15]
اور فرمایا:
"وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ ۖ "
“مائیں اپنی اولادوں کو دو سال کامل دودھ پلائیں۔” [البقرۃ:2/233]
جب تیس ماہ میں سے دو سال، یعنی چوبیس ماہ نکالے جائیں تو چھ ماہ باقی رہتے ہیں، یہی کم از کم مدتِ حمل ہے۔
زیادہ سے زیادہ مدتِ حمل کے بارے میں اہل علم میں اختلاف ہے۔ راجح بات یہ ہے کہ اس میں وجودی مثالوں کی طرف رجوع کیا جائے۔ علامہ موفق الدین ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جہاں نص نہ ہو وہاں مشاہدہ معتبر ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض مثالیں پانچ سال یا اس سے زیادہ کی بھی نقل ہوئی ہیں، مگر غالب مدت نو ماہ ہی ہے۔
شریعت اسلامیہ نے حمل کی بہت قدر و منزلت رکھی ہے۔ حمل کو نقصان پہنچانا جائز نہیں۔ اگر روح داخل ہونے کے بعد کسی کی زیادتی سے حمل ساقط ہو جائے تو دیت اور کفارہ لازم آتا ہے۔ اگر حاملہ عورت پر حد یا رجم واجب ہو تو بچے کی ولادت تک حد کے نفاذ کو مؤخر کیا جائے گا۔ دوا کے ذریعے حمل گرانا بھی جائز نہیں۔
اللہ تعالیٰ کا شکر ہے کہ اس نے ایسی کامل شریعت عطا کی جس میں رحمِ مادر کے بچے تک کے حقوق محفوظ ہیں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ وہ ہمیں اس کے احکام پر عمل اور اپنی اطاعت میں اخلاص عطا فرمائے۔
عدتِ وفات
جس عورت کا شوہر فوت ہو جائے اور وہ حاملہ نہ ہو، اس کی عدت چار ماہ دس دن ہے، خواہ شوہر کی وفات جماع سے پہلے ہو یا بعد میں، اور خواہ عورت وطی کے قابل ہو یا نہ ہو۔ دلیل اللہ تعالیٰ کا عام فرمان ہے:
"وَالَّذِينَ يُتَوَفَّوْنَ مِنكُمْ وَيَذَرُونَ أَزْوَاجًا يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ أَرْبَعَةَ أَشْهُرٍ وَعَشْرًا ۖ "
“تم میں سے جو لوگ فوت ہو جائیں اور بیویاں چھوڑجائیں وہ عورتیں اپنے آپ کو چار مہینے اور دس دن عدت میں رکھیں۔” [البقرۃ:2/234]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عورت پر چار ماہ دس دن کی عدت شوہر کی موت کے سبب ہے، خواہ جماع ہوا ہو یا نہ ہوا ہو، کیونکہ قرآن و سنت کے دلائل عام ہیں، اور اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔ [اعلام الموقعین 2/76]
اور علامہ وزیر وغیرہ نے بھی نقل کیا ہے کہ اہل علم کا اس پر اتفاق ہے۔
لونڈی کے لیے اس عدت کا نصف ہے، یعنی دو ماہ اور پانچ دن۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کا اس پر اجماع منقول ہے کہ لونڈی کی عدتِ طلاق اور عدتِ وفات آزاد عورت کی نسبت نصف ہوتی ہے۔ [المغنی والشرح الکبیر9/108]
عدتِ وفات کے مخصوص احکام
① عورت وہیں عدت گزارے گی جہاں شوہر کی وفات کے وقت رہ رہی تھی۔ بلا عذر وہاں سے منتقل ہونا جائز نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک عورت سے فرمایا کہ اسی گھر میں عدت گزارو جہاں تمہیں شوہر کی وفات کی خبر ملی۔ [سنن ابی داود الطلاق باب فی المتوفی عنہا تتقل حدیث 2300، سنن النسائی الطلاق باب مقام المتوفی عنہا زوجہا فی یتہا حتی تحل حدیث 3559۔3560، جامع الترمذی الطلاق باب ماجاء ابن تعتد المتوفی عنہا زوجہا حدیث۔1204]
② اگر وہ مجبور ہو جائے، مثلاً جان کا خطرہ ہو، زبردستی نکال دی گئی ہو، یا کرایہ کا مسئلہ ہو، تو جہاں چاہے عدت گزار سکتی ہے۔
③ دن کے وقت ضرورت کے لیے گھر سے نکل سکتی ہے، رات کو نہیں، کیونکہ رات میں فساد کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ حدیث میں آیا:
"تحدثن عند إحداكن ما بدا لكن، فإذا أردتن النوم فلتأت كل امرأة إلى بيتها”
“تم ایک دوسری کے ساتھ باتیں کرنے کے لیے (دن کے وقت) اکٹھی ہو سکتی ہو لیکن جب سونے کا ارادہ ہو تو ہر ایک اپنے گھر واپس آجائے۔” [(ضعیف) منارالسبیل ص612۔613۔حدیث 2135، السنن الکبری للبیہقی 7/436۔تاہم شدید ضرورت کے پیش نظر عورت گھر سے باہر نکل سکتی ہے]
④ عدتِ وفات میں عورت سوگ کی حالت میں رہے۔ ایسی وضع قطع اختیار نہ کرے جو زینت، بناؤ سنگھار اور رغبت پیدا کرنے والی ہو۔ علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کی بہت لطیف حکمتیں بیان کی ہیں کہ جاہلیت میں عورت ایک سال تک سخت تکلیف دہ سوگ مناتی تھی، اسلام نے اس باطل طریقے کو ختم کیا اور صبر و شکر کی تعلیم دی۔ خاوند کے سوا دوسری میت پر تین دن تک سوگ کی اجازت دی، جبکہ خاوند پر سوگ عدت کے ساتھ منسلک ہے۔ چونکہ خاوند کی موجودگی میں عورت کو خوشبو، زینت وغیرہ کی حاجت ہوتی ہے، اس لیے وفات کے بعد عدت کے دوران اسے ترک کرنا شوہر کے حق کا ایک تقاضا ہے، اور یہ دوسروں کی رغبت اور خود عورت کے اظہارِ زینت کو بھی روکتا ہے۔ [اعلام الموقعین:2/145۔147]
اس لیے عورت پر لازم ہے کہ عدتِ وفات میں:
✔ خضاب نہ لگائے
✔ زینت والے رنگ استعمال نہ کرے
✔ زیور نہ پہنے
✔ خوشبو استعمال نہ کرے
✔ شوخ اور زینتی لباس نہ پہنے
✔ ایسا سادہ لباس پہنے جو زینت شمار نہ ہو
⑤ عدتِ وفات کے لیے شریعت نے کوئی خاص لباس مقرر نہیں کیا، بس ایسا لباس نہ ہو جو زینت کا باعث ہو۔
⑥ جب عدت پوری ہو جائے تو اس موقع پر کوئی خاص رسم یا مخصوص الفاظ شرعاً ثابت نہیں۔
مطلقہ کی عدت
جس عورت کو حیض نہیں آتا، اس کی طلاق کی عدت تین ماہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ”
“تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں۔ اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے ۔” [الطلاق:4/55]
اور جس مطلقہ کو حیض آتا ہو، بشرطیکہ حاملہ نہ ہو، اس کی عدت تین حیض ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ ۚ وَلَا يَحِلُّ لَهُنَّ أَن يَكْتُمْنَ مَا خَلَقَ اللَّهُ فِي أَرْحَامِهِنَّ "
“طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔انھیں حلال نہیں کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو پیدا کیا ہوا اسے چھپائیں۔” [البقرۃ:2/228]
یہاں “قُرُوءٍ” سے مراد حیض ہے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین میں سے حضرت عمر، حضرت علی اور ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی قول ہے۔ اور حدیث میں بھی “قَرْء” حیض کے معنی میں آیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مستحاضہ عورت سے فرمایا:
"إِذَا أَتَى قَرْؤُكِ فَلَا تُصَلِّي "
“جب تجھے حیض آئے تو نماز ادا نہ کرنا ۔” [سنن ابی داؤد الطہارۃ باب فی المراۃ تستخاض حدیث 280، سنن النسائی الحیض باب ذکر الامراء حدیث 358]
عدت میں تین حیض پورے ہونا ضروری ہیں۔ اگر حیض کی حالت میں طلاق دی گئی، اگرچہ یہ حرام ہے، تو وہ حیض عدت میں شمار نہ ہوگا۔
اگر مطلقہ لونڈی ہو تو اس کی عدت دو حیض ہے۔ سیدنا عمر، علی اور ابن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کا یہی مسلک تھا، اور صحابہ میں اس کے خلاف کوئی معروف نہیں۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ کے عام فرمان:
"وَالْمُطَلَّقَاتُ يَتَرَبَّصْنَ بِأَنفُسِهِنَّ ثَلَاثَةَ قُرُوءٍ "
“طلاق والی عورتیں اپنے آپ کو تین حیض تک روکے رکھیں۔” [البقرۃ:2/228]
کی تخصیص کرتا ہے۔ قیاس سے ڈیڑھ حیض ہونا چاہیے تھا، لیکن حیض کو تقسیم نہیں کیا جا سکتا، اس لیے دو حیض مقرر ہوئے۔
جس عورت کا حیض بڑھاپے سے بند ہو گیا ہو، یا وہ بچی ہو جسے ابھی حیض شروع نہ ہوا ہو، ان دونوں کی عدت تین ماہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَاللَّائِي يَئِسْنَ مِنَ الْمَحِيضِ مِن نِّسَائِكُمْ إِنِ ارْتَبْتُمْ فَعِدَّتُهُنَّ ثَلَاثَةُ أَشْهُرٍ وَاللَّائِي لَمْ يَحِضْنَ "
“تمھاری عورتوں میں سے جو عورتیں حیض سے ناامید ہو گئی ہوں۔ اگر تمھیں شبہ ہو تو ان کی عدت تین مہینے ہے اور(اسی طرح)ان کی بھی جنھیں ابھی حیض نہیں آیا۔” [الطلاق:4/55]
امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر اہل علم کا اجماع نقل کیا ہے۔ [المغنی والشرح الکبیر لا بن قدامہ:9/90]
اگر کوئی لونڈی چھوٹی ہو یا اس کا حیض بند ہو گیا ہو تو اس کی عدت دو ماہ ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول ہے:
"عِدَّةُ أمِّ الولدِ حَيْضَتَانِ، ولو لم تَحِضْ كانَتْ عِدَّتُها شَهْرَيْنِ”
“ام ولد کی عدت دو حیض ہے اگر اسے حیض آنا شروع نہیں ہوا تو اس کی عدت دو ماہ ہے۔” [منار السبیل ص608۔حدیث:2122، السنن الکبری للبیہقی 7/425]
بعض علماء اس کی ڈیڑھ ماہ عدت کے قائل ہیں۔ [اس کے بارے میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ایک اثر منقول ہے دیکھئےالسنن الکبری للبیہقی :7/425]
جس عورت کا حیض کسی عارضے سے رُک جائے
ایسی عورت کی دو حالتیں ہیں:
① سبب معلوم نہ ہو۔ ایسی عورت کی عدت ایک سال ہوگی: نو ماہ حمل کے امکان کے لیے، اور تین ماہ عدت کے لیے۔ امام شافعی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہ فیصلہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا تھا اور مہاجرین و انصار میں جاری تھا، اور کسی مخالف کا علم نہیں۔ [المغنی والشرح الکبیر9/98]
② سبب معلوم ہو، جیسے بیماری، رضاعت یا مانعِ حیض دوا۔ ایسی عورت پہلے اس سبب کے دور ہونے کا انتظار کرے گی۔ اگر حیض آ جائے تو تین حیض عدت گزارے گی، اور اگر سبب ختم ہونے کے باوجود حیض نہ آئے تو صحیح قول کے مطابق ایک سال عدت گزارے گی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے اسی کو پسند کیا ہے، اور امام احمد رحمۃ اللہ علیہ کا ایک قول بھی یہی ہے۔
مستحاضہ کی عدت
مستحاضہ عورت کی تین صورتیں ہیں:
① استحاضہ سے پہلے ایامِ حیض کی تعداد اور وقت معلوم ہو؛ تو وہ اپنی عادت کے مطابق تین حیض عدت گزارے۔
② تعداد بھول گئی ہو مگر حیض اور استحاضہ کے خون میں فرق کر سکتی ہو؛ تو اسی امتیاز کے مطابق عدت گزارے۔
③ نہ ایام معلوم ہوں نہ خون میں فرق کر سکے؛ تو وہ حیض سے مایوس عورت کی طرح تین ماہ عدت گزارے گی۔
خطبۂ نکاح اور عدت
جو عورت شوہر کی وفات کی عدت گزار رہی ہو یا جسے طلاقِ بائن ہو چکی ہو، ان دونوں کو عدت کے اندر صریح الفاظ میں نکاح کا پیغام دینا حرام ہے، مثلاً: “میں تم سے نکاح کرنا چاہتا ہوں۔” البتہ کنایہ سے پیغام دینا جائز ہے، مثلاً: “میں تم جیسی عورت سے نکاح چاہتا ہوں۔” اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے:
"وَلَا جُنَاحَ عَلَيْكُمْ فِيمَا عَرَّضْتُم بِهِ مِنْ خِطْبَةِ النِّسَاءِ”
“تم پر اس میں کوئی گناہ نہیں کہ تم اشارے کنایے سے ان عورتوں سے نکاح کی بابت کہو۔” [البقر:2/235]
لیکن اگر عورت کو تین سے کم طلاقیں دی گئی ہوں، یا رجعی طلاق ہو، تو شوہر کے لیے جائز ہے کہ عدت کے بعد نکاح کی بات کرے، بلکہ عدت کے اندر بھی صریح یا کنایہ کسی بھی طرح بات کر سکتا ہے، کیونکہ وہ اس سے نکاح کا حق رکھتا ہے، بلکہ رجوع کا بھی حق رکھتا ہے۔
مفقود شوہر کی بیوی
جس عورت کا شوہر لاپتہ ہو جائے، اور نہ اس کی زندگی معلوم ہو نہ موت، تو قاضی کو حالات کے لحاظ سے ایک مدت مقرر کرنی چاہیے جس میں عورت اس کے آنے یا اس کی خبر کا انتظار کرے۔ اس مدت تک وہ اس کے نکاح میں شمار ہوگی، کیونکہ اصل شوہر کا زندہ ہونا ہے۔ جب مدت ختم ہو جائے تو قاضی اس کی موت کا حکم دے گا، پھر عورت وفات کی عدت یعنی چار ماہ دس دن گزارے گی۔ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین کی ایک جماعت کا یہی فیصلہ ہے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے ثابت ہے کہ انہوں نے مفقود کی بیوی کو چار سال انتظار کا حکم دیا، پھر اسے نکاح کی اجازت دی۔ بعد میں جب پہلا شوہر واپس آیا تو سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اختیار دیا کہ وہ اپنی بیوی واپس لے یا مہر واپس لے لے۔ امام احمد رحمۃ اللہ علیہ نے بھی یہی موقف اختیار کیا ہے۔ ابو داؤد رحمۃ اللہ علیہ نے نقل کیا کہ امام احمد نے فرمایا: مجھے اس مسئلے میں کوئی شک نہیں، کیونکہ پانچ صحابہ کرام رضوان اللہ عنھم اجمعین نے یہی فتویٰ دیا ہے۔ [اعلام الموقعین:2/49]
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قول سب سے صحیح اور عقل کے زیادہ قریب ہے، اور شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے بھی اسی کو درست کہا ہے۔
جب عورت اس عدت سے فارغ ہو جائے تو دوسرے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔ اس کے لیے مفقود شوہر کے ولی سے طلاق لینے کی ضرورت نہیں۔ اگر اس نے دوسری شادی کر لی، پھر پہلا شوہر واپس آگیا، تو اسے اختیار ہے کہ یا تو دوسرے شوہر سے جدائی کا مطالبہ کرے یا مہر واپس لے کر عورت کو دوسرے ہی شوہر کے نکاح میں رہنے دے۔ اس میں کوئی فرق نہیں کہ دوسرے شوہر نے جماع کیا ہو یا نہ کیا ہو۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہی قول درست ہے، اور اس میں عدل و انصاف پوری طرح موجود ہے۔ [الفتاوی الکبری الاختیارات العلمیہ ،العدد :5/511۔512]
استبرائے رحم کا بیان
استبرائے رحم سے مراد یہ ہے کہ لونڈی کے حاصل ہونے کے بعد اور اس سے جماع کرنے سے پہلے کچھ مدت انتظار کیا جائے، تاکہ معلوم ہو سکے کہ اس کے رحم میں حمل ہے یا نہیں۔
جس شخص نے لونڈی خریدی، یا وہ اسے ہبہ ہوئی، یا قید کے ذریعے ملی، اور وہ وطی کے قابل ہو، تو اس سے جماع اور فائدہ اٹھانا اس وقت تک حرام ہے جب تک استبرائے رحم نہ ہو جائے۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسقي ماءه زرع غيره "
“جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لائق نہیں کہ وہ کسی کی کھیتی کو اپنا پانی دے۔” [جامع الترمذی النکاح باب ماجاء فی الرجل یشتری الجاریہ وھی حامل بلفظ "وَلدَ غَيْرِهِ” حدیث1131، مسند احمد 4/108، سنن ابی داؤد النکاح باب فی وطء السبایا حدیث 2158]
اور ایک روایت میں ہے:
"لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ "
“حاملہ (لونڈی)سے وطی نہ کی جائے جب تک اس کے ہاں ولادت نہ ہو جائے۔” [سنن ابی داود النکاح باب فی وط ء السبایا حدیث 2157]
اگر لونڈی حاملہ ہو تو اس کا استبراء وضع حمل سے ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان عام ہے:
"وَأُولَاتُ الْأَحْمَالِ أَجَلُهُنَّ أَن يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ ۚ "
“اور حاملہ عورتوں کی عدت ان کا وضع حمل ہے۔” [الطلاق 4/65]
اور اگر حاملہ نہ ہو اور حیض آتا ہو تو ایک حیض استبرائے رحم کے لیے کافی ہے۔ اوطاس کی قیدی عورتوں کے بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا تُوطَأُ حَامِلٌ حَتَّى تَضَعَ وَلَا غَيْرُ ذَاتِ حَمْلٍ حَتَّى تَحِيضَ حَيْضَةً”
“حاملہ سے وطی نہ کی جائے حتی کہ وہ حمل کو جنم دے اور غیر حاملہ سے وطی نہ کی جائےحتی کہ اسے ایک مرتبہ حیض آجائے۔” [سنن ابی داود النکاح باب فی وطاء السبایا حدیث :2157، مسند احمد:3/62۔87]
اگر لونڈی حیض سے مایوس ہو چکی ہو، یا ابھی اتنی کم سن ہو کہ حیض شروع نہ ہوا ہو، تو ایک مہینہ انتظار کیا جائے، کیونکہ یہ ایک حیض کے قائم مقام ہے۔
استبرائے رحم کی حکمت خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے واضح ہے:
” من كان يؤمن بالله واليوم الآخر فلا يسقي ماءه زرع غيره "
“جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت پر یقین رکھتا ہے اس کے لائق نہیں کہ وہ اپنا پانی غیر کی کھیتی کو دے۔” [جامع الترمذی النکاح باب ماجاء فی الرجل یشتری الجاریہ وھی حامل بلفظ "وَلدَ غَيْرِهِ” حدیث1131، مسند احمد 4/108، سنن ابی داؤد النکاح باب فی وطء السبایا حدیث 2158]
یعنی مقصد پانی کے اختلاط اور نسب میں اشتباہ سے بچنا ہے۔
رضاعت کے احکام
اللہ تعالیٰ نے محرمات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
"وَأُمَّهاتُكُمُ اللَّاتِي أَرْضَعْنَكُمْ وَأَخَواتُكُمْ مِنَ الرَّضاعَةِ”
“اور تمھاری وہ مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایا ہو اور تمہاری دودھ شریک بہنیں(بھی تم پر حرام کردی گئی ہیں۔)” [النساء:4/23]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” يَحْرُمُ مِنْ الرَّضَاعِ مَا يَحْرُمُ مِنْ النَّسَبِ "
“رضاعت سے وہ عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو نسب سے حرام ہوتی ہیں۔” [صحیح البخاری الشھادات باب الشھادۃ علی الانساب والرضاع۔۔۔حدیث 2645، صحیح مسلم الرضاع باب تحریم الرضاعۃ من ماء الفحل حدیث 1445]
اور ایک روایت میں ہے:
"يحرم من الرضاعة ما يحرم من الولادة”
“رضاعت سے وہ عورتیں حرام ہوجاتی ہیں جو ولادت سے حرام ہوتی ہیں۔” [صحیح البخاری النکاح باب ما یحل من الدخول والنظر الی النساء فی الرضاع؟حدیث:5239، صحیح مسلم،الرضاع باب یحرم من الرضاع ما یحرم من الولادۃ حدیث 1444]
رضاعت کے لغوی معنی ہیں: بچے کا عورت کے پستان سے دودھ پینا۔
اور شرعی معنی یہ ہیں: دو سال سے کم عمر بچے کا کسی عورت کا کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پینا۔
نکاح، خلوت، محرم ہونے اور عورت کو دیکھنے وغیرہ میں رضاعت کا وہی حکم ہے جو نسبی رشتے کا ہے۔
رضاعت کے ثابت ہونے کے لیے دو شرطیں ہیں:
① بچے نے ایک عورت کا کم از کم پانچ مرتبہ دودھ پیا ہو۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:
” كَانَ فِيمَا أُنْزِلَ مِنَ الْقُرْآنِ: عَشْرُ رَضَعَاتٍ مَعْلُومَاتٍ يُحَرِّمْنَ، ثُمَّ نُسِخْنَ، بِخَمْسٍ مَعْلُومَاتٍ، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَهُنَّ فِيمَا يُقْرَأُ مِنَ الْقُرْآنِ "
“قرآن مجید میں اول حکم یہ نازل ہوا تھا کہ ایک عورت کادس مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،پھر پانچ مرتبہ دودھ پینے والا حکم نازل ہوا جس سے پہلا حکم منسوخ ہوگیا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو یہی حکم جاری و ساری تھا۔” [صحیح مسلم الرضاع باب التحریم بخمس رضعات حدیث:1452]
پانچ مرتبہ دودھ پینے سے رضاعت ثابت ہونے کا حکم باقی ہے، اگرچہ تلاوت منسوخ ہو چکی ہے۔
② یہ پانچ یا زیادہ مرتبہ دودھ پینا بچے کی عمر دو سال سے کم میں ہو۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَالْوَالِدَاتُ يُرْضِعْنَ أَوْلَادَهُنَّ حَوْلَيْنِ كَامِلَيْنِ لِمَنْ أَرَادَ أَن يُتِمَّ الرَّضَاعَةَ ۖ "
“مائیں اپنی اولاد کو دوسال کامل دودھ پلائیں۔ جن کا ارادہ دودھ پلانے کی مدت بالکل پوری کرنے کا ہو۔” [البقرۃ:2/233]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لَا يُحَرِّمُ مِنْ الرِّضَاعَةِ إِلَّا مَا فَتَقَ الْأَمْعَاءَ فِي الثَّدْيِ وَكَانَ قَبْلَ الْفِطَامِ”
“رضاعت سے حرمت اس وقت تک ثابت نہیں ہوتی جب تک دودھ انتڑیوں کوپھلا نہ دے اور یہ عمل دودھ چھڑانے کی عمر سے پہلے پہلے ہو۔” [جامع الترمذی الرضاع باب ماجاء(ماذکر) ان الرضاعۃ لا تحرم الافی الصغر دون الحولین،حدیث:1152]
ایک رضعہ سے مراد یہ ہے کہ بچہ پستان سے دودھ پینا شروع کرے، پھر اپنی مرضی سے چھوڑ دے، خواہ سانس لینے کے لیے یا دوسرے پستان کی طرف منتقل ہونے کے لیے۔ یہ ایک دفعہ شمار ہوگی۔ اگر دوبارہ اسی طرح پیے تو دوسری دفعہ شمار ہوگی، اگرچہ مجلس ایک ہی ہو۔ چونکہ شریعت نے “رضعہ” کی تحدید نہیں کی، اس لیے اس میں عرف معتبر ہے۔
اگر عورت نے پستان کے علاوہ کسی اور ذریعے سے اپنا دودھ بچے کے پیٹ میں پہنچا دیا، تو بھی رضاعت ثابت ہوجائے گی، بشرطیکہ یہ پانچ مرتبہ ہو، کیونکہ مقصود غذا پہنچنا ہے۔
جب کسی عورت نے دو سال سے کم عمر بچے کو پانچ یا زیادہ مرتبہ دودھ پلا دیا تو وہ بچہ رضاعت کے اعتبار سے اس عورت کا بچہ شمار ہوگا۔ اس کا اس عورت سے نکاح حرام ہوگا، اور اسے دیکھنا اور اس کے ساتھ خلوت جائز ہوگی، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَأُمَّهَاتُكُمُ اللاَّتِي أَرْضَعْنَكُمْ”
“تمہاری مائیں جنھوں نے تمھیں دودھ پلایاہو(وہ بھی تمہارے لیے حرام ہیں۔)” [النساء:4/23]
البتہ اس رضاعی رشتے میں وہ دیگر تمام احکام ثابت نہیں ہوں گے جو نسب سے ثابت ہوتے ہیں، مثلاً نفقہ، وراثت، دیت میں شرکت یا ولایت؛ کیونکہ نسب رضاعت سے قوی تر ہے۔ صرف وہی احکام ثابت ہوں گے جن پر شریعت کی نص آئی ہے۔
جس طرح دودھ پلانے والی عورت بچے کی رضاعی ماں ہوگی، اسی طرح اس دودھ کا مالک، یعنی اس کا شوہر یا آقا، رضاعی باپ ہوگا، کیونکہ دودھ اسی کے نکاح یا ملک میں اترا ہے۔ لہٰذا اس کے ساتھ بھی محرمیت کے احکام جاری ہوں گے۔
نسب میں جو رشتے حرام ہیں، رضاعت میں بھی وہی حرام ہوتے ہیں۔ چنانچہ رضاعی ماں کا باپ، دادا، اولاد، ماں، نانی، بہنیں، چچا، پھوپھیاں، ماموں، خالائیں سب دودھ پینے والے کے محرم ہیں۔ اسی طرح رضاعی باپ کے تمام محرم رشتے بھی اس پر حرام ہوں گے۔
جس بچے کے لیے حرمت ثابت ہوئی، اس کی اولاد اور اولاد کی اولاد پر بھی یہ حرمت چلی جائے گی۔ البتہ اس بچے کے اصول، یعنی والدین اور اوپر کے رشتے دار، اور اس کے حواشی یعنی بہن بھائی وغیرہ کے لیے یہ حرمت ثابت نہیں ہوتی۔ لہٰذا اس بچے کے حقیقی بہن بھائی اس رضاعی ماں یا رضاعی باپ کے محرم نہیں بنیں گے۔
اگر کسی عورت سے باطل یا زنا کی وطی ہوئی اور اس نے دودھ پلایا، تو بچہ صرف دودھ پلانے والی عورت سے منسوب ہوگا، مرد سے نہیں، کیونکہ جب نسب میں وہ باپ نہیں بنتا تو رضاعت میں بھی نہیں بنے گا، کیونکہ رضاعت نسب کی فرع ہے۔
کسی جانور کا دودھ پینے سے حرمت ثابت نہیں ہوتی، مثلاً اگر ایک لڑکے اور ایک لڑکی نے ایک ہی جانور کا دودھ پیا ہو تو ان کا باہم نکاح حرام نہیں ہوگا۔
اگر کسی عورت کا دودھ بغیر وطی اور وضع حمل کے اتر آیا اور بچے نے وہ پیا، تو اس سے حرمت ثابت ہونے میں اہل علم کا اختلاف ہے۔ ایک قول یہ ہے کہ اس سے حرمت ثابت نہیں، کیونکہ وہ حقیقی دودھ نہیں بلکہ محض رطوبت ہے۔ دوسرا قول یہ ہے کہ حرمت ثابت ہوجاتی ہے، اور امام ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ وغیرہ کا یہی مسلک ہے۔
ایک عورت کی گواہی سے رضاعت ثابت ہو سکتی ہے، بشرطیکہ وہ دیانت دار اور سچی معروف ہو۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر عورت صدق میں معروف ہو اور بتائے کہ اس نے فلاں کو پانچ بار دودھ پلایا تھا تو اس کی بات قبول ہوگی اور رضاعت ثابت ہو جائے گی۔ [مجموع الفتاویٰ :34/52]
اگر رضاعت کے ہونے، نہ ہونے یا پانچ بار مکمل ہونے میں شک ہو، اور کوئی واضح دلیل بھی نہ ہو، تو حرمت ثابت نہ ہوگی، کیونکہ اصل یہ ہے کہ دودھ نہیں پیا گیا۔ واللہ اعلم۔
حقِ پرورش کے احکام
حضانت کے لغوی معنی ہیں: پرورش اور آغوش میں لینا۔ اور شرعی معنی یہ ہیں کہ بچے یا بچے کے حکم میں کسی شخص، جیسے کم عقل یا دیوانے، کو ضرر سے بچانا، اور اس کی جسمانی و روحانی مصلحتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس کی پرورش اور تربیت کرنا۔
حقِ پرورش میں یہ حکمت ہے کہ بچہ یا اس کے حکم میں کوئی شخص اپنی مصلحتوں کا خود خیال نہیں رکھ سکتا، لہٰذا اسے ایسے سرپرست کی ضرورت ہوتی ہے جو اس کی حفاظت کرے، فائدوں کو دیکھے، نقصان سے بچائے، اور اچھی تربیت کرے۔
شریعتِ اسلامیہ نے ایسے افراد کی کفالت اور پرورش کے اصول بیان فرمائے ہیں، کیونکہ وہ خاص طور پر رحمت، شفقت اور احسان کے مستحق ہیں۔ اگر انہیں چھوڑ دیا جائے تو وہ ضائع ہو جائیں گے، اور ہمارا دین ان کو ضائع کرنے سے روکتا ہے۔ پرورش زیرِ کفالت بچے کا حق بھی ہے اور قریبی رشتے داروں کی ذمہ داری بھی۔
حقِ حضانت کی ترتیب
① بچے کی پرورش کا سب سے زیادہ حق اس کی ماں کو ہے۔ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ جب میاں بیوی جدا ہو جائیں اور ان کی چھوٹی اولاد یا بڑا مگر کم عقل بچہ ہو تو ماں ہی زیادہ حقدار ہے، بشرطیکہ اس میں حضانت کی شرطیں موجود ہوں۔ امام مالک اور اصحاب الرائے کا بھی یہی قول ہے، اور کسی مخالف کا علم نہیں۔ [المغنی والشرح الکبیر:9/299،300]
اگر ماں نے کسی اور سے شادی کر لی تو اس کا حقِ حضانت ساقط ہو جائے گا۔ ایک عورت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! یہ میرا بیٹا ہے، میں نے اسے اپنے پیٹ میں اٹھایا، اپنے سینے سے دودھ پلایا، اپنی گود میں پالا، اور اب اس کا باپ اسے مجھ سے لینا چاہتا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحي”
“بچے کو لینے کی حقدار تو ہی ہے جب تک تو کسی دوسرے آدمی سے شادی نہیں کرتی۔” [سنن ابی داودالطلاق،باب من احق بالولد؟حدیث2276، مسند احمد:2/182]
ماں کو ترجیح اس لیے ہے کہ وہ زیادہ شفیق، زیادہ قریب، زیادہ صابر، اور بچے کی ضرورتوں سے زیادہ واقف ہوتی ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا: “بچے کے لیے ماں کی خوشبو، اس کا بستر اور اس کی گود تجھ سے بہتر ہے، یہاں تک کہ وہ جوان ہو جائے اور خود انتخاب کرے۔” [سبل السلام باب الحضانۃ :3/1562۔تحت حدیث :1079]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ عورتیں چھوٹے بچوں پر زیادہ رحم کرنے والی، ان کی خوراک اور تربیت کی زیادہ اہل، اور مشقتوں پر زیادہ صابر ہوتی ہیں، اسی لیے بچے کی حضانت میں ماں کو مقدم کیا گیا ہے۔ [مجموع الفتاویٰ :17/216]
② اگر ماں کا حق کسی وجہ سے ساقط ہو جائے تو نانی، پھر پرنانی، اور اوپر کی مائیں اس حق کی مستحق ہوں گی، کیونکہ وہ ماں کے قائم مقام ہیں۔
③ اس کے بعد بچے کا باپ حق دار ہوگا، کیونکہ اصل نسب اسی سے ہے اور وہ قریبی ترین مرد ہے۔
④ اگر باپ بھی نہ ہو یا اس کا حق ساقط ہو جائے تو دادی، پھر پردادی حق رکھیں گی، کیونکہ ان کا تعلق باپ کی طرف سے ہے، اور دادی دادا پر اسی طرح مقدم ہے جیسے ماں باپ پر۔
⑤ اس کے بعد دادا، پھر پردادا۔
⑥ پھر دادا کی ماں، اور جو زیادہ قریب ہوگی وہ دور والی پر مقدم ہوگی۔
⑦ پھر بچے کی بہنیں۔ اس میں سگی بہن مقدم، پھر مادری بہن، پھر پدری بہن۔ بعض اہل علم نے پدری بہن کو مادری بہن پر ترجیح دی ہے۔
⑧ پھر خالائیں، کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"الْخَالَةُ بِمَنْزِلَةِ الْأُمِّ "
“خالہ ماں کے مرتبے میں ہے۔” [صحیح البخاری الصلح باب کیف یکتب ھذا ما صالح فلان بن فلان وفلان بن فلان۔۔۔؟حدیث 2699]
اس میں سگی خالہ، پھر مادری، پھر پدری خالہ۔
⑨ پھر پھوپھیاں۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا کہ پھوپھی خالہ پر مقدم ہے، اور باپ کی طرف کے اقارب ماں کی طرف کے اقارب پر مقدم ہیں، کیونکہ اصل ولایت باپ کی ہے۔ اور حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی بیٹی کے معاملے میں خالہ کو اس لیے مقدم کیا گیا کہ پھوپھی نے مطالبہ ہی نہ کیا تھا۔ [مجموع الفتاویٰ:34/122۔123]
⑩ پھر بھتیجیاں
⑪ پھر بھانجیاں
⑫ پھر چچا کی بیٹیاں
⑬ پھر پھوپھیوں کی بیٹیاں
⑭ پھر درجہ بدرجہ باقی عصبات: بھائی، ان کے بیٹے، چچا، ان کے بیٹے وغیرہ
اگر بچہ لڑکی ہو تو حضانت لینے والے مرد کے لیے شرط ہے کہ وہ اس کا محرم ہو، ورنہ وہ کسی امانت دار شخص کے سپرد کی جائے۔
حقِ حضانت کے موانع
① غلامی مانعِ حضانت ہے، کیونکہ غلام سرپرست نہیں بن سکتا اور اس کے منافع اس کے مالک کے حق میں ہوتے ہیں۔
② فاسق و فاجر شخص حضانت کا اہل نہیں، کیونکہ وہ امین نہیں اور بچے کے دین کو بگاڑ سکتا ہے۔
③ کافر مسلمان بچے کا سرپرست نہیں بن سکتا، کیونکہ اس کا ضرر فاسق سے بھی زیادہ ہے، اور وہ بچے کو کفر پر تربیت دے سکتا ہے۔ [1990 ء کی دہائی میں سرب نصرانی دہشت گردوں نے بوسنیا ہرزمی گوینا میں مسلمانوں کا قتل عام کیا تو ان کے ہزاروں بچے یتیم ہوگئے۔اس دوران میں”قیام امن” کے لیے وہاں نیٹو کے فوجی دستے آگئے اور نصرانی این جی اوز اور مشنری ادارے ہزاروں یتیم مسلمان بچوں کو مختلف یورپی ممالک لے گئے جہاں انھیں نصرانی بنا لیاگیا۔بعض دیگر علاقوں میں بھی ان گنت مسلم بچے نصرانی مشنریوں کے ہتھے چڑھ گئے ہیں۔یہ ایک المیہ اورلمحہ فکریہ ہے۔اسلامی ممالک بالخصوص تنظیم اسلامی کانفرنس پر یہ ذمہ داری عائدہوتی ہے کہ وہ یتیم اور لاوارث مسلمان بچوں کی اسلامی ماحول میں تعلیم وتربیت کے ادارے قائم کریں تاکہ مسلمانون کی اولاد نصرانیت کے دام ہمہ رنگ زمین سے بچائی جاسکے۔(محسن فارانی)]
④ اگر عورت نے ایسے مرد سے شادی کر لی جو بچے کے لیے اجنبی ہو، تو وہ حضانت کی اہل نہیں رہے گی، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أنْتِ أَحَقُّ بِهِ مَا لَمْ تَنْكِحي”
“بچے کو لینے کی حقدار تو ہی ہے جب تک تو کسی دوسرے آدمی سے شادی نہیں کرتی۔” [سنن ابی داودالطلاق،باب من احق بالولد؟حدیث2276، مسند احمد:2/182]
البتہ اگر اس نے بچے کے کسی عصبہ سے نکاح کیا ہو تو اس کا حق ساقط نہیں ہوگا۔
⑤ اگر یہ موانع دور ہو جائیں، مثلاً غلام آزاد ہو جائے، فاسق توبہ کر لے، کافر مسلمان ہو جائے، یا عورت کو طلاق ہو جائے، تو حضانت کا حق دوبارہ حاصل ہو جائے گا۔
سفر کی صورت میں حضانت
اگر والدین میں سے کوئی ایک دور سفر اختیار کرے اور مستقل رہائش کی نیت ہو، اور مقصد ضرر نہ ہو، نیز راستہ اور مقام محفوظ ہوں، تو بچہ باپ کے پاس رہے گا، خواہ باپ مسافر ہو یا مقیم، کیونکہ تربیت، نگرانی اور ادب سکھانے کی ذمہ داری اصل میں باپ پر ہے۔
اگر سفر قریب کا ہو، یعنی اتنا نہ ہو کہ قصر لازم آتی ہو، اور وہاں رہائش اختیار کرنا مقصد ہو، تو حضانت ماں کو ہوگی، کیونکہ وہ زیادہ بہتر پرورش کر سکتی ہے اور باپ کی نگرانی بھی ممکن رہے گی۔
اگر سفر عارضی ضرورت کے لیے ہو، یا راستہ خطرناک ہو، یا منزل امن کے اعتبار سے غیر محفوظ ہو، تو حضانت مقیم کو ہوگی، خواہ والد ہو یا والدہ، کیونکہ بچے کو ضرر کا اندیشہ ہے۔
امام ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اگر والد ماں کا حقِ حضانت ساقط کرنے کے لیے حیلہ کرے، مثلاً سفر اختیار کرے تاکہ بچہ اس کے ساتھ آ جائے، تو یہ شریعت کے خلاف ہے۔ [اعلام الموقعین :3/257]
اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"مَنْ فَرَّقَ بَيْنَ وَالِدَةٍ وَوَلَدِهَا فَرَّقَ اللَّهُ بَيْنَهُ وَبَيْنَ أَحِبَّتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ”
“جس نے والدہ اور اس کے بچے کے درمیان جدائی ڈالی تو اللہ تعالیٰ روز قیامت اس کے اور اس کے پیاروں کے درمیان جدائی ڈالے گا۔” [جامع الترمذی البیوع باب ماجاء فی کراھیۃ الفرق بین الاخوین اوبین الوالدۃ وولدھا فی البیع،حدیث 1283]
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ماں اور بچے کو الگ الگ فروخت کرنے سے بھی منع فرمایا ہے، تو پھر حیلہ کے ذریعے جدائی کیسے جائز ہو سکتی ہے؟ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ نے اس پر بھرپور کلام کیا ہے۔ [اعلام الموقعین 3/257،258]
بچے کا انتخاب
جب بچہ سات برس کا ہو جائے تو اسے والدین میں سے کسی ایک کے انتخاب کا حق ہوگا، کیونکہ اس عمر میں وہ سمجھدار ہوتا ہے۔ خلفائے راشدین حضرت عمر اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہما کا یہی فیصلہ تھا۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ ایک عورت نے عرض کیا کہ اس کا شوہر اس سے بچہ لینا چاہتا ہے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بچے سے فرمایا:
"هَذَا أَبُوكَ وَهَذِهِ أُمُّكَ ، فَخُذْ بِيَدِ أَيِّهِمَا شِئْتَ ” ، فَأَخَذَ بِيَدِ أُمِّهِ فَانْطَلَقَتْ بِهِ”
“(اے بچے!) یہ تیرا باپ ہے اور یہ تیری ماں ہے تو جس کا ہاتھ تھامنا چاہتا ہے تھام لے،چنانچہ اس نے ماں کاہاتھ پکڑلیا اور وہ اسے لے گئی۔” [سنن ابی داود الطلاق باب من احق بالولدحدیث 2277]
یہ اختیار اسی وقت ہوگا جب:
① والدین دونوں حضانت کے اہل ہوں۔
② بچہ سمجھدار ہو۔ اگر کم عقل ہو تو ماں کے پاس رہے گا۔
اگر بچہ باپ کو اختیار کرے تو دن رات اس کے پاس رہے گا، تاکہ باپ نگرانی اور تعلیم کر سکے، لیکن باپ اسے ماں سے ملنے سے نہ روکے۔ اگر ماں کو اختیار کرے تو رات ماں کے پاس اور دن باپ کے پاس رہے گا، تاکہ باپ تعلیم و تربیت جاری رکھ سکے۔ اگر کسی کو اختیار نہ کرے تو قرعہ اندازی ہوگی۔
جہاں تک سات سال کی لڑکی کا تعلق ہے تو وہ باپ کے پاس رہے گی یہاں تک کہ اس کی شادی ہو جائے، کیونکہ باپ اس کی حفاظت اور نگرانی زیادہ بہتر کر سکتا ہے۔ البتہ ماں کو بیٹی سے ملنے سے نہیں روکا جائے گا، بشرطیکہ اس میں کوئی خرابی نہ ہو۔ اگر باپ حفاظت سے عاجز ہو یا بے پروا ثابت ہو اور ماں زیادہ مناسب ہو تو لڑکی ماں کے پاس رہے گی۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام احمد اور ان کے اصحاب کا ظاہر مذہب یہی ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لشیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ 34/132] واللہ اعلم۔
بیوی کے نان و نفقہ کا بیان
لغت میں نفقہ سے مراد خرچ کیا جانے والا مال ہے، جیسے درہم، دینار اور ان کے مشابہ اموال۔ اور شرعی اصطلاح میں نفقہ سے مراد یہ ہے کہ جس شخص کی کفالت واجب ہو، اسے کھانا، پینا، لباس، رہائش اور ضروریاتِ زندگی مہیا کی جائیں۔
سب سے پہلے انسان پر بیوی کا نفقہ واجب ہے، یعنی اس کے لیے مناسب کھانا، پینا، لباس اور رہائش فراہم کرنا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"لِيُنْفِقْ ذُو سَعَةٍ مِنْ سَعَتِهِ "
“کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے۔” [الطلاق:7/65]
اور فرمایا:
"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ "
“اور دستور کے مطابق عورتوں کے بھی وایسے ہی حق ہیں جیسے ان پر مردوں کے ہیں۔” [البقرۃ:2/228]
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ”
“تم پر لازم ہے کہ اپنی بیویوں کو نان و نفقہ اور لباس جو مناسب ہو مہیا کرو۔” [صحیح مسلم الحج باب حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1218، سنن ابی داود المناسک باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم حدیث 1905]
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان:
"وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ ۚ "
میں بیوی کے متعلق تمام حقوق اور ذمہ داریاں داخل ہیں، اور ان کا مدار عرف پر ہے، یعنی وہ چیزیں جنہیں لوگ عام زندگی میں معروف اور ضروری سمجھتے ہیں۔ [مجموع الفتاوی لشیخ الاسلام ابن تیمیہ 17/193۔بتصرف]
اگر شوہر اور بیوی کے درمیان نفقہ میں اختلاف ہو جائے تو حاکم شوہر اور بیوی میں سے ایک یا دونوں کی مالی حیثیت کو دیکھتے ہوئے بیوی کا نفقہ مقرر کرے گا۔
اگر عورت مالدار آدمی کی بیوی ہو تو اسے اسی درجے کا نان و نفقہ، لباس، رہائش، گھریلو سامان اور فرش وغیرہ ملیں گے جو اس معاشرے میں اس جیسی عورتوں کو ملتے ہیں۔ اگر عورت غریب ہو اور شوہر بھی غریب ہو، یا دونوں درمیانے درجے کے ہوں، تو شوہر کی حیثیت کے مطابق اسے ضروریات ملیں گی۔ اور اگر عورت مالدار ہو اور شوہر غریب، یا اس کے برعکس، تو متوسط درجہ اختیار کیا جائے گا۔
خوراک، لباس اور رہائش کے ساتھ ساتھ شوہر پر یہ بھی لازم ہے کہ عورت کی جسمانی صفائی سے متعلق ضروری چیزیں، مثلاً تیل، صابن، پینے اور طہارت کے لیے پانی وغیرہ فراہم کرے۔
یہ سب اس وقت تک ہے جب عورت شوہر کے نکاح میں ہو۔ اگر شوہر نے اسے طلاق دے دی ہو، تو اگر طلاق رجعی ہے تو عدت کے دوران اس کا نفقہ اور رہائش بدستور شوہر پر واجب ہے، کیونکہ وہ ابھی بیوی ہی شمار ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَبُعُولَتُهُنَّ أَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِي ذَٰلِكَ”
“اور ان کے خاوند انھیں لوٹا لینے کے زیادہ حقدار ہیں۔” [البقرۃ:2/228]
اور اگر عورت کو طلاقِ بائن ہو گئی ہو تو اسے شوہر کی طرف سے نفقہ اور رہائش نہیں ملے گی۔ حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو جب ان کے شوہر نے طلاقِ بائن دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لاَ نَفَقَةَ لَكِ وَلاَ سُكْنَى”
“تجھے نہ نفقہ ملے گا اور نہ رہائش۔” [صحیح البخاری الطلاق باب فصہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا حدیث 5323۔5324، صحیح مسلم الطلاق باب المطلقۃ البائن لا نفقہ لہا حدیث 1480 واللفظ لہ]
علامہ ابن قیم رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ یہی صحیح حدیث، کتاب اللہ اور قیاس کے مطابق ہے، اور فقہائے محدثین کا بھی یہی مذہب ہے۔ [اعلام الموقعین 3/321]
البتہ اگر مطلقہ بائنہ حاملہ ہو تو اسے نفقہ ملے گا، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَإِنْ كُنَّ أُولَاتِ حَمْلٍ فَأَنْفِقُوا عَلَيْهِنَّ حَتَّىٰ يَضَعْنَ حَمْلَهُنَّ”
“اگر وہ حمل سے ہوں تو جب تک وضع حمل نہ ہو۔انھیں خرچ دیتے رہا کرو۔” [الطلاق:5۔65]
اور فرمایا:
"أَسْكِنُوهُنَّ مِنْ حَيْثُ سَكَنتُم مِّن وُجْدِكُمْ "
“تم اپنی طاقت کے مطابق جہاں رہتے ہو وہاں ان عورتوں کو بھی رکھو۔” [الطلاق 6/65]
اور حضرت فاطمہ بنت قیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی روایت میں ہے:
"لَا نَفَقَةَ لَكِ ، إِلَّا أَنْ تَكُونِي حَامِلًا "
“تیرے لیے کوئی نفقہ نہیں البتہ اگر تو حاملہ ہوتی تو تجھے نفقہ ضرور ملتا۔” [سنن ابی داود الطلاق باب فی نفقہ المبتوتۃ حدیث 2290]
اس کی وجہ یہ ہے کہ حمل شوہر کی اولاد ہے، اور اولاد کا نفقہ باپ پر واجب ہے، جو اس کی ماں پر خرچ کرنے ہی سے ادا ہوگا۔ ابن قدامہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس پر اہل علم کا اجماع ہے، اختلاف صرف یہ ہے کہ یہ نفقہ حمل کا حق ہے یا حمل کی وجہ سے حاملہ کا۔ [المغنی والشرح الکبیر 9/292]
وہ صورتیں جن میں بیوی نفقے سے محروم ہوتی ہے
① جب عورت کو شوہر کے پاس جانے سے روک دیا جائے، تو اس کا نفقہ شوہر کے ذمہ نہیں، کیونکہ جس فائدے کے بدلے نفقہ تھا وہ حاصل نہیں ہو رہا۔
② جب عورت ناشزہ ہو جائے، مثلاً شوہر کے بستر پر نہ آئے، یا شوہر کے ساتھ مناسب رہائش اختیار نہ کرے، یا اس کی اجازت کے بغیر گھر سے نکلتی رہے، تو اس کا حقِ نفقہ ساقط ہو جاتا ہے۔
③ اگر عورت اپنے ذاتی کام کے لیے سفر پر چلی جائے، تو بھی نفقہ نہیں ملے گا، کیونکہ اس نے اپنے آپ کو ایسی وجہ سے شوہر سے دور کیا ہے جو اس کی اپنی طرف سے ہے۔
اگر شوہر فوت ہو جائے تو عورت کو شوہر کے ترکے سے نفقہ نہیں ملے گا، کیونکہ مال ورثاء کی ملکیت میں منتقل ہو چکا ہے۔ اب وہ اپنے اخراجات خود برداشت کرے گی، یا محتاج ہونے کی صورت میں اس کا ولی اسے خرچ دے گا۔
البتہ اگر عورت حاملہ ہو اور شوہر فوت ہو جائے تو حمل کے حصے کے اعتبار سے اسے نفقہ ملے گا، بشرطیکہ شوہر نے مال چھوڑا ہو، ورنہ حمل کا مالدار وارث یہ خرچ برداشت کرے گا۔
اگر شوہر اور بیوی نفقہ کی ایک خاص مقدار یا قیمت پر صلح کر لیں، یا نقد، ادھار، کم یا زیادہ مدت پر رضا مند ہو جائیں، تو یہ جائز ہے، کیونکہ یہ ان کا باہمی حق ہے۔ لیکن اگر اختلاف ہو تو ہر دن کی ضرورت کا خرچ صبح کے وقت دے دیا جائے۔ اگر اناج کی صورت میں دینے پر راضی ہوں تو یہ بھی جائز ہے۔
شوہر پر لازم ہے کہ سال کے شروع میں ہی پورے سال کے لباس کا انتظام کرے۔
اگر شوہر غائب ہو جائے اور بیوی کے لیے کچھ نہ چھوڑے، یا موجود ہو مگر نفقہ نہ دے، تو گزرے ہوئے تمام دنوں کا خرچ اس کے ذمہ لازم رہے گا، خواہ وہ امیر ہو یا فقیر، کیونکہ یہ اس کے ذمہ ایک واجب حق ہے اور وقت گزرنے سے ساقط نہیں ہوتا۔
شوہر پر بیوی کا نفقہ اس وقت سے واجب ہو جاتا ہے جب عورت اپنے آپ کو اس کے سپرد کر دے۔ اگر شوہر نفقہ دینے کی قدرت نہ رکھتا ہو تو عورت کو فسخِ نکاح کا حق حاصل ہوگا، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں فرمایا جو بیوی کو نفقہ نہیں دے سکتا:
"يفرق بينهما”
“ان میں تفریق کر دی جائے۔” [السنن الکبر للبیہقی 7/469۔470]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُوفٍ أَوْ تَسْرِيحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ "
“ یا تو اچھائی سے روکنا یا عمدگی کے ساتھ چھوڑدینا ہے۔” [البقرۃ:2/229]
بیوی کو اپنے پاس روک کر نفقہ نہ دینا “امساک بمعروف” میں داخل نہیں۔
اگر شوہر امیر ہو لیکن غائب ہو جائے، اور بیوی کے لیے نفقہ نہ چھوڑے، اور نہ بیوی کو اس کے مال سے لینے یا اس کے نام پر قرض لینے کی قدرت ہو، تو حاکم کی اجازت سے اسے فسخِ نکاح کا حق ہوگا۔ اور اگر اس کے ہاتھ شوہر کا مال لگ جائے تو وہ اپنی ضرورت کے مطابق لے سکتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ "
“جس قدر تجھے اور تیری اولاد کو مال کفایت کرے اس قدر مناسب طریق سے لے سکتی ہو۔” [صحیح البخاری النفقات باب اذالم ینفق الرجل حدیث 5364]
یہ تمام احکام شریعتِ اسلامیہ کے کمال پر دلالت کرتے ہیں کہ وہ ہر حق دار کو اس کا حق دینے کی تعلیم دیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ شریعت دوسری تمام شریعتوں سے بلند ہے۔ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو سزا دے جو اس کو چھوڑ کر جاہلی قوانین اختیار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"أَفَحُكْمَ الْجَاهِلِيَّةِ يَبْغُونَ ۚ وَمَنْ أَحْسَنُ مِنَ اللَّهِ حُكْمًا لِّقَوْمٍ يُوقِنُونَ "
“کیا یہ لوگ پھر جاہلیت کا فیصلہ چاہتے ہیں یقین رکھنے والے لوگوں کے لیے اللہ سے بہتر فیصلے اور حکم کرنے والا کون ہو سکتا ہے۔” [المائدہ:5/50]
اقرباء اور غلاموں کو نان و نفقہ دینے کا بیان
یہاں اقرباء سے مراد وہ قریبی رشتے دار ہیں جو صاحبِ فرض یا عصبہ کی حیثیت سے وارث ہوتے ہیں، اور مملوک سے مراد غلام، لونڈی اور جانور وغیرہ ہیں۔
اقرباء پر خرچ اس وقت واجب ہوتا ہے جب یہ شرطیں پائی جائیں:
① وہ اصل یا فرع ہوں، مثلاً والدین، دادا، پردادا، اولاد، پوتے، پوتیاں وغیرہ۔
② جس پر خرچ کیا جا رہا ہو وہ فقیر ہو، یا بقدرِ کفایت مال نہ رکھتا ہو، اور کمانے کی قدرت بھی نہ رکھتا ہو۔
③ خرچ کرنے والا مالدار ہو، یعنی اپنے اور اپنے اہل و عیال اور مملوک کی ضرورت سے زائد مال رکھتا ہو۔
④ دونوں کا دین ایک ہو۔
⑤ اگر وہ نہ اولاد میں سے ہو اور نہ آباء میں سے، تو ایک اضافی شرط یہ ہے کہ خرچ کرنے والا اس کا وارث بھی ہو۔
والدین پر بقدرِ ضرورت خرچ کرنا واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَبِالْوَالِدَيْنِ إِحْسَانًا ۚ "
“اور ماں باپ کے ساتھ احسان کرو۔” [الانعام16۔15]
والدین پر خرچ کرنا حسنِ سلوک میں داخل ہے، بلکہ بہت بڑا احسان ہے۔
اسی طرح والدین پر بھی اپنی اولاد پر خرچ کرنا لازم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ”
“اور باپ کے ذمے ہے کہ ان (کی ماؤں) کو دستور کے مطابق کھانا اور کپڑا دے۔” [البقرۃ:2/233]
والدین کے ذمہ اولاد کا خرچ ان کی استطاعت اور عرف کے مطابق ہے، نہ فضول خرچی ہو نہ بخل۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:
"خُذِي مَا يَكْفِيكِ وَوَلَدَكِ بِالْمَعْرُوفِ "
“خاوند کے مال میں سے اس قدر لے سکتی ہو جو تجھے اور تیری اولاد کے لیے مناسب اور کافی ہو۔” [صحیح البخاری النفقات باب اذا لم ینفق الرجل حدیث۔5364]
جس شخص کے قریبی رشتے دار، جن کا وہ وارث بنتا ہے، فقیر ہوں، تو بقدرِ استطاعت ان کی ضروریات پوری کرنا اس پر فرض ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ ۗ "
“وارث پر بھی اس جیسی ذمے داری ہے” [البقرۃ:2/233]
اس میں صلہ رحمی بھی ہے، جس کی اسلام میں بڑی تاکید ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَآتِ ذَا الْقُرْبَىٰ حَقَّهُ”
“اور رشتے داروں کا حق ادا کرتے رہو۔” [بنی اسرائیل:26۔17]
ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ میرے حسنِ سلوک کا سب سے زیادہ حق دار کون ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أُمَّكَ وَأَبَاكَ, وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ "
“تیری والدہ تیرا والد ، تیری بہن اور تیرا بھائی۔” [سنن ابی داؤد الادب باب فی یر الوالدین حدیث 5140]
اور فرمایا:
"وَابْدَأْ بِمَنْ تَعُولُ: أُمَّكَ وَأَبَاكَ, وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ, ثُمَّ أَدْنَاكَ أَدْنَاكَ”
“اس سے ابتدا کر جس نان و نفقہ تیرے ذمے ہے یعنی تیری والدہ تیرا والد ،تیری بہن اور تیرا بھائی ،پھر اس کے بعد کے قریبی رشتے دار کو دو۔” [سنن النسائی ازکاۃ باب ایتہا الید العلیا حدیث 2533]
والد پر لازم ہے کہ وہ اکیلا اپنی اولاد کا پورا خرچ برداشت کرے۔ یہی سیدہ ہند رضی اللہ تعالیٰ عنہا والی حدیث اور آیت:
"وَعَلَى الْمَوْلُودِ لَهُ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ”
سے واضح ہوتا ہے۔ [البقرۃ:2/233]
اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"فَإِنْ أَرْضَعْنَ لَكُمْ فَآتُوهُنَّ أُجُورَهُنَّ ۖ "
“اگر تمھارے کہنے سے وہی دودھ پلائیں تو تم ان کو ان کی اجرت دے دو۔” [الطلاق:65۔6]
اس سے ظاہر ہے کہ بچے کی رضاعت کا خرچ بھی باپ کے ذمے ہے، ماں کے نہیں۔
اگر کسی فقیر کے متعدد مالدار رشتے دار ہوں اور ان میں باپ نہ ہو، تو سب اس پر اس تناسب سے خرچ کریں گے جس تناسب سے وہ اس کے وارث بنتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَعَلَى الْوَارِثِ مِثْلُ ذَٰلِكَ”
“وارث پر بھی اس جیسی ذمے داری ہے” [البقرۃ:2/233]
مثلاً اگر کسی شخص کی دادی اور سگا بھائی مالدار ہوں تو دادی چھٹا حصہ اور بھائی باقی حصہ ادا کرے گا، کیونکہ وراثت میں بھی یہی تناسب ہے۔
جہاں تک غلاموں، لونڈیوں اور جانوروں کے نفقہ اور لباس وغیرہ کا تعلق ہے، تو یہ سب ان کے مالک کے ذمہ ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"لِلْمَمْلُوكِ طَعَامُهُ وَكِسْوَتُهُ بِالْمَعْرُوفِ , وَلا يُكَلَّفُ مِنَ الْعَمَلِ مَا لا يُطِيقُ "
“مملوک کا کھانا اور اس کا لباس وغیرہ اس کے مالک کے ذمے ہے جو معروف طریقے سے ہواور اس پر اس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہ ڈالا جائے۔” [صحیح مسلم الایمان باب طعام المملوک مما یاکل حدیث1662، مسند احمد 2/247 واللفظ لہ]
اور سیدنا ابو ذر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی روایت میں ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"إِخْوَانُكُمْ خَوَلُكُمْ جَعَلَهُمُ اللَّهُ تَحْتَ أَيْدِيكُمْ، فَمَنْ كَانَ أَخُوهُ تَحْتَ يَدِهِ فَلْيُطْعِمْهُ مِمَّا يَأْكُلُ، وَلْيُلْبِسْهُ مِمَّا يَلْبَسُ، وَلاَ تُكَلِّفُوهُمْ مَا يَغْلِبُهُمْ، "
“تمھارے خدام تمھارے بھائی ہیں انھیں اللہ تعالیٰ نے تمھارے ماتحت کیا ہے اگر تمھارا کوئی بھائی تمھارے ماتحت ہو تو اسے وہ کچھ کھلاؤ جو خود کھاؤ اور ویسا ہی لباس پہناؤ جیسا خود پہنو اور انھیں ایسے کاموں کی تکلیف نہ دو جن کا سرانجام دینا ان کی طاقت سے بڑھ کر ہو۔” [صحیح البخاری الایمان باب المعاصی من امر الجاھلیہ حدیث 30]
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"قَدْ عَلِمْنَا مَا فَرَضْنَا عَلَيْهِمْ فِي أَزْوَاجِهِمْ وَمَا مَلَكَتْ أَيْمَانُهُمْ”
“ہم اسے بخوبی جانتے ہیں جو ہم نے ان پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں (احکام) مقرر کر رکھے ہیں۔” [الاحزاب33۔50]
اگر غلام نکاح کا مطالبہ کرے تو مالک کو چاہیے کہ اس کی شادی کرے یا اسے فروخت کر دے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:
"وَأَنكِحُوا الأَيَامَى مِنْكُمْ وَالصَّالِحِينَ مِنْ عِبَادِكُمْ وَإِمَائِكُمْ”
“تم میں سے جو مرد و عورت بے نکاح کے ہوں ان کا نکاح کر دو اور اپنے نیکو کار غلام اور لونڈیوں کا بھی۔” [النور:24۔32]
اور اگر لونڈی بھی اپنی فطری ضرورت کی بنا پر ایسا مطالبہ کرے تو مالک کو اختیار ہے کہ یا خود اس سے وطی کرے، یا اس کی شادی کر دے، یا اسے فروخت کر دے۔
جو شخص کسی جانور کا مالک ہو، اس پر لازم ہے کہ اسے چارہ اور پانی دے، اور اس کی جملہ ضروریات کا لحاظ رکھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"عُذِّبَتِ امْرَأَةٌ فِي هِرَّةٍ سَجَنَتْهَا حَتَّى مَاتَتْ فَدَخَلَتْ فِيهَا النَّارَ، لَا هِيَ أَطْعَمَتْهَا وَسَقَتْهَا، إِذْ حَبَسَتْهَا، وَلَا هِيَ تَرَكَتْهَا تَأْكُلُ مِنْ خَشَاشِ الْأَرْضِ”
“ایک عورت کو اس لیے عذاب دیا گیا کہ اس نے بلی کو باندھ کر رکھا حتی کہ وہ بھوک سے مر گئی نہ اس نے اسے کچھ کھلایا اور نہ اسے چھوڑا کہ وہ خود زمین کے کیڑے مکوڑے کھاپی لیتی۔” [صحیح البخاری المساقاۃ باب فصل سقی الماء حدیث 2364۔2365، صحیح مسلم السلام باب تحریم قتل الھرۃ حدیث 2242، منار السبیل حدیث 2182 واللفظ لہ]
جب بلی کو تکلیف دینے پر جہنم کی وعید ہے تو دوسرے جانوروں کے بارے میں بدرجہ اولیٰ ہوگی۔
مالک کو چاہیے کہ جانور پر اس کی طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالے، کیونکہ یہ بھی ظلم اور ایذا ہے، اور شریعت میں بلاوجہ تکلیف دینا جائز نہیں۔
اسی طرح جانور کا دودھ اس قدر نہ دوہے کہ اس کے بچے کو ضرر پہنچے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
” لا ضرر ولا ضرار "
“نہ تکلیف اٹھاؤ اور نہ تکلیف پہنچاؤ۔” [سنن ابن ماجہ الاحکام باب من بنی فی حقہ مایضر بجارہ حدیث 2340]
جانور پر لعنت کرنا، اس کے چہرے پر مارنا یا چہرے کو داغنا حرام ہے۔ اور اگر مالک جانور کی ضروریات پوری کرنے سے عاجز ہو جائے تو اسے مجبور کیا جائے گا کہ اسے فروخت کرے، یا کرائے پر دے، یا اگر اس کا گوشت کھایا جاتا ہو تو ذبح کرے، کیونکہ اپنی ملکیت میں رکھ کر اسے بھوکا پیاسا رکھنا ظلم ہے، اور ظلم کا خاتمہ ضروری ہے۔