خطبۂ جمعہ عربی کے علاوہ علاقائی زبان میں دینے کا بیان

یہ اقتباس مکتبہ دارالاندلس کی جانب سے شائع کردہ کتاب صحیح نماز نبویﷺ سے ماخوذ ہے جو الشیخ عبدالرحمٰن عزیز کی تالیف ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خطبہ دینے کے آداب

جمعہ کے دو خطبے :

❀ جمعہ کے دو خطبے ہوتے ہیں، دونوں کے درمیان تھوڑی دیر بیٹھنا چاہیے۔ جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
كانت للنبي صلى الله عليه وسلم خطبتان يجلس بينهما
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو خطبے دیتے تھے اور دونوں کے درمیان بیٹھتے تھے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيها من الجلسة : 862]

خطبہ کھڑے ہو کر دینا چاہیے :

❀ ایک مرتبہ دوران خطبہ میں شام سے تاجروں کا ایک قافلہ آیا تو لوگ اس کی طرف چلے گئے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا
(62-الجمعة:11)
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب في قوله تعالى ….. الخ : 863 ]
❀ سیدنا جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان يخطب قائما ، ثم يجلس ، ثم يقوم فيخطب قائما ، فمن نبأك أنه كان يخطب جالسا فقد كذب ، فقد والله صليت معه أكثر من ألفي صلاة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہو کر خطبہ (جمعہ ) دیتے تھے، پھر بیٹھ جاتے ، پھر کھڑے ہو کر (دوسرا) خطبہ دیتے ، لہذا جو شخص تجھے یہ کہے کہ آپ بیٹھ کر خطبہ جمعہ دیتے تھے ، تو بلاشبہ اس نے جھوٹ بولا، اللہ کی قسم ! میں نے آپ کے ساتھ دو ہزار سے زیادہ نمازیں ادا کی ہیں۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيها من الجلسة : 862/35]
❀ شرعی عذر کے بغیر بیٹھ کر خطبہ دینا جائز نہیں۔ کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ نے بیٹھ کر خطبہ دینے والے کے متعلق فرمایا :
انظروا إلى هذا الخبيث يخطب قاعدا
”اس خبیث کو دیکھو، بیٹھ کر خطبہ دے رہا ہے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب في قول الله تعالى ……. الخ : 864 ]
❀ جمعہ وعیدین کے علاوہ عام وعظ بیٹھ کر کرنا جائز ہے۔ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے منبر پر بیٹھ کر ہمیں خطبہ دیا اور ہم آپ کے ارد گرد بیٹھے ہوئے تھے۔
[ بخاري كتاب الجمعة، باب استقبال الناس الإمام إذا خطب : 921 – مسلم : 1051/123]
❀ منبر بننے کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر خطبہ جمعہ دیا کرتے تھے۔
[ بخاری : 919 ]

خطبہ کے دوران میں ٹیک لگانا :

❀ خطبہ میں عصا و لاٹھی وغیرہ پر ٹیک لگانا مسنون ہے۔ سیدنا حکم بن حزن الکلبی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کئی دن رہے، اس دوران میں جمعہ کے لیے بھی حاضر ہوئے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم (خطبہ کے لیے ) لاٹھی پر ٹیک لگائے ہوئے کھڑے ہوئے۔“
[ أبو داؤد، كتاب الصلاة، باب الرجل يخطب على القوس : 1096 – حسن ]

خطیب کے اوصاف :

❀ سیدنا جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ ارشاد فرماتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہو جاتیں، آواز بلند ہو جاتی اور آپ جوش میں آ جاتے تھے۔ گویا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کسی ایسے لشکر سے ڈرا رہے ہیں جو صبح یا شام ہم پر حملہ کرنے والا ہے۔
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة : 867]

خطبہ جمعہ کے اوصاف :

❀ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وعظ سے پہلے مندرجہ ذیل خطبہ پڑھتے تھے:
إِنَّ الْحَمْدَ لِلَّهِ، نَحْمَدُهُ وَنَسْتَعِينُهُ، مَنْ يَهْدِهِ اللَّهُ فَلَا مُضِلَّ لَهُ، وَمَنْ يُضْلِلْهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، أَمَّا بَعْدُ، فَإِنَّ خَيْرَ الْحَدِيثِ كِتَابُ اللَّهِ، وَخَيْرَ الْهَدْيِ هَدْيُ مُحَمَّدٍ ، وَشَرَّ الْأُمُورِ مُحْدَثَاتُهَا، وَكُلَّ مُحْدَثَةٍ بِدْعَةٌ، وَكُلَّ بِدْعَةٍ ضَلَالَةٌ، وَكُلَّ ضَلَالَةٍ فِي النَّارِ
”بلاشبہ تمام تعریفیں اللہ تعالی کے لیے ہیں ، ہم اس کی حمد بیان کرتے ہیں اور اسی سے مدد طلب کرتے ہیں۔ جسے اللہ تعالیٰ ہدایت دے اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں اور جسے وہ گمراہ کر دے اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے۔ میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں۔ حمد وثنا کے بعد ! یقیناً بہترین بات اللہ تعالیٰ کی کتاب ہے اور یقیناً بہترین راہنمائی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا طریقہ ہے اور تمام کاموں میں سے بدترین کام وہ ہیں جو ( اللہ کے دین میں ) اپنی طرف سے نکالے جائیں، دین میں ہر نیا کام بدعت ہے اور ہر بدعت گمراہی ہے اور ہر گمراہی کا انجام جہنم کی آگ ہے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة : 867 868 – نسائی : 1579 ]
❀ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ کے آخر میں یہ الفاظ کہتے تھے:
أقول هذا وأستغفر الله لي ولكم
”میں نے یہی کہنا تھا، اب میں اپنے لیے اور تمھارے لیے اللہ تعالیٰ سے بخشش طلب کرتا ہوں۔“
[ ابن حبان : 3828 – إسناده صحيح ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ میں قرآن مجید پڑھتے اور لوگوں کو نصیحت کرتے تھے۔
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب ذكر الخطبتين قبل الصلاة وما فيها من الجلسة : 862]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا خطبہ بھی درمیانہ ہوتا تھا اور نماز بھی درمیانی ہوتی تھی۔
[ مسلم كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة : 866 ]
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مختصر نماز اور مختصر خطبہ آدمی کی سمجھداری کی دلیل ہے۔
[ مسلم كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة : 869]
عمارہ بن رویبہ رضی اللہ عنہ نے بشر بن مروان کو منبر پر خطبہ کے دوران میں دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے دیکھا تو فرمایا : ”اللہ تعالیٰ ان دونوں ہاتھوں کو تباہ کرے، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خطبہ دیتے ہوئے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف شہادت والی انگلی سے اشارہ کرتے تھے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب تخفيف الصلاة والخطبة : 874 ]

غیر عربی میں خطبہ جمعہ :

خطبہ مسنونہ کے علاوہ دینی احکام سامعین کی مروج زبان میں بتانے چاہییں ۔ بعض لوگوں نے یہ شرط لگائی ہے کہ جمعہ کا خطبہ لازمی طور پر عربی زبان میں ہونا چاہیے۔ یہ شرط خطبہ کے مقصد سے متصادم ہے۔ خطبہ کا مقصد وعظ و نصیحت کرنا اور لوگوں کی تربیت کرنا ہے، اسی لیے قرآن مجید میں خطبہ کو ذکر کہا گیا ہے۔ فرمان رب العالمین ہے:
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نُودِيَ لِلصَّلَاةِ مِن يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا إِلَىٰ ذِكْرِ اللَّهِ
(62-الجمعة:9)
”اے اہل ایمان! جب جمعہ کے دن نماز (جمعہ ) کے لیے اذان دی جائے تو اللہ کے ذکر (خطبہ و نماز ) کی طرف دوڑ پڑو۔“
اس آیت مبارکہ میں خطبہ کو تذکیر و نصیحت کا نام دیا گیا ہے اور وعظ ونصیحت تبھی ہو سکتی ہے جب سامعین خطیب کی بات سمجھیں۔ اسی لیے تمام انبیائے کرام کسی قوم کی طرف مبعوث کیا گیا، ان کی زبان میں بھیجا گیا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:
وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِيُبَيِّنَ لَهُمْ
(14-إبراهيم:4)
”ہم نے جو بھی رسول بھیجا اس کی قوم کی زبان میں بھیجا، تا کہ وہ انھیں (احکام الہی ، کھول کھول کر بتائے۔“
اس کے علاوہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دوسری اقوام کو ان کی زبان میں دعوت دیتے تھے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو عبرانی سیکھنے کا حکم دیا اور سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ فارسی جانتے تھے اور فارسی زبان والوں کو فارسی ہی میں مسائل سمجھاتے تھے ۔
[ أبو داود، كتاب الطلاق، باب من أحق بالولد : 2277 – صحیح ]
❀ اور سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما غیر عربوں کو مترجم کے ذریعے مسائل سمجھاتے تھے۔
[ بخارى، كتاب الأحكام، باب ترجمة الحكام …… الخ : 7195]
انبیائے کرام کو ان کی قوم کی زبان میں بھیجنے کا مقصد لوگوں کو احکام الہی سمجھانا تھا اور بالکل یہی مقصد خطبہ جمعہ کا ہے۔ اب اگر خطبہ ایسی زبان میں ہو جسے سامعین سمجھ ہی نہیں سکتے تو کیا اس سے لوگوں کی تربیت ہو سکے گی ؟ باقی رہی یہ بات کہ قرون اولیٰ سے کوئی ثبوت نہیں ملتا کہ کہیں غیر عربی زبان میں خطبہ دیا گیا ہو تو اس کا سبب یہ ہے کہ قرون اولی میں اس کی ضرورت ہی محسوس نہیں ہوئی۔ مزید یہ کہ احناف کے ہاں بھی خطبہ کے لیے عربی زبان ضروری نہیں، فتاوی شامی میں ہے : مصنف نے خطبہ کے عربی میں ہونے کی قید نہیں لگائی، کیونکہ باب صفۃ الصلوة“ میں گزر چکا ہے کہ امام ابو حنیفہ کے نزدیک یہ شرط نہیں ، خواہ سامعین عربی پر قادر ہی ہوں، بر خلاف صاحبین کے، کیونکہ ان کے نزدیک عربی میں ہونا شرط ہے، مگر کوئی عربی سے عاجز ہو تو پھر ان کے نزدیک بھی غیر عربی میں جائز ہے ۔
[ فتاوی شامی : 543/1 ]

خطبہ جمعہ سے پہلے مروجہ تقریر :

جن لوگوں نے غیر عربی زبان میں خطبہ ممنوع قرار دیا، جب انھوں نے دیکھا کہ اس سے خطبہ کا مقصد ہی پورا نہیں ہو رہا تو انھوں نے غیر عربی زبان میں جمعہ کا خطبہ دینے کی بجائے خطبہ سے پہلے تقریر کے نام سے ایک تیسرے خطبہ کی بدعت جاری کر لی، جو سراسر اسلام میں اضافہ ہے، بلکہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صریحاً خلاف ہے، سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم نهى عن التحلق قبل الصلاة يوم الجمعة
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ جمعہ سے پہلے مجلس قائم کرنے سے منع فرمایا ہے۔“
[ أبو داود، كتاب الجمعة، باب التحلق يوم الجمعة قبل الصلاة : 1079 – ترمذی : 522 – حسن ]

خطبہ منقطع کرنا :

❀ کسی ضرورت سے امام بیچ میں خطبہ چھوڑ سکتا ہے۔ سیدنا ابو رفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ خطبہ دے رہے تھے ، میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول ! میں اجنبی آدمی ہوں، آپ کے پاس دین کے متعلق سوالات پوچھنے آیا ہوں، کیونکہ میں دین کے متعلق نہیں جانتا ۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری طرف متوجہ ہوئے اور خطبہ چھوڑ کر میرے پاس آگئے ، پھر ایک لوہے کی کرسی لا کر میرے پاس رکھ دی گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بیٹھ کر مجھے وہ تعلیم دینے لگے جو اللہ تعالیٰ نے آپ کو سکھائی تھی ، پھر واپس جا کر آپ نے باقی خطبہ دیا ۔
[ مسلم، کتاب الجمعة، باب حديث التعليم في الخطبة : 876]

خطبہ میں دعا کرنا :

❀ کسی ضرورت کے پیش نظر خطبہ میں دعا کی جا سکتی ہے، جیسا کہ ایک شخص نے دوران خطبہ میں بارش کی دعا کرنے کی درخواست کی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی وقت دعا کر دی۔
[ بخاری، كتاب الجمعة، باب الاستسقاء في الخطبة يوم الجمعة : 933]

نماز جمعہ کی رکعات :

❀ جمعہ میں فرض نماز دو رکعت ہے۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں :
صلاة الجمعة ركعتان على لسان محمد صلى الله عليه وسلم
”محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے جمعہ کی دو رکعات فرض کی گئی ہیں۔“
[ نسائی، کتاب الجمعة، باب عدد صلاة الجمعة : 1421 – ابن ماجه : 1063 – صحيح ]
نماز جمعہ میں قراءت بلند آواز سے کی جائے گی۔ سیدنا ابن ابی رافع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں جمعہ کی نماز پڑھائی ، پہلی رکعت میں سورہ جمعہ پڑھی، اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون پڑھی، پھر فرمایا : ”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جمعہ کی نماز میں یہی دونوں سورتیں پڑھتے ہوئے سنا ہے۔“
[ مسلم، کتاب الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة : 877]
نماز جمعہ کی پہلی رکعت میں سورہ جمعہ اور دوسری رکعت میں سورہ منافقون کی قراءت مستحب ہے، اسی طرح پہلی رکعت میں سورۃ اعلیٰ اور دوسری رکعت میں سورہ غاشیہ کی قراءت بھی مسنون ہے۔
[ مسلم، کتاب الجمعة، باب ما يقرأ في صلاة الجمعة : 878]

فرضوں سے پہلے نوافل :

❀ خطبہ سے پہلے نوافل کی تعداد مقرر نہیں، کوئی جتنے چاہے پڑھ لے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بغیر تعداد مقرر کیے فرمایا:
من اغتسل ، ثم أتى الجمعة ، فصلى ما قدر له
”جو غسل کرے، پھر جمعہ کے لیے آئے اور جتنی مقدر ہو نماز پڑھے۔“
[ مسلم، کتاب الجمعة، باب فضل من استمع و أنصت في الخطبة : 857 ]
خطبہ شروع ہو جائے تو صرف دو مختصری رکعات پڑھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا جاء أحدكم يوم الجمعة ، والإمام يخطب ، فليركع ركعتين وليتحر فيهما
”جب تم میں سے کوئی جمعہ کے دن آئے اور امام خطبہ دے رہا ہو تو وہ (بیٹھنے سے پہلے لازمی طور پر مختصری دو رکعات ادا کر لے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب التحية والإمام يخطب : 875/59 ]

فرضوں کے بعد سنن :

نماز جمعہ کے بعد دو رکعات بھی ثابت ہیں اور چار رکعات بھی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا صلى أحدكم الجمعة فليصل بعدها أربعا
”جب تم میں سے کوئی نماز جمعہ ادا کرے تو وہ اس کے بعد چار رکعات پڑھے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة : 881]
عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہم جمعہ کے بعد دو رکعات اپنے گھر میں ادا کرتے تھے۔“
[ مسلم، كتاب الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة : 882/71 ]
جمعہ کے بعد والی سنن گھر میں ادا کرنا افضل ہے۔
[ مسلم : 882]
فرضوں کے فوراً بعد اسی جگہ سنن ادا نہ کریں۔ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم (نفل نماز کو ) فرض نماز کے ساتھ نہ جوڑیں، بلکہ اذکار باتیں کر کے فرق کر لیں یا جگہ تبدیل کر لیں ۔“
[ مسلم، کتاب الجمعة، باب الصلاة بعد الجمعة : 883 ]

جمعہ کس کو حاصل ہوگا ؟ :

جس شخص نے نماز جمعہ کی ایک رکعت مکمل پالی، اس نے جمعہ پا لیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أدرك ركعة من الجمعة فليصل إليها أخرى
”جس نے نماز جمعہ کی ایک رکعت پالی ( اس نے نماز جمعہ پالیا ) لہذا اسے اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کر لینی چاہیے۔“
[ ابن ماجه، كتاب إقامة الصلوات، باب ما جاء فيمن أدرك من الجمعة ركعة : 1121، 1123 – الدارقطني : 12/2، ح : 1590 – صحیح ]
جو کسی وجہ سے جمعہ ادا نہ کر سکے اسے ظہر کی مکمل نماز پڑھنی چاہیے۔ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں:
إذا أدركت ركعة فأضف إليها أخرى
”اگر تم جمعہ کی ایک رکعت پا لو تو اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لو ۔“
[ مصنف ابن أبي شيبة : ح : 5346 – إسناده صحيح ]
اور اگر کسی شخص کی دوسری رکعت بھی فوت ہو گئی اور وہ رکوع ، سجدہ یا تشہد میں ملا تو اسے صحیح قول کے مطابق جمعہ کی بجائے ظہر کی چار رکعات ادا کرنی چاہییں ۔
❀ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں :
إذا أدرك الرجل يوم الجمعة ركعة صلى إليها ركعة أخرى فإن وجدهم جلوسا صلى أربعا
”جب آدمی جمعہ والے دن ایک رکعت پالے تو وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ادا کرے لیکن اگر وہ لوگوں کو جلسہ کی حالت میں پائے تو چار رکعات (نماز ظہر ) ادا کر لے“
[ مصنف عبد الرزاق : 234/3، ح : 5471 – المحلى لابن حزم : 285/3 – بيهقي : 204/3 – الأوسط لابن المنذر : 101/4 – مصنف ابن أبي شيبة : 5334 ]
❀ اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
”جس آدمی نے جمعہ کی ایک رکعت پالی وہ اس کے ساتھ دوسری رکعت ملا لے اور جس کی دونوں رکعتیں فوت ہو جائیں وہ چار رکعات (نماز ظہر ) ادا کرے۔“
[ مجمع الزوائد، کتاب الصلاة، باب فيمن أدرك من الجمعة ركعة : 420/2 ، ح : 3171 – امام بیشمی بیٹے نے اسے حسن کہا ہے ]
مزید تفصیل کے لیے دیکھیں احکام و مسائل (290، 291) از اشیخ ابوالحسن مبشر احمد دلوی زبانی ۔

جمعہ کے ساتھ احتیاطی ظہر بدعت ہے :

جن جگہوں میں فقہ حنفی کے مطابق جمعہ کی شروط پوری نہیں ہوتیں، وہاں حنفی علماء لوگوں کو نماز جمعہ پڑھنے کے بعد ظہر کی نماز بھی احتیاطاً پڑھنے کا حکم دیتے ہیں کہ نا معلوم جمعہ ہوا ہے یا نہیں۔ یہ طریقہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام یا تابعین عظام میں سے کسی سے بھی ثابت نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ نماز جمعہ نقل ہوئی ، تو کیا جمعہ کی دو اذانیں، خطبہ اور اس کے لیے اس قدر اہتمام سب کچھ فضول ہے؟ اس کی نظیر شریعت میں کہیں نہیں ملتی اور یہ پیچیدہ صورتحال اس لیے پیدا ہوئی کہ کسی شرعی نص کے بغیر نماز جمعہ کے لیے مختلف شرطیں عائد کر دی گئیں۔ لہذا نماز جمعہ کے ساتھ ظہر کی نماز پڑھنا بدعت ہے۔

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

سوشل میڈیا پر یہ مضمون فیچرڈ امیج کے ساتھ شئیر کرنے کے لیے یہ تصویر محفوظ کریں ⬇️

خطبۂ جمعہ دینے کے آداب اور نمازِ جمعہ کے مسائل صحیح احادیث کی روشنی میں