خطبہ عید کے احکام و آداب صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ محمد فاروق کی کتاب عیدین کے مسائل سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خطبہ عید کے احکام و آداب

خطبہ عید نماز عید کے بعد مسنون ہے :

خطبہ عید کا محل نماز عید کے بعد ہے۔ یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مستقل عمل رہا ہے اس مسئلہ کی مفصل بحث اس عنوان ”نماز عید خطبہ عید سے قبل مسنون ہے“ کے تحت بیان ہوئی ہے۔

مزید دلیل :

❀ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
كان النبى صلى الله عليه وسلم يخرج يوم الفطر والأضحى إلى المصلى فأول شيء يبدأ به الصلاة ثم ينصرف فيقوم مقابل الناس والناس جلوس على صفوفهم فيعظهم ويوصيهم ويأمرهم
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الفطر اور عید الاضحی کے دن (نماز عید کے لیے) عید گاہ کی طرف روانہ ہوتے تھے اور (عید گاہ میں) سب سے پہلے جس چیز سے ابتداء کرتے نماز تھی۔ پھر نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم تمام لوگوں کے بالمقابل کھڑے ہوتے جب کہ لوگ اپنی صفوں پر بیٹھے ہوتے پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں وعظ و نصیحت کرتے اور انہیں (مختلف امور کا) حکم دیتے تھے۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر : 956 – صحيح مسلم کتاب صلاة العيدين : 889]

فقه الحدیث :

(1) شوکانی رحمہ اللہ کہتے ہیں :
وأول شيء يبدأ به الصلاة یہ الفاظ دلیل ہیں کہ ”نماز عید کو خطبہ عید پر مقدم کرنا سنت ہے۔“ [نیل الأوطار : 321/3]
(2) سید سابق بیان کرتے ہیں: خطبہ عید نماز عید کے بعد مسنون ہے۔

خطبہ عید نماز عید سے مقدم کرنا بدعت ہے :

(1) طارق بن شہاب سے روایت ہے وہ بیان کرتے ہیں :
أول من بدأ بالخطبة يوم العيد قبل الصلاة مروان فقام إليه رجل فقال الصلاة قبل الخطبة فقال قد ترك ما هنالك فقال أبو سعيد أما هذا فقد قضى ما عليه سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول من رأى منكم منكرا فليغيره بيده فإن لم يستطع فبلسانه فإن لم يستطع فبقلبه وذلك أضعف الإيمان
”سب سے پہلے جس شخص نے روز عید نماز عید سے قبل خطبہ کا آغاز کیا وہ مروان بن حکم تھے، اس پر اس کی طرف ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہا: نماز عید خطبہ عید سے قبل (مشروع) ہے، اس پر مروان نے کہا: یہ سنت متروک ہو چکی ہے۔ (یہ سن کر) ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے بیان کیا: اس شخص نے اپنا فرض ادا کر دیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے جو شخص برائی دیکھے وہ اسے اپنے ہاتھ سے تبدیل کر دے، پھر اگر اس میں (ہاتھ سے بدلنے کی) قوت نہ ہو تو زبان سے روکے اور اگر زبان سے روکنے کی) طاقت نہ ہو تو دل سے برا جانے، اور یہ کمزور ترین ایمان ہے۔“
[صحيح مسلم کتاب الإيمان، باب بيان كون النهي عن المنكر من الإيمان : 49]
اور ابو داؤد : 1140، ترمذی : 2172، ابن ماجه : 1275 اور مسند احمد : 49/3 میں ہے کہ اس شخص نے مروان بن حکم کو اس خلاف سنت فعل پر کہا:
يا مروان خالفت السنة
”اے مروان! تم نے سنت کی مخالفت کی ہے۔“

فقہ الحدیث :

اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد ابن قدامہ لکھتے ہیں :
فعلى هذا من خطب قبل الصلاة فهو كمن لم يخطب لأنه خطب فى غير محل الخطبة أشبه ما لو خطب فى الجمعة بعد الصلاة
”اس حدیث کی رو سے جو شخص نماز عید سے قبل خطبہ دے وہ ایسے ہے جیسے اس نے خطبہ دیا ہی نہیں، کیونکہ اس نے بے محل خطبہ دیا ہے۔ اس کی مثال ایسے ہے جیسے وہ جمعہ کا خطبہ نماز جمعہ کے بعد دے۔ (جسے نماز جمعہ کے بعد خطبہ جمعہ بے محل اور غیر مشروع ہے۔ اسی طرح نماز عید سے قبل خطبہ عید بے محل اور خلاف سنت ہے)۔“
❀ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
فلم يزل الناس على ذلك حتى خرجت مع مروان وهو أمير المدينة فى أضحى أو فطر، فلما أتينا المصلى إذا منبر بناه كثير بن الصلت، فإذا مروان يريد أن يرتقيه قبل أن يصلي، فجذبته بثوبه فجذبني فارتفع فخطب قبل الصلاة فقلت له غيرتم والله فقال أبا سعيد قد ذهب ما تعلم فقلت ما أعلم خير والله مما لا أعلم فقال إن الناس لم يكونوا يجلسون لنا بعد الصلاة فجعلتها قبل الصلاة
”لوگ ہمیشہ اس سنت (نماز عید خطبہ عید سے قبل ادا کرنا) پر قائم رہے حتیٰ کہ میں امیر مدینہ مروان کے ساتھ عید الاضحیٰ یا عید الفطر کے دن نکلا اور جب ہم عید گاہ پہنچے تو اچانک وہاں منبر تھا جسے کثیر بن صلت نے تعمیر کیا تھا، چنانچہ مروان نے نماز عید سے قبل منبر پر چڑھنے کا ارادہ کیا تو میں نے اسے کپڑے سے کھینچا اور اس نے مجھے کھینچا، پھر اس کھینچا تانی میں وہ منبر پر چڑھ گیا اور اس نے نماز عید سے قبل خطبہ ارشاد کیا۔ اس پر میں نے اسے کہا: اللہ کی قسم! تم نے (سنت طریقہ) بدل ڈالا ہے۔ اس نے عرض کیا: ابو سعید! جو تم جانتے ہو (وہ سنت) نا پید ہو چکی ہے۔ ابو سعید نے کہا: واللہ! جو میں جانتا ہوں وہ اس چیز سے بہتر ہے جس سے میں ناواقف ہوں، پھر مروان نے ازراہ عذر کہا: لوگ نماز عید کے بعد ہمارے لیے بیٹھتے نہیں ہیں لہذا میں نے خطبہ عید نماز عید سے پہلے کر دیا ہے۔“
[صحيح بخاري، کتاب العيدين، باب الخروج إلى المصلى بغير منبر : 956 – صحیح مسلم، کتاب صلاة العيدين : 889 – المغني لابن قدامة : 240/2]
نیز جس روایت میں منقول ہے کہ سب سے پہلے نماز عید سے قبل خطبہ عید معاویہ رضی اللہ عنہ نے مقدم کیا تھا وہ ضعیف ہے۔
❀ ابن شہاب زہری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں :
أول من بدأ بالخطبة قبل الصلاة معاوية
”سب سے پہلے جس نے نماز عید سے قبل خطبہ کا آغاز کیا وہ معاویہ رضی اللہ عنہ ہی تھے۔“
[مصنف عبد الرزاق : 5646 – إسناده ضعیف]
اس میں امام عبد الرزاق بن حمام اور ابن جریج کی تدلیس ہے۔