مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خطبہ جمعہ کے وقت سامعین کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینا اور انہیں سر پر رکھ لینا کیسا ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال:

خطبہ جمعہ کے وقت سامعین کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینا اور انہیں سر پر رکھ لینا کیسا ہے؟

جواب:

خطبہ جمعہ کے آغاز میں سامعین کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینا، پھر ہاتھوں کو سر پر رکھنا بے اصل اور بے دلیل عمل ہے، یہ قبیح بدعت ہے۔
❀ علامہ ابن نحاس رحمہ اللہ (814ھ) فرماتے ہیں:
ما اعتاده كثير من الجهال إذا قال الخطيب: الحمد لله، سيما فى الخطبة الثانية باسوا أيديهم ووضعوها على رؤوسهم، حتى ربما يسمع صوت بوس أيديهم من خارج المسجد، وهذا سخافة عقل وبدعة شنيعة ليس لها أصل فى الشرع ولم يفعلها أحد من السلف الصالح ولا ممن يرجع إليه، فينبغي إنكارها وتعريف أنها بدعة ليس لها أصل
یہ جو بہت سے جاہلوں نے عادت بنالی ہے کہ جب خطیب الحمد للہ کہتا ہے، خصوصاً دوسرے خطبہ میں، تو لوگ اپنے ہاتھوں کا بوسہ لیتے ہیں اور انہیں اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، حتیٰ کہ بسا اوقات تو ان کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینے کی آواز مسجد سے باہر سنائی دیتی ہے، یہ بے عقلی اور بری بدعت ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، سلف صالحین اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، میں سے کسی نے یہ عمل نہیں کیا، لہذا اس عمل کا انکار کرنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ یہ بدعت اور بے اصل عمل ہے۔
(تنبيه الغافلين: 441)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔