سوال:
خطبہ جمعہ کے وقت سامعین کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینا اور انہیں سر پر رکھ لینا کیسا ہے؟
جواب:
خطبہ جمعہ کے آغاز میں سامعین کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینا، پھر ہاتھوں کو سر پر رکھنا بے اصل اور بے دلیل عمل ہے، یہ قبیح بدعت ہے۔
❀ علامہ ابن نحاس رحمہ اللہ (814ھ) فرماتے ہیں:
ما اعتاده كثير من الجهال إذا قال الخطيب: الحمد لله، سيما فى الخطبة الثانية باسوا أيديهم ووضعوها على رؤوسهم، حتى ربما يسمع صوت بوس أيديهم من خارج المسجد، وهذا سخافة عقل وبدعة شنيعة ليس لها أصل فى الشرع ولم يفعلها أحد من السلف الصالح ولا ممن يرجع إليه، فينبغي إنكارها وتعريف أنها بدعة ليس لها أصل
یہ جو بہت سے جاہلوں نے عادت بنالی ہے کہ جب خطیب الحمد للہ کہتا ہے، خصوصاً دوسرے خطبہ میں، تو لوگ اپنے ہاتھوں کا بوسہ لیتے ہیں اور انہیں اپنے سر پر رکھ لیتے ہیں، حتیٰ کہ بسا اوقات تو ان کا اپنے ہاتھوں کا بوسہ لینے کی آواز مسجد سے باہر سنائی دیتی ہے، یہ بے عقلی اور بری بدعت ہے، شریعت میں اس کی کوئی اصل نہیں، سلف صالحین اور جن کی طرف رجوع کیا جاتا ہے، میں سے کسی نے یہ عمل نہیں کیا، لہذا اس عمل کا انکار کرنا چاہیے اور بتانا چاہیے کہ یہ بدعت اور بے اصل عمل ہے۔
(تنبيه الغافلين: 441)