خطبہ جمعہ کے مسنون الفاظ صحیح احادیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ الحدیث مولانا محمد یوسف (بانی دارالحدیث جامعہ کمالیہ) کی کتاب تحفہ جمعہ سے ماخوذ ہے۔
مضمون کے اہم نکات

خطبہ مسنونہ

بروایت ابن مسعود:

① سیدنا حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ داعی حق خطیب الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ خطبہ سکھایا۔
إن الحمد لله نحمده ونستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله
﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ﴾ ﴿يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالًا كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُوا اللَّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللَّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا﴾ ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَقُولُوا قَوْلًا سَدِيدًا يُصْلِحْ لَكُمْ أَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيمًا﴾
سیدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ہیں کہ ہادی عالم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بعد یہ فرمایا:
أما بعد فإن خير الحديث كتاب الله وخير الهدى هدى محمد صلى الله عليه وسلم وشر الأمور محدثاتها وكل بدعة ضلالة اور سنن نسائی میں ہے: وكل ضلالة فى النار
(صحیح سنن نسائی 1331)
نوٹ: شَرَّ (راء پر زبر کی بجائے) شَرُّ (راء پر پیش) كُلَّ (لام پر زبر کے بجائے) كُلُّ (لام پر پیش) بھی بالکل درست ہے۔ اس صورت میں یہ مبتدا ہوں گے۔

ابن مسعود کی ایک اور روایت:

الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فإنه لا يضر إلا نفسه ولا يضر الله شيئا
(ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يخطب على قوس، حدیث: 1097)

امام زہری کی روایت:

الحمد لله نستعينه ونستغفره ونعوذ بالله من شرور أنفسنا وسيئات أعمالنا من يهده الله فلا مضل له ومن يضلل فلا هادي له وأشهد أن لا إله إلا الله وأشهد أن محمدا عبده ورسوله أرسله بالحق بشيرا ونذيرا بين يدي الساعة من يطع الله ورسوله فقد رشد ومن يعصهما فقد غوى ونسأل الله ربنا أن يجعلنا ممن يطيعه ويطيع رسوله ويتبع رضوانه ويجتنب سخطه إنما نحن به وله
(ابو داؤد، کتاب الصلاة، باب الرجل يخطب على قوس، حدیث: 1098)

ایک اور خطبہ نبوی صلی اللہ علیہ وسلم :

خطیب اسلام امام الہند حضرت مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ خطبات محمدی جلد سوم کے صفحہ نمبر 56 میں خطبہ اس طرح تحریر فرماتے ہیں:
الحمد لله رب العالمين والصلاة على سيد المرسلين والعاقبة للمتقين أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله اللهم صل على محمد وعلى آل محمد كما صليت على إبراهيم وعلى آل إبراهيم إنك حميد مجيد أما بعد
يا أيها الناس توبوا إلى الله قبل أن تموتوا وبادروا بالأعمال الصالحة قبل أن تشتغلوا عنها هرما ناغضا وموتا خالصا ومرضا حابسا وتسويفا موليا وصلوا الذى بينكم وبين ربكم تسعدوا واكثروا الصدقة فى السر والعلانية توجروا وتحمدوا وترزقوا وتنصروا وتحبروا وأمروا بالمعروف تحصبوا وانهوا عن المنكر تنصروا أيها الناس أن أكيسكم أكثركم ذكرا للموت وأكرمكم أحسنكم استعدادا له ألا وإن من علامات العقل التحافي عن دار الغرور والإنابة إلى دار الخلود والتزود للقبور والتأهب ليوم النشور
”ہر قسم کی تعریف اللہ تعالیٰ ہی کے لیے جو تمام جہانوں کو پالنے والا ہے اور درود کے لائق سید المرسلین کی ذات ہے اور آخرت کا بہتر انجام متقین کے لیے ہے اور میری سچے دل گواہی ہے اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور میری سچے دل و زبان سے گواہی ہے حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔“
اے اللہ رحمت نازل فرما حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات پر اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر جیسا کہ تو نے رحمت نازل فرمائی حضرت ابراہیم علیہ السلام پر ان کی آل پر یقیناً تو تعریف کیا ہوا بزرگی والا ہے۔
لوگو! موت سے پہلے توبہ کرو۔ لوگو! کمر توڑ بڑھاپے سے اور خالص موت اور روک دینے والی بیماری اور بے فائدہ تاخیر کے موقع سے پہلے ہی پہلے نیکیاں کر لو۔ اللہ تعالیٰ سے اچھے تعلقات توحید و سنت کی پابندی سے پیدا کر لو تاکہ سعادت سے محروم نہ رہ جاؤ۔ پوشیدگی میں اور علانیہ بھی صدقہ خیرات دیتے رہو تاکہ اجر و ثواب بھی ملے ستائش اور تعریف بھی ہو روزی رزق میں بھی کشادگی اور فراوانی ہو دشمنوں کے مقابلے میں اور تمہارے اپنے کاموں میں بھی تمہاری مدد خدا کی طرف سے کی جائے۔ لوگو! سب سے دانا وہ ہے جو اپنی موت کو کبھی نہ بھولے سب سے زیادہ بزرگی اور اکرام اس کا ہوگا جو اپنی موت کے لیے موت کے وقت سے پہلے خوب تیاری کرے یعنی نیکیوں کا ذخیرہ جمع کر لے۔ لوگو! عقل کی علامتیں یہ ہیں :
کہ انسان اس دھوکے کی ٹٹی نا پائیدار دنیا سے الگ تھلگ رہے اور اللہ تعالیٰ کی ہمیشگی کی نعمتوں والی جنت کا طالب اور اس کی طرف راغب رہے اور قبر کی لمبی رہائش کے لیے توشہ ساتھ لے جائے اور دوبارہ جی اٹھنے کے دن کے لیے تیار رہے یعنی نیکیوں میں مشغول اور برائیوں سے دور رہے۔

خطبہ مسنونہ میں درود شریف کا حکم:

امام ابن قیم الجوزیہ رحمہ اللہ نے درود شریف پڑھنے کے چالیس مواقع ذکر فرمائے ہیں۔
درود پڑھنے کے باقی مواقع بخوف طوالت ترک کیے گئے ہیں جو ان مواقع کا مطالعہ کرنا چاہے ابن قیم کی کتاب الصلاۃ والسلام علی خیر الانام اور ابن کثیر کی طرف رجوع کریں۔
خطبہ میں درود پڑھنے کے بارے میں مندرجہ ذیل عبارت اپنی تحریر میں لائے ہیں۔ مقامات درود میں سے ایک جگہ خطبے ہیں مثل خطبہ جمعۃ المبارک وعیدیں واستسقاء وغیرہ۔
(الصلاة والسلام علی خیر الانام صلی اللہ علیہ وسلم ص 225 ادارہ ضیاء الحدیث مدنی روڈ مصطفی آباد لاہور)

خطبہ میں درود شریف اور خطیب الہند جونا گڑھی کی تحقیق:

برصغیر کے بطل جلیل جناب سیدنا و مولانا محمد جونا گڑھی رحمہ اللہ مترجم تفسیر ابن کثیر و دیگر کتب ہائے کثیرہ تفسیر ابن کثیر کے صفحہ 274 جلد 4 درود پڑھنے کے متعدد مواقع ذکر کیے ہیں، آٹھویں نمبر پر یوں تحریر فرمایا ہے کہ اسی طرح خطیب پر بھی دونوں خطبوں میں درود واجب ہے اس کے بغیر صحیح نہ ہوں گے اس لیے کہ یہ عبادت ہے اور اس میں ذکر اللہ واجب ہے پس ذکر رسول بھی واجب ہوگا۔ (ذکر رسول بطور شہادت ہے نہ کہ بطور عبادت کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ذکر بطور عبادت کیا جاتا ہے اور عبادت صرف اور صرف اللہ تعالیٰ کی ہی کی جاتی ہے)۔

دو خطبہ جمعۃ المبارک میں درود شریف پڑھنا اور حافظ لکھوی کی تحقیق:

مفسر قرآن مصلح اعظم پنجاب حافظ محمد لکھوی رحمہ اللہ تفسیر محمدی پنجابی ساتویں منزل سورۃ الجمعہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں۔
ہر خطبہ حمد اللہ وآ پڑھے درود رسول الہی
بھی کرے وصیت خود خدادی چھوڑن لوگ تباہی۔
(تفسیر محمدی ص 151، جلد 7، مکتبہ اصحاب الحدیث اردو بازار لاہور)

مفتی اہل حدیث حافظ عبدالستار الحماد کا فتویٰ:

حالیہ تاریخ کے مفتی و مترجم صحیح بخاری شریف حافظ عبدالستار الحماد فاضل مدینہ یونیورسٹی ایک سوال کے جواب میں رقم طراز ہیں۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم محسن انسانیت ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے احسانات کے پیش نظر اہل ایمان کو ہر وقت ہر جگہ پر درود بھیجنے کا حکم ہے سیدنا حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم جہاں کہیں بھی ہو مجھ پر درود بھیجتے رہو تمہارا درود مجھے پہنچایا جاتا ہے۔ (مسند احمد)
① بلکہ جس مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر نہ کیا جائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نہ پڑھا جائے وہ قیامت کے دن ایسے نقصان کا باعث ہوگی جس کی تلافی نہیں ہو سکے گی حسرت و ارمان کے علاوہ وہاں کچھ ہاتھ نہیں آئے گا چنانچہ حدیث میں ہے کہ جو مجلس اللہ تعالیٰ کے ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھے بغیر برخاست ہو جائے وہ قیامت کے دن نقصان کا باعث ہوگی۔
(بیهقی ص 210، جلد 3)
ایک روایت میں ہے کہ ایسے لوگ جنت میں داخل ہونے کے باوجود ایسے افسوس سے دوچار ہوں گے کہ اسے فراموش نہیں کر سکیں گے۔
(مسند احمد ص 463، جلد 2)
علامہ البانی رحمہ اللہ نے ان احادیث کی صحت بیان کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مجلس میں اللہ تعالیٰ کا ذکر اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا ضروری ہے۔ (الاحادیث الصحیحہ صفحه 162، جلد 1)
② جمعہ کے دن بالخصوص حکم ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر بکثرت درود بھیجنا چاہیے چنانچہ ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جمعہ کے دن مجھ پر بکثرت درود پڑھا کرو کیونکہ جو آدمی جمعہ کے دن مجھ پر درود بھیجتا ہے اس کا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے۔
(مستدرک حاکم صفحه 421، جلد 2)
اس قسم کی ایک روایت حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ سے بھی مروی ہے۔
(سنن ابی داؤد 1047)
جمعۃ المبارک اور عیدین کے خطبات میں درود پڑھنے کے متعلق بعض اسلاف کا عمل ملتا ہے۔ چنانچہ عبداللہ بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں
کہ ہم مقام خیف میں حضرت عبداللہ بن ابی عتبہ کے ہمراہ تھے اس نے خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا اور دعائیں مانگیں پھر ہمیں نماز پڑھائی۔
(فضل الصلاة علی النبی صلی اللہ علیہ وسلم ص 87 تحقیق البانی)
علامہ ابن قیم رحمہ اللہ نے اپنی تالیف جلاء الافہام میں متعدد مقامات کی نشاندہی کی ہے جہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنا چاہیے ان میں سے خطبات جمعہ وعیدین بھی ہیں۔ انہوں نے متعدد صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا عمل بیان کیا ہے کہ وہ خطبات میں درود پڑھا کرتے تھے چنانچہ عون بن ابی جحیفہ کہتے ہیں کہ میرے والد ابو جحیفہ رحمہ اللہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے خدام میں سے تھے اور منبر کے نیچے بیٹھتے تھے انہوں نے مجھے بتایا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ منبر پر چڑھے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھا پھر فرمایا کہ اس امت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے بہتر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے اس طرح حضرت عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ اور حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے متعلق بھی بیان کیا ہے کہ وہ بھی اپنے خطبات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے کا اہتمام کرتے تھے۔
(جلاء الافہام مترجم صفحه 269)
ان شواہد کی بنا پر خطبات جمعہ وعیدین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود پڑھنے میں چنداں حرج نہیں بلکہ ایسا کرنا خیر و برکت کا باعث ہے اس مقام پر یہ وضاحت کرنا بھی ضروری ہے کہ اذان سے قبل فرض نماز کے بعد یا نماز جمعہ کے بعد کھڑے ہو کر بآواز بلند اجتماعی درود پڑھنا سنت سے ثابت نہیں ہے۔ اور نہ ہی قرون اولیٰ میں اس کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔ (بلکہ ایسا کرنا بدعت اور گناہ کبیرہ ہے)۔ (از مرتب)
(فتاوی اصحاب الحدیث ص 159، مکتبہ اسلامیہ لاہور)

وہبۃ الزحیلی کی تحقیق:

خطبہ جمعہ کے پانچ ارکان ہیں۔
① اللہ تعالیٰ کی حمد و تعریف، ② نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف، ③ تقویٰ کی وصیت کرنا۔ یہ تین امور دونوں خطبوں میں واجب ہیں، ④ قرآنی آیات کی تلاوت اور ان کا مفہوم، ⑤ مومن مردوں اور عورتوں کے لیے دعائے خیر کرنا۔
جب کسی چیز کو کسی عمل کے رکن کی حیثیت حاصل ہوتی ہے تو اس کا ادا کرنا واجب ہوتا ہے۔ درود شریف چونکہ خطبہ کا رکن ہے لہذا اس کا خطبہ جمعہ میں پڑھنا واجب ہے۔
(الفقه الاسلامی وادلته جلد 2، صفحه 286)
خطباء سلف اور تابعین کرام ایسے خطبہ کو جس کی ابتداء اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء سے نہ ہو (بتراء) یعنی دم بریدہ اور ایسا خطبہ جو آیات قرآنیہ سے آراستہ اور درود پاک سے مزین نہ ہوتا اسے (شوہاء) یعنی بدنما قراردیا کرتے تھے۔
اسی طرح سید الاولین والآخرین خطیب اعظم حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرامین بھی دلالت کرتے ہیں کہ خطبہ میں بھی درود پاک پڑھنا چاہیے۔ جیسا کہ فرمان ہے مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو اور پھر جمعہ کے دن کثرت سے درود پڑھنا بھی ثابت ہے اور خطبہ جمعہ بھی یوم الجمعہ میں داخل ہے۔
ثم اعلم أن الخطبة المشروعة هي ما كان يعتاده رسول الله صلى الله عليه وسلم من ترغيب الناس وترهيبهم فهذا فى الحقيقة روح الخطبة الذى لأجله شرعت وأما إشراط الحمد لله أو الصلاة على رسول الله أو قراءة شيء من القرآن فهو خارج عن المقصود من شرعية الخطبة
”مشروع خطبہ وہ ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ لوگوں کو رغبت دیتے اور ڈراتے پس یہ در حقیقت خطبہ کی جان ہے جس کی خاطر خطبہ کا حکم ہوا اور اللہ تعالیٰ کی تعریف کی شرط اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر درود شریف کی شرط اور قرآن مجید پڑھنے کی شرط اصل مقصود سے خارج ہے جب اصل مقصود لوگوں کو وعظ ہے تو مخاطب لوگوں کی زبان کا لحاظ ضروری ہوا۔“
(فتاوی اہل حدیث ص 36-37، جلد 2، المرتب ابو السلام مولانا محمد صدیق رحمہ اللہ آف سرگودھا ادارہ احیاء السنہ سرگودھا)
مجتہد العصر محدث زماں سیدنا حضرت حافظ محمد عبداللہ روپڑی رحمہ اللہ المتوفی اگست 1964ء کے فتویٰ اور سید نواب صدیق الحسن خان رحمہ اللہ کے فتویٰ سے صاف ثابت ہوتا ہے کہ خطبہ جمعہ میں درود شریف پڑھنا شرط ہے۔
إذا فات الشرط فات المشروط
مشہور ترین قاعدہ ہے کہ جب شرط فوت ہو جائے تو مشروط بھی فوت ہو جاتا ہے۔
③ مسند احمد میں ہے: من صلى على النبى صلى الله عليه وسلم واحدة صلى الله عليه وملائكته سبعين صلاة
(مسند احمد 187/2)
سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما راوی ہیں فرماتے ہیں کہ جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک مرتبہ درود پڑھا اللہ تعالیٰ اس پر ستر رحمتیں نازل فرماتے ہیں اور فرشتے رحمت کی دعائیں کرتے ہیں۔ (یہ فضیلت جمعۃ المبارک کے ساتھ خاص ہے) (شیخ البانی رحمہ اللہ نے اس کو حسن کہا ہے۔ )
(مشکاۃ البانی، حدیث نمبر 935)

جمله معترضہ :

درود شریف کے فضائل پر متعدد احادیث وارد ہیں۔
اور اسی طرح جمعۃ المبارک کے دن کثرت درود شریف پڑھنے کی احادیث خصوصاً وارد ہیں تو کیا جمعہ اس میں نہیں آتا آیا خطبہ جمعہ۔ جمعہ کے دن کے علاوہ کسی اور دن میں ہو رہا ہوتا ہے؟
ادب کے ساتھ گزارش ہے کہ اکثر فتاوی بخوف طوالت حذف کیے گئے ہیں اور زیادہ تر مترجم کتابوں کے حوالہ جات دیے گئے ہیں تاکہ عوام الناس کو فائدہ پہنچے اور عربی کتب مطولات کے حوالہ جات قصدًا ترک کیے گئے ہیں کیونکہ عوام کی ان کتب تک رسائی نہیں نہ پڑھ سکتے ہیں اور نہ ہی سمجھ سکتے ہیں۔
خطبہ جمعہ میں درود شریف کا پڑھنا صحابہ و تابعین جمہور محدثین کا متفق مجمع علیہ مسئلہ ہے۔
هٰذا ما عندي والله أعلم بالصواب وعلمه أتم وأحكم