مضمون کے اہم نکات
حدیث نمبر:1
سچے تاجر کا مقام
عن ابن عمر قال قال رسول الله ﷺ التاجر الأمين الصدوق المسلم مع الشهداء يوم القيامة.
ترجمه:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ سچا امانت دار مسلمان تاجر قیامت کے روز شہداء کے ساتھ ہوگا۔
[ابن ماجه:2139]،[حاکم:2142]،[دار قطنی:2812]،[معجم الاوسط للطبرانی:7394]،[السنن الکبری للبیہقی:10416]،[شعب الایمان:1175/4514]یہ حدیث حسن صحیح ہے،ملاحظہ ہو [صحيح الترغيب والترهيب:1783]
توضیح:
سچائی کی اہمیت تو ہمیشہ، ہر جگہ اور ہر شخص کے لئے ہے۔ مگر تاجر کی امانت داری کی بات ہی کچھ اور ہے، اسی اہمیت کے پیش نظر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کہ سچا امانتدار تاجر قیامت کے دن شہداء کے درجہ و مقام پر ہوگا، اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی حریص ہوتا ہے، حرص کا غلبہ سچائی وامانت داری کو مجروح کر دیتا ہے اور ایسے مواقع تاجر کو زیادہ ہاتھ آتے ہیں، اس لئے اگر تاجر دولت و ثروت کی حرص سے مغلوب ہوئے بغیر تمام تر مواقع کے باوجود اپنی سچائی وامانت داری پر قائم رہتا ہے، تو یہ بہت بڑی بات اور نفس کے ساتھ بہت بڑا جہاد ہے، گویا اس نے نفس کے ساتھ جہاد کیا ، اور مجاہد کا تو حق ہے کہ وہ قیامت کے دن شہداء کے ساتھ رہے، اس لئے سچا امانت دار تاجر قیامت کے روز شہداء کے ساتھ ہوگا۔
کیا یہ حقیقت نہیں کہ سچا تا جر قیامت کے دن شہداء کے ساتھ تو ہوگا ہی ،جو اس کی بہت بڑی کامیابی اور خوش بختی ہے، مگر دنیا میں بھی ایسا شخص ہر ایک کے نزدیک قابل قدر اور قابل تکریم ہوتا ہے۔ بازار کی بھیڑ میں اپنی سچائی کی وجہ سے معروف و مشہور ہوتا ہے، گویا تاجر کی سچائی اسے دنیا و آخرت دونوں جگہ باعزت اور محترم بناتی ہے۔
حدیث نمبر:2
صبح کی تجارت میں برکت ہے
عن صخر الغامدي، قال: قال رسول الله ﷺ: اللهم بارك لأمتي في بكورها، قال: وكان إذا بعث سرية، أو جيشا بعثهم في أول النهار، قال:وكان صخر رجلا تأجرا وكان إذا بعث تجارة بعث أول النهار فأثرى وكثر ماله.
ترجمه:حضرت صخر الغامدی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول ﷺ نے فرمایا: اے اللہ میری امت کو صبح کے وقت میں برکت دے، اور فرمایا کہ آپ جب کوئی سریہ یا لشکر بھیجتے تھے، تو صبح کے وقت بھیجتے تھے، حضرت صخر تاجر آدمی تھے، وہ جب سامان تجارت بھیجتے تو صبح کے وقت بھیجتے، چنانچہ وہ مالدار ہوئے اور ان کا مال خوب بڑھا۔
[ابوداؤد:2606]،[ترمذی:1212]،[ ابن ماجه:2236]،[مسنداحمد:15438]یہ حدیث صحیح ہے۔ملاحظہ ہو[صحیح الترغيب والترهيب:1993]
توضیح:
صبح کا وقت بہت خوبصورت اور خوشگوار ہوتا ہے، آدمی کے اندر نشاط و توانائی اور امنگ بھی ہوتی ہے، کیونکہ رات بھر آرام کرنے کی وجہ سے انسان کے تمام اعضاء وجوارح نئی طاقت وقوت کے ساتھ دوبارہ کام کرنے کے لئے آمادہ ہو جاتے ہیں۔ اس لئے ایک آدمی جب صبح کے وقت کام کے لئے نکلتا ہے تو کام بڑی آسانی سے ہوتا ہے، اور اللہ تعالی اس میں برکت دیتا ہے۔ رسول اللہﷺ نے اپنی امت کے لئے دعا کی کہ ان کی صبح میں برکت دے، نیز صبح ہی کو ہر سریہ اور لشکر بھی روانہ کیا کرتے تھے، تاکہ امت کے افراد اسی طریقہ کو اپنا کر اس دنیا میں بھی کامیابی حاصل کریں، چنانچہ حضرت صخر الغامدی صبح کے وقت تجارت کر کے ایک کامیاب تاجر ثابت ہوئے اور اللہ کی برکت سے بہرہ ور ہوئے۔
حدیث نمبر:3
تاجر برا کب ہوتا ہے؟
عن عبد الرحمن بن شبل رضي الله عنه قال سمعت رسول اللهﷺ يقول إن التجار هم الفجار قال يا رسول الله أليس قد أحل الله البيع قال بلى ولكنهم يحلفون فيأثمون و يحدثون ويكذبون.
ترجمه:حضرت عبد الرحمن بن شبل رضي اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، کہ میں نے رسولﷺ سے سنا آپ فرمارہے تھے، کہ بیشک تاجر فاجر ہوتے ہیں، کہا اے اللہ کے رسول، کیا اللہ تعالٰی نے بیع حلال نہیں کیا ہے؟ فرمایا کیوں نہیں لیکن وہ لوگ قسم کھاتے ہیں تو گنہگار ہوتے ہیں، اور بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں۔
[مسنداحمد:15669/15530]،[مساوى الاخلاق للحر للخرائطی:117]،[حاکم:2146]،[السنن الكبرى للبيهقى:10415] یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو [صحیح الترغيب والترهيب:1786]
توضیح:
تجارت ایک اچھا پیشہ ہے رسول اللہﷺ نے خود تجارت کی ہے، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک بڑی جماعت نے تجارت کی ہے، مگر یہ پیشہ اس وقت اچھا ہے ۔ جب اسلامی تعلیمات اور اس کے آداب و شروط کی روشنی میں کیا جائے، اسے جھوٹی قسم اور جھوٹی بات سے محفوظ اور پاک رکھا جائے، مگر بہت کم ہی ایسے تاجر ہیں، جو تجارت میں اس کے آداب و شروط کو ملحوظ رکھ پاتے ہیں۔ بیشتر تاجر جھوٹی قسمیں کھاتے اور کذب بیانی سے کام لیتے ہیں، بلکہ بعض تو قسموں اور جھوٹ کے اس طرح عادی ہو جاتے ہیں،کہ انھیں جھوٹی قسم کھاتے ہوئے، اور جھوٹ بولتے ہوئے احساس بھی نہیں ہوتا، کہ میں کوئی غلط کام یا جرم بھی کر رہا ہوں، چونکہ بیشتر تاجروں کا حال ایسا ہی ہوتا ہے، اس لئے رسول الله ﷺ نے فرمایا کہ ان التجار هم الفجار تاجر فاجر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر:4
تجارت غفلت کا سبب ہے
عن عبيد بن عمير:أن أبا موسى الأشعري استأذن على عمر بن الخطاب رضي الله عنه، فلم يؤذن له، وكأنه كان مشغولا، فرجع أبو موسى ففرغ عمر، فقال: ألم أسمع صوت عبد الله بن قيس ائذنوا له ؟ قيل: قد رجع فدعاه، فقال: كنا نؤمر بذلك ، فقال : تأتيني على ذلك بالبينة ، فانطلق إلى مجلس الأنصار، فسألهم ، فقالوا: لا يشهد لك على هذا إلا أصغرنا أبو سعيد الخدري، فذهب بأبي سعيد الخدري، فقال عمر: أخفي هذا علي من أمر رسول الله صلى الله عليه وسلم، ألهاني الصفق بالأسواق يعني الخروج إلى تجارة.
ترجمه:عبید بن عمیر نے کہ، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے ملنے کی اجازت چاہی لیکن اجازت نہیں ملی۔ غالباً آپ اس وقت کام میں مشغول تھے۔ اس لیے ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ واپس لوٹ گئے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا کیا میں نے عبداللہ بن قیس (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ) کی آواز نہیں سنی تھی۔ انہیں اندر آنے کی اجازت دے دو۔ کہا گیا وہ لوٹ کر چلے گئے۔ تو عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں بلا لیا۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ ہمیں اسی کا حکم(نبی کریم ﷺ سے)تھا( کہ تین مرتبہ اجازت چاہنے پر اگر اندر جانے کی اجازت نہ ملے تو واپس لوٹ جانا چاہئے) اس پر عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا، اس حدیث پر کوئی گواہ لاؤ۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ انصار کی مجلس میں گئے اور ان سے اس حدیث کے متعلق پوچھا (کہ کیا کسی نے اسے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے) ان لوگوں نے کہا کہ اس کی گواہی تو تمہارے ساتھ وہ دے گا جو ہم سب میں بہت ہی کم عمر ہے۔ وہ ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو اپنے ساتھ لے گئے۔ عمر رضی اللہ عنہ نے یہ سن کر فرمایا: کہ نبی کریم ﷺ کا ایک حکم مجھ سے پوشیدہ رہ گیا۔ افسوس کہ مجھے بازاروں کی خرید و فروخت نے مشغول رکھا۔ آپ کی مراد تجارت سے تھی۔
[صحیح البخاری:2062]،[صحیح المسلم:2153]
توضیح:
حصول معاش کے لئے تجارت وغیرہ ضروری ہے، مگر تجارتی مشغولیات اتنی زیادہ ہوتی ہیں، کہ وہ دین اور اس کی تعلیمات کی راہ میں کبھی کبھی رکاوٹ بن جاتی ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے عظیم صحابی اور دیندار شخص کو تجارتی مشغولیات کی وجہ سے دین کی بعض باتوں کے معلوم نہ ہونے کا اعتراف کرنا پڑا، انصار نے بھی اپنے سب سے کم عمر شخص کو بھیج کر گواہی دلوائی، تا کہ معلوم ہو کہ یہ ایک ایسی بات ہے جسے کم سن اور کم عمر بھی جانتے ہیں۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا پہلے ثبوت طلب کرنا، اور ثبوت مل جانے کے بعد فوراً حق کو تسلیم کر لینا، اس بات کی دلیل ہے کہ فرمان رسول اللہ ﷺ کے متعلق یہ لوگ کسی قدر محتاط تھے، تصدیق کے بعد تسلیم کرنے میں انا مانع نہیں ہوتی تھی، چاہے وہ خلیفہ وقت ہی کیوں نہ ہوں، یہی دین پسندی ہے اور دینداری کا اعلیٰ معیار ہے۔تجارتی مصروفیات اپنی جگہ مسلم ہیں، مگر ایک تاجر کو اپنی انھیں مصروفیات میں یہ بھی سوچنا چاہئے کہ کیا ان مصروفیات میں چند لمحہ دن یا رات میں اسلامی کتابوں کے مطالعہ میں نہیں لگایا جا سکتا؟ جبکہ پورا وقت صرف تجارت ہی کی نذر ہو جاتا ہے، اگر یہ سوچ پیدا ہو جائے تو اسلامی معلومات کے لئے چند لمحہ نکالنا مشکل نہیں ہوگا، بلکہ اس کا فائدہ دو طرح سے محسوس کرے گا، ایک تو معلومات میں نافہ اور دوسرے اتنی دیر تک تجارتی جھمیلوں سے آزاد ہو کر ذہنی سکون ملتا ہے، جو ذہنی سکون تاجر کو مشکل ہی سے میسر ہوتا ہے۔
حدیث نمبر:5
مسجد میں خرید و فروخت کرنا منع ہے
عن عمرو بن شعيب عن أبيه عن جده قال نهى رسول الله ﷺ عن البيع والإبتياع وعن تناشد الأشعار في المساجد۔
ترجمه:حضرت عمر و بن شعیب روایت کرتے ہیں کہ رسول اللهﷺ نے مسجد میں خرید و فروخت اور اشعار پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
[ابن ماجه:749]،[ابو داؤد:1079]،[ترمذی :322]،[نسائی:715]،[احمد:2676]،[ابن خزیمہ:1304]یہ حدیث حسن ہے۔ملاحظہ ہو[ابن ماجہ:749]
توضیح:
مسجد اللہ کا گھر ہے، جو خاص ہے ذکر الہی اور عبادت الہی کے ساتھ، اس کے بر خلاف خرید و فروخت کرنا سراسر دنیاوی معاملہ ہے، جس میں بیشتر لوگ جھوٹ بولتے ہیں، اس لئے مسجد جیسی مقدس اور پاکیزہ جگہ خالص دنیوی امور میں استعمال کرنے، سے روک دیا گیا تا کہ جھوٹ اور غلط بیانی کے ذریعہ اس کے تقدس کو پامال نہ کیا جائے۔
حدیث کے دوسرے جز میں مسجد میں اشعار خوانی سے منع کیا گیا ہے، جب کہ دوسری روایتوں سے ثابت ہوتا ہے کہ حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ سے نبیﷺ مسجد میں اشعار سنا کرتے تھے، تو معلوم ہونا چاہئے کہ عموماً اشعار جذبات کو برانگیختہ کرنے والے اور خواہش نفس کو ابھارنے والے ہوتے ہیں۔ اگر اشعار میں اس قسم کی چیزیں پائی جاتی ہوں، تو پھر ان کا مسجد میں پڑھنا درست نہیں ہے، برخلاف اس کے اگر اشعار میں اللہ تعالیٰ کی توحید کا ذکر ہو ، رسول اللہ ﷺ کی رسالت و نبوت کا ذکر ہو، یا اسلامی تعلیمات پر مشتمل ہوں، تو ایسے اشعار کا مسجد میں پڑھنا درست ہے۔
حدیث نمبر:6
تجارت میں قسم کا نقصان
عن أبي هريرة قال سمعت رسول الله ﷺ يقول: الحلف منفقة للسلعة ممحقة للبركة.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا، وہ فرمارہے تھے، قسم سامان کو رائج کر دیتی ہے، لیکن برکت کو نیست ونا بود کر دیتی ہے۔
[بخاری:2087]،[مسلم:1606]،[ابوداؤد:3335]،[نسائی:4466]
توضیح:
ایک دوسری روایت میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: بیع میں قسم کھانے سے بچو کیونکہ اس کی وجہ سے سامان تو بک جائے گا، مگر برکت ختم ہو جائیگی۔[سنن ابن ماجه:2209]
مذکورہ دونوں روایتوں سے معلوم ہوا کہ مطلق اور بلا وجہ قسم کھانا ہی برکت ختم کرنے کے لئے کافی ہے، چہ جائیکہ وہ جھوٹی ہو، جب مطلق قسم تجارت سے برکت ختم کر دیتی ہے، تو ظاہر ہے جھوٹی قسم کا تجارت پر اس سے بہت زیادہ برا اثر مرتب ہوگا۔ مگر افسوس کہ وقتی نفع کے لئے جھوٹی قسم کھانے والا بھول جاتا ہے ،کہ بروقت تو میرا مال بک جائے گا، مگر اس کا غیر مرئی اثر مرتب ہونا یقینی ہے، کیونکہ اس کی خبر رسولﷺ نے دی ہے۔ایک تاجر اور دکاندار جھوٹی قسم کئی طرح کھاتا ہے: ایک تو یہ کہ سامان کی قیمت خرید کے متعلق بلا وجہ جھوٹی قسم کھا کر کہتا ہے، کہ یہ سامان تو میں نے اتنے میں خریدا ہے، تو پھر میں اس سے کم قیمت پر کیسے دے سکتا ہوں، مجھے بھی تو کچھ ملنا چاہئے ، جو سراسر جھوٹ ہوتا ہے، مگر اس کی قسم کے بھرم میں خریدار آجاتا ہے، اور سوچتا ہے کہ جب دکاندار قسم کھا رہا ہے،اور اس کو کبھی تو نفع کچھ نہ کچھ چاہئے اس لئے وہ سامان خرید لیتا ہے۔ دوسری صورت جھوٹی قسم کھانے کہ یہ ہوتی ہے، کہ دکاندار قسم کھا کر کہتا ہے کہ فلاں صاحب اس کا دام اتنا دے چکے ہیں، اگر میں نے اتنے پر نہیں دیا، کیونکہ پڑتا نہیں ہے، تو بھلا آپ کو اس کے کم پر کیسے دے سکتا ہوں، اور پھر خریدار بھرم میں آکر خرید لیتا ہے۔ تیسری صورت یہ ہوتی ہے کہ دکاندار قسم کھا کر کہتا ہے، کہ اگر میں اتنے میں دوں تو مجھ کو ایک پیسہ نفع نہیں ملے گا۔چوتھی صورت یہ ہے کہ وہ قسم کھا کر کہتا ہے، کہ یہ سامان تو میں نے کسی کو اتنے کا نہیں دیا ہے آپ چونکہ اپنے ہیں، اس لئے آپ کو اتنے کا دے رہا ہوں۔ پانچویں صورت یہ ہے کہ دکا ندار قسم کھا کر چیلینج کر دیتا ہے کہ اتنے میں تو پوری مارکیٹ میں نہیں ملے گا، اس کے علاوہ بھی مختلف انداز سے قسمیں کھاتا ہے۔ اور اس کی قسم کی وجہ سے خریدار دھو کہ کھا جاتا ہے، اس طرح دکاندار کا سامان تو بک جاتا ہے،مگر اللہ تعالی اس کے کاروبار سے برکت چھین لیتا ہے، جس کے اثرات آہستہ آہستہ مرتب ہوتے ہیں،اور کاروبار فیل ہو جاتا ہے، کارو بار فیل ہونے کے بعد اصل سبب پر غور نہیں کرتا بلکہ اس کے دیگر مختلف اسباب تلاش کرتا ہے، نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ اپنی اس بری خصلت و عادت سے باز نہیں آتا۔
حدیث نمبر:7
جھوٹ یا سچ کا اثر بیع پر پڑتا ہے
عن حكيم بن حزام رضي الله عنه عن النبيﷺ البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، أو قال حتى يتفرقا فإن صدقا وبينا، بورك لهما في بيعهما، وإن كتما و كذبا، محقت بركة بيعهما.
ترجمه:حضرت حکیم بن حزام روایت کرتے ہیں، رسول اللہﷺ نے فرمایا: خرید و فرخت کرنے والوں میں سے ہر ایک کو اختیار ہے (بیع ختم کرنے کا) جب تک ایک دوسرے سے الگ نہ ہو جائیں، اگر دونوں سچ بولتے ہیں اور ظاہر کر دیتے ہیں (عیب چھپاتے نہیں ہیں) تو ان دونوں کی بیچ میں برکت دی جاتی ہے، اور اگر دونوں جھوٹ بولتے ہیں اور (عیب کو) چھپاتے ہیں تو ان دونوں کی برکت ختم کر دی جاتی ہے۔
[بخاری:2079/2082/2114/2110]،[مسلم:1532]،[ابوداؤد:3459]،[ترمذی:1246]،[نسائی:4469،4462]
توضیح:
ہر چیز کا اثر آنکھوں سے دکھلائی نہیں دیتا مگر ہوتا ضرور ہے، جسے آدمی دل کی نگاہوں سے دیکھتا اور محسوس کرتا ہے، جھوٹ اور سچ کا اثر بھی ایسا ہی ہے، جو ہر وقت دکھلائی نہیں دیتا، بلکہ خرید و فروخت میں تو بظاہر جھوٹے کے نزدیک جھوٹ نفع بخش ہی معلوم ہوتا ہے، کہ جو سامان بکنا مشکل معلوم ہو رہا تھا اسے جھوٹ کے پردہ میں چھپا کر بیچ دیا گیا، حقیقت یہ ہے کہ جھوٹ کا اثر ہونا یقینی ہے، جیسا کہ مذکورہ روایت سے معلوم ہو رہا ہے کہ جھوٹ سے برکت ختم ہو جاتی ہے، ہم معاشرہ میں بھی دیکھ رہے ہیں، کہ بہت سے دکاندار جھوٹ بول کر اپنی دکان چمکا دیتے ہیں، مگر بہت جلد وہ دکان اپنا وجود تک کھو دیتی ہے، جو اس جھوٹ کا نتیجہ ہوتا ہے، جو دکھلائی تو نہیں دیتا مگر اثر انداز ضرور ہوتا ہے۔
حدیث نمبر:8
تاجروں کو صدقہ کرنا چاہئے
عن قيس بن أبي غرزة، قال كنا في عهد رسول اللهﷺ نسمى السماسرة فمر بنا رسول الله ﷺ فسمانا باسم هو أحسن منه فقال يا معشر التجار إن البيع يحضره اللغو والخلف فشوبوه بالصدقة.
ترجمه:حضرت قیس بن ابوغرزہ سے روایت ہے کہتے ہیں کہ رسول اللہﷺ کے زمانے میں ہم لوگوں کو سماسرہ (دلال) کہا جاتا تھا، ایک بار رسول ﷺ ہمارے پاس سے گزرے، تو ہم کو اس سے اچھے نام سے موسوم کیا،اور فرمایا کہ اے تاجروں کی جماعت بیع میں قسم اور لغو باتیں بھی ہوتی رہتی ہیں، اس لئے اس کے ساتھ صدقہ کرو۔
[نسائی:3828/4468]،[سنن ابن ماجه:2145]،[مصنف عبدالرزاق الصنعانی:15961]،[مسندالحمیدی:442]، [مصنف ابن ابی شیبہ:22198]یہ حدیث صحیح ہے۔ ملاحظہ ہو [سنن نسائی:3828]
توضیح:
اللہ تعالیٰ نے اپنے دین حنیف میں کسی قدر آسانی رکھی ہے، اور انسان کی فطرت کو ملحوظ رکھا ہے، کہ اگر انسانی اور فطری تقاضے کے مطابق تاجر سے قسم وغیرہ کی چوک ہو جائے جو نہیں ہونی چاہئے تھی، تو اس کے ازالہ کی بہترین شکل یہ ہے، کہ کچھ صدقہ و خیرات کر دے، جس سے غرباء و مساکین کا فائدہ ہو جائے گا، اور تاجر سے جو لغزش ہوئی ہے، اس کی تلافی بھی ہو جائے گی مگر یہ ایسی صورت میں جبکہ بشری تقاضے کے مطابق ایسی کچھ خطائیں ہو جائیں۔اگر کوئی تاجر صبح سے شام تک جھوٹی قسمیں بالقصد کھائے ، لغو باتیں بھی کرے، اور یہ سوچے کہ چلو شریعت نے ہم کو چھوٹ دی ہے، صدقہ کے ذریعہ اس کی تلافی کرلیں گے، تو معلوم ہونا چاہئے کہ ایسے تاجروں کے بارے میں تو رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ [ان التجار هم الفجار] یعنی تاجر فاجر ہوتے ہیں، اور اس کی وجہ بھی بیان فرمائی کہ وہ قسم کھا کر گناہ گار ہوتے ہیں، اور بات کرتے ہیں تو جھوٹ بولتے ہیں۔
حدیث نمبر:9
بیع آپس کی رضا مندی سے ہونی چاہئے
عن أبي سعيد الخدري يقول قال: رسول الله ﷺ إنما البيع عن تراض.
ترجمه:حضرت ابوسعید خدری روایت کرتے ہیں، کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:کہ بیع آپس کی رضا مندی سے ہوتی ہے۔
[سنن ابن ماجه:2185]،[تخریج الاحادیث المرفوعہ:739]،[صحیح ابن حبان:4967]،یہ حدیث صحیح ہے۔ ملاحظہ ہو[سنن ابن ماجہ:2185]
توضیح:
خرید وفروخت میں عام طور پر ایک شخص کا سامان ہوتا ہے، اور دوسرے کا روپیہ، ایک سامان بیچتا ہے دوسرا خریدتا ہے، خرید و فروخت میں خرید نے اور بیچنے والے دونوں کی رضامندی ضروری ہے۔اگر ایک شخص بیچنے کے لئے تیار ہے، اور دوسرا اس کی مطلوبہ قیمت پر خریدنے کے لئے آمادہ ہو، تو بیع درست ہوگی، برخلاف اس کے اگر ایک شخص بیچنے کے لئے تیار نہ ہو، تو دوسرا شخص کسی بھی قیمت پر نہیں خرید سکتا، یا اگر ایک شخص خریدنے کے لئے آمادہ نہ ہو تو بیچنے والا کسی بھی قیمت پر نہیں بیچ سکتا۔ اگر ایک شخص کوئی سامان خریدنا چاہتا ہے، تو اس کی قیمت کم کرانے کا پورا اختیار ہے، قیمت کم کرنے کے لئے وہ پوری طاقت لگا سکتا ہے، مگر بغیر رضا مندی کے نہیں لے سکتا، بہت سے خریدار ایسے ہوتے ہیں، کہ اگر دکاندار ان کی مرضی کے مطابق قیمت کم نہیں کرتا ہے، تو سامان تو لے لیتے ہیں مگر ز بر دستی اپنی مرضی کے مطابق قیمت پھینک کر چلے جاتے ہیں۔
معلوم ہونا چاہئے کہ مذکورہ حدیث میں ایسے ہی لوگوں کے لئے تنبیہ ہے، کہ وہ زبردستی کا سودا نہ کریں، بلکہ آپس کی رضا مندی سے سودا کریں۔
حدیث نمبر:10
خرید و فروخت اور تقاضہ میں نرمی کرنی چاہئے
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنهما أن رسول الله قال: رحم الله رجلا سمحا إذا باع سمحا إذا باع وإذا اشترى وإذا اقتضى.
ترجمه:حضرت جابر بن عبد اللہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نےفرمایا: اللہ تعالٰی اس شخص پر رحم کرے جو نرمی برتا ہے، جب بیچتا ہے، جب خریدتا ہے، اور جب (قرض کا) تقاضہ کرتا ہے۔
[بخاری:2076]،[سنن ابن ماجه:2203]،[صحیح ابن حبان:4903]،[السنن الکبری للبیہقی:10978)
توضیح:
نرمی ایک اچھی چیز ہے اور سختی بری چیز ہے، نرمی انسان بھی پسند کرتا ہے اور اللہ بھی۔ سختی انسانوں کے نزدیک بھی نا پسندیدہ ہے، اور اللہ کے نزدیک بھی۔ اس لئے چاہئے کہ ہر شخص جہاں نرمی کی ضرورت ہو اور مناسب ہو وہاں نرمی ہی سے کام لے ۔سختی سے بہر حال بچنے کی کوشش کرے الا یہ کہ حالات سختی کے متقاضی ہوں، اور سختی کے علاوہ کوئی چارہ کار نہ ہو۔خرید و فروخت اور تقاضہ انسانی ضروریات میں سے ہیں، جو نرمی کے متقاضی ہیں، نہ کہ سختی کے، اس لئے ایسے موقع پر ضروری ہے، کہ حد درجہ نرمی کا برتاؤ کیا جائے، تاکہ ہر معاملہ نرمی سے حل کیا جا سکے۔ جس سے ایک دوسرے کے درمیان الفت و محبت بڑھے گی، ایک اچھا ماحول پیدا ہوگا، اور ہر شخص دوسرے سے مطمئن رہے گا۔ خرید و فروخت اور تقاضہ میں سختی کا برتاؤ ہر ایک کے لئے نقصان دہ ہے، خصوصا دکاندار کے لئے، کیونکہ سختی کے برتاؤ کی وجہ سے خریدار متنفر ہو جائیں گے، اور بہت جلد دکان فیل اور کارو بارختم ہو جائے گا، برخلاف اس کے نرمی اور اخلاق سے خریدار متاثر ہو کر بسا اوقات نہ چاہتے ہوئے بھی خرید ہی لیتا ہے۔
حدیث نمبر:11
خرید و فروخت میں اختیار
عن ابن عمر رضي الله عنهما عن رسول الله ﷺ أنه قال إذا تبايع الرجلان، فكل واحد منهما بالخيار ما لم يتفرقا وكانا جميعا، أو يخير أحدهما الآخر، فإن خير أحدهما الآخر فتبايعا على ذلك فقد وجب البيع وإن تفرقا بعد أن تبايعا، ولم يترك واحد منهما البيع فقد وجب البيع.
ترجمه:حضرت عبداللہ بن عمر روایت کرتے ہیںو کہ رسول اللہﷺ نے فرمایا: دو آدمی آپس میں خرید و فروخت کرتے ہیں، تو ان میں سے ہر ایک کو اختیار ہوتا ہے، جب تک دونوں الگ الگ نہ ہو جائیں، جبکہ وہ دونوں اکٹھا تھے، یا ان میں سے ایک دوسرے کو اختیار دے، اور دونوں نے اس پر بیع کر لیا تو بیع واجب، اور اگر بیع کرنے کے بعد دونوں الگ ہو گئے، اور ان میں سے کسی نے بیع کو نہیں چھوڑا تو بیع واجب۔
[بخاری:2113]،[مسلم:1531]،[سنن ابی داؤد:3454]،[سنن نسائی:4472]،[ابن ماجه:2181]
توضیح:
کبھی کبھی ایک آدمی بیع کرتا ہے، اور ابھی وہیں ہوتا ہے، کہ اسے یہ احساس ہو جاتا ہے، کہ یہ تو میں نے غلط بیع کر لیا، مجھے یہ سامان نہیں بلکہ دوسرا سامان خرید نا تھا یا خریدنا چاہئے، ایسی صورت میں شریعت نے سہولت دی ہے، کہ اگر تم بیع کرنے کے بعد وہیں ہو، جدا نہیں ہوئے، تو تم کو پورا اختیار ہے، چاہو تو بیع کو توڑ کر اپنا روپیہ واپس لے سکتے ہو، یہ صورت حال دکاندار کے ساتھ بھی پیش آسکتی ہے، اسے بھی بیع کے بعد یہ احساس ہو سکتا ہے، کہ مجھے بیچنا نہیں چاہئے تھا۔ اس لئے شریعت نے اس کو بھی اختیار دیا ہے،کہ اگر خریدار نے سامان خریدا اور ابھی وہیں موجود ہے جدا نہیں ہوا ہے، تو دکاندار بھی کہہ سکتا ہے، کہ بھائی یہ اپنا پیسہ لیجئے سامان دیجئے مجھے سامان نہیں بیچنا ہے۔ یہ اختیار ایک دوسرے سے جدا ہونے سے پہلے تک ہوگا، ایک دوسرے سے الگ ہونے کے بعد اگر ان دونوں میں سے کوئی بھی بیع کو توڑنا چاہے، تو پھر رضا مندی ضروری ہے، ایک دوسرے کی رضامندی کے بغیر بیع ختم نہیں کی جاسکتی۔
حدیث نمبر:12
بیع میں استثناء کرنا درست ہے
حدثني جابر رضي الله عنه، أنه كان يسير على جمل له قد أعيا، فمر النبي صلى الله عليه وسلم فضربه، فدعا له، فسار بسير ليس يسير مثله، ثم قال: بعنيه بوقية؟ قلت: لا، ثم قال: بعنيه بوقية، فبعته، فاستثنيت حملانه إلى أهلي، فلما قدمنا أتيته بالجمل ونقدني ثمنه، ثم انصرفت، فأرسل على إثري، قال: ما كنت لآخذ جملك، فخذ جملك ذلك فهو مالك..
ترجمہ:حضرت جابر بن عبد اللہ روایت کرتے ہیں، کہ وہ ایک ایسے اونٹ پر چل رہے تھےجو تھک گیا تھا، رسول اللہﷺ گزرے تو اسے مارا اور دعا کی، پھر وہ اس طرح چلا کہ ویسا کبھی نہیں چلا تھا، آپ نے فرمایا: کہ مجھے ایک اوقیہ میں بیچ دو، میں نے کہا نہیں، پھر کہا ،ایک اوقیہ میں مجھے بیچ دو تو میں نے بیچ دیا، اور اپنے اہل تک جانے کے لئے میں نے استثناء کیا، ہم لوگ جب واپس آگئے تو میں اونٹ لے کر آیا، آپ نےمجھے اس کی قیمت دی، پھر میں لوٹ گیا، تو آپ نے میرے پیچھے کسی کو بھیجا، آپ نے فرمایا: میں آپ کا اونٹ لینے والا نہیں تھا یہ اپنا اونٹ لو وہ تمہارا مال ہے۔
[بخاری:2718]،[مسلم:715]،[سنن النسائی :4641]،[مسنداحمد:14195]،[السنن الکبری للنسائی:2188]
توضیح:
اگر حضرت جابررضی اللہ عنہ بیع کے بعد اونٹ حوالہ کر دیتے تو ان کے لئے گھر پہنچنا دشوار ہو جاتا، اس لئے انھوں نے گھر تک جانے کی بات کی ، جس سے معلوم ہوا کہ اگر بیع کی جائے اور اس میں اس قسم کا استثناء کیا جائے، جس سے خرید نے یا بیچنے والے کو کوئی اور کسی قسم کا نقصان لاحق نہ ہو، تو اس قسم کا استثناء کرنا جائز ہے۔البتہ ایسی کوئی شرط جس سے خریدار کو ملکیت تام حاصل نہ ہو، یا اسے تصرف میں دشواری ہو، مثلاً بیچنے والے نے کہا: میں یہ اونٹ آپ کو بیچ تو رہا ہوں مگر آپ اسے فلاں کو نہیں بیچ سکتے یا فلاں کام نہیں لے سکتے تو یہ جائز نہیں ہے۔
حدیث نمبر:13
جس نے دھوکہ دیادہ ہم میں سے نہیں
عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال من حمل علينا السلاح فليس منا ومن غشنا فليس منا.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: جس نے ہم پر ہتھیار اٹھا یا وہ ہم میں سے نہیں ہے، اور جس نے دھوکہ دیا وہ ہم میں سے نہیں ہے۔
[مسلم:101]،[سنن ابن ماجه:2575]،[مصنف ابن ابی شیبه:28931) ]،[مسنداحمد:8359/9396]،[الادب المفرد:1280]
توضیح:
شریعت کے اصول کے مطابق، خرید نے و بیچنے والے کی رضا مندی، اور سامان و قیمت سب متعین اور معروف ہونا چاہئے، کسی بھی زاویہ سے کسی قسم کا دھوکہ نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ دھوکہ سے نقصان ہوتا ہے، اور نفرت بھی پیدا ہوتی ہے، مگر بہت سے دکاندار سامان میں دھوکہ دے دیتے ہیں، جس سے خریدار کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ سامان میں دھوکہ دینے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، ایک تو یہ کہ سامان میں کوئی عیب ہے جسے دکاندار بتاتا نہیں بلکہ چھپا کر بیچ دیتا ہے، دوسرے یہ کہ سامان ڈھیر کی شکل میں ہے، اوپر معیاری اور اچھا ہے، مگر نیچے غیر معیاری اور گھٹیا ہے، اوپر کا مال دیکھ کر بیع طے ہوئی اور اس نے اندر سے گھٹیا مال تول کر دھوکہ دے دیا، بہر حال خرید و فروخت یا کسی بھی معاملہ میں اگر کوئی شخص دھوکہ دیتا ہے، تو ایسے دھو کہ باز کو رسول اللہﷺ نے فرمایا کہ وہ ہم میں سے نہیں ہے، اس سخت وعید کے باوجود بہت سے دکاندار دھوکہ بازی کو کمال فن سمجھتے ہیں، اور عیب چھپا کر سامان کو بیچ دینے کو اپنی ہنرمندی سمجھتے ہیں، جبکہ یہ دھوکہ بازی کا فعل شرعی اور سماجی ہر اعتبار سے قبیح، اور برا سمجھا جاتا ہے، جس کے نتائج عند اللہ تو برے ہوں گے ہی اس دنیا میں بہت سی ایسی مثالیں ملیں گی کہ ایک دکاندار کی دکانداری خوب چمکی مگر اس کی دھوکہ بازی رنگ لائی، اور اس طرح اس کی دکانداری بند ہوئی کہ لوگوں کے لئے سامان عبرت بن گئی ، اس لئے دھوکہ باز دکاندار کو دھو کہ بازی سے باز آنا چاہئے ، نہ کہ اسے فن سمجھ کر اس پر فخر کرنا چاہئے، کیونکہ جب ہر برے عمل کا انجام برا ہوتا ہے، تو دھو کہ بازی کا انجام کیوں کر اچھا ہوگا ؟
حدیث نمبر:14
بیع نجش ممنوع ہے
عن ابن عمر الله أن رسول الله ﷺ نهى عن النجش.
ترجمه:حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ نبیﷺ نے(بیع)نجش سے منع فرمایا۔
[بخاری:2142/6924]،[مسلم:1516]،[سنن النسائی:4509]،[سنن ابن ماجہ:2173]
توضیح:
بیع نجش کہتے ہیں دھوکہ دینے کے لئے قیمت بڑھانا،(یعنی) بعض دکاندار کسی بھی شخص سے ساز باز کر لیتے ہیں، کہ جب کوئی خریدار آئے گا تو اسے دیکھ کر وہ بھی آجائے گا، اور خریدار جب سامان کی قیمت لگائے گا، تو اس سے زیادہ قیمت وہ لگائے گا، جس سے خریدار دھو کہ میں آجائے گا، اور سامان زیادہ قیمت پر خرید لے گا، بعد میں اسے معلوم ہو گا کہ بازار میں اس سامان کی قیمت تو کم ہی ہے مگر وہ خریدنے میں دھو کہ کھا گیا۔بازار میں بہت سے دکاندار اپنا ایجنٹ(دھوکہ دینے کے لئے)رکھتے ہیں، جو سامان کی قیمت، خریدنے کے لئے نہیں بلکہ صرف دھوکہ دینے کے لئے بڑھاتےہیں۔ اس طرح دھو کہ دینا جائز اور درست نہیں، نبی کریمﷺ نے فرمایا:کہ(الخديعة في النار،من عمل عملا ليس عليه أمرنا فهو رد)۔ یعنی دھو کہ جہنم میں لے جائے گا، اور جو کوئی ایسا کام کرے جس کا ہم نے حکم نہیں دیا تو وہ مردود ہے۔ بیع نجش سراسر دھوکہ ہے، اور دھو کہ جرم عظیم ہے، جس کا بدلہ جہنم کے سوا کچھ نہیں ہے، حضرت ابن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ(الناجش: آكل ربا خائن) یعنی نجش کر نے والا سود خور کی طرح خائن ہے۔
حدیث نمبر:15
جسے بیع میں دھو کہ ہو جایا کرے اسے کیا کرنا چاہئے
عن ابن عمر رضي الله عنهما يقول ذكر رجل لرسول اللهﷺ أنه يخدع في البيوع فقال رسول اللهﷺ من بايعت فقل لا خلابة فكان إذا بايع يقول لا خيابة.
ترجمه:حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، رسول اللہﷺ کے سامنے ایک ایسے شخص کا ذکر ہوا جسے بیع میں دھو کہ ہو جاتا ہے، رسول اللہﷺ نے اس شخص سے کہا: جب تم بیع کرو تو کہہ دیا کرو کہ دیکھو مجھے دھوکہ مت دینا (یعنی اگر تم مجھ کو دھو کہ دو گے تو بیع لازم نہیں ہوگی) پھر وہ شخص جب بیع کرتا تو کہتا کہ مجھے دھوکہ مت دینا۔
[بخاری:2407/2414]،[مسلم:1533]،[سنن ابی داؤد:3500]،[سنن النسائی:4484]،[مؤطا امام مالک:98]
توضیح:
خرید و فروخت کا تجربہ ہر شخص کو نہیں ہوتا، اس لئے جو نا تجربہ کار ہیں وہ دھوکہ کھا جاتے ہیں، تاجر کی ایمانداری کا تقاضہ ہے کہ وہ دھوکہ نہ دے، چاہے خریدار تجربہ کار ہو یا نا تجربه کار، رسول اللہﷺ نے اسی لئے خریدار کو ہدایت دی ہے، کہ جب خریدکرے تو کہہ دے کہ بھائی دھو کہ مت دینا، تا کہ یہ کہنے کے بعد بھی اگر دھو کہ دیدے تو سامان واپس کیا جاسکے، کیونکہ شریعت یہ نہیں چاہتی کہ کسی کو کسی طرح سے کوئی نقصان ہو چاہے وہ نا تجربہ کار ہو یا کم عقل، بیشتر ایسا ہی ہوتا ہے کہ تاجر ناتجربہ کاری، اور کم عقلی کا غلط فائدہ اٹھانے کی غلط کوشش کرتے ہیں، جو بظاہر نفع بخش معلوم ہوتی ہے مگر حقیقت میں گھاٹے کا سودا ہے۔
حدیث نمبر:16
مشتبہ چیزوں سے، پر ہیز کرنا چاہئے
عن النعمان بن بشير, قال قال النبي ﷺ: الحلال بين والحرام بين وبينهما أمور مشتبهة فمن ترك ما شبه عليه من الإثم كان لما استبان أترك ومن اجترأ على ما يشك فيه من الإثم أو شك أن يواقع ما استبان و المعاصي حمى الله من يرتع حول الحمى يوشك أن يواقعه.
ترجمه:حضرت نعمان بن بشیر سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: حلال(صاف صاف)واضح ہے اور حرام بھی (صاف صاف) واضح ہے، اور ان دونوں کے بیچ میں کچھ ایسی چیزیں ہیں جو دونوں طرف ملتی جلتی ہیں، جس نے اس چیز کو چھوڑ دیا، جس کے گناہ ہونے میں شبہ ہو تو وہ صاف صاف گناہ کو ضرور چھوڑ دیگا، اور جس نے شبہ کی چیز پر دلیری کی تو وہ قریب ہے کہ صاف صاف حرام میں بھی پھنس جائیگا، اور گناہ اللہ کی چراگاہ ہے، جو چرا گاہ کے آس پاس چرائیگا وہ چراگاہ میں گھسنے کے قریب ہوگا۔
[بخاری:2051]،[مسلم:1599]،[سنن ابی داؤد:3329]،[ترمذی:1205]،[نسائی:5713]،[ابن ماجه:3984]
توضیح:
اس حدیث کو امام بخاری نے کتاب البیوع کے اندر ذکر کر کے بتانا چاہا ہے، کہ جس طرح دیگر چیزوں میں حلال و حرام اور مشتبہ چیزیں ہوتی ہیں، اسی طرح خرید و فروخت کے اندر بھی،اس لئے خرید و فروخت میں محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔کیونکہ جو شخص مشتبہ چیزوں کی خرید و فرخت کرے گا ،وہ آہستہ آہستہ عادی ہو جائے گا، اس کے دل سے حلت و حرمت کا احساس ختم ہو جائے گا، اور پھر وہ حرام چیزوں کی خرید و فروخت بڑی جسارت کے ساتھ کرنا شروع کرے گا۔ اور جو شخص حرام چیزوں کی خرید وفروخت،اور اسے استعمال کریگا، اور اس سے اپنے اہل وعیال کی پرورش و پرداخت کریگا، اس کی دنیا و آخرت دونوں ہی تباہ و برباد ہوگی، اور ایک مومن کا اس سے بڑا گھاٹے کا سودا کیا ہو سکتا ہے کہ اس کی دنیا و آخرت خراب ہو۔
حدیث نمبر:17
جو شخص حلال و حرام کی پرواہ نہ کرے وہ مذموم ہے
عن أبي هريرة عن النبيﷺ قال: يأتي على الناس زمان لا يبالي المرء ما أخذ منه أمن الحلال أم من الحرام.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ روایت کرتے ہیں کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا: لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آئے گا، کہ پرواہ نہیں کریں گے کہ حلال کمایا یا حرام کمایا۔
[بخاری:2059/2083]،[نسائی:4459]،[مسند ابن الجعد:2841]،[مسنداحمد:9620/9838/10563]،[دارمی:2578[السنن الکبری للنسائی:5998]،[صحیح ابن حبان:6736]
توضیح:
اسلام میں ہر حلال چیز قابل قدر ہے، اور ہر حرام چیز قابل مذمت، اسی لئے حلال چیز استعمال کرنے والے بھی قابل قدر ہوتے ہیں۔اور حرام چیز استعمال کرنے والے قابل مذمت ہوتے ہیں، رسول اللہﷺ اور صحابہ کرام کی حیات طیبہ حلال کے استعمال کی سچی تصویر ہے۔ اللہ اور اس کے رسولﷺ پر ایمان رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے کہ حلال استعمال کو ہی اپنا شیوہ بنائیں، خصوصاً اس دور میں جب لوگوں کے دلوں سے حلت و حرمت کا تصور ختم ہو جائے گا، اور لوگ حلال و حرام کی پرواہ نہیں کریں گے۔ تب حتی المقدور محتاط رہنا اور حرام سے پر ہیز کر کے حلال چیزوں کا استعمال کرنا ہی ضروری ہوگا، جو اگر چه مشکل معلوم ہوگا لیکن جو شخص جیسی روزی تلاش کریگا، اور جیسا کھانا چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کے لئے اس کو آسان کر دے گا ، اس لئے اگر ایک مومن عزم مصم کر لے کہ مجھے حلال ہی کھانا ہے تو اللہ رازق ہے اسے حلال روزی ضرور دیگا۔(إِنَّ اللَّهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِينَ)،(الذاريات:8)
جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اور اس کی حرام کردہ چیز سے پر ہیز کرتا ہے، ایسے شخص کو اللہ تعالی اس طرح رزق دیتا ہے کہ وہ گمان بھی نہیں کر سکتا ہے، (ومن يتق الله يجعل له مخرجا ويرزقه من حيث لا يحتسب: اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے، اللہ اس کے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے، اور اسے ایسی جگہ سے روزی دیتا ہے، جس کا اسے گمان بھی نہ ہو۔(سورة الطلاق:3/2)
بر خلاف اس کے جو لوگ حرام میں ملوث ہوتے ہیں، ان کے لئے شیطان حرام کو اس قدر آراستہ، اور مزین کر دیتا ہے کہ اسے روزی روٹی کا اس سے اچھا کوئی ذریعہ ہی نہیں سمجھ میں آتا۔
حدیث نمبر:18
کسی کے دام پر دام لگانا درست نہیں
عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ نهى أن يستام الرجل على سوم أخيه.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے رسول اللہﷺ منع فرمایا ہے کہ ایک آدمی اپنے بھائی کے بھاؤ پر بھاؤ کرے۔
[مسلم:1515]،[ابن ماجه:2172]،[مسنداسحاق بن راھویہ:226]،[مسنداحمد:9959/9899]
توضیح:
مذکورہ روایت کی وضاحت کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ لکھتے ہیں، کہ جب سامان کا مالک اور اس کو خریدنے کا خواہش مند خرید و فروخت پر متفق ہو جائیں، اور ابھی بیع نہیں ہوئی ہے کہ تیسرا آدمی کہے کہ یہ سامان میں خریدوں گا، تو ایسا کرنا حرام ہے۔اس طرح بایع ومشتری کے بیع پر رضامند ہونے کے بعد تیسرے شخص کی مداخلت سے آپس میں نزاع اور دشمنی پیدا ہوگی، جو دشمنی دو فرد سے بڑھ کر دو خاندان تک کے پہنچے گی، اور پھر دو خاندان سے دو محلہ تک پہنچ سکتی ہے، جس سے اسلامی معاشرہ کا شیرازہ بکھرجائے گا، اور جن لوگوں کو آپس میں شیر و شکر کی کی طرح رہنا چاہئے، ایک شخص کی معمولی غلطی کی وجہ سے آپس میں برسر پیکار ہو جائیں گے۔ اس لئے شریعت میں ان تمام امور کو حرام کر دیا، جو آپس کی نزاع، اختلاف یا دشمنی کا باعث ہو سکتے ہیں۔اگر دام پر دام لگانے سے ایک طرف آپس میں عداوت اور دشمنی پیدا ہوگی تو دوسری طرف اس کا نقصان یہ ہوگا کہ بازار میں اشیاء کی قیمتوں کا اضافہ ہوگا، جس کا نقصان معاشرے کے ہر فرد کو بھگتنا ہو گا جب کہ تاجر کو کمانے کے مواقع ہاتھ لگیں گے۔
حدیث نمبر:19
کسی شخص کی بیع پر بیع نہیں کرنا چاہئے
عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال: لا يبيع بعضكم على بيع بعض.
ترجمه:حضرت عبد اللہ ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: کوئی تم میں سے دوسرے کی بیع (خرید و فرخت) پر بیع نہ کرے۔
[بخاری:2165]،[مسلم:1515/2563]،[سنن ابی داؤد:3437]،[سنن الترمذی:1134]،[سنن النسائی:4496]،[سنن ابن ماجہ:2172]
توضیح:
ایک دوسرے کی بیع پر بیع کرنے کی شکل یہ ہے کہ ایک شخص دوسرے سے کہے کہ تم نے جو چیز خریدی ہے اسے واپس کر دو، میں ویسی ہی چیز اس سے سستی دیتا ہوں۔ یا اس سے عمدہ چیز اسی قیمت پر خرید دیتا ہوں، اور یہ حرام ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ بائع سے کہے کہ تم نے جو سامان فلاں کو بیچا ہے، اسے واپس لے لو میں اس سے زیادہ قیمت پر خرید لوں گا، اور یہ حرام ہے۔کیونکہ خریدنے یا بیچنے والے کو اس طرح بھڑکانے سے دونوں یا ان میں سے کسی ایک کو نقصان پہنچنے کا پورا امکان ہے، نیز اس کام سے نفرت اور دوریاں پیدا ہوں گی، اس لئے شریعت نے اس گھناؤنی حرکت سے روک دیا۔
حدیث نمبر:20
تولے بغیر نہ نیچو
عن أبي هريرة أن رسول الله ﷺ قال من اشترى طعاما فلا يبعه حتى يكتاله.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺنے فرمایا:کہ جو شخص غلہ خریدے تو اسے نہ بیچے یہاں تک کہ ناپ لے۔
[مسلم:1525/1528]،[ابوداؤد:3496]،[النسائی:4601]،[ابن ابی شیبہ:21340]،[السنن الكبرى للنسائی:6145]،[السنن الکبری للبیہقی:10686]
توضیح:
شریعت نے اس بات کو ملحوظ رکھا ہے کہ شعوری یا غیر شعوری طور پر کسی سے کسی کو نقصان نہ ہونے پائے ، اس لئے احتیاط کے مقام پر احتیاط کو لازم کر دیا ہے، اگر کوئی شخص غلہ خریدے تو اسے چاہئے کہ جب وہ خود بیچے تو اسے تول لے، جس تول پر اس نے خریدا ہے اس تول پر نہ بیچے، کیونکہ اگر پہلی مرتبہ تول کر بیچنے والے سے تو لنے میں دکاندار کوئی غلطی اور چوک ہوئی ہوگی، تو اب اس کا نقصان دوسرے خریدار کو ہوگا، اور اگر اس سے وزن کے کم ہونے کی شکایت کی جائے گی تو یہ کہہ کر بچ جانے کی کوشش کریگا کہ مجھے جتنا ملا میں نے آپ کو دے دیا۔ میں نے اس میں کچھ بھی کمی یا زیادتی نہیں کی، پہلے دکاندارسے دوسرا خریدار شکایت کر نہیں سکتا کیونکہ بیچ میں واسطہ ہونے کی وجہ سے وہ صاف کہہ دے گا،کہ میں نے آپ کو نہ بیچا ہے اور نہ میرا آپ سے کوئی تعلق ہے۔ اس لئے آپ نے جس سے خریدا ہے اس سے شکایت کرو مجھ سے نہیں، اس طرح شعوری یا غیر شعوری طور پر خریدار کو نقصان برداشت کرنا پڑیگا، اس لئے اگر سامان تو لنے، ناپنے یا گننے کا ہے، تو سامان تول، ناپ یا گن کر ہی بیچنا چاہئے پہلے ناپ تول یا گنتی پر بھروسہ نہیں کرنا چاہئے، کیونکہ غلطی کسی بھی شخص سے ہو سکتی ہے۔
حدیث نمبر:21
کس قسم کی ذخیرہ اندوزی ممنوع ہے
عن يحيي وهو ابن سعيد قال كان سعيد بن المسيب يحدث أن معمرا قال قال رسول الله ﷺ من احتكر فهو خاطي فقيل لسعيد فإنك تحتكر قال سعيد إن معمرا الذي كان يحدث هذا الحديث كان يحتكر.
ترجمه:یحیی بن سعید سے روایت ہے، سعید بن المسیب روایت کرتے تھے، کہ معمر حدیث بیان کرتے تھے، کہ رسول اللهﷺنے فرمایا: جو کوئی ذخیرہ اندوزی کریگا وہ گنہگار ہے، لوگوں نے سعید بن المسیب سے کہا کہ تم خود ذخیرہ اندوزی کرتے ہو، انھوں نے کہا معمر جنھوں نے یہ حدیث بیان کی ہے، وہ خود ذخیرہ اندوزی کرتے تھے۔
[مسلم:1605]،[ابوداؤد:3447]،[ ترمذي:1367]،[ابن ماجه:2154]،[ابو داؤد الطیالسی:1280]،[مصنف عبد الرزاق:14889]
توضیح:
مذکورہ حدیث کی وضاحت کرتے ہوئے امام نووی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ عام غذا کی چیز میں جس کی بازار میں قلت ہو اور کوئی شخص اسے خرید کر جمع کرے،کہ اسے بعد میں بیچے گا اور اس سے زیادہ نفع کمائے گا، تو ایسا کرنا کسی کے لئے جائز نہیں ہے، اگر خود استعمال کرنے کے لئے خریدے تو جائز ہے۔ اگر بازار میں کسی چیز کی فراوانی ہو تو پھر جتنا چاہیں خرید کر رکھ سکتے ہیں۔ غذا کے علاوہ دوسری چیزوں میں ذخیرہ اندوزی کا کوئی مسئلہ نہیں۔غذا میں ذخیرہ اندوزی سے منع کرنے میں حکمت یہ ہے کہ عام لوگوں کو ضرر سے محفوظ رکھا جا سکے، کیونکہ جس چیز کی بازار میں قلت اور عام لوگوں کو ضرورت ہوگی اگر تاجر حضرات اس کی ذخیرہ اندوزی کرنے لگیں گے تو بازار میں قلت بڑھ جائے گی، اور جوں جوں قلت بڑھے گی اس چیز کی قیمت بھی بڑھتی جائے گی ، اور جب قیمت بڑھے گی تو عام لوگوں کو نقصان ہوگا اور خاص لوگوں یعنی تاجروں کا نفع بڑھے گا، اس طرح مالدار زیادہ مالدار ہوتا جائے گا اور غریب غریب تر ہو جائے گا جو معاشرے میں نفرت، عداوت اور مختلف قسم کی بیماریوں کو جنم دیگا۔
حدیث نمبر:22
خریدوفروخت میں باطل شرط لگانا جائز نہیں
عن عائشة رضي الله عنها، قالت: جاءتني بريرة، فقالت: كاتبت أهلي على تسع أواق في كل عام وقية فأعينيني، فقلت: إن أحب أهلك أن أعدها لهم ويكون ولاؤك لي، فعلت، فذهبت بريرة إلى أهلها، فقالت لهم: فأبوا ذلك عليها، فجاءت من عندهم ورسول الله صلى الله عليه وسلم جالس، فقالت: إني قد عرضت ذلك عليهم فأبوا، إلا أن يكون الولاء لهم، فسمع النبي صلى الله عليه وسلم، فأخبرت عائشة النبي صلى الله عليه وسلم، فقال: خذيها واشترطي لهم الولاء، فإنما الولاء لمن أعتق، ففعلت عائشة، ثم قام رسول الله صلى الله عليه وسلم في الناس، فحمد الله وأثنى عليه، ثم قال: أما بعد، ما بال رجال يشترطون شروطا ليست في كتاب الله، ما كان من شرط ليس في كتاب الله فهو باطل، وإن كان مائة شرط ، قضاء الله أحق، وشرط الله أوثق،وإنما الولاء لمن أعتق.
ترجمہ:سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ میرے پاس بریرہ رضی اللہ عنہا (جو اس وقت تک باندی تھیں) آئیں اور کہنے لگیں کہ میں نے اپنے مالکوں سے نو اوقیہ چاندی پر کتابت کر لی ہے۔ شرط یہ ہوئی ہے کہ ہر سال ایک اوقیہ چاندی انہیں دیا کروں۔ اب آپ بھی میری کچھ مدد کیجئے۔ اس پر میں نے اس سے کہا کہ اگر تمہارے مالک یہ پسند کریں کہ یک مشت ان کا سب روپیہ میں ان کے لیے (ابھی) مہیا کر دوں اور تمہارا ترکہ میرے لیے ہو تو میں ایسا بھی کر سکتی ہوں ۔ بریرہ رضی اللہ عنہا اپنے مالکوں کے پاس گئیں۔ اور عائشہ رضی اللہ عنہا کی تجویز ان کے سامنے رکھی۔ لیکن انہوں نے اس سے انکار کیا، پھر بریرہ رضی اللہ عنہا ان کے یہاں واپس آئیں تو رسول اللہ ﷺ (عائشہ رضی اللہ عنہا کے یہاں) بیٹھے ہوئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ میں نے تو آپ کی صورت ان کے سامنے رکھی تھی مگر وہ نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ ترکہ تو ہمارا ہی رہے گا۔ نبی کریمﷺنے یہ بات سنی اور عائشہ رضی اللہ عنہا نے بھی آپ کو حقیقت حال سے خبر کی۔ تو آپ ﷺنے فرمایا کہ بریرہ کو تم لے لو اور انہیں ترکہ کی شرط لگانے دو۔ ترکہ تو اسی کا ہوتا ہے جو آزاد کرئے۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ایسا ہی کیا۔ پھر نبی کریمﷺاٹھ کر لوگوں کے مجمع میں تشریف لے گئے اور اللہ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا، امابعد! کچھ لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ وہ (خرید و فروخت میں) ایسی شرطیں لگاتے ہیں جن کی کتاب اللہ میں کوئی اصل نہیں ہے۔ جو کوئی شرط ایسی لگائی جائے جس کی اصل کتاب اللہ میں نہ ہو وہ باطل ہو گی۔ خواہ ایسی سو شرطیں کوئی کیوں نہ لگائے۔ اللہ تعالیٰ کا حکم سب پر مقدم ہے اور اللہ کی شرط ہی بہت مضبوط ہے اور ولاء تو اسی کی ہوتی ہے جو آزاد کرے۔
[بخاری:2168/2561]،[مسلم:1504]،[ابوداود:3929]،[سنن ترمذی:2125]،[سنن النسائی:4647]،[ابن ماجه:2521]،[موطاامام مالک:17]
توضیح:
مبیع (سامان) اور ثمن (قیمت) دونوں معلوم ہوں اور بائع (بیچنے والا) اور مشتری (خریدار) آپس کی رضا مندی کے ساتھ ایجاب و قبول کر لیں تو بیع مکمل ہو جاتی ہے، اس بیع میں طرفین میں سے کوئی بھی زائد شرط لگائے تو بیع تو ہو جائے گی لیکن وہ شرط لغو مانی جائے گی، کیونکہ اگر کوئی شخص شرط لگائے اگر چہ سیکڑوں مرتبہ ہو تو تب بھی شرط کے غلط اور نا جائز ہونے کی وجہ سے وہ غیر معتبر قرار دی جائے گی ۔ مثلاً ایک کتاب ہے اس کے مالک زید نے عمرو کو سور و پیہ کے عوض اپنی رضامندی سے بیچ دیا، اور یہ شرط لگا دیا کہ دیکھو یہ کتاب تو میں بیچ رہا ہوں مگر اس شرط کے ساتھ کہ جب مجھے اس کتاب کی ضرورت ہو گی آپ کو دینا ہو گا۔ کتاب کو ضرورت کے وقت دینے کی شرط باطل ہے، اس لئے عمرو کتاب کا مالک تو ہو جائے گا مگر وہ اس بات کا مکلف نہیں ہوگا کہ جب بھی زید کتاب کا مطالبہ کرے تو عمرو اس کو کتاب دے، اسی طرح بیچ میں کوئی باطل شرط معتبر نہیں ہوگی چاہے وہ بیچنے والے کی طرف سے ہو یا خریدنے والے کی طرف سے۔
حدیث نمبر:23
شراب، مردار، خنزیر اور بتوں کا بیچنا حرام ہے
عن جابر بن عبد الله رضي الله عنه، أنه سمع رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول عام الفتح وهو بمكة: إن الله ورسوله حرم بيع الخمر، والميتة، والخنزير، والأصنام، فقيل: يا رسول الله، أرأيت شحوم الميتة؟ فإنها يطلى بها السفن، ويدهن بها الجلود، ويستصبح بها الناس، فقال: لا هو حرام، ثم قال رسول الله صلى الله عليه وسلم عند ذلك: قاتل الله اليهود، إن الله لما حرم شحومها جملوه، ثم باعوه فأكلوا ثمنه،
ترجمہ:جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے کہ انہوں نے رسول اللہﷺ سے سنا، فتح مکہ کے سال آپﷺنے فرمایا، آپ کا قیام ابھی مکہ ہی میں تھا کہ اللہ اور اس کے رسول نے شراب، مردار، سور اور بتوں کا بیچنا حرام قرار دے دیا ہے۔ اس پر پوچھا گیا کہ یا رسول اللہ! مردار کی چربی کے متعلق کیا حکم ہے؟ اسے ہم کشتیوں پر ملتے ہیں۔ کھالوں پر اس سے تیل کا کام لیتے ہیں اور لوگ اس سے اپنے چراغ بھی جلاتے ہیں۔ آپﷺنے فرمایا کہ نہیں وہ حرام ہے۔ اسی موقع پر آپﷺنے فرمایا کہ اللہ یہودیوں کو برباد کرے اللہ تعالیٰ نے جب چربی ان پر حرام کی تو ان لوگوں نے پگھلا کر اسے بیچا اور اس کی قیمت کھائی۔
[بخاری:2236]،[مسلم:1581]،[ابوداؤد:3486]،[ترمذی:1397]،[نسائی:4261/4673]،[ابن ماجه:2167]
توضیح:
دین اسلام نے جس طرح شراب پینے کو حرام کر دیا ہے، اسی طرح اس کے خرید نے، بیچنے اور اس کے بنانے وغیرہ میں کسی قسم کے تعاون کو نا جائز قرار دیا ہے۔ کیونکہ کسی قسم کے جرائم سے روکنے کے لئے ضروری ہے، کہ اس کی مکمل بیخ کنی کی جائے تاکہ معاشرہ سے اس کی جڑیں ختم ہو جائیں، انسان اور انسانیت کا فائدہ بھی اسی میں مضمر ہے، رہے، بر خلاف اس کے جمہوریت میں جڑیں محفوظ رکھی جاتی ہیں، تا کہ حکومت کو فائدہ پہنچتارہے، چاہے انسانیت کو اس کے ذریعہ جتنا بھی نقصان ہو، یہی وجہ ہے کہ ایک طرف حکومت شراب نوشی کے نقصانات بتانے کے لئے اشتہار کے مختلف ذرائع استعمال کرتی ہے، پینے والوں کو سزا اور جرمانہ کا مستحق قرار دیتی ہے، اور دوسری طرف شراب بنانے اور یا بیچنے کے لئے لائسنس بھی دیتی ہے۔مردار کی بھی خرید و فروخت اسی طرح حرام ہے جس طرح اس کا استعمال جیسا کہ مذکورہ حدیث میں اس کی وضاحت ہے، مگر افسوس کہ اس قدر واضح ہدایت کے باوجود بعض مسلمان جانوروں کے مرنے کے بعد اسے کم سے کم قیمت پر غیر مسلموں کو بیچ کر اس سے فائدہ اٹھاتے ہیں، اور اس کی غلط تاویل کرتے ہیں، کہ ہم نے تو غیر مسلموں کو بیچا ہے اور اس کے نزدیک مردار کی حلت و حرمت کا کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ رسول اللہﷺ نے جب مردار کی چربی کو استعمال کرنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کی اجازت نہیں دی تو نفس مردارسے فائدہ اٹھانے کی اجازت کیسے ممکن ہے۔جانوروں میں خنزیر بے حیا اور بے شرم جانور ہے، اسے اپنی ماں اور بیٹی کے ساتھ بھی جفتی کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں، جبکہ عام جانور ایسے نہیں ہوتے ، اس جانور کی اس بے حیائی کا اثر اسے بطور غذا استعمال کرنے والوں پر براہ راست پڑتا ہے، اور معاشرہ تباہ ہو جاتا ہے، یورپ اور امریکہ اس کی زندہ مثالیں ہیں، جن کے وہاں جنسی بے راہ روی گناہ اور جرم نہیں بلکہ فیشن ہو چکا ہے، شریعت اسلامیہ کے اس حرام کردہ جانور کی حرمت کے اسباب کا سمجھنا عصر حاضر میں آسان ہو چکا ہے، ترقی یافتہ ملکوں کی تہذیبی و تمدنی شکست و ریخت کو اس تناظر میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ہندوستان کی آبادی کا بیشتر حصہ مشرکین پر مشتمل ہے، جن کے وہاں ہزاروں بتوں کی پوجا ہوتی ہے، بتوں کی اس پوجا نے آزری پیشہ کو صنعت کا درجہ دے دیا، جس صنعت کو تقدس کے نام پر فروغ ہوا، اور جسے مسلمانوں نے بھی اپنی روزی روٹی کا ذریعہ بنایا، اور یہ بھول گئے کہ ہم کو بت گری نہیں بلکہ بت شکنی کرنے کا حکم ہے۔تقریبا ہر سال غیر مسلموں کے تہوار کے موقع پر اخبارات میں ایسی تصویریں شائع ہوتی ہیں جن میں مسلمانوں کو بت گری اور بت سازی کرتے ہوئے دکھلایا جاتا ہے، جسے ہندو مسلم رواداری اور ہم آہنگی کا نام دے کر ہندوستانی جمہوریت اور ہندوستانی عوام کی شان قرار دیا جاتا ہے، خبروں سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جو لوگ صنعت بت گری کو ذریعہ معاش بنائے ہوئے ہیں انھیں بھی احساس تقدس اور فخر ہے، اور وہ بھول جاتے ہیں کہ اسلام نے رواداری اور ہم آہنگی کے تمام دروازے اگر چہ کھلے رکھے ہیں مگر شریعت اسلامیہ کے دائرہ میں کسی ایسی رواداری اور ہم آہنگی کی کوئی گنجائش نہیں، جس سے توحید پر آنچ آئے، چہ جائیکہ بت گری کو ہی ذریعہ معاش بنالیا جائے، جسے صراحت کے ساتھ ناجائز و حرام قرار دے کر اس کی خرید و فروخت سے منع کر دیا گیا ہے۔
حدیث نمبر:24
غیر موجود مال کا بیچنا منع ہے
عن حكيم بن حزام قال أتيت رسول الله ﷺ قلت يأتيني الرجل يسألني من البيع ما ليس عندي أبتاع له من السوق ثم أبيعه قال لا تبع ما ليس عندك.
ترجمه:حضرت حکیم بن حزام روایت کرتے ہیں کہ میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور کہا، کہ ایک شخص مجھ سے ایسی چیز خریدنا چاہتا ہے جو میرے پاس نہیں ہے تو کیا میں اس کے لئے بازار سے خریدوں پھر اس کو بیچ دوں آپ نے فرمایا جو تمہارے پاس نہ ہوا سے مت بیچو۔
[ابوداؤد:3503]،[ترمذی:1232]،[نسائی:4613]،[ابن ماجه:2187]،یہ حدیث صحیح ہے ملاحظہ ہو[ارواء الغلیل:1392]
توضیح:
خرید و فرخت کا طریقہ یہ ہے کہ سامان اور قیمت دونوں معلوم اور معروف ہونا چاہئے، ان میں سے کوئی مجہول یا غیر معروف نہیں ہونا چاہئے، کیونکہ کسی ایک کے بھی مجہول ہونے کی صورت میں خرید و فرخت کرنے والوں کے درمیان جھگڑا اور نزاع پیدا ہو سکتا ہے، جب سامان اور قیمت کا معلوم ہونا ضروری ہے، تو پھر ایسے سامان کو دکاندار کیسے بیچ سکتا ہے جو اس کے پاس موجود ہی نہیں ہے، اگر غیر موجود سامان کو بیچتا ہے، تو اس میں مختلف خرابیاں لازم آتی ہیں، ایک تو یہ کہ اگر دکاندار نے اس امید پر پیچ دیا کہ میں سامان خرید کر حوالہ کردوں گا اور اسے سامان نہ ملا تو وعدہ خلافی ہوگی، دوسرے یہ کہ اگر سامان ملا مگر جیسے سامان کی بیچ ہوئی تھی ویسا نہیں ہے اور خریدار نے لینے سے انکار کر دیا تو بھی جھگڑے کا باعث ہے، ایک مشکل یہ بھی ہو سکتی ہے۔ کہ جو سامان دکاندار کہیں سے لا کر دے رہا ہے، اس سامان کے متعلق دکاندار کا کہنا ہے کہ یہ سامان ویسا ہی ہے جیسا آپ نے کہا تھا، مگر خریدار کہتا ہے کہ جیسے سامان کی بات چیت ہوئی تھی ویسا نہیں ہے، اس لئے میں نہیں لے سکتا ، اب انکار کی صورت میں نزاع بھی پیدا ہو سکتا ہے اور دکاندار کا نقصان بھی ہو سکتا ہے۔
حدیث نمبر:25
تھن میں دودھ روکی ہوئی بکری کا خرید نا یا بیچنا
عن أبي هريرة قال قال رسول الله ﷺ من اشترى شاة مصراة فلينقلب بها فليحلبها فإن رضي حلابها أمسكها و إلا ردها ومعها صاع من تمر.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ جو شخص تھن میں روکی ہوئی بکری خرید کر لے گیا ، پھر اس کا دودھ دوہا ، تو اگر اس کا دودھ پسند آئے تو رکھ لے ،نہیں تو بکری واپس کر دے اور (دودھ کے بدلے) ایک صاع کھجور واپس کرے۔
[بخاری:2151]،[مسلم:1524]،[ابوداؤد:3444]،[ترمذی:1251]،[نسائی:4493]،[ابن ماجه:2239]
توضیح:
تھن میں دودھ روکنے والے نے دودھ روک کر خریدار کو دھوکہ دیا ہے، اور دھو کہ دینا جائز نہیں ہے، اس لئے دھو کہ کھانے والے کو اختیار دیا گیا ہے، کہ اس دھوکہ کےبعد تم کو لینے اور نہ لینے کا پورا اختیار ہے، اگر چاہو تو اس جانور کو رکھ لو اگر واپس کرنا چاہو تو واپس کر دو، مگر جس طرح نقصان سے محفوظ رکھنے کے لئے اسے اختیار دیا گیا ہے، اسی طرح فروخت کرنے والے کو بھی نقصان سے بچانے کے لئے ایک صاع کھجور دینے کا حکم دیا گیا ہے۔جس طرح جانور کے تھن میں دودھ کو روک کر خریدار کو دھوکہ دیا جاتا ہے، اسی طرح بیچے جانے والے جانوروں کو مختلف چیزیں کھلا پلا کر بھی وقتی طور پر فربہ کر دیا جاتا ہے، جسے فربہ سمجھ کر خریدار خرید لیتا ہے، اور اسی اعتبار سے اس کی قیمت ادا کرتا ہے، گھر لانے کے بعد جب ایک دو روز گزر جاتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ یہ جانور تو بہت دبلا پتلا ہے، اسے وقتی طور پر کھلا پلا کر فربہ بنایا گیا تھا۔اگر کسی جانور میں اس طرح دھو کہ دیا جائے، تو اسی طرح دھو کہ کھانے والے کو اس جانور کے رکھنے یا نہ رکھنے کا پورا اختیار ہوگا۔
حدیث نمبر:26
پھلوں کے پختہ ہونے سے پہلے خریدنا یا بیچنا
عن ابن عمر أن رسول الله ﷺ على عن بيع الثمر حتى يبدو صلاحها نهى البائع والمبتاع۔
ترجمه:حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے کہ پھلوں کو (درختوں پر) بیچنے سے، جب تک کہ ان کی صلاحیت (پختگی) ظاہر نہ ہو جائے، بائع کو بیچنے اور خریدار کو خریدنے سے منع فرمایا۔
[بخاری:2194]،[مسلم:1534]،[ابوداؤد:3367]،[نسائی:4523]،[ابن ماجہ:2214]،[مؤطا امام مالک:10]
توضیح:
مختلف روایتوں میں پھلوں کی پختگی کی علامتوں کا بھی ذکر ہے، کہ پھل پختہ ہو کر لال ہو جائے، پھل پختہ ہو کر پیلا ہو جائے، یا کھیت میں لگی ہوئی بالیاں ہیں تو وہ سفید ہو جائیں، اس طرح وہ پھل اور بالیاں اس قدر پختہ اور مضبوط ہو جائیں کہ آفت و مصیبت سے محفوظ ہو جائیں۔جب پھل پختہ اور مضبوط ہو جائیں گے، اور اس کے بعد اس کی خرید و فروخت ہوگی تو خرید نے اور بیچنے والے دونوں نقصان سے محفوظ رہیں گے، برخلاف اس کے غیر پختہ پھلوں کی خرید و فروخت کی صورت میں دونوں میں سے کسی ایک کو نقصان ہو سکتا ہے، اور وہ اس طرح کہ درخت پر غیر پختہ پھل زیادہ ہوں، آندھی اور طوفان بھی نہیں آئے جس کی وجہ سے پھل زیادہ محفوظ رہیں، تو اب بیچنے والا سوچے گا کہ اگر اس وقت میں نے پھلوں کو بیچا ہوتا تو زیادہ قیمت ملتی اس لئے مجھے نقصان ہوا، اسی طرح غیر پختہ پھلوں کے خریدنے کے بعد آندھی آگئی اور زیادہ پھل آندھی کی نذر ہو گئے تو خریدار سوچے گا کہ اگر میں نے ان پھلوں کو پہلے نہ خریدا ہوتا بلکہ پختہ ہونے کے بعد خرید تا تو یہ پھل اور کم قیمت میں ملتا، مجھے اس طرح نقصان نہ اٹھانا پڑتا۔ کھیت میں لگی ہوئی بالی کی بھی صورت حال یہی ہے، اس لئے اسے بھی سفید (پختہ) ہونے سے پہلے خرید و فروخت سے منع فرمایا گیا ہے۔
حدیث نمبر:27
شفعہ کا حق
عن جابر بن عبد الله يقول قال رسول الله ﷺ الشفعة في كل شرك في أرض أو ربع أو حائط لا يصلح أن يبيع حتى يعرض على شريكه فيأخذ أو يدع فإن أبي فشريكم أحق به حتى يؤذنه.
ترجمه:حضرت جابر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ شفعہ ہر ایک مشترکہ مال میں ہے، زمین گھر اور باغ میں، ایک شریک کے لئے یہ درست نہیں کہ اپنا حصہ بچے جب تک کہ دوسرے شریک سے نہ کہہ دے، پھر وہ لے یا چھوڑ دے، اگر وہ انکار کر دے تو دوسرا شریک زیادہ حق دار ہے، یہاں تک کہ اس کو اجازت دیدے۔
[مسلم:1608]،[ابوداؤد:3513]،[نسائی:4650]
توضیح:
ہر شخص چاہتا ہے کہ زندگی سکون سے گزرے سکون سے زندگی گزارنے کے لئے جہاں لوازمات زندگی درکار ہیں، وہیں اس بات کی بھی سخت ضرورت ہوتی ہے کہ پڑوسی سنجیدہ اور با اخلاق ہو کیونکہ غیر سنجیدہ اور بد اخلاق پڑوی سے کبھی کبھی زندگی اجیرن ہو جاتی ہے، اس لئے رسول اللہﷺ نے فرمایا: کہ اگر دو آدمی کسی زمین، گھر یا باغ میں شریک ہوں اور ان میں سے ایک اپنا حصہ بیچنا چاہے تو اسے چاہئے کہ پہلے اپنے شریک سے پوچھ لے، اگر وہ اس کو معقول اور مناسب قیمت پر خریدنا چاہے تو خرید لے، اور اگر خریدنے سے انکار کر دے تو جسے چاہے بیچ دے، اس میں یہ مصلحت مضمر ہے کہ کوئی ایسا پڑوسی نہ آنے پائے جو زندگی بھر کے لئے مصیبت ہو جائے۔ کبھی کبھی بعض لوگ غیر انسانی عمل کا ثبوت دیتے ہوئے بالقصد کسی غیر سنجیدہ ہی کو بیچ دیتے ہیں، تا کہ وہ ہمیشہ ان کے سینہ پر دال دلتا ر ہے، یہ عمل نہایت ظالمانہ اور غیر سنجیدہ ہے، اس سے پر ہیز کرنا چاہئے۔
حدیث نمبر:28
بیع کا توڑنا
عن أبي هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من أقال مسلما أقاله الله عثرته.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا:کہ جو کسی مسلمان کی بیع کو توڑے گا اللہ تعالیٰ اس کو درگزر فرمائے گا۔
[ابوداؤد:3460]،[ابن ماجه:2199]،[مسنداحمد:7431]،[یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو، صحیح الترغیب والترہیب:1758]
توضیح:
ہر شخص ضرورت کے مطابق خرید وفروخت کرتا ہے، مگر کبھی کبھی زندگی میں ایسے مواقع بھی آتے ہیں کہ آدمی بیع کو کسی مجبوری یا ضرورت کی وجہ سے توڑنا چاہتا ہے، اور یہ معلوم ہے کہ جس طرح بیع ، خرید نے اور بیچنے والے کی آپس کی رضا مندی سے ہوتی ہے، اسی طرح بیچ توڑنے کے لئے بھی دونوں کی رضامندی ضروری ہے، کوئی ایک چاہے خریدار ہو یا بیچنے والا تنہا بیع کو توڑنہیں سکتا۔ خریدار کو سامان کی ضرورت نہیں ہے وہ بیع توڑنا چاہتا ہے، بیچنے والے نے بھی خریدار کے ساتھ ہمدردی کا ثبوت دیا اور اس کا تعاون کیا، اس ہمدردی اور تعاون کے صلہ میں قیامت کے دن اللہ تعالی سامان بیچنے والے کی گناہوں کو درگزر فرمائے گا، اور ہر مسلمان کی یہی دلی چاہت ہوتی ہے، کہ اللہ تعالیٰ اس کو معاف فرمادے۔سامان خرید نے پر عام طور پر جو بل ملتی ہے، اس کے نیچے لکھا ہوا ہوتا ہے کہ لگا ہوا سامان واپس نہیں ہوگا ۔ دکاندار بل پر لکھے یا نہ لکھے سامان کی واپسی تو آپس کی رضامندی ہی سے ہوگی لیکن دکاندار کو اپنے بھائی کے لئے اتنی وسعت تو رکھنی ہی چاہئے، کہ اگر سامان واپس کرنے کی ضرورت ہو تو واپس کیا جائے، اور اللہ تعالیٰ کی درگزری کا امیدوار ہوا جائے۔
حدیث نمبر:29
بات بیچنے والے کی مانی جائے گی
عن عبد الله بن مسعود قال إني سمعت رسول الله ﷺ يقول إذا اختلف البيعان وليس بينهما بينة و البيع قائم بعينه فالقول ما قال البائع أو يترادان البيع.
ترجمه:حضرت عبد اللہ بن مسعود روایت کرتے ہیں کہ، میں نے سنا رسولﷺ نے فرمایا: جب خرید و فروخت کرنے والے آپس میں اختلاف کر بیٹھیں اور ان دونوں کے پاس کوئی دلیل نہ ہو، اور بیع اپنی حالت پر ہو تو بات بیچنے والے کی مانی جائیگی، یا دونوں آپس میں بیع کو لوٹا دیں گے۔
[ابوداؤد:3511]،[ابن ماجه:2186]،[عبد الرزاق:15185]،[مسنداحمد:4445]یہ حدیث صحیح ہے۔ ملاحظہ ہو [ابن ماجہ:3186]
توضیح:
بیع آپس کی رضامندی سے ہوتی ہے، مگر کبھی کبھی بیع کے بعد آپس میں اختلاف ہو جاتا ہے، بیچنے والا کچھ کہتا ہے، اور خرید نے والا کچھ اور ، مثلاً سامان کی قیمت طے ہو گئی، خریدار نے سامان پر قبضہ کر کے اس کی قیمت دے دی، بیچنے والے نے قیمت لیتےہوئے کہا کہ آپ کم کیوں دے رہے ہیں، قیمت تو اتنی طے ہوئی تھی یا اسی طرح کسی شخص نے قیمت طے کر کے سامان خرید اگر ادھار مہینہ کے بعد جب وہ روپیہ دینے آیا تو دونوں قیمت کے بارے میں اختلاف کر بیٹھے، بیچنے والے کا مطالبہ کچھ ہے اور خریدار کچھ اور دے رہا ہے، یا اسی طرح آپس میں اختلاف کی جو بھی شکل پیدا ہو، اور دونوں میں سے کسی کے پاس کوئی دلیل اور ثبوت نہ ہو، تو اس مسئلہ کا حل اللہ کے رسول ﷺنے یہ فرمایا کہ اس کی دو شکل ہے، اگر سامان موجود ہے تو اس کو لوٹا کر بیع ختم کر دی جائے ، اور اگر نہیں ہے تو ایسی صورت میں بیچنے والے کی بات مانی جائیگی۔
حدیث نمبر:30
دلالی کرنا صحیح نہیں
عن ابن عباس قال نهى رسول الله ﷺ أن تتلقى الركبان وأن يبيع حاضر لباد قال فقلت لإبن عباس ما قوله حاضر لباد قال لا يكن له سمسارا.
ترجمه:حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے، رسول اللہﷺ نے منع فرمایا ہے، کہ سواروں سے (جو دوسرے مقام سے سامان لے کر آئیں) آگے جا کر ملاقات کی جائے، اور منع فرمایا بستی والے کو باہر والے کا سامان بیچنے سے، طاؤس کہتے ہیں کہ میں نے ابن عباس سے پوچھا اس کا کیا مطلب ہے؟ انھوں نے کہا کہ بستی والے کو نہیں چاہئے کہ باہر والے کا دلال بنے۔
[بخاری:2274]،[مسلم:3900]،[عبدالرزاق صنعانی:14870]،[مسنداحمد:3482]،[السنن الكبرى للنسائی:6047]
توضیح:
جب ایک شخص باہر سے سامان لے کر آئے گا تو جس شہر یا بستی میں جائے گا، اپنے سامان پر مناسب نفع رکھ کر بیچے گا، یہ ممکن ہے کہ اس جگہ اس سامان کی قیمت زیادہ ہو اور اسے زیادہ کمانے کا موقع ملے، اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ اپنا سامان مناسب نفع لے کر بیچے اور لوگوں کو کم قیمت پر سامان ملے، یا دکانداروں کو دے تو اس کو کمانے کا اچھا موقع ملے، اسی لئے رسول اللہﷺنے فرمایا: کہ لا يبيع حاضر لباد دعوا الناس يرزق الله بعضهم من بعض. که بستی والا یا باہر والے کا سامان نہ بیچے، چھوڑ دو لوگوں کو اللہ تعالی بعض کو بعض کے ذریعہ روزی دے گا۔اگر کوئی شخص شہر یا بستی میں باہر سے سامان لے کر آئے، اور بیچ میں دلال لگ جائے، تو طرفین کے لئے ممکنہ نفع کا دروازہ بند ہو جائے گا، اس لئے رسول اللہﷺ نے بیچ میں دلال بن کر سامان بیچنے سے منع فرمایا۔ بلکہ ہر ایک کو اپنے حال پر چھوڑ دینے کا حکم دیا، تا کہ ان کے مقدر میں جو کچھ ہے اسے کمائیں اور کھائیں۔
حدیث نمبر:31
کسی کے لئے اس کی اجازت کے بغیر کوئی مفید چیز خریدی جا سکتی ہے
عن ابن عمر رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:” خرج ثلاثة نفر يمشون فاصابهم المطر، فدخلوا في غار في جبل، فانحطت عليهم صخرة، قال: فقال بعضهم لبعض: ادعوا الله بافضل عمل عملتموه، فقال احدهم: اللهم إني كان لي ابوان شيخان كبيران فكنت اخرج فارعى، ثم اجيء فاحلب فاجيء بالحلاب فآتي به ابوي فيشربان، ثم اسقي الصبية واهلي وامراتي، فاحتبست ليلة فجئت فإذا هما نائمان، قال: فكرهت ان اوقظهما والصبية يتضاغون عند رجلي، فلم يزل ذلك دابي ودابهما حتى طلع الفجر، اللهم إن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك، فافرج عنا فرجة نرى منها السماء، قال: ففرج عنهم، وقال الآخر: اللهم إن كنت تعلم اني كنت احب امراة من بنات عمي كاشد ما يحب الرجل النساء، فقالت: لا تنال ذلك منها حتى تعطيها مائة دينار، فسعيت فيها حتى جمعتها، فلما قعدت بين رجليها، قالت: اتق الله ولا تفض الخاتم إلا بحقه، فقمت وتركتها، فإن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا فرجة، قال: ففرج عنهم الثلثين، وقال الآخر: اللهم إن كنت تعلم اني استاجرت اجيرا بفرق من ذرة، فاعطيته وابى ذاك ان ياخذ، فعمدت إلى ذلك الفرق فزرعته، حتى اشتريت منه بقرا وراعيها، ثم جاء فقال: يا عبد الله اعطني حقي، فقلت: انطلق إلى تلك البقر وراعيها، فإنها لك، فقال: اتستهزئ بي، قال: فقلت: ما استهزئ بك، ولكنها لك اللهم إن كنت تعلم اني فعلت ذلك ابتغاء وجهك فافرج عنا، فكشف عنهم.
ترجمہ: سیدناعبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ آپﷺنے فرمایا، تین شخص کہیں باہر جا رہے تھے کہ اچانک بارش ہونے لگی۔ انہوں نے ایک پہاڑ کے غار میں جا کر پناہ لی۔ اتفاق سے پہاڑ کی ایک چٹان اوپر سے لڑھکی (اور اس غار کے منہ کو بند کر دیا جس میں یہ تینوں پناہ لیے ہوئے تھے) اب ایک نے دوسرے سے کہا کہ اپنے سب سے اچھے عمل کا جو تم نے کبھی کیا ہو، نام لے کر اللہ تعالیٰ سے دعا کرو۔ اس پر ان میں سے ایک نے یہ دعا کی ،،۔۔ے روایت ہے ا نے نبی ے نبی کریماے اللہ! میرے ماں باپ بہت ہی بوڑھے تھے۔ میں باہر لے جا کر اپنے مویشی چراتا تھا۔ پھر جب شام کو واپس آتا تو ان کا دودھ نکالتا اور برتن میں پہلے اپنے والدین کو پیش کرتا۔ جب میرے والدین پی چکتے تو پھر بچوں کو اور اپنی بیوی کو پلاتا۔ اتفاق سے ایک رات واپسی میں دیر ہو گئی اور جب میں گھر لوٹا تو والدین سو چکے تھے۔ اس نے کہا کہ پھر میں نے پسند نہیں کیا کہ انہیں جگاؤں بچے میرے قدموں میں بھوکے پڑے رو رہے تھے۔ میں برابر دودھ کا پیالہ لیے والدین کے سامنے اسی طرح کھڑا رہا یہاں تک کہ صبح ہو گئی۔ اے اللہ! اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ کام صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا، تو ہمارے لیے اس چٹان کو ہٹا کر اتنا راستہ تو بنا دے کہ ہم آسمان کو تو دیکھ سکیں،نبی کریمﷺنے فرمایا۔ چنانچہ وہ پتھر کچھ ہٹ گیا۔ دوسرے شخص نے دعا کی ”اے اللہ! تو خوب جانتا ہے کہ مجھے اپنے چچا کی ایک لڑکی سے اتنی زیادہ محبت تھی جتنی ایک مرد کو کسی عورت سے ہو سکتی ہے۔ اس لڑکی نے کہا تم مجھ سے اپنی خواہش اس وقت تک پوری نہیں کر سکتے جب تک مجھے سو اشرفی نہ دے دو۔ میں نے ان کے حاصل کرنے کی کوشش کی، اور آخر اتنی اشرفی جمع کر لی۔ پھر جب میں اس کی دونوں رانوں کے درمیان بیٹھا۔ تو وہ بولی، اللہ سے ڈر، اور مہر کو ناجائز طریقے پر نہ توڑ۔ اس پر میں کھڑا ہو گیا اور میں نے اسے چھوڑ دیا۔ اب اگر تیرے نزدیک بھی میں نے یہ عمل تیری ہی رضا کے لیے کیا تھا تو ہمارے لیے (نکلنے کا) راستہ بنا دے،،نبی کریمﷺنے فرمایا۔ چنانچہ وہ پتھر دو تہائی ہٹ گیا۔ تیسرے شخص نے دعا کی،،اے اللہ! تو جانتا ہے کہ میں نے ایک مزدور سے ایک فرق جوار پر کام کرایا تھا۔ جب میں نے اس کی مزدوری اسے دے دی تو اس نے لینے سے انکار کر دیا۔ میں نے اس جوار کو لے کر بو دیا (کھیتی جب کٹی تو اس میں اتنی جوار پیدا ہوئی کہ) اس سے میں نے ایک بیل اور ایک چرواہا خرید لیا۔ کچھ عرصہ بعد پھر اس نے آ کر مزدوری مانگی کہ اللہ کے بندے مجھے میرا حق دیدے۔ میں نے کہا کہ اس بیل اور اس کے چرواہے کے پاس جاؤ کہ یہ تمہارے ہی ملک ہیں۔ اس نے کہا کہ مجھ سے مذاق کرتے ہو۔ میں نے کہا،،میں مذاق نہیں کرتا،،واقعی یہ تمہارے ہی ہیں۔ تو اے اللہ! اگر تیرے نزدیک یہ کام میں نے صرف تیری رضا حاصل کرنے کے لیے کیا تھا تو یہاں ہمارے لیے (اس چٹان کو ہٹا کر) راستہ بنا دے۔ چنانچہ وہ غار پورا کھل گیا اور وہ تینوں شخص باہر آ گئے۔
[صحیح بخاری:2215]،[صحیح مسلم:2743]
توضیح:
مذکورہ روایت کے مطابق مزدور اپنی مزدوری مالک کے پاس چھوڑ کر چلا گیا،مالک نے اس کی مزدوری سے تجارت کی اور اس کی پوری آمدنی مزدور کے مطالبہ پر لوٹا دیا، کیونکہ مزدوری اور اس سے ہونے والی آمدنی سب کا حقدار مزدور ہی تھا۔ مالک، مزدور کو اس کی مزدوری دے رہا تھا، اس نے نہیں لیا اس کے باوجود مالک نے ایمانداری کا ثبوت دیا اور اس سے حاصل ہونے والی پوری آمدنی حقدار کے حوالہ کر دیا، انسانی زندگی اور ایمانداری کا ایک رخ یہ ہے، جبکہ دوسرا رخ یہ ہے کہ مزدور اپنی مزدوری مانگتا رہتا ہے، روتا گڑ گڑاتا رہتا ہے، اپنی ضروریات اور بیماری بتاتا ہے، مگر مالک اس کی مزدوری کو کام پورا ہونے کے بعد روک رکھتا ہے اس سے کاروبار کرتا ہے، آمدنی اور نفع حاصل کرتا ہے اور صرف اس کے پیسے سے کام کرنے کے لئے ٹال مٹول کرتا ہے۔مزدوری روک کے کام کرنے اور تجارت میں اس کی مزدوری کو استعمال کرنے کا ایک طریقہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کام ختم ہونے کے بعد مالک حساب نہیں کرتا، حساب کرنے اور مزدوری جوڑنے کو مختلف بہانوں سے ٹالتا رہتا ہے، پھر عرصہ کے بعد حساب کرتا ہے اور حساب کے بعد پھر مزدوری کے دینے میں ٹال مٹول سے کام لیتا ہے، جس کی وجہ سے مزدور تڑپتا رہتا ہے۔ اور مالک اس سے فائدہ حاصل کرتا رہتا ہے۔ مالک کا کسی بھی مزدور کے ساتھ یہ رویہ اختیار کرنا سراسر ظلم ہے، جیسا کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: کہ مطل الغنی ظلم (بخاری حدیث نمبر:2287) یعنی مالدار کا ٹال مٹول کرنا ظلم ہے۔
حدیث نمبر:32
سامان کے لئے پیشگی (ایڈوانس) دینا درست ہے
عن ابن عباس رضي الله عنهما قال قدم رسول الله ﷺ المدينة والناس يسلفون في الثمر العام والعامين أو قال عامين أو ثلاثة شك إسماعيل فقال من سلف في تمر فليسلف في كيل معلوم ووزن معلوم.
ترجمه: حضرت ابن عباس سے روایت ہے، رسول اللهﷺ مدینہ تشریف لائے، اور لوگ کھجوریں ایک سال، دو سال، دو سال یا تین سال کی میعاد پر بیع سلم (ایڈوانس والی بیع) کرتے تھے، یہ اسماعیل کو شک ہوا ہے، تو آپ نے فرمایا جو تم میں سے کھجور میں بیع سلم کرے تو چاہئے کہ ناپ اور وزن متعین کرلے۔
[بخاری:2239]،[مسلم:1204]،[ابوداؤد:3463]،[ترمذی:1311]،[نسائی:4620]،[ابن ماجہ:2280]،[عبد الرزاق صنعانی:14059]
توضیح:
جس طرح انسان اپنی ضروریات زندگی کی تکمیل کے لئے کبھی کبھی ادھار خریدو فروخت کرتا ہے، جس کی قیمت آپسی معاہدے کے تحت متعینہ وقت پر ادا کر دیتا ہے، اسی طرح کبھی کبھی سامان یا چیز کے خریدنے کے لئے قیمت پہلے ادا کر دیتا ہے، اور سامان طے شدہ وقت پر حاصل کرتا ہے، یہ بھی حیات مستعار کی فطری ضرورت ہے، اس لئے شریعت نے دونوں کو اپنے اپنے مقام و محل میں روا رکھا ہے۔خرید و فروخت انسان کی فطری اور معاشرتی ضرورت ہے، اور معاشرہ کو کسی قسم کے نزاع اور جھگڑے سے پاک رکھنا بھی اولین ذمہ داری ہے، اس لئے مذکورہ بیع سلم (ایڈوانس والی بیع) میں دونوں چیزوں کے تعین کو ضروری قرار دیا گیا ہے، ناپ اور وزن (یعنی) اگر ناپنے والی چیز ہو تو ناپ متعین ہونا چاہئے اور اگر تو لنے والی چیز ہو تو وزن متعین ہوناچاہئے تاکہ بعد میں کسی قسم کا نزاع نہ ہونے پائے، چونکہ اس قسم کی بیع میں ناپ تول کے علاوہ وقت کا بھی مسئلہ اہم ہوتا ہے، عدم تعیین نزاعی شکل اختیار کر لیتی ہے، اس لئے حضرت ابن عباس کی ایک دوسری حدیث میں وقت کے تعین کو بھی ضروری قرار دیا گیا ہے۔ قال رسول اللهﷺمن اسلف في شئ ففي كيل معلوم و وزن معلوم الى اجل معلوم (بخاری حدیث:2240) رسول اللهﷺ نے فرمایا: جو شخص کسی چیز کی بیع سلم (ایڈوانس ) کرے اسے چاہئے کہ ناپ وزن اور مدت معلوم ہو۔
مذکورہ بیع میں ناپ، وزن اور مدت کی تعیین کا مقصد یہ ہے کہ آدمی اپنی ذاتی اور تجارتی ضروریات بھی پوری کرلے، اور آپس میں سامان کے تبادلہ کے وقت ناپ، وزن اور مدت کی عدم تعیین کی وجہ سے تو تو میں میں بھی نہ ہونے پائے۔
حدیث نمبر:33
خریدنے کے لئے سامان گروی رکھنا جائز ہے
عن ابن عباس قال: توفي النبي ﷺ ودرعه مرهونة بعشرين صاعا من طعام أخذه لأهله.
ترجمه:حضرت ابن عباس سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ کا انتقال ہوا، اور آپ کی زرہ گروی تھی بیس صاع کھانے کے عوض جسے آپ نے اپنے اہل کے لئے لیا تھا۔
[ترمذی:1214]،[نسائی:4655]،[ابن ماجه:2239]،[ابن ابی شیبہ:20022]،[مسنداحمد:3409]یہ حدیث صحیح ہے ملاحظہ ہو[سنن ترمذی:1214]
توضیح:
آدمی کو جینے کے لئے کھانا ضرور چاہئے ، اس کے بغیر وہ نہیں رہ سکتا مگر زندگی میں کبھی کبھی ایسا موڑ بھی آتا ہے، کہ نہ کھانے کے لئے کچھ ہوتا ہے اور نہ کھانا لانے کے لئے کچھ ہوتا ہے، ایسی صورت میں آدمی یا تو ادھار لیتا ہے ،یا اپنا کوئی سامان گروی رکھ کر کھانے کا سامان لیتا اور کام چلا لیتا ہے۔مذکورہ روایت سے معلوم ہوا کہ رسول اللہﷺ نے گھر والوں کے لئے بیس صاع کھانا لیا، جس میں امت کے لئے درس ہے کہ اگر کبھی ایسے حالات پیدا ہو جائیں تو سامان گروی رکھ کر کھانا وغیرہ لیا جا سکتا ہے، نیز یہ بات بھی ذہن میں ہونی چاہئے کہ جب اللہ کا محبوب ان حالات سے دو چار ہو سکتا ہے، تو ہم کیوں نہیں ہو سکتے ؟ نیز یہ کہ جس طرح رسول اللهﷺ نے ان سخت حالات میں صبر سے کام لیا، اور کسی طرح کا کوئی شکوہ نہیں کیا، اسی طرح ہمیں بھی ہر حال میں اللہ کی مرضی پر راضی رہنا چاہیے، اور ہر حال میں صبر و شکر بجالانا چاہئے۔
حدیث نمبر:34
عیب دار چیز کو عیب بتا کر بیچنا درست ہے
عن عقبة بن عامر قال: سمعت رسول الله ﷺ يقول المسلم أخو المسلم ولا يحل لمسلم باع من أخيه بيعا فيه عيب إلا بينه.
ترجمه:حضرت عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے سنا، رسول اللہﷺ فرمارہے تھے۔ مسلمان مسلمان کا بھائی ہے، کسی مسلمان کے لئے جائز نہیں کہ وہ اپنے بھائی کو کوئی عیب دار چیز بیچے مگر یہ کہ عیب کو بتا دے۔
[ابن ماجه:2246]،[طبرانی:877]،[حاکم:2152]،[بیھقی:1993]یہ حدیث صحیح ہے،ملاحظہ ہو[الارواء الغلیل:1321]
توضیح:
کمپنیاں جو سامان تیار کرتی ہیں، یا صنعت کار جو سامان بناتا ہے ٹیکنیکل خرابی یا کوتاہی کی وجہ سے اس میں نقص یا عیب پیدا ہو جاتا ہے، جس کی وجہ سے اس سامان کی اصل حیثیت باقی نہیں رہتی، اور اپنی اصل قیمت پر فروخت نہیں ہو پاتا، بلکہ جس بھی قیمت پر فروخت ہو جائے دکاندار اسے غنیمت سمجھتا ہے، ایسی صورتوں میں دکاندار کی کوشش ہوتی ہے کہ عیب چھپا کر بیچ دیا جائے، الا یہ کہ عیب اتنا واضح ہو کہ اسے چھپانا مشکل ہو، دکاندار کبھی عیب چھپانے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اور کبھی نا کامی ہاتھ لگتی ہے، اور خریدار عیب دیکھ لیتا ہے، عیب دیکھنے کے بعد کبھی تو سامان لینے ہی سے انکار کر دیتا ہے، اور کبھی قیمت کم دینے کے بعد آمادہ ہو جاتا ہے۔عیب چھپا کر سامان بیچنا اور دھو کہ دینا شرعی و معاشرتی دونوں اعتبار سے مجرمانہ عمل ہے، جس سے طرفین کو نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے، خریدار کا نقصان تو واضح ہے کہ اس نے اچھے سامان کی قیمت ادا کی مگر اسے خراب اور ناقص سامان ملاد کاندار کا نقصان دو طرح ہوتا ہے، ایک تو یہ کہ عیب چھپا کر دھوکہ دینے اور سامان بیچنے کا گھناؤنا عمل کیا ہے اس کی سزا سے بچ نہیں سکتا، دوسرے یہ کہ جب عام لوگوں کو یہ حقیقت معلوم ہو جائے گی کہ یہ دکاندار دھوکہ دیتا ہے تو آہستہ آہستہ خریدار ٹوٹ جائیں گے اور اس کی معیشت تباہ ہو جائے گی۔اس حقیقت کو جاننے کے باوجود بہت سے دکاندار عیب چھپا کر سامان بیچ دینا کمال فن سمجھتے ہیں۔ اور اپنی عقلمندی و چالا کی تصور کرتے ہیں، جو بہر حال دنیا و آخرت دونوں اعتبار سے نقصان و خسران کا سودا ہے، اس لئے اس معاملہ میں دکاندار کو محتاط ہنا چاہئے اور عیب چھپانے و دھوکہ دینے سے حتی المقدور بچنا اور پر ہیز کرنا چاہئے ، اور اس بات پر ایمان وایقان رکھنا چاہئے کہ(اِنَّ اللهَ هُوَ الرَّزَّاقُ ذُو الْقُوَّةِ الْمَتِين) کہ اللہ تعالیٰ تو ہی سب کا روزی رسا، توانائی والا اور زور آور ہے۔(سوره الذاريات:58)
حدیث نمبر:35
پسینہ خشک ہونے سے پہلے مزدوری دینا چاہئے
عن عبد الله بن عمر قال قال: رسول الله أعطوا الأجير أجره قبل أن يجف عرقه.
ترجمه:حضرت عبد اللہ بن عمرؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: مزدور کو اس کی مزدوری پسینہ خشک ہونے سے پہلے دو۔
[ابن ماجه:2443]،[الاموال لابن زنجویه:2091]،[شرح مشکل الآثار:3014]،[المعجم الصغير للطبرانی:34]،[مسندالشباب القضاعی:744]،[السنن الصغير للبیہقی:2158]،[السنن الكبرى للبيهقي:11654]،[یہ حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو،سنن ابن ماجہ:2443]
توضیح:
عموماً ایک مزدور غریب ہوتا ہے اور روز مزدوری کرتا اور کھاتا ہے، اگر کسی وجہ سے کبھی کہیں کام نہیں ملتا تو فاقہ کی نوبت آجاتی ہے، بچے بھوک سے بلکتے بلکتے سو جاتے ہیں، اس لئے ایک مزدور مزدوری کرتا ہے، تو پہلے ہی سے اس کے ذہن میں خاکہ تیار رہتا ہے، کہ مزدوری ملنے کے بعد آج دال، چاول اور آٹا وغیرہ لے کر گھر جانا ہے، بچے بھی انتظار کر رہے ہوں گے کہ شام کو جب ابا جان کھانے کا سامان لے کر آئیں گے تو اماں جان کھانا بنا ئیں گی اور ہم سب کھانا کھا کر سو جائیں گے۔جس مزدور کی یہ صورت حال ہو، اگر اس کی مزدوری کام کے بعد روک لی جائے، تو پھر اس پر اور اس کے اہل خانہ پر کیا گزرے گی، کیا پیسہ ہوتے ہوئے صرف نہ ملنے کی وجہ سے فاقہ نہیں کرے گا، ایک مزدور جس نے صبح سے شام تک کام کر کے خود کو تھکا دیا ہو، پھر اسے فاقہ بھی کرنا پڑے تو یہ کیسی غیر اخلاقی اور غیر انسانی بات ہے۔ رسول اللہ ﷺنے اس لئے امت کو ہدایت دی کہ اگر کوئی مزدور کام کرتا ہے تو اس کی مزدوری (جلد از جلد) پسینہ سوکھنے سے پہلے دیدو، تا کہ اسے کوئی دقت نہ پیش آئے۔اگر کسی شخص کو مزدور سے کام کرانا ہی ہے مگر وہ کسی وجہ سے مزدوری فوراً نہیں دے سکتا تو اس کو چاہئےکہ یہ بات واضح طور پر بتا دے کہ دیکھو کام تو کرو مگر میں آج مزدوری نہیں دوں گا، فلاں دن تک دے سکتا ہوں۔ ایسی صورت میں انحصار مزدور پر ہوگا کہ وہ تاخیر سے مزدوری ملنے کی صورت میں کام کرے گا یا نہیں کرے گا، بصورت دیگر مزدوری روک لینا اور فوراً نہ دینا مذہبی اعتبار سے بھی جرم ہے اور معاشرتی اعتبار سے بھی۔
حدیث نمبر:36
مزدور کو اجرت نہ دینے کا گناہ
عن أبي هريرة رضي الله عنه ، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال: قال الله تعالى: ثلاثة أنا خصمهم يوم القيامة: رجل أعطى بي ثم غدر، ورجل باع حرا فأكل ثمنه، ورجل استأجر أجيرا فاستوفى منه ولم يعطه أجره.
ترجمه:حضرت ابو ہریرہ سے روایت ہے، اور وہ نبیﷺ سے روایت کرتے ہیں، کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: تین آدمی سے میں قیامت کے دن جھگڑا کروں گا: ایک وہ جس نے میرا نام لے کے کوئی عہد کیا پھر عہد شکنی کی، دوسرا جس نے آزاد کو بیچ کر اس کی قیمت کھالیا، تیسرا وہ جس نے اجرت پر مردور رکھا، اس سے پورا کام لیا، اور اس کی مزدوری نہیں دیا۔
[بخاری:2270]،[ابن ماجه:2442]،[مسنداحمد:8692]،[ابن حبان:7339]
توضیح:
عموماً جب ایک مجرم جرم کا ارتکاب کرتا ہے، اور اس کا مد مقابل کھڑا ہو جاتا ہے، تو مجرم کا ناطقہ بند ہو جاتا ہے، یہ اس دنیا کا حال ہے جہاں ہر طرح کے سچ اور جھوٹ کےمواقع حاصل ہیں، تصور کیجئے کہ جس شخص کا مقابل اللہ ہوگا، اور وہ بھی قیامت کے دن وہ شخص کس طرح ذلیل وخوار ہوگا، اور اس کو اپنے کئے ہوئے پر کس طرح شرمندگی ہوگی، ایک حساس اور ایماندار شخص کے لئے اس کا تصور ہی بہت ہے، اس لئے رسول اللہﷺ نے مذکورہ تینوں قسم کے افراد کو قیامت کے دن شرمندگی و ندامت سے بچانے کے لئے اپنی امت پر شفقت و رحمت کی غرض سے یہ حدیث قدسی سنائی، تا کہ معلوم ہو کہ یہ اللہ کا فرمان ہے، اور اللہ تعالیٰ بذات خود جھگڑے گا، اس لئے قیامت کے دن نقصان و خسر ان کے سوا کچھ بھی ہاتھ نہیں لگے گا۔
پہلا شخص: جس نے اللہ کا نام لے کر عہد کیا ،اور پھر اسے توڑ دیا اس نے جرم عظیم کیا ہے، کیونکہ اللہ کا نام لے کر عہد کرنا گویا کہ معاملہ میں اللہ تعالیٰ کو گواہ بنانا ہے، اور اللہ کو گواہ بنا کر عہد شکنی بہت بڑا گناہ ہے۔ مگر افسوس کہ اس وقت عام طور پر لوگ عہد کرتے ہوئے اللہ کی قسم کھاتے ہیں، جس کی وجہ سے یقین کر لیا جاتا ہے، مگر بعد میں وہ شخص اللہ کی قسم کی پرواہ کئے بغیر غداری کر جاتا ہے، ایسے غدار سے قیامت کے دن اللہ جھگڑا کرے گا، اور پوچھے گا کہ جب تم کو غداری ہی کرنی تھی، تو پھر میرا نام کیوں لیا؟ اور مجھے کیوں رسوا کیا ؟
دوسرا شخص: جس سے اللہ تعالیٰ قیامت کے روز جھگڑے گا وہ ایسا مجرم ہے جس نے آزاد کو غلام کے نام پر بیچ دیا، اللہ تعالیٰ تو چاہتا ہے کہ غلام اور غلامی ختم ہو جائے ، کیونکہ انسان صرف اپنے اللہ کی غلامی کے لئے پیدا کیا گیا ہے، چہ جائیکہ کوئی شخص کسی آزاد کو غلام بنا کر بیچے، یہ عمل اللہ تعالیٰ کے نزدیک نہایت نا پسندیدہ اور ظالمانہ ہے، اس لئے اللہ تعالیٰ ایسے ظالم سے جھگڑے گا، اور جس سے اللہ تعالی جھگڑے اس کا ٹھکانہ جہنم کےعلاوہ اور کیا ہو سکتا ہے؟
تیسرا وہ شخص: جس نے اجرت اور مزدوری پر مزدور رکھا اور پورا کام بھی لیا مگر جب مزدوری دینے کا وقت آیا تو اس نے مزدوری نہیں دی۔یہ بیماری بڑی عام ہوتی جارہی ہے، کہ مزدور کو یا تو مزدوری دی نہیں جاتی، یا اگر دی جاتی ہے تو کاٹ کر کم کر کے یا بار بار ٹالنے اور دوڑانے کے بعد ،کسی بھی مزدور کی مزدوری حقوق العباد میں ہے اور بندے کا کسی طرح کا استحصال اللہ تعالیٰ معاف نہیں کرے گا، کیونکہ یہ تو بندے کا حق ہے، اس لئے حقوق اللہ کی ادائیگی کی اہمیت کے ساتھ حقوق العباد کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے، کیونکہ اللہ تعالی تو رحمان و رحیم ہے، مگر بندہ تو قیامت کے دن بدلہ لئے بغیر نہیں چھوڑے گا، اور دیے بغیر چھٹکارا بھی نہیں ہوگا۔کسی بھی مزدور کا کام واضح اور اس کی اجرت متعین ہونا چاہئے ، کہ اسے کیا کرنا ہے اور اس کی اسے کیا مزدوری ملے گی ، کام کی تعیین اور اجرت کی وضاحت کے بغیر کام لینا درست نہیں، کیونکہ کام کرنے کے بعد مزدوری متعین نہ ہونے کی وجہ سے جھگڑا اور نزاع پیدا ہو جائے گا، مزدور زیادہ لینا چاہے گا اور مالک کم دینا چاہے گا، الا یہ کہ کام اور اجرت معروف ہوں، تمام لوگ جانتے ہوں کہ اس کام کی کیا اجرت ہوتی ہے، ایسی صورت میں اگر بر وقت طے نہ ہو سکی تو جو اس کی اجرت معروف ہوگی وہ مالک و دینی ہوگی یا مزدور کو لینی ہوگی۔
حدیث نمبر:37
ملازم کی گواہی مالک کے حق میں صحیح نہیں ہے
عن عمرو بن شعيب، عن أبيه، عن جده، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم رد شهادة الخائن، والخائنة، وذي الغمر على أخيه، ورد شهادة القانع لأهل البيت، وأجازها لغيرهم، قال أبو داود: الغمر الحنة، والشحناء، والقانع الأجير التابع مثل الأجير الخاص.
ترجمه: حضرت عمرو بن شعیب روایت کرتے ہیں: کہ رسول اللہﷺ نے خیانت کرنے والے، اور خیانت کرنے والی کی گواہی کو رد کر دیا۔ اور کینہ پرور کی ، اس کے بھائی کے خلاف، اور آپ نے خاص ملازم کی گھر والوں کے حق میں گواہی رد کر دیا، اور ان کے علاوہ کے لئے گواہی کو جائز قرار دیا۔
[ابوداؤد:3600]،[مسنداحمد:6698]،[سنن دار قطنی:4600]،[بیہقی:3336]،[یہ حدیث حسن ہے، ملاحظہ ہو، سنن ابی داؤد:3600]
توضیح:
شہادت اور گواہی بہت بڑی امانت ہے، کیونکہ اس پر حقدار کے حق پانے یا اس سے محروم ہونے کا دارو مدار ہوتا ہے ، اس لئے آپ نے خیانت کرنے والوں کی گواہی رد کر دیا، کہ جب ایک شخص عام چیزوں میں خیانت کا عادی ہے، تو پھر ایسے موقع پر خیانت کا زیادہ امکان ہے، کہ وہ خیانت کر بیٹھے گا اور حقدار حق سے محروم ہو جائے گا۔کینہ پرور بھی کینہ کی وجہ سے اور اپنے بھائی سے حسد اور دشمنی کی وجہ سے اسے نقصان پہنچانے کے لئے کچھ بھی اقدام کر سکتا ہے، اس لئے رسول اللہ ﷺنے ایسے کینہ پرور کی گواہی کو رد کر دیا، کہ ہو سکتا ہے کہ کینہ کی وجہ سے اپنے بھائی کو نقصان پہنچانے کے لئے غلط گواہی دے دے، جس سے اسے نقصان وخسر ان سے دو چار ہوتا پڑے۔خاص ملازم کی گواہی کو بھی رسول اللہ ﷺ نے رد کر دیا، کیونکہ عام طور پر جو ملازم ہوتا ہے وہ اپنے آقا کے اس طرح تابع ہوتا ہے کہ حق بات بھی کہنے کی ہمت نہیں پاتا، کیونکہ اسے عتاب کا خوف ہوتا ہے، بلکہ ملازمت سے ہاتھ دھود دینے کا ڈر بھی ہوتا ہے، جس پر اس کی پوری معیشت کا انحصار ہوتا ہے، معیشت کی پرواہ کئے بغیر اللہ پر بھروسہ کرتے ہوئے صرف رضاء الہی کے لئے اپنے آقا کے خلاف گواہی دینا بڑے جی گردے کی بات ہے، بہت کم ہی لوگ اس پر کھرے اتر پاتے ہیں اس لئے رسول اللہ ﷺنے انسان کی اس کمزوری اور نفسیات کو سامنے رکھتے ہوئے خاص ملازم کی گواہی کو بھی رد کر دیا، تا کہ اس کی غلط گواہی سے کسی حقدار کی حق تلفی نہ ہونے پائے۔
حدیث نمبر:38
مالدار کو مہلت دینا بھی کار ثواب ہے
أن حذيفة رضي الله عنه حدثه، قال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: تلقت الملائكة روح رجل ممن كان قبلكم، قالوا: أعملت من الخير شيئا؟ قال: كنت آمر فتياني أن ينظروا ويتجاوزوا عن الموسر، قال: قال: فتجاوزوا عنه.
ترجمه:حضرت حذیفہ بیان کرتے ہیں، نبیﷺ نے فرمایا: تم لوگوں سے پہلے ایک آدمی کی روح کا فرشتوں نے استقبال کیا، اور پوچھا کیا آپ نے بھلائی کا کوئی کام کیا ہے؟ کہا: میں اپنے خادموں کو حکم دیتا تھا کہ مالداروں کو مہلت دیں، اور نظر انداز کریں، تو انھوں نے نظر انداز کیا۔
[بخاری:2077]،[مسلم:1560]،[ابن ماجه:2420]،[ابن ابی شیبه:23019]،[مسنداحمد:17064]،[دارمی:2588]
توضیح:
ایک مالدار جو قرض کی ادائیگی کی بھر پور قوت رکھتا ہے، اس کے باوجود اس کے ساتھ شفقت و مروت اور مہلت کے برتاؤ کا یہ مقام و مرتبہ ہے کہ فرشتے اس کا استقبال کرتے ہیں، گویا یہی انسانیت کا اعلیٰ معیار ہے، اور جو انسانیت کے اعلیٰ معیار پر فائز ہوتا ہے، اس کا مقام و مرتبہ ہر جگہ بلند ہوتا ہے۔ کیونکہ انسانیت اور اخلاق کا اعلیٰ معیار ہی ایک پرسکون ماحول، اور اچھے معاشرے کی کلید ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺکو حسن انسانیت کے بلند مرتبہ پر فائز کیا گیا۔ تا کہ وہ درس انسانیت اور اعلیٰ اخلاق کے ذریعہ سسکتی ہوئی دنیا کو راحت پہنچا سکیں۔
حدیث نمبر:39
ناداروں کا قرض معاف کرنا اپنی معافی کا سامان کرنا ہے
عن أبي هريرة، أن رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: كان الرجل يداين الناس فكان، يقول لفتاه: إذا أتيت معسرا فتجاوز عنه لعل الله أن يتجاوز عنا، قال: فلقي الله فتجاوز عنه.
ترجمه:حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے، نبیﷺ نے فرمایا: ایک تاجر تھا جو لوگوں کو قرض دیا کرتا تھا، پس جب دیکھتا کہ محتاج ہے، تو اپنے ملازموں سے کہتا : اسے معاف کر دوو شاید اللہ تعالیٰ ہم کو بھی معاف کر دے (جب وہ مر گیا) تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف کر دیا۔
[بخاری:3480/2078]،[مسلم:1562]،[نسائی:4698]،[ابوداؤ د طیالسی:2633]،[مسنداحمد:7579]،[ابن حبان:5043]
توضیح:
انسانی زندگی میں کبھی کبھی ایسے حالات بھی پیدا ہوتے ہیں، کہ آدمی نہ چاہتے ہوئے بھی قرض لینے کے لئے مجبور ہو جاتا ہے، اور یہ قرض ادا ئیگی کی نیت ادا سے لیتا ہے،مگر حالات کے ہاتھوں اس قدر مجبور ہوتا ہے کہ تمام تر نیت اور کوشش کے باوجود قرض کی ادائیگی پر قادر نہیں ہو پاتا، ایسے لوگوں کے حالات کو اور ان کی ضروریات کو سمجھنا، اور ان کے ساتھ تعاون کی کوشش کرنا، انسانیت کے عین تقاضے کے مطابق ہے۔ ایسا شخص اگر کسی کا مقروض ہے تو قرض خواہ کو بھی اس کے حالات کو سمجھنا چاہئے ، اور سمجھ کر اس کے ساتھ شفقت و مروت کا برتاؤ کرنا چاہئے ، بلکہ اگر قرض کو معاف کر دے تو اس کا یہ عمل دونوں کے لئے بہتر ہوگا، مقروض کے لئے اس لئے بہتر ہوگا کہ اس کے سر سے قرض کا بوجھ اتر ہو جائے گا، نیز مقروض عموماً جھوٹ بولتا ہے وہ جھوٹ سے بھی بچ جائے گا۔قرض خواہ کے لئے اس لئے بہتر ہو گا کہ بار بار تقاضے کی زحمت سے بچ جائے گا، جس کی بظاہر کوئی انتہانہیں، نیز مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ بھی اس پر اس رحم دلی کی وجہ سے رحم فرمائے گا، اور اس کی گناہوں کو معاف کر دے گا۔ مقروض کا قرض لینا ہی اس کی معاشی تنگی پر دال ہے، جو مہلت اور شفقت چاہتی ہے، مگر عموما یہ ہوتا ہے کہ اس کمزور مقروض کے سر پر قرض خواہ سوار ہو جاتا ہے، اور اس کی کمزوری کا ناجائز فائدہ بھی اٹھالیتا ہے، برخلاف اس کے اگر مقروض کا روباری ہے، مالدار اور بڑا تاجر ہے تو اس پر کسی قسم کی دال نہ گلنے کی وجہ سے قرض کے مطالبہ سے باز آجاتا ہے، اور اس کی تاویل پیش کرتا ہے کہ اس سے ہم لوگوں نے بہت کمایا ہے، اس لئے اگر وہ قرض ادا بھی نہ کرے گا تو بہت افسوس کی بات نہیں ہے۔
حدیث نمبر:40
اللہ کی راہ میں خرچ کے بعد اس سے فائدہ اٹھانادرست نہیں
عن عبد الله بن عمر رضي الله عنهما، أن عمر بن الخطاب حمل على فرس في سبيل الله فوجده يباع، فأراد أن يبتاعه، فسأل رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقال: لا تبتعه، ولا تعد في صدقتك.
ترجمه: حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں، کہ حضرت عمر بن الخطاب نے کسی شخص کو اللہ کے راستے میں جہاد کرنے کے لئے گھوڑا دیا، پھر اس گھوڑے کو بکتا ہوا پایا ،تو اسے خریدنا چاہا، اور رسول اللہ ﷺسے دریافت کیا، تو آپ ﷺنے فرمایا: نہ تو اسے خرید و اور نہ ہی اپنے صدقہ میں لوٹو۔
[بخاری:3002/2971]،[مسلم:1621]،[ابوداؤد:1593]،[ترمذی:668]،[نسائی:2617]،[ابن ماجه:2392]،[مؤطا امام مالک:49]
توضیح:
ایک شخص جب کسی چیز کو اللہ کی راہ میں دے دیتا ہے، اور صدقہ کر دیتا ہے، تو پھراس کے بعد اس چیز سے اس کا تعلق ختم ہو جاتا ہے، اب وہ چیز اس کی ملکیت نہیں رہ جاتی، اس لئے اس کو استعمال کرنے والا جس طرح بھی استعمال کرے گا اس کا ذمہ دار وہ خود ہوگا۔رسول اللہﷺ نے حضرت عمر کو گھوڑ ا خریدنے سے منع کر دیا، کیونکہ حضرت عمر نے ہی دیا تھا، تو بیچنے والا اس کی اصل قیمت مانگنے میں لحاظ کرتا اور ہو سکتا ہے کہ خریدنے والے کے ذہن میں بھی یہ بات آتی کہ میں نے ہی دیا ہے، مجھے کچھ سستا دینا چاہئے، اس طرح صدقہ دینے والا اپنے دئے ہوئے صدقہ سے فائدہ اٹھاتا، اپنے دیئے ہوئے صدقہ سے فائدہ اٹھانے سے منع کرتے ہوئے آپ ﷺفرمایا: اپنے صدقہ میں مت لوٹو (یعنی) اس سے فائدہ نہ اٹھاؤ، کیونکہ تم فی سبیل اللہ دے کے چکے ہو۔صدقہ سے فائدہ اٹھانے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں، کبھی کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص جس کو صدقہ دیتا ہے، اس سے اپنے بہت سے کام مفت میں لیتا ہے، اور وہ شخص اس کے صدقہ کا لحاظ کرتے ہوئے زبان بند کر کے کر جاتا ہے، وہ نہ زبان کھولتا ہے، اور نہ ہی زبان کھولنے کی ہمت پاتا، ایک تو صدقہ کا احسان اور بوجھ اس کے اوپر ہے، اور دوسرے مستقبل میں بھی صدقہ کی امید ہے، زبان کھولنے پر جو امیدیں وابستہ ہیں وہ سب خواب و خیال بن کر رہ جائیں گی۔صدقہ سے فائدہ اٹھانے کی ایک صورت یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک غریب شخص کو بہت ہی معمولی تنخواہ پر ملازم رکھا جاتا ہے، اور وہ غریب اس معمولی تنخواہ پر پورے سال کام کرتا ہے کیونکہ اسے معلوم ہے کہ رمضان کے مہینہ میں اس کی اچھی خاصی مدد کر دی جائے گی۔