سوال :
خبر واحد کے متعلق کیا فرماتے ہیں؟
جواب :
خبر واحد کی حجیت اور عدم حجیت کا مسئلہ اہل السنہ اور فرق ضالہ کے یہاں مختلف فیہ مسئلہ رہا ہے ، اہل السنہ کے نزدیک خبر واحد حجت ہے۔
خبر واحد ایک ایسی حقیقت ہے، جس سے انکار تو ممکن ہے، اس سے مفر مگر ممکن نہیں ، جو لوگ اور جو فرق خبر واحد کی حجیت کا انکار کرتے ہیں، ان میں سے اکثر خبر واحد سے دلیل اور استنباط لیتے پائے گئے ہیں، حتی انہوں نے اپنے اعمال و عقائد کی بنیاد بھی خبر واحد پر رکھ چھوڑی ہیں، خبر واحد کیا انہوں نے کئی دفعہ اخبار ضعیفہ وموضوعہ کو بھی اپنے لئے حجت بنایا ہے، اس کی تفصیل کسی اور وقت پر اٹھاتے ہیں۔
بعض لوگ مطلق خبر واحد کوٹھکراتے ہیں، بعض کے یہاں خبر واحد میں تفصیل پائی گئی ہے، کہ عام احوال میں حجت ہے عقائد وغیرہ میں حجت نہیں، اجماع کے مخالف ہو تو حجت نہیں یا اس قسم کی دیگر شرائط ، اہل سنت خبر واحد کو مطلق طور پر حجت مانتے ہیں ، جب کہ وہ صحیح سند سے ثابت ہو جائے۔
ہمارا ماننا ہے کہ خبر واحد کی وہ صورت جو علم حدیث اور علل کی چھنی سے صحیح سلامت گزر آتی ہے اور امت کے محدثین اس کو صحیح قرار دیتے ہیں، اس کے بعد خبر واحد نہ تو عقل کے خلاف رہ جاتی ، نہ اجماع کے مخالف ہوتی اور نہ قطعی الثبوت معاملات کی مخالفت کرتی ، اگر کسی کو لگے کہ یہ خبر ان میں سے کسی چیز کی مخالفت کر رہی ہے، تو اس کو مزید غور وفکر کرنا چاہئے ، تا آنکہ اس پر حقیقت روز روشن کی طرح عیاں ہو جائے ۔
❀ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
إذا سمعتم به بأرض فلا تقدموا عليه، وإذا وقع بأرض وأنتم بها فلا تخرجوا فرارا منه.
”اگر تمہیں کسی جگہ کوڑھ کے مرض کا علم ہو، تو وہاں مت جاؤ اور اگر تمہارے علاقے میں کوڑھ کا مرض نازل ہو، تو وہاں سے بھاگ کرمت جاؤ۔“
(صحيح البخاري : 5729 ، صحیح مسلم : 2219 )
❀ حافظ ابن ملقن رحمہ اللہ (804ھ) فرماتے ہیں:
فيه قبول خبر الواحد قيل : وفيه دليل على صحة قول ابن الطيب : أن الصحابة أجمعوا على تقدمة خبر الواحد على قياس الأصول، وفساد قول من قدم قياس الأصول على الخبر؛ لرجوع جميعهم إلى خبر عبد الرحمن.
یہ حدیث دلیل ہے کہ خبر واحد قبول ہے۔ بھی کہا گیا ہے کہ اس حدیث میں علامہ ابو بکر محمد بن طیب باقلانی رحمہ اللہ (403ھ ) کے قول کے صحیح ہونے کی دلیل ہے : ”صحابہ کرام کا اجماع ہے کہ خبر واحد کو قیاس پر مقدم کیا جائے گا۔“ نیز ان لوگوں کا رد ہے، جو قیاس کو خبر واحد پر مقدم کرتے ہیں، کیونکہ تمام صحابہ نے سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کی حدیث کی طرف رجوع کیا ہے۔
(التوضيح : 91/32)