مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خاوند کی اجازت کے بغیر عورت کا گھر سے باہر جانا

فونٹ سائز:
یہ تحریر علمائے حرمین کے فتووں پر مشتمل کتاب 500 سوال و جواب برائے خواتین سے ماخوذ ہے جس کا ترجمہ حافظ عبداللہ سلیم نے کیا ہے۔

سوال :

خاوند کی اجازت کے بغیر عورت کا بازار جانا کیا حکم رکھتا ہے ؟

جواب :

اگر عورت گھر سے باہر جانا چاہے تو اسے خاوند کو بتا کر جانا چاہیے کہ اسے کہاں جانا ہے۔ خاوند بھی اسے ایسی جگہ جانے کی اجازت دے دے جہاں کسی فتنہ و فساد کا ڈر نہ ہو اس لئے کہ خاوند اس کی بہتری کے بارے میں زیادہ واقفیت رکھتا ہے۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے :
«وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ» [2-البقرة:228]
”اور عورتوں کا بھی حق ہے جیسا کہ عورتوں پر حق ہے، موافق دستور (شرعی) کے اور مردوں کو عورتوں پر ایک گونہ فضیلت حاصل ہے۔“
دوسری جگہ ارشاد ہوا :
« الرِّجَالُ قَوَّامُونَ عَلَى النِّسَاءِ بِمَا فَضَّلَ اللَّـهُ بَعْضَهُمْ عَلَى بَعْضٍ» [4-النساء:34]
”مرد عورتوں پر حاکم ہیں اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت دی ہے۔“
(دار الافتاء کمیٹی)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔