مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خاوند پر بیوی کا خرچہ واجب ہے

فونٹ سائز:
تحریر: عمران ایوب لاہوری

خاوند پر بیوی کا خرچہ واجب ہے
جیسا کہ دلائل حسب ذیل ہیں:
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا [الطلاق: 7]
”کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو ، اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس میں سے (حسب توفیق) دے۔ اللہ تعالیٰ کسی شخص کو اس کی طاقت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ۔“
وَارْزُقُوهُمْ فِيهَا وَاكْسُوهُمْ [النساء: 5]
”انہیں اس مال سے کھلاؤ پلاؤ اور پہناؤ ۔“
➌ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ولهن عليكم رزقهن وكسوتهن بالمعروف
”تم پر معروف طریقے سے ان عورتوں کو کھلانا پلانا اور انہیں لباس مہیا کرنا لازم ہے۔“
[مسلم: 1218 ، كتاب الحج: باب حجة النبي]
➍ حضرت عمرو بن احوص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
ألا وحقهن عليكم أن تحسنوا إليهن فى كسوتهن وطعامهن
”خبر دار ! عورتوں کا حق تم پر یہ ہے کہ تم انہیں لباس مہیا کرنے اور انہیں کھانا فراہم کرنے میں احسان کرو ۔“
[حسن: صحيح ابن ماجة: 1501 ، إرواء الغليل: 1997 ، ترمذى: 1163 ، كتاب الرضاع: باب ما جاء فى حق المرأة على زوجها ، أحمد: 426/3 ، ابو داود: 3334 ، ابن ماجة: 1851]
➎ حضرت ہند بنت عتبہ رضی اللہ عنہا ابو سفیان کی بیوی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی اور عرض کیا اے اللہ کے رسول ! ابو سفیان ایک کنجوس آدمی ہے۔ مجھے وہ اتنا خرچ نہیں دیتا جو میرے لیے اور میرے بچوں کے لیے کافی ہو مگر یہ کہ میں خفیہ طور پر کچھ لے لیتی ہوں تو ایسا کرنے سے مجھ پر کوئی گناہ ہو گا؟ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
حذى ما يكفيك وولدك بالمعروف
”معروف طریقے سے تم اتنا مال لے لیا کرو جو تمہیں اور تمہارے بچوں کو کافی ہو جائے ۔“
[بخاري: 2211 ، كتاب البيوع: باب من أحرى أمر الأمصار على ما يتعارفون بينهم ، مسلم: 1714 ، ابو داود: 2532 ، نسائي: 246/8 ، ابن ماجة: 2293 ، دارمي: 159/2]
➏ اہل علم نے اتفاق کیا ہے کہ بیویوں کا خرچہ ان کے خاوندوں پر واجب ہے۔
[موسوعة الاجماع فى الفقه الاسلامي: 1059/2 ، المغني: 348/11 ، نيل الأوطار: 425/4]
(ابن قیمؒ) ہند بنت عتبہ کی حدیث سے مندرجہ ذیل مسائل مستنبط ہوتے ہیں:
➊ بیوی کے خرچہ کی مقدار متعین نہیں (کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا جو تجھے کافی ہو) ۔
➋ بیوی کا خرچہ بھی اولاد کی جنس سے ہے یعنی دونوں معروف طریقے سے ادا کیے جائیں گے۔
➌ اولاد کے خرچے کا ذمہ دار اکیلا والد ہے۔
➍ اگر شوہر اور والد اپنے اوپر واجب خرچہ ادا نہ کرتے ہوں تو بیوی اور اولاد کے لیے معروف طریقے سے اس قدر ان کے مال سے لے لینا جائز ہے جتنا انہیں کفایت کر جائے۔
➎ اگر عورت اپنے شوہر کے مال سے حسب کفایت خرچہ لے سکتی ہو تو اس کے لیے فسخ نکاح کا کوئی جواز نہیں۔
➏ واجب حقوق میں سے جس کی مقدار اللہ اور اس کے رسول نے مقرر نہیں کی اس میں عرف کو ملحوظ رکھا جائے گا۔
➐ جو بھی اپنے اوپر (کسی کے ) واجب حق کو روک لے اور اس کا ثبوت واضح ہو تو اس کے مستحق کے لیے جائز ہے کہ وہ اپنے ہاتھ سے لے لے جبکہ وہ اس پر قادر ہو جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہند رضی اللہ عنہا کو اسی کا فتوی دیا ۔
[أعلام الموقعين: 358/4 – 359]
کتنا خرچہ واجب ہے؟
اگرچہ فقہا نے اس میں اختلاف کیا ہے لیکن راجح بات یہی ہے کہ خرچہ کی مقدار متعین نہیں ہے بلکہ خاوند پر معروف طریقے سے اتنا خرچہ دینا لازم ہے جتنا بیوی بچوں کے لیے کافی ہو جیسا کہ ہند رضی اللہ عنہا کی حدیث میں ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا:
خذى ما يكفيك وولدك بالمعروف
”تم معروف طریقے سے اتنا مال لے لو جتنا تمہیں اور تمہاری اولا د کو کافی ہو۔“
اگر خرچہ کی مقدار متعین کر دی جائے تو یہ ظلم ہو گا اور وہ اس طرح کہ ایسا کبھی نہیں ہوتا کہ ہر ایک کو ایک مقدار کے خرچ کی ضرورت ہو بلکہ یقیناً کسی کو زیادہ خوراک کی ضرورت ہے اور کسی کو کم ، کسی کو زیادہ کپڑے کی ضرورت ہے اور کسی کو کم ، کوئی دن میں دو بار کھاتا ہے اور کوئی تین بار ، اور کسی کا علاج سستی ادویہ سے ہو جاتا ہے اور کسی کا مہنگی ادویہ سے۔ لٰہذا جسے جتنی ضرورت ہو اور جتنا اسے کفایت کر جائے اسے اتنا خرچہ دینا واجب ہے۔
(ابن قدامہؒ ) خرچہ کفایت کے ساتھ ہے (یعنی جتنے سے کفایت ہو جائے اتنا ہی فرض ہے )۔
(جمہور ) اسی کے قائل ہیں ۔
[المغنى: 349/11 ، نيل الأوطار: 477/4]
(شافعیؒ) مالدار پر ہر روز دو مد ، متوسط پر ایک مد اور نصف مد ، اور تنگ دست پر ایک مد واجب ہے (ایک روایت کے مطابق امام مالکؒ کا بھی یہی موقف ہے ) ۔
[الأم: 130/5]
(شوکانیؒ ) ہند کی حدیث ان (یعنی امام شافعیؒ) کے خلاف حجت ہے۔
[نيل الأوطار: 428/4]
(نوویؒ) انہوں نے بھی اسی کا اعتراف کیا ہے ۔
[شرح مسلم: 249/6]
خرچہ میں خاوند کے حالات کو بھی پیش نظر رکھا جائے گا
یعنی جس قدر اس میں طاقت ہے اس قدر اس پر خرچہ واجب ہو گا جیسا کہ قرآن میں ہے کہ :
لِيُنفِقْ ذُو سَعَةٍ مِّن سَعَتِهِ ۖ وَمَن قُدِرَ عَلَيْهِ رِزْقُهُ فَلْيُنفِقْ مِمَّا آتَاهُ اللَّهُ ۚ لَا يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفْسًا إِلَّا مَا آتَاهَا [الطلاق: 7]
”کشادگی والے کو اپنی کشادگی سے خرچ کرنا چاہیے اور جس پر اس کا رزق تنگ کیا گیا ہو اسے چاہیے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اسے دے رکھا ہے اس میں سے (حسب توفیق ) دے۔“
اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تطعمها إذا طعمت وتكسوها إذا اكتسيت
” (عورت کا حق یہ ہے کہ ) جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے اور جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے ۔“
[حسن صحيح: صحيح ابو داود: 1875 ، كتاب النكاح: باب فى حق المرأة على زوجها ، ابو داود: 2142 ، ابن ماجة: 1850 ، ابن حبان: 4175]
(ابن قدامہؒ ) اسی کے قائل ہیں۔
[المغني: 352/11]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔