مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

خاندان سے قطع تعلق کے بعد نکاح کا شرعی حکم

فونٹ سائز:

سوال

ایک خاتون نے کورٹ میرج کی، جس کے نتیجے میں اس کے خاندان نے اسے گھر سے نکال دیا۔ کچھ سال بعد اسے طلاق ہو گئی، اور اب وہ بچوں کے ساتھ دبئی میں اکیلی رہتی ہے۔ اس خاتون کا کہنا ہے کہ ایک شخص اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے، تو کیا وہ نکاح کر لے؟ کیونکہ اسے اپنی اور بیٹی کی عزت خطرے میں محسوس ہو رہی ہے، اور فیملی کے کسی فرد نے کئی سال سے اس سے رابطہ نہیں کیا۔

جواب از فضیلۃ الباحث داؤد اسماعیل حفظہ اللہ

عورت کے اولیاء سے نکاح کروانے کے لیے پہلے رابطہ کیا جائے۔ اگر وہ نکاح کے لیے رضامند نہیں ہوتے تو ان کی ولایت ساقط ہو جائے گی، اور پھر عدالت کے ذریعے نکاح کیا جا سکتا ہے۔

واللہ اعلم

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔