مضمون کے اہم نکات
سوال:
حالت حیض میں دی گئی طلاق کی شرعی حیثیت کیا ہے؟ بعض علماء کا کہنا ہے کہ حالت حیض میں طلاق واقع ہو جاتی ہے اور بعض اس کے وقوع کے انکاری ہیں، دلائل کی رو سے وضاحت فرمائیں کہ فریقین میں سے کس کا موقف درست ہے؟
جواب:
کتاب و سنت کی نصوص صحیحہ کی رو سے حالت حیض میں دی گئی طلاق واقع ہو جاتی ہے اور جمہور ائمہ محدثین کا یہی قول ہے، اس کے دلائل درج ذیل ہیں:
① عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور وہ حالت حیض میں تھی، عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”اسے حکم دو کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اس حالت میں رکھے یہاں تک کہ وہ پاک ہو جائے، پھر حائضہ ہو، پھر پاک ہو جائے، پھر اگر چاہے تو اس کے بعد روک لے اور اگر چاہے تو چھونے سے پہلے طلاق دے دے، یہ وہ عدت ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے عورتوں کو طلاق دینے کا حکم دیا ہے۔“
بخاري، كتاب الطلاق، باب قول الله تعالى يا أيها النبي إذا (5251)، مسلم (1471)، أبو داود (2178، 2179)، ابن ماجه (2019)، نسائي (3418، 3419)، مسند أحمد (45/6، ح: 6045، 6046)
جمہور محدثین فقہاء کے ہاں محل استدلال اس حدیث میں ”فليراجعها“ کے الفاظ ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رجوع کا حکم دیا، اگر طلاق واقع نہ ہوتی تو رجوع نہ ہوتا۔ بعض لوگوں نے یہاں رجوع کا لغوی معنی مراد لیا ہے کہ اسے پہلی حالت میں لوٹائے، نہ کہ اس کی طلاق شمار کی جائے۔ یہ بات دو لحاظ سے غلط ہے، ایک یہ کہ لفظ کو شرعی حقیقت پر محمول کرنا اسے لغوی حقیقت پر محمول کرنے پر مقدم ہے، جیسا کہ اصول فقہ کی کتب میں مرقوم ہے اور دوسرا یہ کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنہوں نے طلاق دی تھی، انہوں نے خود اس کی تصریح کی ہے کہ یہ طلاق شمار کی گئی تھی۔ لہذا اسے لغوی معنی پر محمول کرنا بلا دلیل اور درست نہیں ہے۔ اور امام أبو داود طيالسی نے ابن ابی الذئب از نافع ازابن عمر رضی اللہ عنہما نے روایت کیا ہے:
إنه طلق امرأته وهى حائض فأتى عمر النبى صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له، فحسبها واحدة
مسند أبي داود الطيالسي (68/1)، السنن الكبرى للبيهقي (326/7، ح: 14928)،مسند ابن وھب بحو الہ فتح الباری (353/9)
”ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو طلاق دی اور وہ حائضہ تھی تو عمر رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سارا معاملہ بیان کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک طلاق قرار دیا۔“
حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
هذا نص فى موضع الخلاف فيجب المصير إليه
”یہ حدیث حائضہ عورت کی طلاق کے وقوع میں جو اختلاف ہے اس پر نص ہے، اس کی طرف لوٹنا واجب ہے۔“
اس صحیح حدیث سے معلوم ہوا کہ جب عورت کو حالت حیض میں طلاق دی جائے تو وہ ایک طلاق شمار ہوتی ہے اور یہ صحیح حدیث اس طلاق کے وقوع پر نص کی حیثیت رکھتی ہے۔
② امام نسائی رحمہ اللہ نے کثیر بن عبید از محمد بن حرب از زبیدی سے روایت کیا ہے کہ امام زہری رحمہ اللہ سے سوال کیا گیا کہ عدت میں عورت کو طلاق کس طرح دی جاتی ہے؟ تو انہوں نے کہا مجھے سالم بن عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے خبر دی ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا:
طلقت امرأتي فى حياة رسول الله صلى الله عليه وسلم وهى حائض فذكر ذلك عمر لرسول الله صلى الله عليه وسلم فتغيظ رسول الله صلى الله عليه وسلم فى ذلك فقال ليراجعها ثم يمسكها حتى تحيض حيضة وتطهر فإن بدا له أن يطلقها طاهرا قبل أن يمسها فذاك الطلاق للعدة كما أنزل الله عز وجل، قال عبد الله بن عمر فراجعتها وحسبت لها التطليقة التى طلقتها
النسائي، كتاب الطلاق، باب وقت الطلاق للعدة الخ (3420)
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات طیبہ میں اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی اور وہ حالت حیض میں تھی تو میرے باپ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ذکر کی، اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم غصے میں آگئے، آپ نے فرمایا: وہ اس سے رجوع کرے، پھر اسے اس حالت میں رکھے یہاں تک کہ اسے ایک ماہواری آ جائے اور وہ پاک صاف ہو جائے، پھر اگر وہ طلاق دینا چاہے تو طہارت کی حالت میں چھونے سے پہلے طلاق دے دے۔ یہ وہ طلاق ہے جو عدت کے لیے ہے، جیسے اللہ عز و جل نے وحی نازل کی ہے۔“ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”میں نے اس سے رجوع کر لیا اور جو طلاق میں نے اسے دی تھی وہ شمار کی۔“
اور اس حدیث کے دیگر طرق میں یہ الفاظ بھی ہیں:
وكان عبد الله طلقها تطليقة فحسبت من طلاقها، وراجعها عبد الله كما أمره
مسند أحمد (131/1، ح: 6141)، مسلم، كتاب الطلاق، باب تحريم طلاق الحائض الخ (1471/4)، السنن الكبرى للبيهقي (324/7)
”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو ایک طلاق دی اور وہ اس کی طلاق شمار کی گئی اور عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے رجوع کر لیا، جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا۔“
یہ صحیح حدیث واضح کرتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کی طلاق شمار کی گئی تھی۔
③ یونس بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا:
قلت لابن عمر رجل طلق امرأته وهى حائض فقال أتعرف ابن عمر إن ابن عمر طلق امرأته وهى حائض فأتى عمر النبى صلى الله عليه وسلم فذكر ذلك له فأمره أن يراجعها فإذا طهرت فإن أراد أن يطلقها فليطلقها قلت فهل عد ذلك طلاقا قال أرأيت إن عجز واستحمق
بخاري، كتاب الطلاق، باب من طلق وهل يراجع الخ (5253، 5258)، مسلم (1471/6)، أبو داود (2184)، ترمذي (1175)، النسائي (3429، 3428)، ابن ماجه (2022)
”میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”ایک آدمی نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی جب وہ حائضہ تھی (تو اس کا کیا حکم ہے؟)“ اس پر انہوں نے کہا: ”تم ابن عمر کو پہچانتے ہو؟ ابن عمر نے بھی اپنی بیوی کو حالت حیض میں طلاق دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آکر سوال کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اس سے رجوع کرے، پھر جب وہ حیض سے پاک ہو جائے اس وقت اگر وہ طلاق دینا چاہے تو اسے طلاق دے دے۔“ میں نے کہا: ”کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو طلاق شمار کیا؟“ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”آپ مجھے بتائیں اگر کوئی عاجز ہو اور حماقت کر بیٹھے (تو اس کی عاجزی اور حماقت کی وجہ سے وہ فرض ساقط ہوگا؟ ہرگز نہیں! مطلب یہ کہ اس طلاق کا شمار ہوگا)۔“
یونس بن جبیر رحمہ اللہ کہتے ہیں میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا:
افتحتسب بها فقال ما يمنعه
مسلم، كتاب الطلاق، باب تحريم طلاق الحائض الخ (1471/10)، السنن الكبرى للبيهقي (326/7)
”کیا تم نے اسے طلاق شمار کیا؟“ تو انہوں نے کہا: اس سے کون سی چیز مانع ہے۔“
④ انس بن سرین رحمہ اللہ نے کہا:
سمعت ابن عمر قال طلق ابن عمر امرأته وهى حائض فذكر عمر للنبي صلى الله عليه وسلم فقال ليراجعها قلت تحتسب قال فمه
بخاري، كتاب الطلاق، باب إذا طلقت الحائض تعتد بذلك الطلاق (5252)، مسلم (1471/12)، السنن الكبرى للبيهقي (326/7)
”میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے سنا، انہوں نے کہا: ”ابن عمر نے اپنی بیوی کو دوران حیض طلاق دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ اس سے رجوع کرے۔ “میں نے کہا: ”کیا یہ طلاق شمار ہو جائے گی؟“ تو انہوں نے کہا: ”چپ رہ (پھر کیا شمار ہو جائے گی)۔“
صحيح مسلم (1471/11) میں ہے، انس بن سیرین رحمہ اللہ کہتے ہیں:
فاعتددت بتلك التطليقة التى طلقت وهى حائض قال ما لي لا أعتد بها وإن كنت عجزت واستحمقت
”کیا تم نے اسے حالت حیض میں جو طلاق دی تھی وہ شمار کی تھی؟“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”مجھے کیا ہے کہ میں اسے شمار نہ کروں؟ اگر میں عاجز آ جاؤں اور حماقت کا ثبوت دوں (تو کیا یہ فرض ساقط ہو گا)؟“
سنن دار قطنی اور بہیقی کی روایت میں ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا:
يا رسول الله أتحسب تلك التطليقة ؟ قال نعم
السنن الكبرى للبيهقي (326/7، ح: 14922)، دار قطني (10/4، ح: 3830)
”اے اللہ کے رسول! کیا آپ یہ طلاق شمار کریں گے؟“ آپ نے فرمایا: ”ہاں!“
⑤ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:
حسبت على تطليقة
بخاري، كتاب الطلاق، باب إذا طلقت الحائض تعتد بذلك الطلاق (5253)، إرواء الغليل (128/7)
”مجھ پر وہ طلاق شمار کی گئی۔“
⑥ امام عامر شعبی رحمہ اللہ نے کہا:
طلق ابن عمر امرأته وهى حائض واحدة فانطلق عمر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فأخبره فأمره إذا طهرت أن يراجعها ثم يستقبل الطلاق فى عدتها ثم تحتسب بالطلاقة التى طلق أول مرة
السنن الكبرى للبيهقي (326/7، ح: 14926)
”ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی اہلیہ کو دوران حیض ایک طلاق دی، تو عمر رضی اللہ عنہ نے جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ رجوع کرے جب وہ حیض سے پاک ہو جائے اور اس کی عدت کی ابتدا میں اسے طلاق دے دے اور جو پہلی طلاق دی تھی اسے شمار کر لے۔“
علامہ البانی رحمہ اللہ نے فرمایا:
هذا إسناد صحيح رجاله ثقات على شرط الشيخين
إرواء الغليل (131/7)
”یہ سند صحیح ہے، اس کے راوی بخاری و مسلم کی شرط پر ثقہ و قابل اعتماد ہیں۔“
⑦ امام دار قطنی رحمہ اللہ نے ابو بکر از عباس بن محمد از ابو عاصم از ابن جریج از نافع از ابن عمر رضی اللہ عنہما روایت کی ہے:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال هي واحدة
دار قطني (10/4، ح: 3851)
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ ایک طلاق ہے۔“
اس کے تمام راوی ثقہ ہیں، صرف ابن جریج کی تدلیس کا خدشہ ہے، کیونکہ انہوں نے سماع کی تصریح نہیں کی۔
⑧ اس طرح امام دار قطنی رحمہ اللہ نے ابو بکر از محمد بن علی الستري از علی بن عاصم از خالد و ہشام از محمد از جابر الحذاء روایت کی ہے۔
قلت لابن عمر رجل طلق حائضا قال أتعرف ابن عمر فإنه طلق حائضا فسأل عمر النبى صلى الله عليه وسلم فقال قل له ليراجعها فإذا حاضت ثم طهرت فإن شاء طلق وإن شاء أمسك قلت احتسبت بتلك التطليقة قال نعم
دار قطني (10/4، ح: 3852)
”میں نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا: ”ایک آدمی نے دوران حیض عورت کو طلاق دے دی (اس کا کیا حکم ہے؟)“ تو انہوں نے کہا: ”تم ابن عمر کو پہچانتے ہو، اس نے بھی اپنی اہلیہ کو دوران حیض طلاق دے دی تو عمر رضی اللہ عنہ نے اس بارے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا، تو آپ نے فرمایا: ”اسے کہو کہ وہ اس سے رجوع کر لے، پھر جب وہ حیض سے پاک صاف ہو جائے تو چاہے تو طلاق دے ڈالے اور چاہے تو رکھ لے۔ میں نے کہا: کیا تم نے یہ طلاق شمار کی تھی؟ تو انہوں نے کہا: ”ہاں!“
تنبیہ :
① اصل دار قطنی میں خالد الحذاء ہے، جب کہ شیخ البانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ جابر الحذاء ہے اور یہ صحیح ثقات لابن حبان اور الانساب للسمعاني سے ثابت ہے اور یہ اس سند کے علاوہ معروف نہیں۔
② اس کی سند میں علی بن عاصم الواسطي ہے جسے کئی ایک محدثین نے ضعیف قرار دیا ہے۔ (الكاشف للذهبي وغیرہ)
مذکورہ بالا احادیث صحیحہ سے معلوم ہوا کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے اس کے غلام نافع، بیٹے سالم، یونس بن جبیر، انس بن سیرین، سعید بن جبیر، عامر شعبی اور بروایت ضعیف جابر الحذاء رحمہم اللہ نے دوران حیض دی گئی طلاق کو شمار کرنا بیان کیا ہے، بلکہ بطریق نافع اور عامر شعبی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک یہ بات مرفوعاً پہنچتی ہے کہ آپ نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کی اس طلاق کو شمار کیا اور طلاق قرار دیا۔ اس صحیح و صریح نص کے مقابلے میں کوئی بھی ایسی صحیح حدیث نہیں جو اس کا معارضہ کر سکے۔ لہذا یہی موقف قوی اور دلائل صحیحہ و صریحہ کے اعتبار سے درست ہے۔
اب ذیل میں حیض کی طلاق کو شمار نہ کرنے والوں کے دلائل کا تجزیہ پیش کیا جاتا ہے۔
پہلی دلیل:
ابو داود نے احمد بن صالح از عبد الرزاق از ابن جریج از ابو الزبير روایت بیان کی ہے کہ عبد الرحمن بن ابی الزناد، مولیٰ عروہ، عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سوال کر رہے تھے اور ابو الزبير سن رہے تھے، انہوں نے کہا: ”جو آدمی حالت حیض میں عورت کو طلاق دے دیتا ہے اس کے متعلق آپ کیا سمجھتے ہیں؟“ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہنے لگے۔ میں نے اپنی بیوی کو حالت حائض میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں طلاق دے دی تو میرے باپ عمر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا اور کہا: عبد اللہ نے دوران حیض اہلیہ کو طلاق دے دی ہے۔ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا:فردها على ولم يرها شيئا”تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت کو مجھ پر لوٹا دیا اور اس طلاق کو درست نہ سمجھا“ اور فرمایا: ”جب عورت حیض سے پاک ہو جائے تو اسے طلاق دے دے یا روک رکھے۔“ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قراءت کی:
”اے نبی! جب تم عورتوں کو طلاق دو تو ان کی عدت کی ابتدا میں طلاق دے دو۔“
أبو داود، كتاب الطلاق، باب في طلاق السنة (2185)، السنن الكبرى للبيهقي (327/7، ح: 14929)، مسند أحمد (108/2، ح: 5542)، علاوه ازیں بھی حدیث صحیح مسلم (1471/1)، النسائي (3421)، مختصر المنتقى لابن الجارود (733) میں بھی موجود ہے لیکن ان کتب میں ”ولم يرها شيئًا“کے الفاظ نہیں ہیں۔
وضاحت :
① یہ روایت اس بات میں صریح نہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طلاق کو شمار نہیں کیا، جب کہ اوپر ذکر کردہ احادیث میں اس بات کی تصریح ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک طلاق شمار کیا۔
② خود عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما جنہوں نے ایام حیض میں طلاق دی تھی، اس بات کا اقرار کرتے ہیں کہ یہ طلاق شمار کی گئی اور ثقات ائمہ محدثین نے ابن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ بات نقل کی ہے۔
③ امام أبو داود رحمہ اللہ اس حدیث کو نقل کرنے کے بعد فرماتے ہیں: ”عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ حدیث یونس بن جبیر، انس بن سیرین، سعید بن جبیر، زید بن اسلم، أبو الزبير اور منصور بن أبي الدايل نے روایت کی ہے، سب کا مطلب یہ ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو رجوع کا حکم دیا، یہاں تک کہ وہ حالت طہر میں آ جائے، پھر اگر چاہے تو طلاق دے دے اور اگر چاہے تو روک لے۔“ پھر فرماتے ہیں:
والأحاديث كلها على خلاف ما قال أبو الزبير
”اور یہ تمام احادیث أبو الزبير کے قول کے خلاف ہیں۔“
④ امام ابن عبد البر رحمہ اللہ، امام خطابی رحمہ اللہ اور امام شافعی رحمہ اللہ نے ”لم يرها شيئا“ کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ اس کو غیر مستقیم چیز سمجھا، اس لیے کہ یہ سنت کے مطابق واقع نہیں ہوئی، اسے درست کام نہیں سمجھا، بلکہ ایسے آدمی کو حکم دیا کہ وہ اس پر قائم نہ رہے اور اپنی اہلیہ سے رجوع کر لے۔ بلکہ یہ اسی طرح ہے کہ جب کوئی آدمی کسی کام میں غلطی اور خطا کا مرتکب ہو تو اسے کہا جائے: ”لم يصنع شيئا“” اس نے کچھ نہیں کیا“ یعنی اس نے درست کام نہیں کیا۔ فتح الباري (354/9)، تعليق على مسند أحمد (372، 371/9) لہذا یہ حائضہ کی طلاق کے عدم وقوع میں صریح نص نہیں ہے۔
⑤ حافظ ابن حجر عسقلانی رحمہ اللہ نے فتح الباري (354/9) میں لکھا ہے کہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا جو یہ فرمان ہے: إنها حسبت على تطليقة ”طلاق مجھ پر شمار کی گئی“ اگرچہ اس میں یہ تصریح نہیں ہے کہ یہ بات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف مرفوع بیان کی گئی ہے لیکن یہ بات مسلم ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا یہ طلاق شمار کی گئی ہے۔
تو ان کا یہ قول ”لم يرها شيئا“ کے ساتھ اس معنی میں کیسے جمع ہو سکتا ہے جو فریق مخالف نے لیا ہے کہ طلاق شمار نہیں ہوتی، اس لیے کہ ”لم يرها شيئا“ میں ضمیر اگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف لوٹائی جائے کہ آپ نے اس طلاق کو شمار نہیں کیا تو یہ بات لازم آئے گی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابن عمر رضی اللہ عنہما کو بالخصوص اس قصہ میں جو حکم دیا تھا انہوں نے آپ کی مخالفت کی، اس لیے کہ انہوں نے طلاق شمار کی اور اس طلاق کا شمار کیا جانا” لم يرها شيئا “کے خلاف ہے اور یہ عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں کیسے گمان کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے اہتمام کے ساتھ اس مسئلہ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا تا کہ وہ آپ کے حکم کے مطابق عمل کریں اور اگر ”لم يرها شيئا“ میں ضمیر عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی طرف لوٹائی جائے یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس کو کچھ نہ سمجھا تو اس ایک ہی قصہ میں تناقض لازم آئے گا، لہذا ترجیح کی حاجت پڑے گی اور بلا شک و شبہ وہ بات جسے اکثر اور حفاظ راویوں نے بیان کیا ہے جمہور کے ہاں زیادہ اولی و بہتر ہے۔ بعض لوگوں نے یہاں قیاس سے کام لیا ہے، جیسا کہ ابن قیم رحمہ اللہ وغیرہ ہیں لیکن نص کے مقابلے میں قیاس فاسد الاعتبار ہے۔ ملاحظہ ہو فتح الباري (355/9)
⑥ اصول ترجیح میں جس طرح اوثق و احفظ راویوں کی روایت کو ترجیح دی جاتی ہے اسی طرح کثرت کو بھی ترجیح ہوتی ہے، أبو الزبير کی روایت میں بقول فریق مخالف تناقض ہے۔ لہذا کثرت ثقات رواۃ کی روایت رائج ہوگی۔
⑦ اسی طرح أبو الزبير کی روایت میں احتمال ہے اور ثقات کی روایت میں تصریح ہے، اس لیے تصریح والی روایت رائج ہوگی۔
اگر کوئی اعتراض کرے کہ أبو الزبير اس روایت میں منفرد نہیں بلکہ أبو الزبير کی متابعات موجود ہیں، جیسا کہ سنن سعيد بن منصور (1552) میں بطریق عبد اللہ بن مالک عن ابن عمر رضی اللہ عنہما مروی ہے:
إنه طلق امرأته وهى حائض فانطلق عمر إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال إن عبد الله طلق وهى حائض فقال رسول الله ليس ذلك بشيء
”انہوں نے اپنی بیوی کو طلاق دی تو عمر رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے اور کہا: ”عبد اللہ نے اپنی اہلیہ کو طلاق دے دی ہے اور وہ حالت حیض میں ہے“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کوئی چیز نہیں۔“
تو اس کا جواب یہ ہے کہ اس کی سند میں خدیج بن معاویہ ہے جس کے بارے میں یحیی ابن معین فرماتے ہیں: ”ليس بشيء “”یہ محض ہیچ ہے۔“ امام بخاري رحمہ اللہ فرماتے ہیں: يتكلمون فى بعض حديثه. ”محدثین اس کی بعض روایات میں کلام کرتے ہیں ۔“ امام نسائي رحمہ اللہ نے کہا: ”ضعيف“۔ ابن سعد کہتے ہیں: كان ضعيفا فى الحديث” یہ حدیث میں ضعیف ہے“۔ امام أبو داود رحمہ اللہ نے کہا: ” زہیر خد یج کو پسند نہیں کرتے ہیں“۔ امام دار قطني فرماتے ہیں: ”غلب عليه الوهم“”اس پر وہم غالب ہے“ ۔ امام بزار نے کہا: ”سيي الحفظ“ ”اس کا حافظ بگڑ گیا تھا “۔ تهذيب التهذيب (453/1، 454)
اسی طرح أبو زرعہ الرازي رحمہ اللہ اور ابن معين رحمہ اللہ نے بھی اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ تحرير تقريب التهذيب (256/1)
اس کے برعکس اسے امام أحمد رحمہ اللہ اور أبو حاتم رحمہ اللہ نے صدوق قرار دیا ہے، أبو حاتم رحمہ اللہ کا کہنا ہے: محله الصدق فى بعض حديثه وهم يكتب حديثه
”اس کا مقام صدوق ہے، اس کی بعض روایتوں میں وہم ہے اور ازس کی حدیث لکھی جائے گی (یعنی متابعت میں)۔ “
اس تفصیل سے معلوم ہوا کہ خدیج بن معاویہ جمہور محدثین کے ہاں ضعیف ہے اور سوئے حفظ کا مریض تھا اور کم روایات بیان کرنے کے باوجود کثیر الوهم بھی تھا اور کثیر الوهم جرح مفسر کے باوجود الوهم ہے۔ پھر اس روایت میں خدیج بن معاویہ کے استاد أبو إسحاق السبیعي ہیں اور یہ مدلس راوی ہیں اور روایت عن عن کے ساتھ بیان کرتے ہیں، یعنی انہوں نے اپنے استاد سے یہ روایت سننے کی صراحت نہیں کی اور تدلس کے بارے میں محدثین کا قاعدہ یہ ہے:
من ثبت عنه التدليس إذا كان عدلا أن لا يقبل منه إلا ما صرح فيه بالتحديث
شرح نخبة الفكر (ص72) ط بیروت
”جب عادل راوی سے تدلیس ثابت ہو جائے تو اس کی صرف وہی روایت قبول کی جائے گی جس میں اس نے سماع کی تصریح کی ہوگی۔“
لہذا ان کی روایت محض ہونے کی وجہ سے مردود ہوگی۔
پھر ایک وجہ یہ بھی ہے کہ أبو إسحاق السبعیی عمرو بن عبد اللہ آخر عمر میں مختلط ہو گئے تھے ۔
نهاية الاغتباط (279/273)
اختلاط والے راوی کے بارے میں اصول حدیث کا قاعدہ یہ ہے کہ جو اس نے اختلاط سے قبل روایت بیان کی وہ قبول کی جائے گی اور جو حالت اختلاط میں بیان کی ہو، یا جس کے بارے میں معلوم نہ ہو کہ اس نے اختلاط سے پہلے بیان کی ہے یا بعد میں وہ قبول نہیں ہوگی۔
نهاية الاغتباط بمن رمي من الرواة بالاختلاط (34)
اور اس کے ضعیف ہونے کی چوتھی وجہ یہ ہے کہ اسی طرح أبو إسحاق کے استاد عبد اللہ بن مالک ہمداني کے حالات نامعلوم ہیں، لہذا یہ روایت ان چار علتوں کی وجہ سے ضعیف اور ناقابل حجت ہے۔
نوٹ:
مکتبہ قدوسیہ کی مطبوعہ شرح صحیح بخاری (30/7) میں ابن مالک کی جگہ ابن مبارک غلطی سے چھپ گیا ہے۔
یہ روایت دوران حیض دی گئی طلاق کے عدم وقوع کے بارے میں صریح نہیں، بلکہ اس روایت کا یہ مطلب بھی ہو سکتا ہے ليس ذلك بشيء صواب یعنی یہ طلاق کوئی درست چیز نہیں، خلاف سنت ہے، اس سے رجوع کر لینا چاہیے اور عورت جب حیض سے پاک ہو جائے تو اس طہر میں طلاق دے جس میں مجامعت نہ کی ہو۔
دیکھئے بیہقی (327/7)
دوسری دلیل:
الشيخ محمد ناصر الألبانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
أما دعوى أبى داود أن الأحاديث كلها على خلاف ما قال أبو الزبير فيرده ط طريق سعيد بن جبير التى قبله فإنه موافق لرواية أبى الزبير هذه فإنه قال فرد النبى صلى الله عليه وسلم ذلك حتى طلقتها وهى طاهر
إرواء الغليل (1300/7)
”امام ابو داؤد کا جو دعویٰ ہے کہ تمام احادیث ابو الزبیر کے قول کے خلاف ہیں، ان کے اس دعویٰ کو سعید بن جبیر کے طریق سے مروی روایت رد کرتی ہے، وہ ابو الزبیر کی روایت کے موافق ہے، اس میں ہے کہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ہاں اسے واپس لوٹا دیا، یہاں تک کہ میں نے اسے طلاق دی جب وہ حالت طہر میں تھی۔“
اس کا جواب یہ ہے کہ شیخ الألبانی رحمہ اللہ نے سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے جس طریق کو ابو الزبیر کی روایت کا موافق شاہد ذکر کیا ہے وہ ابو الزبیر کی روایت کی موافقت نہیں کرتی اور نہ اس سے یہ بات مفہوم ہوتی ہے کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق کا وقوع نہیں ہوتا، بلکہ دوران حیض دی گئی طلاق کے وقوع اور عدم وقوع کے بارے میں یہ روایت خاموش ہے، جب کہ صحیح بخاری میں سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کے طریق سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں تصریح ہے: لا تحسب على تلك الطلقة یعنی ”یہ طلاق مجھ پر شمار کی گئی۔“ یہ روایت نص صریح ہے اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی جانب سے قطعی فیصلہ ہے کہ حالت حیض میں دی گئی طلاق شمار ہوتی ہے۔ لہٰذا شیخ الألبانی رحمہ اللہ کا سعید بن جبیر رضی اللہ عنہ کی مجمل روایت کو ابو الزبیر کی روایت کا موافق شاہد قرار دینا درست نہیں، ان کا یہ وہم ہے کہ وہ اکیلے اس مسئلہ میں مصیب ہیں۔ بات وہی درست ہے جو امام ابو داؤد نے کہی ہے اور امام ابن عبد البر، امام خطابی اور امام شافعی وغیرہ نے جو مفہوم بیان کیا ہے اور امام بخاری بھی حائضہ کی طلاق کے وقوع میں امام شافعی وغیرہ کے ہم نوا ہیں، انہوں نے اپنی صحیح میں (قبل الحدیث: 5252) یوں باب باندھا ہے:
باب إذا طلق الحائض تعتد بذلك الطلاق
’’جب حائضہ کو طلاق دے دی جائے تو وہ اس طلاق شمار کی جائے گی۔‘‘
تیسری دلیل:
امام ابن حزم نے یونس بن عبید اللہ از احمد بن عبد الله بن عبد الرحیم از احمد بن خالد از محمد ابن عبد السلام الخشنی از محمد بن بشار از عبد الوہاب بن عبد المجید الثقفی از عبد الله بن عمر از نافع از ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
أنه قال فى الرجل يطلق امرأته وهى حائض قال ابن عمر لا يعتد بذلك
المحلى لابن حزم 193/10
’’ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس آدمی کے بارے میں کہا جو اپنی عورت کو دوران حیض طلاق دے دے کہ وہ اس کے لیے شمار نہ کرے۔‘‘
اس کا جواب یہ ہے کہ یہ روایت فریق مخالف کے لیے دلیل نہیں بن سکتی، کیونکہ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے اس قول لا يعتد بذلك کا یہ مطلب نہیں کہ وہ دوران حیض دی گئی طلاق کو شمار نہ کرے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جس حیض میں طلاق دی اس حیض کو عدت میں شمار نہ کرے اور قاعدہ یہ ہے: إن الحديث يفسر بعضه بعضا کہ ایک حدیث دوسری کی تفسیر کرتی ہے اور امام ابن ابی شیبہ نے یہی روایت عبد الوہاب الثقفی سے، عبید الله بن عمر سے، نافع سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کی ہے: ”جو آدمی اپنی اہلیہ کو دوران حیض طلاق دے دے تو اس حیض کو عدت میں شمار نہ کیا جائے۔“ المصنف لابن أبي شيبة، كتاب الطلاق، باب ما قالوا في الرجل يطلق امرأته وهي حائض 40/6 بتحقيق الأستاذ سعيد اللحام
اسی طرح امام ابو سعید بن الأعرابی نے کتاب المعجم (1751) میں عباس الدوری سے، یحیی بن معین سے، عبد الوہاب الثقفی سے، عبید الله سے، نافع سے، ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے۔
إذا طلقها وهى حائض لم تعتد بتلك الحيضة
’’جب آدمی عورت کو دوران حیض طلاق دے تو اس حیض کو عدت میں شمار نہ کرے۔‘‘
عبد الوہاب الثقفی کے طریق سے مروی یہ روایت اس بات کی توضیح کر دیتی ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما کے قول کا مطلب یہی ہے کہ اس حیض کو عدت میں شمار نہ کرے، یہ مطلب نہیں کہ طلاق ہی شمار نہ کرے، نیز اس حدیث کے راوی عبید الله کا قول ہے:
وكانت طلقته إياها فى الحيض واحدة غير أنه خالف السنة
’’ابن عمر رضی اللہ عنہما کی حالت حیض میں دی ہوئی ایک طلاق تھی مگر انہوں نے سنت کے خلاف دی تھی۔‘‘
چوتھی دلیل:
امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ جو لوگ دوران حیض طلاق کے عدم وقوع کے قائل ہیں وہ امام شافعی رحمہ اللہ کے اس قول سے دلیل لیتے ہیں:
اذا طلق الرجل امرأته وهى حائض لم يعتد به فى قول ابن عمر
’’جب آدمی اپنی اہلیہ کو طلاق دے اور وہ حالت حیض میں ہو تو ابن عمر کے قول کے مطابق اسے شمار نہ کیا جائے۔‘‘
اس کا جواب یہ ہے کہ امام ابن عبدالبر رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب وہ نہیں ہے جس کی طرف فریق مخالف گیا ہے، بلکہ اس کا مطلب ہے کہ عدت میں عورت اس حیض کو شمار نہ کرے گی اور یہ بات امام شافعی سے منصوص ہے کہ طلاق ہو جائے گی اور اس حیض کو عدت میں شمار نہیں کیا جائے گا۔
ملاحظہ ہو التمهيد لابن عبد البر (66/5)، فتح الباري (354/9)
دوران حیض طلاق کے عدم وقوع کے قائلین کے دلائل کا تجزیہ آپ نے دیکھ لیا، ان حضرات کے پاس کوئی صحیح و صریح حدیث موجود نہیں ہے جس سے یہ معلوم ہو کہ دوران حیض طلاق واقع نہیں ہوتی، جب کہ جمہور ائمہ کے ہاں دلائل کثیرہ موجود ہیں جو اس باب میں صریح نص کی حیثیت رکھتے ہیں۔ لہٰذا دوران حیض دی گئی طلاق کا وقوع ہوتا ہے اور یہی مذہب صحیح اور قوی ہے۔