حیض اور نفاس کے شرعی احکام قرآن و سنت کی روشنی میں
قرآن وحدیث کی روشنی میں فقہی احکام و مسائل جلد 01: صفحہ 71
مضمون کے اہم نکات

سوال:
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حیض اور نفاس کے احکام

الجواب بعون الوهاب بشرط صحة السؤال:
وعلیکم السلام ورحمة الله وبرکاته!
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ المَحيضِ قُل هُوَ أَذًى فَاعتَزِلُوا النِّساءَ فِى المَحيضِ وَلا تَقرَبوهُنَّ حَتّىٰ يَطهُرنَ فَإِذا تَطَهَّرنَ فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوّ‌ٰبينَ وَيُحِبُّ المُتَطَهِّرينَ ﴿٢٢٢﴾
سورة البقرة
"آپ سے حیض کے بارے میں سوال کرتے ہیں، کہہ دیجیئے کہ وہ گندگی ہے، پس حالتِ حیض میں عورتوں سے الگ رہو اور جب تک وہ پاک نہ ہوجائیں ان کے قریب نہ جاؤ، پھر جب وہ پاک ہوجائیں تو ان کے پاس اس طریقے سے جاؤ جس کی اللہ نے تمہیں اجازت دی ہے، بے شک اللہ توبہ کرنے والوں اور پاک رہنے والوں سے محبت کرتا ہے” [البقرۃ: 222]

حیض ایک طبعی اور فطری خون ہے جو مخصوص ایام میں عورت کے رحم سے خارج ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس خون کو ماں کے پیٹ میں موجود بچے کی غذا بنایا ہے، کیونکہ رحم میں بچے کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر اس غذا میں رحم کا بچہ شریک ہوجاتا تو عورت کمزور ہوجاتی، اسی حکمت کی بنا پر اللہ تعالیٰ نے حیض کے خون کو بچے کی خوراک بنادیا۔ یہی وجہ ہے کہ حاملہ عورت کو حیض نہیں آتا۔
جب بچہ پیدا ہوجاتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس نومولود کی غذا کو دودھ کی صورت میں ماں کے پستانوں کی طرف منتقل کردیتا ہے، جس سے بچہ خوراک حاصل کرتا ہے۔ اسی سبب دودھ پلانے والی عورت کے حیض میں عموماً کمی ہوجاتی ہے۔
جب عورت حمل اور رضاعت کے مراحل سے فارغ ہوجاتی ہے تو اس خون کی رحم میں ضرورت باقی نہیں رہتی، چنانچہ ہر ماہ تقریباً چھ یا سات دن حیض آتا ہے، اور بعض اوقات عورت کے مزاج یا مخصوص حالات کے باعث اس میں کمی یا زیادتی بھی ہوسکتی ہے۔

حائضہ عورت سے متعلق اہم شرعی احکام

◈ حائضہ عورت کے حیض کے ایام اور حیض کے اختتام سے متعلق کتاب و سنت میں تفصیلی احکام وارد ہوئے ہیں، جن کا خلاصہ درج ذیل ہے:

① نماز اور روزے کا حکم

✔ حیض کے دنوں میں عورت کے لیے نماز اور روزہ ادا کرنا ممنوع ہے۔
رسول اللہ ﷺ نے سیدہ فاطمہ بنت ابی جیش رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے فرمایا:

"إِذَا أَقْبَلَتِ الْحَيْضَةُ فَدَعِي الصَّلَاةَ”
"جب حیض آئے تو نماز چھوڑ دینا” [صحیح البخاری، الحیض، باب اذا رأت المستحاضۃ الطھر، حدیث 331؛ صحیح مسلم، الحیض، باب المستحاضۃ وغسلھا وصلاتھا، حدیث 333]

اگر عورت حالتِ حیض میں روزہ رکھ لے یا نماز ادا کرلے تو وہ صحیح اور مقبول نہیں ہوں گے، کیونکہ نبی کریم ﷺ نے اس سے منع فرمایا ہے۔ یہ ممانعت عدمِ صحت پر دلالت کرتی ہے، اور ایسی صورت میں عورت اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی نافرمان شمار ہوگی۔

✔ جب عورت حیض سے پاک ہوجائے تو روزوں کی قضا دے گی، مگر نماز کی قضا نہیں دے گی۔
سیدہ عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

"كُنَّا نَحِيضُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ثُمَّ نَطْهُرُ فَيَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّوْمِ، وَلَا يَأْمُرُنَا بِقَضَاءِ الصَّلَاةِ”
"ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں حیض میں مبتلا ہوتیں، پھر پاک ہوجاتیں، تو ہمیں روزوں کی قضا کا حکم دیا جاتا تھا، مگر نماز کی قضا کا حکم نہیں دیا جاتا تھا” [صحیح البخاری، الحیض، باب لا تقضی الحائض الصلاۃ، حدیث 321؛ صحیح مسلم، الحیض، باب وجوب قضاء الصوم علی الحائض دون الصلاۃ، حدیث 335؛ سنن ابی داود، الطھارۃ، باب فی الحائض لا تقضی الصلاۃ، حدیث 262، 263؛ سنن النسائی، الصیام، باب وضع الصیام عن الحائض، حدیث 2320]

② طواف، تلاوت اور جماع کا حکم

❀ حائضہ عورت بیت اللہ کا طواف نہیں کرسکتی، قرآن مجید کو ہاتھ لگا کر تلاوت نہیں کرسکتی، مسجد میں قیام نہیں کرسکتی اور خاوند کے لیے اس سے جماع کرنا حرام ہے، یہاں تک کہ حیض ختم ہوجائے اور وہ غسل کرلے۔
اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

﴿وَيَسـَٔلونَكَ عَنِ المَحيضِ قُل هُوَ أَذًى فَاعتَزِلُوا النِّساءَ فِى المَحيضِ وَلا تَقرَبوهُنَّ حَتّىٰ يَطهُرنَ فَإِذا تَطَهَّرنَ فَأتوهُنَّ مِن حَيثُ أَمَرَكُمُ اللَّهُ﴾ [البقرۃ: 222]

آیت میں لفظ (فَاعْتَزِلُوا) سے مراد جماع سے اجتناب ہے۔
نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے:

"اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلَّا النِّكَاحَ”
"جماع کے علاوہ حائضہ عورت کے ساتھ ہر کام کرسکتے ہو” [صحیح مسلم، الحیض، باب جواز غسل الحائض رأس زوجھا، حدیث 302؛ سنن ابی داود، الطھارۃ، باب مؤاکلۃ الحائض ومجامعتھا، حدیث 258]

③ بوس و کنار اور معانقہ

✿ خاوند کے لیے حائضہ بیوی کے ساتھ فرج میں جماع کے علاوہ معانقہ، بوس و کنار اور دیگر تعلقات جائز ہیں۔

④ حالتِ حیض میں طلاق کا حکم

✔ خاوند کے لیے جائز نہیں کہ وہ اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:

﴿يـٰأَيُّهَا النَّبِىُّ إِذا طَلَّقتُمُ النِّساءَ فَطَلِّقوهُنَّ لِعِدَّتِهِنَّ﴾ [سورۃ الطلاق: 1]

لفظ (لِعِدَّتِهِنَّ) کا مطلب یہ ہے کہ عورت طہر کی حالت میں ہو اور اس طہر میں اس سے صحبت نہ کی گئی ہو۔
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہما نے جب اپنی بیوی کو حالتِ حیض میں طلاق دی تو رسول اللہ ﷺ نے انھیں حکم دیا کہ رجوع کریں اور اگر طلاق دینا ہو تو حالتِ طہر میں دیں۔ [صحیح البخاری، التفسیر، سورۃ الطلاق، باب 1، حدیث 4908؛ صحیح مسلم، الطلاق، باب تحریم طلاق الحائض بغیر رضاھا، حدیث 1471]

⑤ حیض کے اختتام پر غسل کا حکم

◈ جب حیض کا خون بند ہوجائے تو عورت پاک ہوجاتی ہے اور اس پر غسل فرض ہوجاتا ہے۔ غسل کے بعد وہ تمام کام جائز ہوجاتے ہیں جو حیض کی وجہ سے ممنوع تھے۔

⑥ طہر کے بعد زرد یا مٹیالا پانی

✔ اگر پاکی حاصل کرنے کے بعد زرد یا مٹیالا پانی نظر آئے تو اس کی پروا نہ کرے۔
سیدہ ام عطیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں:

"كُنَّا لَا نَعُدُّ الصُّفْرَةَ وَالْكُدْرَةَ بَعْدَ الطُّهْرِ شَيْئًا”
"ہم عہدِ نبوی میں طہر کے بعد زرد یا مٹیالے پانی کو کچھ شمار نہیں کرتی تھیں” [صحیح البخاری، الحیض، باب الصفرۃ والکدرۃ فی غیر ایام الحیض، حدیث 326؛ سنن ابی داود، الطھارۃ، باب فی المرأۃ تری الصفرۃ والکدرۃ بعد الطھر، حدیث 307]

⑦ نماز کے وقت پاک ہونے کی صورت

❀ اگر حائضہ یا نفاس والی عورت غروبِ آفتاب سے پہلے پاک ہوجائے تو اس پر ظہر اور عصر دونوں نمازیں ادا کرنا لازم ہوں گی۔
اگر فجر سے پہلے پاک ہوجائے تو مغرب اور عشاء کی نمازیں ادا کرنا واجب ہوں گی، کیونکہ حالتِ عذر میں دوسری نماز کا وقت پہلی نماز کا وقت بھی شمار ہوتا ہے۔

شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ امام مالک، امام شافعی اور امام احمد رحمہم اللہ کے نزدیک یہی قول ہے، اور یہ رائے سیدنا عبدالرحمٰن بن عوف، سیدنا ابو ہریرہ اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہم سے بھی منقول ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 21/434]

⑧ نماز کا وقت شروع ہونے کے بعد حیض آجانے کا حکم

✔ اگر نماز کا وقت شروع ہوچکا ہو اور عورت نماز ادا کرنے سے پہلے حیض یا نفاس میں مبتلا ہوجائے تو راجح قول کے مطابق اس نماز کی قضا لازم نہیں۔
شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمۃ اللہ علیہ کے مطابق امام ابو حنیفہ اور امام مالک رحمہم اللہ کا یہی مسلک دلائل کے اعتبار سے قوی ہے۔ [مجموع الفتاویٰ لابن تیمیہ 23/335]

ھذا ما عندی، واللہ أعلم بالصواب

یہ پوسٹ اپنے دوست احباب کیساتھ شئیر کریں

فیس بک
وٹس اپ
ٹویٹر ایکس
ای میل

موضوع سے متعلق دیگر تحریریں:

تبصرہ کریں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے