سوال
(١): علماے کرام کی بارگاہ میں سوال ہے کہ قاضی غلام مصطفیٰ نے اپنی زندگی میں، صحت اور تندرستی کی حالت میں، ایک صاف ستھری تحریر لکھ دی کہ "میں اپنی جائیداد تین بیٹیوں کو ہبہ کرتا ہوں”۔ یہ ہبہ کی ہوئی جائیداد بیٹیوں کے قبضے میں بھی آگئی۔ یہ ملکیت قاضی غلام مصطفیٰ مرحوم کی ذاتی ملکیت تھی۔
(٢): قاضی غلام مصطفیٰ کے انتقال کے وقت ورثا میں دو بیٹیاں، ایک بیوی اور ایک بھائی موجود تھے۔ شریعت محمدی کے مطابق اس ملکیت کا حق دار کون ہوگا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ:
- سب سے پہلے میت کے ترکہ سے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا۔
- اس کے بعد اگر کوئی قرض باقی ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔
- اس کے بعد اگر میت نے کوئی وصیت کی ہے تو کل جائیداد کے تیسرے حصے تک وہ وصیت پوری کی جائے گی۔
جہاں تک قاضی غلام مصطفیٰ مرحوم کا معاملہ ہے:
- انہوں نے اپنی جائیداد اپنی حیات اور صحت کی حالت میں تین بیٹیوں کو ہبہ کر دی تھی۔
- یہ ہبہ شدہ جائیداد بیٹیوں کے قبضے میں بھی آچکی تھی۔
- لہٰذا یہ ہبہ برقرار رہے گا اور صرف تین بیٹیوں کو ہی ملے گا۔
- مرحوم کے بعد اس جائیداد میں کسی اور کا کوئی حق باقی نہیں رہتا کیونکہ یہ ہبہ صحیح طور پر مکمل ہوچکا تھا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب