مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حمام یا بیت الخلاء کی چھت پر نماز کا حکم

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ ارکان اسلام

حمام اور بیت الخلاء کی چھت پر نماز ادا کرنے کا حکم

سوال:

حمام اور بیت الخلاء کی چھت پر نماز پڑھنا کیسا ہے؟ اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے؟

جواب:

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!

حمام یا بیت الخلاء کی چھت پر نماز ادا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، کیونکہ موجودہ دور میں ہمارے گھروں کے حمام اور لیٹرین کی الگ عمارتیں نہیں ہوتیں بلکہ وہ گھر کی عمومی چھت کا ہی حصہ ہوتی ہیں۔

اسی بناء پر، اگر کوئی شخص حمام یا لیٹرین کی چھت پر نماز پڑھتا ہے تو یہ جائز ہے اور شریعت میں اس کی ممانعت نہیں پائی جاتی۔

یہ عمل نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس عمومی فرمان کے تحت آتا ہے:

((وَجُعِلَتْ لِیَ الْأَرْضُ مَسْجِدًا وَطَہُورًا))
(صحیح البخاري، الصلاة، باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم : جعلت لی… ح: ۴۳۸۔)

ترجمہ:
’’اور میرے لیے ساری زمین کو مسجد اور پاک بنا دیا گیا ہے۔‘‘

لہٰذا زمین کا ہر وہ حصہ جہاں نجاست نہ ہو اور نماز کے لیے جگہ مناسب ہو، نماز کی ادائیگی کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، اور اس میں حمام یا لیٹرین کی چھت بھی شامل ہے بشرطیکہ وہاں کوئی ناپاکی یا بدبو نہ ہو۔

ھذا ما عندي، والله أعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔