حلولیہ کا رد اور عقیدۂ علو: امام اشعری اور امام آجری رحمہما اللہ کے واضح اقوال

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

چوتھی صدی کے ائمہ دین

امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ (324ھ)
ان کی بابت حافظ ابن قیم رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:
كذلك أبو الحسن الأشعري نقل الإجماع على أن الله استوى على عرشه.

’’اسی طرح امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ نے اس پر اجماع نقل کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے عرش پر مستوی ہے ۔‘‘

(مختصر الصواعق المرسلة: 318)

تفصیل کے لیے امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ کی کتاب الا بانتہ اور مقالات الاسلامیین کا مطالعہ کریں۔
امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:

إن الله سبحانه على عرشه، كما قال: (الرحمن على العرش استوى).

اللہ سبحانہ و تعالی عرش پر ہے، جیسا کہ اس نے خود فرمایا ہے:

(الرحمٰن على العرش استوى)

’’رحمن عرش پر مستوی ہوا ۔‘‘

(مقالات الإسلاميين، ص 290)

امام ابو بکر آجری رحمتہ اللہ (360 ھ)
آپ رحمتہ اللہ فرماتے ہیں:

إني أحذر إخواني المؤمنين مذهب الحلولية، الذي لعب بهم الشيطان، فخرجوا بسوء منهبهم عن طريق أهل العلم، مذاهبهم قبيحة، لا تكون إلا في مفتون هالك زعموا أن الله وجل حال في كل شيء، حتى أخرجهم سوء منهبهم إلى أن تكلموا في الله عز وجل بما تنكره العلماء العقلاء، لا يوافق قولهم كتاب ولا سنة ولا قول الصحابة رضي الله عنهم ولا قول أئمة المسلمين.

’’میں اپنے مومن بھائیوں کو حلولیہ کے مذہب سے آگاہ کرنا چاہتا ہوں، ان کے ساتھ شیطان نے کھیل کھیلا اور وہ اپنے برے مذہب کی وجہ سے اہل علم کے مذہب سے نکل گئے۔ ان کے مذاہب انتہائی قبیح ہیں، جنھیں کوئی پاگل ومجنون ہی اپنا سکتا ہے۔ ان کا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز میں حلول کیے ہوئے ہے، حتی کہ ان کے مذہب کی گندگی نے انھیں اللہ کے متعلق ایسی ایسی باتیں کرنے پر مجبور کیا، جن کا عقل مند علما انکار کرتے ہیں۔ نہ تو کتاب وسنت میں ان کے قول کی حمایت موجود ہے، نہ ہی صحابہ کرام اور ائمہ مسلمین کا کوئی قول ان کے موافق ہے۔‘‘

(کتاب الشريعة: 1078/3)

نیز فرماتے ہیں:

الذي يذهب إليه أهل العلم أن الله عز وجل على عرشه فوق سماواته، وعلمه محيط بكل شيء، قد أحاط علمه بجميع ما خلق في السموات العلا، ولجميع ما في سبع أرضين.

’’اہل علم کا مذہب ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانوں کے اوپر اپنے عرش پر مستوی ہے اور اس کا علم ہر چیز کا احاطہ کیے ہوئے ہے۔ بلند آسمانوں اور ساتوں زمینوں میں جو بھی ہے، اس نے اپنے علم کے ذریعہ اسے گھیر رکھا ہے۔‘‘
(كتاب الشريعة: 1076/3)