مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حلال و حرام کے فیصلے اور علماء کی اطاعت حدیث کی روشنی میں

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ مبشر احمد ربانی کی کتاب احکام و مسائل کتاب و سنت کی روشنی میں سے ماخوذ ہے۔

سوال :

شیخ محمد بن عبد الوہاب نے ”کتاب التوحید “کے باب(38) اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیز کو حرام، یا حرام کردہ چیز کو حلال کرنے میں علماء اور امراء کی اطاعت ان کو رب کا درجہ دیتا ہے میں ایک اثر نقل کیا ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”قریب ہے کہ تم پر آسمان سے پتھر برسیں، میں تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان سناتا ہوں اور تم ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کی بات کرتے ہو کیا یہ اثر صحیح ہے؟ اگر صحیح ہے تو اس کا حوالہ براہ مہربانی بتا دیں۔

جواب :

شیخ محمد بن عبد الوہاب رحمہ اللہ نے مذکورہ باب میں یہ بات واضح کی ہے کہ اطاعت عبادت کی انواع میں سے ہے، بلکہ عبادت ہی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسولوں کے حکم کی اطاعت کو اپنی اطاعت قرار دیا ہے، کیونکہ رسول در حقیقت اللہ ہی کی بات اپنی امت تک پہنچاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کے حکم کے مقابلے میں کسی بھی مخلوق کی اطاعت نہیں کی جائے گی اور یہاں مخصوص اطاعت مقصود ہے جو حلال کو حرام اور حرام کو حلال کرنے کے بارے میں ہے۔ جس نے اللہ کے حکم کے مقابلے میں غیر کی اطاعت کی وہ مشرک ہے، یہود و نصاریٰ نے اپنے علماء اور پیروں کو اللہ کے سوا جو رب بنا لیا تھا اس کا تذکرہ اللہ کے مقدس کلام میں موجود ہے، ارشاد باری تعالیٰ ہے:
﴿اتَّخَذُوا أَحْبَارَهُمْ وَرُهْبَانَهُمْ أَرْبَابًا مِنْ دُونِ اللَّهِ وَالْمَسِيحَ ابْنَ مَرْيَمَ وَمَا أُمِرُوا إِلَّا لِيَعْبُدُوا إِلَٰهًا وَاحِدًا لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ سُبْحَانَهُ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾
(التوبة: 31)
”انھوں نے اپنے علماء اور پیروں کو اور مسیح ابن مریم کو اللہ کے سوا رب بنا لیا، حالانکہ انھیں صرف یہی حکم دیا گیا کہ وہ ایک الٰہ کی عبادت کریں، اللہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے، وہ اس چیز سے پاک و مبرا ہے جو یہ شریک بناتے ہیں۔“
اس آیت کریمہ میں اللہ تعالیٰ نے یہود و نصاریٰ کے علماء پادریوں اور پیروں کا ذکر کیا ہے اور عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ وہ اپنے علماء وپیروں کو حلال و حرام کا اختیار سونپ دیتے تھے، جسے ان کی عبادت قرار دیا گیا، اس کی تفصیل اسی آیت کریمہ کی تفسیر میں طبری، ابن کثیر وغیرہ امہات الکتب میں موجود ہے۔ اس تناظر میں امام محمد بن عبد الوہاب نے عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ایک اثر بیان کیا ہے، جس کا پس منظر یہ تھا کہ عمر رضی اللہ عنہ نے حج تمتع پر پابندی لگائی تھی۔ ایک مرتبہ عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج تمتع کیا۔“ تو عروہ بن زبیر کہنے لگے: ابوبکر و عمر نے تو تمتع سے منع کیا ہے تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہا: ”عریہ (عروہ کی تصغیر) کیا کہتا ہے؟“ بتایا گیا کہ وہ کہتا ہے: ابوبکر و عمر نے تمتع سے منع کیا ہے۔ تو ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں انھیں دیکھتا ہوں کہ عنقریب ہلاک ہو جائیں گے، میں کہتا ہوں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا اور وہ کہتا ہے کہ ابو بکر و عمر نے منع کیا۔“
ابن عباس رضی اللہ عنہما کا یہ اثر مسند أحمد (252/1 ح: 2277)، الفقيه والمتفقه (145/1)، جامع بيان العلم وفضله (1248) اور الأحاديث المتختارة لضياء المقدسی (331/10) (307) وغیرہ کتب احادیث میں مختلف طرق و اسانید سے مروی ہے اور کم از کم حسن درجے کا اثر ہے۔ سوال میں ذکر کردہ الفاظ فی الحال ہمیں کسی کتاب سے نہیں ملے۔ شیخ ابن باز رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ اثر اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما کے قول کے ساتھ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے امر کی مخالفت جائز نہیں ہے۔“
انبیاء علیہ السلام کے بعد ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما جیسی سب لوگوں سے بہتر ہستیوں کے قول کا جب یہ حال ہے تو جو ان کے علاوہ ہیں شریعت کی مخالفت میں ان کی اطاعت کرنا بالاولی جائز ہے۔
(تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو معنی المريد (2375/6) التعليق: المفيد (ص 195)

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔