سوال:
حلالہ کی نیت سے مطلقہ سے نکاح جائز ہے یا نہیں؟
جواب:
حلاله کی نیت سے نکاح کرنا جائز نہیں، یہ نکاح باطل ہے، منعقد نہیں ہوتا۔
سیدنا عبد الله بن عمر رضی الله عنه سے حلاله کے بارے میں پوچھا گیا، فرمایا:
هما زانيان وان مكثا عشر سنين او عشرين سنه، اذا انه تزوجها لذلك.
دونوں زانی ہیں، خواہ دس سال اکٹھے رہ چکے ہوں یا بیس سال۔
(المطالب العاليه لابن حجر: 1693، وسنده صحيح)
❀ حافظ ابن عبدالبر رحمه الله (463ھ) فرماتے ہیں:
يكون كنكاح المتعه ويبطل، هذا هو الصحيح والله اعلم.
نکاح حلاله، نکاح متعه کی طرح ہے، اسے باطل قرار دیا جائے گا، یہی درست معلوم ہوتا ہے، والله اعلم۔
(التمهيد لما في المؤطأ من المعاني والاسانيد: 234/13)
❀ قاضی بیضاوی رحمه الله (685ھ) فرماتے ہیں:
حلاله کرنے والا وہ ہے جو ایسی عورت سے شادی کرتا ہے جسے تین طلاقیں دے دی گئی ہیں، شادی سے اس کا ارادہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ولی کے بعد اسے طلاق دے دے گا تاکہ جس شوہر نے پہلے طلاق دی تھی اس کے لیے حلال ہو جائے، گویا وہ نکاح اور وطی کے ساتھ اس عورت کو پہلے خاوند پر حلال کر رہا ہے۔ جس کے لیے حلاله کیا جا رہا ہے اس سے مراد پہلا شوہر ہے۔ ان دونوں پر!(تحفه الابرار: 392/2، مرقاه المفاتيح للملا علي القاري: 2149/5)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله (728ھ) فرماتے ہیں:
حلاله کرنے والا (عارضی) نکاح، نکاح متعه سے بھی بدتر ہے کیونکہ نکاح حلاله اسلام کے کسی دور میں بھی جائز نہیں ہوا، حلاله کرنے والا عقد نکاح اس لیے باندھتا ہے کہ (بعد میں) اسے ختم کر دے گا اور یہ عارضی نکاح کسی صورت میں بھی درست نہیں۔
(مجموع الفتاوى: 108/32)
❀ علامه ابن قدامه رحمه الله (620ھ) فرماتے ہیں:
خلاصه کلام یہ ہے کہ حلاله کا نکاح حرام اور باطل ہے، سب اہل علم کا یہی مذہب ہے۔ جن صحابه کرام رضی الله عنهم کے ہم نے نام ذکر کیے ہیں، ان کا بھی یہی مذہب ہے، صحابه میں کوئی مخالف نہیں، لہذا اس پر صحابه کا اجماع ہوا۔
(المغنى: 180/7-182)
❀ شیخ الاسلام ابن تیمیه رحمه الله (728ھ) فرماتے ہیں:
قد اتفق ائمه الفتيا كلهم انه اذا شرط التحليل في العقد.
تمام ائمه فتوى کا اتفاق ہے کہ جب نکاح میں حلاله کی شرط لگائی جائے تو وہ باطل ہوجاتا ہے۔
(مجموع الفتاوى: 155/32)
❀ علامه کرمانی حنفی رحمه الله (854ھ) فرماتے ہیں:
يطلق النكاح حينئذ اتفاقا.
حلاله کی نیت سے کیا جانے والا نکاح بالا اتفاق باطل ہے۔
(شرح المصابيح: 33/4)