سوال :
کیا حلالہ شرعی طور پر جائز ہے؟ بعض لوگ قرآن کی ایک آیت سے حلالہ کا ثبوت پیش کرتے ہیں، اس کی حقیقت کیا ہے؟ اور بڑے بڑے مدارس کے مفتی حلالہ کرنے کا فتونی دیتے ہیں، براہ مہربانی کتاب وسنت کے دلائل کی رو سے ہماری رہنمائی کریں۔
جواب :
قرآن و سنت میں کہیں بھی حلالہ کو پسند نہیں کیا گیا، بلکہ اس فعل شنیع پر لعنت وارد ہوئی ہے۔ قرآن حکیم میں تیسری طلاق کے بیان کے ساتھ جو ﴿حَتَّى تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ﴾ کا ذکر ہے، اس سے مراد حلالہ قطعا نہیں، اس آیت میں تو نکاح صحیح کا بیان ہے کہ وہ عورت کسی اور جگہ شادی کروا سکتی ہے اور اگر وہ دوسرا شوہر اپنی مرضی سے طلاق دے ڈالے، یا فوت ہو جائے تو عدت گزر جانے کے بعد اگر پہلا آدمی اور یہ عورت دوبارہ واپس آنا چاہیں اور یقین ہو کہ اب حدود اللہ کو قائم رکھ سکیں گے تو اکٹھے ہو سکتے ہیں، جبکہ حلالہ میں دوسرے آدمی سے شادی اس غرض سے کی جاتی ہے کہ اس سے طلاق لے کر پھر پہلے کے ساتھ نکاح کر دیا جائے، اس نکاح کو تو کوئی غیرت مند آدمی قبول نہیں کر سکتا۔ جو لوگ حلالہ کو صحیح نکاح پر تصور کرتے ہیں وہ یا تو حلالہ کے مفہوم سے بے خبر ہیں، یا تجاہل عارفانہ برتتے ہیں۔
لغت حدیث کی مشہور کتاب النھایہ فی غریب الحدیث والاثر (3311) میں مرقوم ہے : ”حلالہ یہ ہے کہ آدمی اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالے، پھر دوسرا آدمی اس عورت کے ساتھ اس شرط پر نکاح کرے کہ اس کے ساتھ صحبت کرکے طلاق دے دے گا، تا کہ پہلے آدمی کے لیے حلال ہو جائے ۔“ یہی حلالہ کی تعریف القاموس الفقمی (ص 100) میں بھی لکھی گئی ہے، جو احناف کی فقہی اصطلاحات پر بڑی تخنیم کتاب ہے اور القاموس المحيط ، انجم الوسیط جیسی کتب لغات میں حلالہ کا یہی معنی کیا گیا ہے، بلکہ امام ابو حنیفہ کے معروف ترین شاگرد اور فقہ حنفی کی کمیٹی کے عظیم رکن امام محمد نے کتاب الآثار (878) میں حلالہ کے بارے میں لکھا ہے: ”ایک مرد اپنی عورت کو تین طلاقیں دے، پھر چاہے کہ اس کا کسی دوسرے مرد سے نکاح کر دے، تا کہ وہ اس کو اس کے لیے حلال کر دے۔ “
(كتاب الآثار، مترجم (ص379)
پس معلوم ہوا کہ حلالہ میں طلاق کی غرض سے نکاح کیا جاتا ہے، تاکہ عورت پہلے شوہر کی طرف واپس پلٹ آئے۔ حلالہ کرنے والا انہیں عورت کے ساتھ ایک دن، دو دن یا چند ایام گزارے، اپنی جنسی خواہش پوری کر کے طلاق دے ڈالے، تا کہ وہ پہلے شخص کے لیے حلال ہو جائے۔ ایسے حلالہ کو لوگوں نے حیلوں بہانوں سے روا رکھا ہوا ہے، حالانکہ اس فعل شنیع و قبیح پر شریعت میں لعنت وارد ہوئی ہے۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کرنے اور حلالہ کروانے والے پر لعنت کی ہے۔“ (مسند أحمد 450/1، 451، ح : 1308، ترمذی 1120 بلکہ ابن ماجہ 1936 اور حاکم 199/2، ج : 2804 ) کی ایک روایت کے مطابق حلالہ کرنے والے کو ادھار سانڈ سے تعبیر کیا گیا ہے۔ کیونکہ عارضی نکاح کرنے والا کرائے کے سانڈ یا بکرے کی مانند ہی ہے۔
اللہ پاک اس لعنت سے امت مسلمہ کو محفوظ فرمائے اور جو مفتی طلاق ثلاثہ کے بعد حلالہ کا دروازہ دکھاتے ہیں، اللہ پاک انھیں صحیح فہم اور عقل سلیم عطا کرے، ہمارے پاس ایسی کئی مثالیں موجود ہیں کہ بعض مفتی اپنے ہی مدارس میں حلالہ کا انتظام کیے ہوئے ہیں اور اپنے مدارس کے قراء اور طلبا کے ساتھ حلالہ کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔ اللہ تعالی انھیں ہدایت نصیب کرے۔ اس ملعون فعل سے نجات دے اور صراط مستقیم پر چلنے کی توفیق بخشے ۔ (آمین! )