حق مہر کی شرعی مقدار کتنی ہے؟

فونٹ سائز:
ماخوذ: فتاوی امن پوری از شیخ غلام مصطفی ظہیر امن پوری

سوال :

حق مہر کی شرعی مقدار کتنی ہے؟

جواب:

حق مہر کی کم سے کم یا زیادہ سے زیادہ کوئی حد متعین نہیں ۔ تا ہم مہر میں اعتدال اور میانہ روی بہتر ہے۔ فریقین باہمی رضامندی سے جو طے کر لیں ، وہ کم ہو یا زیاده، درست اور جائز ہے۔ قرآن وحدیث اور سلف صالحین کے عمل سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ حق مہر کی کوئی مقدار مقر ر ہیں۔ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے لیے پانچ سو درہم مہر مقررفرمایا۔ ( صحیح مسلم :1426 ) لونڈی کی آزادی کو بھی حق مہر بنانا ثابت ہے۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أعتق صفية، وجعل عنقها صداقها .
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا کو آزاد کیا اور ان کی آزادی کو ہی ان کا حق مہر بنا دیا۔“
(صحيح البخاري : 5086 ، صحیح مسلم : 1365)
ثابت ہوا کہ کسی کام اور عمل کو بھی حق مہر بنایا جا سکتا ہے۔
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں :
ابوطلحہ نے سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کو نکاح کا پیغام دیا، تو انہوں نے فرمایا : ابوطلحہ ! آپ جیسے شخص کو رد نہیں کیا جاتا، لیکن آپ کا فر ہیں اور میں مسلمان عورت ہوں ۔ میرے لیے آپ سے نکاح کرنا جائز نہیں ۔ اگر آپ مسلمان ہو جائیں، تو یہی میرا حق مہر ہوگا، اس سے زائد میں کچھ نہیں مانگوں گی ۔ ابوطلحہ مسلمان ہو گئے، یوں یہی (ان کا مسلمان ہونا ) سیدہ ام سلیم ہی اچھا کا حق مہر بن گیا۔ ثابت کہتے ہیں : میں نے کسی عورت کا اتنا قیمتی مہر نہیں سنا، جتنا قیمتی مہرام سلیم رضی اللہ عنہا کا تھا ، یعنی ان کو حق مہر میں اسلام ملا تھا۔ سید نا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے ان سے ازدواجی تعلقات قائم کیے ، تو سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے گھر بچہ پیدا ہوا۔
(سنن النسائي : 3341 ، وسنده حسن)
اس روایت کو امام ابن حبان (7187 ) اور حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (المختارہ : 426) نے صحیح کہا ہے۔ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو صحیح قرار دیا ہے۔
(فتح الباري : 115/9)
❀ نبی کریم صلی صلی اللہ علیہ وسلم نے سید نا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے حق مہر کے بارے میں فرمایا:
التمس ، ولو خاتما من حديد .
”تلاش کیجئے ، اگر چہ لوہے کی کوئی انگوٹھی ہی مل جائے۔ “
(صحيح البخاري : 5121 ، صحیح مسلم : 1425)
حق مہر کی کم از کم کوئی مقدار مقرر نہیں۔ باہمی رضا مندی سے جو بھی چیز حق مہر میں مقرر کر لی جائے ، اس کے بدلے نکاح درست اور جائز ہے۔ بعض لوگ دس درہم کم سے کم حق مہر کی شرعی مقدار بتاتے ہیں ،مگر اس میں کوئی صحیح دلیل موجود نہیں ، اس بارے میں مروی تمام روایات ضعیف و غیر ثابت ہیں ۔
❀ امام ابن منذر رحمہ اللہ (319 ھ) فرماتے ہیں:
لا نعلم حجة تثبت صداقا معلوما ، لا يجوز غيره .
ہمیں ایسی کوئی دلیل معلوم نہیں ، جو مہر طے کرتی ہو، کہ اس مقدار کے علاوہ مہر جائز نہ ہو۔
الإشراف على مذاهب العلماء : 36/1)