مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشی کا الزام اور حدیث کی وضاحت

فونٹ سائز:
ماخوذ : فتاویٰ راشدیہ، صفحہ نمبر 540
مضمون کے اہم نکات

سوال

مندرجہ ذیل حدیث سے بعض لوگوں نے استدلال کیا ہے کہ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ شراب نوشی کرتے تھے۔ کیا اس روایت کی بنیاد پر ان کا یہ مؤقف درست ہے؟

حدیث

((حدثناعبدالله حدثنى ابى ثنازيدبن الحباب حدثنى حسين(اى ابن واقد) ثناعبدالله بن بريده قال دخلت اناوابى على معاوية فجلسناعلى الفرش ثم أتينابالطعام فأكلناثم أتينابالشراب فشرب معاويه ثم ناول أبى ثم قال ماشربته منذحرمه رسول الله صلى الله عليه وسلم ثم قال معاويه كنت أجمل شاب قريش وأجوده ثغرأوماشىء كنت أجدله لذة كماكنت أجده وأناشاب غيراللبن.))
(المسند الامام احمد: ج٥، ص٣٤٧)

جواب

الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
اصل مسئلہ اس روایت کے الفاظ کے غلط فہم سے پیدا ہوا ہے۔

پہلی غلطی: ‘‘ثم ناول ابی’’ کے بعد ‘‘ثم قال’’ کے قائل کا تعین

◈ بعض لوگوں نے ‘‘ثم قال’’ کا قائل سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ کو قرار دیا ہے۔
◈ لیکن عربی ترکیب کے مطابق یہ درست نہیں ہے، کیونکہ ‘‘ثم قال’’ کا تعلق ‘‘ثم ناول’’ سے ہے اور ‘‘ناول’’ کا فاعل حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ ہیں۔
◈ لہٰذا ‘‘ثم قال’’ کا فاعل بھی وہی ہیں، نہ کہ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ۔

دوسری غلطی: شراب کا مطلب صرف خمر لینا

◈ یہاں لفظ شراب کو خمر (یعنی حرام شراب) کے معنی میں سمجھا گیا ہے، حالانکہ یہ درست نہیں۔
عربی زبان میں شراب ہر قسم کے مشروب کو کہا جاتا ہے، چاہے وہ پانی ہو، دودھ ہو یا شربت۔
◈ ہماری سندھی یا اردو زبان میں البتہ لفظ شراب خمر کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

قرآن کریم میں شراب کے عمومی معنی

﴿فَٱنظُرْ‌ إِلَىٰ طَعَامِكَ وَشَرَ‌ابِكَ لَمْ يَتَسَنَّهْ﴾ (البقرة:٢٥٩)
"پھردیکھ اپنے طعام اور پینے کے پانی کی طرف…”

﴿يَخْرُ‌جُ مِنۢ بُطُونِهَا شَرَ‌ابٌ مُّخْتَلِفٌ أَلْوَ‌ٰنُهُۥ فِيهِ شِفَآءٌ لِّلنَّاسِ ۗ﴾ (النحل:٦٩)
"شہد کی مکھی کے پیٹ سے پینے کی چیز (شہد) نکلتی ہے…”

﴿ٱرْ‌كُضْ بِرِ‌جْلِكَ ۖ هَـٰذَا مُغْتَسَلٌۢ بَارِ‌دٌ وَشَرَ‌ابٌ﴾ (ص:٤٢)
"یہ غسل کے لیے ٹھنڈا پانی اور پینے کے لیے پانی ہے۔”

صحیح حدیث سے دلیل

((يترك طعامه وشرابه وشهوته من أجلى.))
(صحيح البخارى: كتاب الصوم، باب فضل الصوم، رقم الحديث: ١٨٩٤)
"روزے دار میرے لیے کھانا پینا اور خواہش چھوڑ دیتا ہے۔”

یہ سب دلائل واضح کرتے ہیں کہ لفظ شراب کا مطلب مطلق پینے کی چیز ہے، نہ کہ صرف خمر۔

روایت کی تحقیق

◈ یہ حدیث صرف مسند امام احمد میں ہے، کسی دوسری کتاب میں نہیں۔
◈ مسند احمد کی مبسوط شرح موجود نہیں۔ ‘‘الفتح الربانی’’ میں اس کو ذکر کیا گیا ہے لیکن وہاں بھی وضاحت ناکافی اور غیر درست ہے۔
◈ لہٰذا یہ وضاحت محض میری تحقیق ہے۔ اگر درست ہے تو یہ اللہ تعالیٰ کی توفیق ہے، اور اگر غلط ہے تو یہ میرے علم کی کمی اور خطا ہے۔

روایت کا درست مفہوم

◈ عبداللہ بن بریدہ بیان کرتے ہیں کہ وہ اور ان کے والد حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ، حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے۔
◈ آپ نے بچھونا بچھایا، کھانا پیش کیا اور بعد میں مشروبات لائے گئے۔
◈ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے خود پہلے نوش کیا اور پھر حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کو پیش کیا۔
◈ روایت میں یہ ذکر نہیں ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے مشروب سے انکار کیا ہو۔

شبہ کی وضاحت

◈ ممکن ہے کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کو دل میں شبہ ہوا ہو کہ کہیں یہ مشروب مسکر (نشہ آور) نہ ہو۔
◈ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ نے ان کے چہرے اور کیفیت سے یہ اندازہ لگا لیا اور بغیر پوچھے وضاحت کر دی:
‘‘میں نے اس مسکر کو نہیں پیا جب سے رسول اللہ ﷺ نے اسے حرام قرار دیا ہے۔’’
◈ اس وضاحت کا مقصد صرف شبہ کو دور کرنا تھا۔

ضمیر ‘‘حرمه’’ کی وضاحت

◈ ‘‘حرمه’’ میں ضمیر مسکر کی طرف لوٹتی ہے، اگرچہ روایت میں اس کا صریح ذکر نہیں۔
◈ قرآن کریم میں بھی کئی مقامات پر ایسی ضمیر استعمال ہوئی ہے جہاں مرجع قریب میں مذکور نہیں، بلکہ قرینہ سے سمجھا جاتا ہے۔

مثالیں: ﴿مَّا تَرَ‌كَ عَلَيْهَا مِن دَآبَّةٍ﴾ (النحل:٦١) ﴿مَا تَرَ‌كَ عَلَىٰ ظَهْرِ‌هَا مِن دَآبَّةٍ﴾ (فاطر:٤٥) ﴿حَتَّىٰ تَوَارَ‌ت بِٱلْحِجَابِ﴾ (ص:٣٢)

اسی اصول کے تحت یہاں بھی ضمیر مسکر کی طرف لوٹی ہے۔

حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مزید وضاحت

◈ آپ نے فرمایا کہ میں قریش کا حسین و جمیل نوجوان تھا اور میرے دانت مضبوط تھے۔
◈ اس وقت بھی دودھ کے علاوہ کسی چیز میں مجھے لذت محسوس نہیں ہوتی تھی۔
◈ تو اب بڑھاپے میں جبکہ رسول اللہ ﷺ نے مسکر کو حرام قرار دیا ہے، میں کیسے اسے پی سکتا ہوں؟
◈ یعنی یہ مشروب نشہ آور نہیں، بلکہ عام لذیذ مشروب ہے۔

نتیجہ

◈ اگر ‘‘ثم قال ماشربته منذ حرم’’ کو حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ کا قول مانا جائے تو پوری روایت کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے۔
◈ درست بات یہی ہے کہ یہ الفاظ حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے ہیں اور ان سے واضح ہوتا ہے کہ آپ نے مسکر کبھی نہیں پیا۔
◈ لہٰذا اس روایت سے حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ پر شراب نوشی کا الزام لگانا سراسر غلط ہے۔

ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔