مضمون کے اہم نکات
سوال
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کا بدلہ قاتلوں سے اپنی خلافت کے زمانے میں نہ لینے کا سبب کیا تھا؟
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
➊ خلافت کے آغاز میں اختلاف
- حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین متفق نہ تھے۔
- کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کی، مگر دوسری طرف ایک بڑی جماعت نے ابھی تک بیعت نہیں کی تھی۔
- اس جماعت کا مطالبہ یہ تھا کہ پہلے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص لیا جائے، اس کے بعد خلافت پر مکمل بیعت ہوگی۔
- اس جماعت میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ سمیت دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین شامل تھے۔
➋ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی جماعت کی کیفیت
- حضرت علی رضی اللہ عنہ کی بیعت کرنے والوں میں باغیوں کی بھی بڑی تعداد شامل تھی۔
- ظاہر ہے کہ ایسی صورت میں ان ہی باغیوں سے قصاص لینا نہایت مشکل تھا، اگرچہ ناممکن نہ تھا۔
- اگر حضرت علی رضی اللہ عنہ اس موقع پر قاتلوں سے قصاص لیتے اور دیگر حالات کو نظر انداز کرتے تو نتیجہ یہ نکلتا کہ ان کی خلافت خود خطرے میں پڑ جاتی۔
➌ خلافت کے استحکام کی ضرورت
- اس وقت صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی بڑی جماعت حضرت علی رضی اللہ عنہ کے مقابل تھی اور ان کی حمایت حضرت علی رضی اللہ عنہ کو حاصل نہ تھی۔
- اگر وہ اپنی جماعت کے باغیوں کے ساتھ سختی سے پیش آتے تو پھر ان کے حمایتی بھی باقی نہ رہتے۔
- حالانکہ اس وقت خلافت کا سب سے زیادہ حق دار حضرت علی رضی اللہ عنہ ہی تھے۔
- جب خلافت کا بوجھ ان پر ڈال دیا گیا تو اس کو چھوڑ دینا بھی درست نہ تھا۔
- اسی لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی یہ خواہش تھی کہ پہلے امت ایک کلمہ پر جمع ہو جائے، خلافت مستحکم ہو جائے، پھر باغیوں اور قاتلوں سے قصاص لینا آسان ہوگا۔
- حضرت علی رضی اللہ عنہ نے خود بھی اس حقیقت کا اظہار فرمایا۔
➍ دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا موقف
- اس کے برعکس تقریباً (80) دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین (جن میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ بھی شامل تھے) اس بات پر زور دیتے تھے کہ پہلے قاتلوں سے قصاص لیا جائے، پھر خلافت کی بیعت اور دوسری باتیں طے کی جائیں۔
- یہ سب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین مجتہد تھے۔ ان کا اجتہاد درست ہو یا غلط، بہرحال اس اختلافی صورتِ حال میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو قصاص لینے کا موقع ہی نہ ملا۔
➎ خلافت کے دور میں مصروفیتیں
- خلافت کے آغاز سے لے کر آخر تک حضرت علی رضی اللہ عنہ کی زندگی مسلسل جنگوں اور مقابلوں میں گزری۔
- بعض جنگیں اپنے ہی ساتھیوں کے ساتھ ہوئیں جیسے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ جنگِ جمل میں۔
- بعض جنگیں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ اور دیگر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کے ساتھ ہوئیں جیسے جنگِ صفین میں۔
- بعد میں خوارج کے ساتھ بھی مسلسل معرکے ہوئے۔
- حتیٰ کہ آخرکار حضرت علی رضی اللہ عنہ ایک خارجی کے ہاتھوں شہید ہوئے۔
خلاصہ کلام
حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خلافت پر امت کا متفق نہ ہونا اور دوسری جانب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کا یہ مطالبہ کہ پہلے قصاص لیا جائے، اس افراتفری اور انتشار کا سبب بنا۔ اسی بنا پر حضرت علی رضی اللہ عنہ اپنے دورِ خلافت میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قاتلوں سے قصاص نہ لے سکے۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب