مضمون کے اہم نکات
سبقت اسلام
❀ سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أول من صلى مع رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال فى موضع آخر: أول من أسلم علي.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سب سے پہلے نماز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ادا کی، دوسری جگہ فرمایا: (بچوں میں) سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔“
(مسند الإمام أحمد: 371/4، فضائل الصحابة للنسائي: 34، سنن الترمذي: 3735، وسنده حسن)
اس روایت کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“ کہا ہے۔ امام حاکم (143/3) نے ”صحیح الاسناد“ کہا ہے۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے موافقت کی ہے۔
❀ مورخ اسلام، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وأما على رضي الله عنه، فإنه أسلم قديما، وهو دون البلوغ على المشهور، ويقال: إنه أول من أسلم، وقد روي فى ذلك حديث عنه ولا يصح، والصحيح أنه أول من أسلم من الغلمان، كما أن خديجة أول من أسلمت من النساء، وأبو بكر الصديق أول من أسلم من الرجال الأحرار، وزيد بن حارثة أول من أسلم من الموالي.
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں، ابھی تک وہ بالغ بھی نہ ہوئے تھے کہ اسلام کی نعمت سے سرفراز ہو گئے۔ کہا جاتا ہے کہ آپ سب سے پہلے اسلام لائے، اس سلسلے میں بیان کی جانے والی حدیث ثابت نہیں، درست یہی ہے کہ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بچوں میں سب سے پہلے ایمان لائے تھے، سیدہ خدیجہ رضی اللہ عنہا عورتوں میں، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آزاد مردوں میں اور سیدنا زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ آزاد کردہ غلاموں میں سب سے اول مشرف بہ اسلام ہوئے ہیں۔“
(البدایة والنهایة: 31/11)
محبوب ترین کنیت
❀ ایک شخص سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے کہنے لگا:
هذا فلان، لأمير المدينة، يدعو عليا عند المنبر، قال: فيقول: ماذا؟ قال: يقول له: أبو تراب فضحك، قال: والله ما سماه إلا النبى صلى الله عليه وسلم وما كان له اسم أحب إليه منه، فاستطعمت الحديث سهلا، وقلت: يا أبا عباس كيف ذلك قال: دخل على على فاطمة ثم خرج فاضطجع فى المسجد، فقال النبى صلى الله عليه وسلم: أين ابن عمك، قالت: فى المسجد، فخرج إليه فوجد رداءه قد سقط عن ظهره، وخلص التراب إلى ظهره، فجعل يمسح التراب عن ظهره، فيقول: اجلس يا أبا تراب مرتين.
”مدینہ کا فلاں امیر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو منبر پر برا بھلا کہتا ہے۔ پوچھا: کیا کہتا ہے؟ کہا: وہ منبر پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ابوتراب کہتا ہے۔ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ ہنس پڑے اور فرمایا: بخدا! یہ نام تو ان کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے رکھا تھا، یہ نام تو ان کو سب سے زیادہ محبوب تھا۔ راوی نے پوری حدیث سننے کی غرض سے عرض کیا: ابوعباس! یہ کیسا واقعہ ہے؟ فرمایا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے، پھر مسجد جا کر لیٹ گئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے پوچھا کہ آپ کے عم زادے کہاں ہیں؟ عرض کیا: مسجد میں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مسجد آئے، دیکھا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لیٹے ہوئے ہیں، نیچے سے چادر سرک گئی ہے اور مٹی ان کی پیٹھ کو لگ رہی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مٹی کو جھاڑنے لگے اور فرمایا: ابوتراب! اٹھ جائیے، ابوتراب! اٹھ جائیے۔“
(صحيح البخاري: 3703، صحیح مسلم: 2409)
داماد رسول صلی اللہ علیہ وسلم
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
خطب أبو بكر وعمر فاطمة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: إنها صغيرة فخطب على فزوجها منه.
”سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے نکاح کا پیغام لے کر گئے تو فرمایا: وہ ابھی چھوٹی ہے۔ ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے پیغام بھیجا، تو نکاح ان سے کر دیا۔“
(سنن النسائي: 3221، خصائص علي للنسائي: 123، زوائد فضائل الصحابة للقطيعي: 1051، وسنده صحیح)
اس روایت کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6948) نے ”صحیح “ اور امام حاکم رحمہ اللہ (167/2) نے بخاری و مسلم کی شرط پر ”صحیح“ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ سیدنا مسور بن مخرمہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم بمكة يخطب ثم قال: إن بني هشام استأذنوني فى أن ينكحوا ابنتهم عليا، وإني لا آذن، ثم لا آذن إلا أن يريد ابن أبى طالب أن يفارق ابنتي، وأن ينكح ابنتهم ثم قال: إن فاطمة مضغة مني يؤذيني ما آذاها ويريبني ما أرابها، وما كان له أن يجمع بين بنت عدو الله، وبين ابنة رسول الله صلى الله عليه وسلم.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مکہ میں منبر پر خطبہ ارشاد فرما رہے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بنو ہشام نے مجھ سے اجازت مانگی ہے کہ وہ اپنی بیٹی کا نکاح علی رضی اللہ عنہ سے کر دیں، میں اجازت نہیں دوں گا، البتہ علی رضی اللہ عنہ میری بیٹی کو طلاق دے دیں تو ان کی بیٹی سے نکاح کر سکتے ہیں، پھر فرمایا: فاطمہ رضی اللہ عنہا میرا جگر گوشہ ہے، اسے جو تکلیف دے گا، مجھے تکلیف دے گا، اسے جو بے قرار کرے گا، مجھے بے قرار کرے گا۔ علی رضی اللہ عنہ کے لیے جائز نہیں کہ میری بیٹی اور اللہ کے دشمن کی بیٹی کو بیک وقت نکاح میں رکھے۔“
(صحيح البخاري: 5230، صحیح مسلم: 2450)
صحیح بخاری (3729) میں ہے کہ ”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس سے نکاح کا ارادہ ختم کر دیا۔“
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رشتہ
❀سیدنا برا بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
أنت مني، وأنا منك.
”آپ مجھ سے اور میں آپ سے ہوں۔“
(صحيح البخاري: 4251)
سیدنا ابن جنادہ سلولی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
علي مني وأنا منه ولا يؤدي عني إلا أنا أو علي.
”علی مجھ سے اور میں علی سے ہوں، میری ذمہ داری کو میں یا علی رضی اللہ عنہ ہی پوری کریں گے۔“
(فضائل الصحابة للنسائي: 44، مسند الإمام أحمد: 164/4، وسنده صحیح)
نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی نسبت :
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
أنت مني بمنزلة هارون من موسى.
”آپ کی نسبت مجھ سے وہی ہے جو موسیٰ کی ہارون سے تھی۔“
(سنن الترمذي: 3731، وقال: هذا حديث حسن صحیح، خصائص علي للنسائي: 45، وسنده صحیح)
❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لما خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى تبوك خرج على يشيعه، فبكى، وقال: يا رسول الله، أتتركني مع الخوالف؟ فقال النبى صلى الله عليه وسلم: يا على أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى إلا النبوة.
”غزوہ تبوک کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جا رہے تھے، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ آپ کو رخصت کرنے آئے، رونے لگے، عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھے چھوڑ کر جا رہے ہیں؟ فرمایا: علی! آپ کی نسبت مجھ سے وہی ہے جو موسیٰ کی ہارون سے تھی سوائے نبوت کے۔ تو کیا یہ اعزاز آپ کو پسند نہیں؟“
(صحیح مسلم: 2404، خصائص علي للنسائي: 47، التاريخ الكبير للبخاري: 115/1، وسنده حسن)
یہ حدیث متواتر ہے۔
(قطف الأزهار المتناثرة للسيوطي: 281-282، نظم المتناثر للكتاني: 206-207)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اہل بیت سے ہیں
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو چادر میں لے کر یہ دعا کی:
أللهم أهل بيتي أذهب عنهم الرجس وطهرهم تطهيرا.
”اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں، گندگی ان کے قریب نہ پھٹکنے دینا اور انہیں کمال درجہ کی طہارت نصیب فرما۔“
(مسند الإمام أحمد: 298/6، وسنده حسن)
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ آیت مباہلہ (آل عمران: 61) نازل ہوئی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلا کر فرمایا:
اللهم هؤلاء أهلي.
”اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔“
(صحیح مسلم: 2404)
سیدنا واثلہ بن اسقع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
أللهم هؤلاء أهل بيتي، وأهل بيتي أحق.
”اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں اور میرے اہل بیت عزت و تکریم کے زیادہ حق دار ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 107/4، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6976) نے ”صحیح“ کہا ہے، نیز امام بیہقی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو ”صحیح“ کہا ہے۔
(السنن الکبری: 152/20)
امام حاکم رحمہ اللہ (147/3) نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح اور حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر قرار دیا ہے۔
حبیب رسول صلی اللہ علیہ وسلم
❀ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
استأذن أبو بكر على النبى صلى الله عليه وسلم، فسمع صوت عائشة عاليا، وهى تقول: والله، قد علمت أن عليا أحب إليك من أبي، فأهوى إليها أبو بكر ليلطمها، وقال: يا ابنة فلانة، أراك ترفعين صوتك على رسول الله صلى الله عليه وسلم، فأمسكه رسول الله صلى الله عليه وسلم، وخرج أبو بكر مغضبا، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: يا عائشة، كيف رأيتني أنقذتك من الرجل؟ ثم استأذن أبو بكر بعد ذلك، وقد اصطلح رسول الله صلى الله عليه وسلم وعائشة، فقال: أدخلاني فى السلم، كما أدخلتماني فى الحرب، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: قد فعلنا.
”سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اندر آنے کی اجازت طلب کی، تو سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کو بلند آواز سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے سنا: اللہ کی قسم! مجھے معلوم ہے آپ علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ میرے باپ کی نسبت زیادہ محبت کرتے ہیں۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو تھپڑ مارنے کے لیے بڑھے اور فرمایا: میں تیری آواز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آواز سے بلند ہوتے سن رہا ہوں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو روک دیا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ غصے کی حالت میں وہاں سے چل دیئے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: دیکھا، میں نے کیسے آپ کو بچالیا۔ بعد میں سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھر آنے کی اجازت طلب کی تو اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی صلح ہو چکی تھی۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: مجھے بھی صلح میں شریک کر لیجیے، جس طرح ناراضگی میں شریک کیا تھا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہم نے ایسا کر لیا ہے۔“
(مسند الإمام أحمد: 275/4، فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل: 39، مسند البزار: 3225، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 5309، وسنده حسن)
❀ شارح صحیح بخاری، حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
ويمكن الجمع باختلاف جهة المحبة؛ فيكون فى حق أبى بكر على عمومه بخلاف علي.
”محبت کی نوعیت دیکھیں تو ان احادیث میں تطبیق ممکن ہے، سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ عمومی طور پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو زیادہ محبوب تھے، جبکہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کسی خاص حوالے سے۔“
(فتح الباري شرح صحيح البخاري: 127/7)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ خلیفہ راشد ہیں
❀ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ
خطبنا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: الخلافة فى أمتي ثلاثون سنة، ثم يكون ملك، ثم قال سفينة: أمسك، خلافة أبى بكر وخلافة عمر ثنتا عشرة سنة وستة أشهر وخلافة عثمان ثنتا عشرة سنة وستة أشهر ثم خلافة على تكملة الثلاثين قلت: فمعاوية؟ قال: كان أول الملوك.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیا اور فرمایا: میری امت میں خلافت تیس سال ہوگی، پھر بادشاہت ہوگی۔ سیدنا سفینہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: شمار کر لیجیے، سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال چھ ماہ تھی، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی خلافت بارہ سال تھی، پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی خلافت نے تیس سال پورے کر دیئے۔ سعید بن جمہان رحمہ اللہ نے پوچھا: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ؟ فرمایا: وہ پہلے بادشاہ تھے۔
(مسند الطيالسي: 1203، مسند الإمام أحمد: 221/5، سنن الترمذي: 2226، وسنده حسن)
حشرج بن نباتہ کی متابعت سنن ابی داود (4246) وغیرہ میں عبدالوارث بن سعید بصری (ثقہ، ثبت) نے اور مسند احمد (220-221) وغیرہ میں حماد بن سلمہ (ثقہ ثبت) اور سنن ابی داود (4647) میں العوام بن حوشب الواسطی نے کی ہے۔
رہا مسئلہ سعید بن جہمان کا تو جمہور نے اس کی توثیق کی ہے۔
اس کو امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (السنة للخلال: 419)، امام یحیی بن معین رحمہ اللہ (تاریخ یحیی بن معین: 3695)، امام ابن عدی رحمہ اللہ (الکامل: 402، قال: أرجو أنه لا بأس به)، امام یعقوب بن سفیان رحمہ اللہ (المعرفة والتاريخ: 78)، امام ترمذی رحمہ اللہ (السنن: 2226، بتحسین حدیثه)، امام ابن ابی عاصم رحمہ اللہ (السنة: 1222، بتصحیح حدیثه)، امام ابن الجارود رحمہ اللہ (المنتقى: 976، بتصحیح حدیثه)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (الثقات: 287)، امام حاکم رحمہ اللہ (المستدرك: 71، بتصحیح سندہ) اور حافظ ہیشمی رحمہ اللہ (مجمع الزوائد: 366) وغیرہ نے ”ثقہ“ کہا ہے۔
کسی ثقہ امام نے انہیں ”ضعیف“ نہیں کہا۔
رہا امام بخاری رحمہ اللہ (التاريخ الصغير: 196) اور حافظ ساجی رحمہ اللہ (تهذيب التهذيب: 14) کا لا يتابع على حديثه کہنا، تو یہ مضر نہیں، کیونکہ جب یہ واضح ثقہ ہیں تو ان کی متابعت نہ ہونے میں کوئی حرج نہیں۔ حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
كثير من الثقات قد تفردوا، فيصح أن يقال فيهم: لا يتابعون على بعض حديثهم.
”کتنے ہی ثقہ راوی ہیں جن کے بارے میں کہنا درست ہوگا کہ ان کی متابعت نہیں ہوئی۔“
(تاريخ الإسلام: 1199/4، ت بشار)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب من تكلم فيه وهو موثق أو صالح الحديث (127) میں ذکر کیا ہے، لہذا حافظ ذہبی کا قوم يضعفون (میزان الاعتدال: 131) کہنا درست نہ ہوا۔ امام ابو حاتم الرازی رحمہ اللہ کا شيخ يكتب حديثه ولا يحتج به کہنا جمہور کے خلاف ہے۔
امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ (السنة للخلال: 419)، امام ابن حبان رحمہ اللہ (6657)، امام ابن ابی عاصم رحمہ اللہ (السنة: 1222) اور علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ (مجموع الفتاوی: 185) نے اس حدیث کو، جبکہ امام حاکم رحمہ اللہ (المستدرك: 713) اور حافظ بوصیری رحمہ اللہ (اتحاف الخيرة: 276) نے اس کی سند کو ”صحیح “ کہا ہے۔
امام ترمذی رحمہ اللہ (سنن الترمذي: 2426) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (موافقة الخبر الخبر: 141) نے اس حدیث کو ”حسن“ قرار دیا ہے۔
❀ حافظ ابن حجر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”سعید بن جہمان صغیر تابعي اور صدوق راوی تھے۔“
کسی ”ثقہ“ محدث نے اس حدیث پر کلام نہیں کیا، بلکہ محدثین نے اس حدیث کی تصحیح کر کے اسے قبول کیا ہے، لہذا ابن خلدون مورخ (تاریخ ابن خلدون: 458) اور ابن العربی مالکی (العواصم من القواصم: 201) کا اسے بغیر دلیل کے صحیح تسلیم نہ کرنا ناقابل التفات ہے۔
❀ مورخ اسلام، حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وهذا الحديث فيه رد صريح على الروافض المنكرين لخلافة الثلاثة، وعلى النواصب من بني أمية ومن تبعهم من أهل الشام فى إنكار خلافة على بن أبى طالب.
”یہ حدیث روافض کا صریح رد کرتی ہے، اس میں تین کی خلافت کا ذکر ہے، بنو امیہ اور اہل شام کے ناصبیوں کا رد کرتی ہے کہ اس میں سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کی خلافت کا اثبات ہے اور وہ انکار کرتے ہیں۔“
(البدایة والنهاية: 154/9)
❀ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنت مع علي، وعثمان محصور، قال: فأتاه رجل فقال: إن أمير المؤمنين مقتول، ثم جاء آخر فقال: إن أمير المؤمنين مقتول الساعة، قال: فقام علي، قال محمد فأخذت بوسطه تخوفا عليه، فقال: خل لا أم لك، قال: فأتى على الدار، وقد قتل الرجل، فأتى داره فدخلها، وأغلق عليه بابه، فأتاه الناس فضربوا عليه الباب، فدخلوا عليه فقالوا: إن هذا الرجل قد قتل ولا بد للناس من خليفة، ولا نعلم أحدا أحق بها منك، فقال لهم علي: لا تريدوني، فإني لكم وزير خير مني لكم أمير، فقالوا: لا والله ما نعلم أحدا أحق بها منك، قال: فإن أبيتم على فإن بيعتي لا تكون سرا، ولكن أخرج إلى المسجد فمن شاء أن يبايعني بايعني، قال: فخرج إلى المسجد فبايعه الناس.
ان دنوں جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ محصور تھے، میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس موجود تھا کہ ایک شخص حاضر ہوا، کہنے لگا: امیر المومنین سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو شہید کر دیا گیا ہے، پھر ایک اور شخص نے خبر دی کہ ابھی ابھی سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ شہید کر دیئے گئے ہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ اپنی جگہ سے کھڑے ہو گئے، میں نے کسی اندیشہ کے پیش نظر ان کا ہاتھ تھام لیا، فرمایا: نہ ہوئی آپ کی ماں، چھوڑیے میرا ہاتھ! آپ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر پہنچے، دیکھا کہ آپ شہید ہو چکے ہیں، واپس گھر آگئے، دروازہ بند کر لیا۔ لوگ آپ کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹانے لگے، دروازہ کھولا تو آپ کے پاس آکر کہنے لگے، عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہو گئے، اب ضروری ہے کہ کوئی خلیفہ ہو! اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس منصب کا اہل آپ سے بڑھ کر کوئی نہیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: میرے بارے ایسا کچھ نہ سوچئے، میں بجائے اس کے کہ امیر بنوں، وزیر ہی بہتر ہوں۔ لوگ کہنے لگے: اللہ کی قسم! آپ سے زیادہ اس منصب کا اہل کوئی نہیں ہے۔ فرمایا: اگر مجھے ہی بنانا چاہتے ہو تو میری بیعت چھپ کر نہیں ہوگی، میں مسجد چلا جاتا ہوں، جسے بیعت کرنی ہو وہاں آن کر بیعت کر لے۔ آپ مسجد کی طرف نکل گئے، وہاں لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کی بیعت کی۔
(فضائل الصحابة للإمام أحمد بن حنبل: 969، وسنده صحیح)
خلفائے راشدین کی سنت کو لازم پکڑیں
رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے:
فعليكم بسنتي وسنة الخلفاء الراشدين المهديين.
”میری اور خلفائے راشدین کی سنت لازم پکڑیں۔“
(سنن أبي داود: 4607، سنن الترمذي: 2676، مسند الإمام أحمد: 126/4-127، وسنده صحیح)
❀ اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن صحیح“، امام ابن حبان رحمہ اللہ (5) نے صحیح، حافظ ضیاء مقدسی رحمہ اللہ (إتباع السنة واجتناب البدع: 2) نے ”صحیح“، حافظ بزار رحمہ اللہ (جامع بیان العلم وفضله لابن عبد البر: 2306) نے ثابت صحيح اور حافظ ابن عبد البر رحمہ اللہ (جامع بیان العلم وفضله: 2306) نے ثابت کہا ہے۔
❀ امام حاکم رحمہ اللہ (951) فرماتے ہیں:
صحيح، ليس له علة.
”یہ حدیث صحیح ہے، اس میں کوئی علت نہیں۔“
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ حافظ ابو نعیم اصبہانی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
وهذا حديث جيد من صحيح حديث الشاميين.
”یہ شامیوں کی صحیح مرویات میں سے جید حدیث ہے۔“
(المسند المستخرج على صحيح الإمام مسلم: 36/1)
❀ حافظ بغوی رحمہ اللہ (شرح السنة: 102) نے ”حسن“ کہا ہے۔
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
وصححه أيضا الحافظ أبو نعيم الأصفهاني والدغولي، وقال شيخ الإسلام الأنصاري: هو أجود حديث فى أهل الشام وأحسنه.
”اسے حافظ ابو نعیم اصفہانی رحمہ اللہ اور حافظ دغولی رحمہ اللہ نے بھی صحیح قرار دیا ہے۔ شیخ الاسلام انصاری رحمہ اللہ کہتے ہیں: شامیوں کی مرویات میں سے یہ حدیث جید اور عمدہ ترین ہے۔“
(تحفة الطالب بمعرفة أحاديث مختصر ابن الحاجب: 36)
اللہ اور رسول سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت کرتے ہیں
❀ سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال يوم خيبر: لأعطين هذه الراية غدا رجلا يفتح الله عليه، يحب الله ورسوله ويحبه الله ورسوله فلما أصبح الناس غدوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم كلهم يرجو أن يعطى، فقال: أين على بن أبى طالب؟ فقالوا: يا رسول الله، يشتكي عينيه، قال: فأرسلوا إليه فأتي به، فبصق رسول الله فى عينيه، ودعا له، فبرأ كأن لم يكن به وجع، فأعطاه الراية، فقال علي: يا رسول الله، أقاتلهم حتى يكونوا مثلنا؟ قال: انفذ على رسلك حتى تنزل بساحتهم، ثم ادعهم إلى الإسلام، وأخبرهم بما يجب عليهم من حق الله، فوالله لأن يهدي الله بك رجلا واحدا خير لك من أن تكون لك حمر النعم.
”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن فرمایا: کل میں اسے جھنڈا دوں گا کہ اللہ اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا، وہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کرتا ہے اور اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم اس سے محبت کرتے ہیں۔ اب ہر ایک کی خواہش تھی کہ جھنڈا مجھے ملے، سو اگلی صبح سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ پہنچے۔ فرمایا: علی بن ابی طالب کہاں ہیں؟ عرض کیا: یا رسول اللہ! آنکھوں میں تکلیف ہے۔ فرمایا: ان کو بلاؤ۔ وہ لائے گئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن ان کی آنکھوں ڈالا، پھر دعا فرمائی اور آنکھیں اس طرح صحت پاگئیں کہ گویا کبھی تکلیف ہی نہ تھی۔ انہیں جھنڈا دے دیا گیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں ان سے تب تک لڑتا رہوں گا جب تک وہ ہمارے جیسے نہ ہو جائیں؟ فرمایا: علی! نرمی سے چلتے جائے، میدان جنگ میں پہنچ کر انہیں اسلام کی دعوت دو، انہیں بتاؤ کہ اللہ کے حقوق ان پر کیا ہیں؟ بخدا! ایک شخص بھی آپ کی وجہ سے ہدایت پا جائے تو وہ سرخ اونٹوں سے بہتر ہے۔“
(صحيح البخاري: 4210، صحیح مسلم: 2406)
اس کا ایک شاہد بسند حسن فضائل الصحابة للنسائي (48) میں آتا ہے، اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (6933) نے صحیح کہا ہے۔
صحیح مسلم (1807) میں ہے کہ مرحب کہنے لگا:
قد علمت خيبر أني مرحب شاكي السلاح بطل مجرب . إذا الحروب أقبلت تلهب
”سارا خیبر جانتا ہے کہ میں مرحب ہوں، ہتھیاروں سے لیس، لڑائی میں تجربہ کار اور بہادر ہوں، جب شعلہ زن جنگ بھڑک جائے۔“
تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اس کے جواب میں کہا:
أنا الذى سمتني أمي حيدره كيث غابات كريه المنظره
”میرا نام میری ماں نے حیدر رکھا ہے جنگلات کے ہولناک منظر والے شیروں کی طرح ہوں۔“
أوفيهم بالصاع كيل السندره
”دشمنوں کو پورا پورا بدلہ دیتا ہوں جیسے وسیع پیمانے میں پورا پورا دیا جاتا ہے۔ (دشمن کو خوب سبق سکھاتا ہوں۔)“
”پھر آپ نے مرحب کے سر پر تلوار مار کر قتل کر دیا اور آپ فتح یاب ہوئے۔“
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے محبت، مودت اور دوستی اہل ایمان کا شیوہ ہے
❀ سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بعث رسول الله صلى الله عليه وسلم جيشا، واستعمل عليهم على بن أبى طالب، فمضى فى السرية، فأصاب جارية، فأنكروا عليه، وتعاقدوا أربعة من أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم: إذا لقينا رسول الله صلى الله عليه وسلم أخبرناه بما صنع، وكان المسلمون إذا رجعوا من السفر بدووا برسول الله صلى الله عليه وسلم فسلموا عليه ثم انصرفوا إلى رحالهم، فلما قدمت السرية سلموا على النبى صلى الله عليه وسلم، فقام أحد الأربعة فقال: يا رسول الله ألم تر إلى على بن أبى طالب صنع كذا وكذا؟ فأعرض عنه رسول الله صلى الله عليه وسلم، ثم قام الثاني فقال مثل ذلك، ثم الثالث فقال مثل مقالته، ثم قام الرابع فقال مثل ما قالوا، فأقبل إليهم رسول الله صلى الله عليه وسلم والغضب فى وجهه فقال: ما تريدون من علي؟ إن عليا مني وأنا منه وهو ولي كل مؤمن من بعدي.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لشکر بھیجا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو ان کا امیر بنایا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے حصے میں ایک لونڈی مال غنیمت سے آئی، لوگوں کو یہ بات اچھی نہ لگی، چار صحابہ نے عہد کر لیا کہ جوں ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے اس فعل کے بارے میں ضرور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آگاہ کریں گے۔ صحابہ کی عادت تھی کہ سفر سے جیسے ہی واپس آتے تو پہلے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سلام کے لیے حاضر ہوتے، پھر گھروں کو جایا کرتے تھے۔ اب جب حاضری ہوئی تو ایک صحابی نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کر دی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے توجہ دوسری جانب کر لی، دوسرے صحابی کھڑے ہوئے، انہوں نے وہی بات کی، پھر تیسرے صحابی کھڑے ہوئے، وہی بات کی، چوتھے صحابی نے بھی وہی بات کہی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی طرف متوجہ ہوئے، رخ انور پر غصے کے آثار نمایاں تھے۔ فرمایا: علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کیا ارادہ ہے آپ کا؟ علی مجھ سے ہیں، میں ان سے ہوں۔ وہ میرے بعد ہر مومن کے ولی ہیں۔“
(مسند الطيالسي: 829، مسند الإمام أحمد: 437/4، سنن الترمذي: 3712، خصائص علي للنسائي: 89، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام ترمذی رحمہ اللہ نے ”حسن غریب“، امام ابن حبان رحمہ اللہ (6929) اور امام حاکم رحمہ اللہ (110/3) نے ”صحیح “ کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بعثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم إلى اليمن مع خالد بن الوليد، وبعث عليا على جيش آخر، وقال: إن التقيتما فعلي على الناس، وإن تفرقتما فكل واحد منكما على حدته فلقينا بني زيد من أهل اليمن، وظهر المسلمون على المشركين فقتلنا المقاتلة، وسبينا الذرية، فاصطفى على جارية لنفسه من السبي، فكتب بذلك خالد بن الوليد إلى النبى صلى الله عليه وسلم، وأمرني أن أنال منه، قال: فدفعت الكتاب إليه، ونلت من علي، فتغير وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم فقلت: هذا مكان العائذ بعثتني مع رجل وأمرتني بطاعته، فبلغت ما أرسلت به فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تقعن يا بريدة فى علي، فإن عليا مني، وأنا منه، وهو وليكم بعدي.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت میں یمن بھیجا پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی زیر قیادت ایک دوسرا لشکر بھیجا اور فرمایا: جب دونوں لشکر مل جائیں تو ایک متفقہ امیر علی رضی اللہ عنہ ہوں گے، اگر نہ مل سکیں تو ہر لشکر کا امیر الگ الگ ہوگا۔ یمن کے قبیلہ بنی زید میں دونوں لشکر مل گئے، جنگ ہوئی، مسلمان مشرکوں پر غالب آ گئے۔ لڑنے والوں کو ہم نے قتل کیا، ان کی اولاد کو قیدی بنایا۔ ایک کنیز کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنی ذات کے لیے منتخب کر لیا، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا اور مجھے بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ سخت بولنے کو کہا۔ میں نے وہ خط نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پیش کیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں کچھ میں نے بھی کہہ دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ اقدس غصے سے متغیر ہو گیا، عرض کیا: معافی چاہتا ہوں، مجھ پر آپ کے قائم کردہ امیر کی اطاعت ضروری تھی سو انہوں نے مجھے یہ خط دے کر بھیجا، میں نے آپ کو پہنچا دیا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بریدہ! علی کی تنقیص نہ کیجئے، علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں اور وہ میرے بعد آپ کے ولی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 365/5، خصائص علي للنسائي: 90، وسنده حسن)
❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم الجحفة وأخذ بيد علي، فخطب، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: يا أيها الناس إني وليكم قالوا: صدقت يا رسول الله ثم أخذ بيد على فرفعها وقال: هذا وليي، والمودي عني، وإن الله موالي من والاه، ومعاد من عاداه.
”جحفہ کا دن تھا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا اور خطبہ دے رہے ہیں، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا: لوگو! میں آپ کا ولی ہوں۔ صحابہ نے عرض کیا: یقینا اللہ کے رسول! پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر بلند کیا اور فرمایا: یہ میرا ولی ہے، میری ذمہ داری ادا کرنے والا، یقیناً اللہ اس کا دوست ہے جس کے علی رضی اللہ عنہ دوست ہیں اور وہ اللہ کا دشمن ہے جو علی رضی اللہ عنہ کا دشمن ہے۔“
(خصائص علي للنسائي: 9، وسنده حسن)
❀ سیدہ عائشہ بنت سعد رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
أخذ رسول الله صلى الله عليه وسلم بيد علي، فخطب، فحمد الله وأثنى عليه ثم قال: ألستم تعلمون أني أولى بكم من أنفسكم؟ قالوا: نعم، صدقت يا رسول الله، ثم أخذ بيد على فرفعها فقال: من كنت وليه فهذا وليه، فإن الله يوالي من والاه، ويعادي من عاداه.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا اور خطبہ دیا، اللہ کی حمد و ثنا بیان کی، پھر فرمایا: آپ جانتے ہیں کہ میں آپ کو آپ کی جانوں سے بھی زیادہ عزیز ہوں؟ عرض کیا: جی ہاں، اللہ کے رسول! آپ نے درست فرمایا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ بلند کر کے فرمایا: میں جس کا ولی ہوں، علی رضی اللہ عنہ اس کے ولی ہیں۔ اللہ اس سے دوستی رکھتا ہے جو علی رضی اللہ عنہ سے دوستی رکھتا ہے، اللہ اس سے دشمنی رکھتا ہے جو علی رضی اللہ عنہ سے دشمنی رکھتا ہے۔“
(خصائص علي للنسائي: 90، مسند الإمام أحمد: 370/4، السنة لابن عاصم: 1368، صححه ابن حبان: 6931، وسنده حسن)
❀ سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لم يكن أحد من الناس أبغض إلى من على بن أبى طالب، حتى أحببت رجلا من قريش لا أحبه إلا على بغضاء علي، فبعث ذلك الرجل على خيل، فصحبته، وما أصحبه إلا على بغضاء علي، فأصاب سبيا، فكتب إلى النبى صلى الله عليه وسلم أن يبعث إليه من يخمسه، فبعث إلينا عليا، وفي السبي وصيفة من أفضل السبي، فلما خمسه صارت الوصيفة فى الخمس، ثم خمس فصارت فى أهل بيت النبى صلى الله عليه وسلم، ثم خمس فصارت فى آل علي، فأتانا ورأسه يقطر فقلنا: ما هذا؟ فقال: ألم تروا الوصيفة؟ صارت فى الخمس، ثم صارت فى أهل بيت النبى صلى الله عليه وسلم، ثم صارت فى آل علي، فوقعت عليها، فكتب وبعثني مصدقا لكتابه إلى النبى صلى الله عليه وسلم مصدقا لما قال علي: فجعلت أقول عليه: ويقول: صدق وأقول: ويقول: صدق، فأمسك بيدي رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقال: أتبغض عليا؟ فقلت: نعم، فقال: لا تبغضه، وإن كنت تحبه فازدد له حبا، فوالذي نفسي بيده لنصيب آل على فى الخمس أفضل من وصيفة فما كان أحد بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلى من علي، قال عبد الله بن بريدة: والله ما فى الحديث بيني وبين النبى صلى الله عليه وسلم غير أبي.
”مجھے کوئی شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ برا نہیں لگتا تھا، اسی وجہ سے میں ایک قریشی سے محبت رکھتا تھا کہ وہ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا تھا۔ اس قریشی کو ایک لشکر کا امیر بنا کر بھیجا گیا، تو میں بھی اس کے ساتھ تھا، میری رفاقت اس کے ساتھ صرف بغض علی رضی اللہ عنہ کی وجہ سے تھی۔ جنگ میں ہم نے کچھ قیدی بنائے، ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا کہ ایک شخص ہم میں مال غنیمت کی تقسیم کے لیے بھیج دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھیج دیا، ان قیدیوں میں ایک کنیز جو سب سے بہتر تھی، دوران تقسیم خمس اہل بیت کے حصہ میں آگئی۔ خمس کی تقسیم ہوئی تو وہ کنیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی آل کے حصہ میں آ گئی۔ اگلی صبح سیدنا علی رضی اللہ عنہ نہ آئے تو سر سے پانی کے قطرے ٹپک رہے تھے۔ ہم نے عرض کیا: یہ کیا؟ فرمایا: وہی لونڈی جو اہل بیت، پھر آل علی رضی اللہ عنہ کے حصے میں آئی تھی، اس سے میں نے تعلق قائم کیا ہے۔
قریشی نے ایک خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام لکھا اور تصدیق کی غرض سے میرے ہاتھ روانہ کر دیا اور جو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا تھا اس بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تصدیق چاہی۔ میں وہ خط رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پڑھتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: علی رضی اللہ عنہ نے سچ کہا، پھر پڑھتا، آپ فرماتے: یہ بھی سچ ہے، مزید پڑھتا، آپ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تصدیق فرماتے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، فرمایا: بریدہ! کیا آپ علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتے ہیں؟ عرض کیا: جی ہاں! فرمایا: علی رضی اللہ عنہ سے بغض نہ رکھئے، بلکہ اگر ان سے محبت کرتے ہو تو اور زیادہ محبت کیجئے۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد جان ہے! آل علی کا خمس میں اس کنیز سے زیادہ حصہ ہے۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ مجھے سب سے زیادہ محبوب ہو گئے۔
سیدنا عبداللہ بن بریدہ بیان فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! اس حدیث میں میرے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان میرے والد کے علاوہ اور کوئی واسطہ نہیں ہے۔“
(مسند الإمام أحمد: 350/5؛ خصائص علي بن أبي طالب للنسائي: 97، شرح مشكل الآثار للطحاوي: 160/4؛ وسنده حسن، وأخرجه البخاري: 4350 مختصرًا)
حدیث: من كنت مولاه، فعلي مولاه کو حافظ سیوطی رحمہ اللہ (911ھ) نے متواتر کہا ہے۔
(قطف الأزهار المتناثرة في الأحاديث المتواترة، ص 277)
❀ امام ابن شاہین رحمہ اللہ (385ھ) فرماتے ہیں:
هذا حديث غريب صحيح، وقد روى حديث غدير خم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم نحو مائة نفس، وفيهم العشرة، وهو حديث ثابت، لا أعرف له علة، تفرد على بهذه الفضيلة، لم يشركه فيها أحد.
”یہ حدیث غریب صحیح ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے غدیر خم والی حدیث قریباً سو صحابہ کرام نے بیان کی ہے۔ ان میں عشرہ مبشرہ بھی شامل ہیں۔ یہ حدیث ثابت ہے، مجھے اس میں کوئی علت نظر نہیں آتی، اس فضیلت میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ منفرد ہیں، اس میں کوئی ان کا شریک نہیں۔“
(شرح مذاھب السنہ : 87)
❀ حافظ ذہبی رحمہ اللہ لکھتے ہیں:
فله طرق جيدة.
”اس کی عمدہ طرق موجود ہیں۔“
(تذكرة الحفاظ: 164/3)
یہ حدیث درج ذیل صحابہ کرام سے مروی ہے:
① سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ: (مسند البزار: 632، وسنده حسن، خصائص علي للنسائي: 85، وسنده حسن، مسند الإمام أحمد: 370/4، وسنده صحيح، وصححه ابن حبان: 6931، زوائد مسند الإمام أحمد بن حنبل: 152/1، زوائد فضائل الصحابة: 1206، وسنده حسن، مسند الإمام أحمد: 366/5، وسنده صحيح، وقال ابن كثير في البداية والنهاية (210/5): وهذا إسناد جيد، خصائص علي للنسائي: 87، وسنده صحيح)
② سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ: (السنة لابن أبي عاصم: 1371، وسنده حسن)
③ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ: (السنة لابن أبي عاصم: 1189، مسند البزار: 1023، خصائص علي للنسائي: 9، 94، 95، وسنده حسن، وصححه الضياء في المختارة: 937)
موسى بن یعقوب الزمعی جمہور محدثین کے نزدیک ثقہ، حسن الحدیث ہے۔
❀ امام یحیی بن معین رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔
(تاريخ يحيى بن معين: 672)
❀ امام ابن شاہین رحمہ اللہ نے بھی ثقہ کہا ہے۔
(تاريخ الثقات: 1349)
❀ امام ابن عدی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
غير ما ذكرت أحاديث حسان، وهو عندي لا بأس به وبرواياته.
”مذکورہ روایات کے علاوہ اس کی احادیث حسن ہیں۔ میرے نزدیک اس میں اور اس کی روایات میں کوئی خرابی نہیں۔“
(الكامل في ضعفاء الرجال: 343/6)
❀ امام ابن حبان رحمہ اللہ نے ثقہ کہا ہے۔
(الثقات: 758/7)
❀ امام ابن القطان فاسی رحمہ اللہ نے بھی ثقہ قرار دیا ہے۔
(تهذيب التهذيب: 337/10)
❀ امام ابن الجارود (1065)، امام ابن خزیمہ (419)، امام حاکم (113-114)، حافظ ذہبی رحمہ اللہ، امام ضیاء مقدسی (المختارة: 1307) اور حافظ نووی رحمہ اللہ (الاذکار: 189) نے اس کی حدیث کی تصحیح کر کے اس کی توثیق کی ہے۔
امام عبد الرحمن بن مہدی رحمہ اللہ نے اس سے روایت لی ہے اور وہ اس شخص سے روایت لیتے ہیں جو ان کے نزدیک ثقہ ہو۔
❀ امام ترمذی رحمہ اللہ (484)، حافظ بغوی رحمہ اللہ (686) اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (فتح الباري 313، المطالب العالية: 4323) نے اس کی حدیث کو حسن کہہ کر اس کی توثیق کی ہے۔
❀ علامہ ہیشمی رحمہ اللہ نے اسے ثقہ کہا ہے۔
(مجمع الزوائد: 107/9)
❀ نیز فرماتے ہیں:
وثقه جماعة.
”اسے محدثین کی ایک جماعت نے ثقہ قرار دیا ہے۔“
(مجمع الزوائد: 38/9)
❀ حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
الزمعي صدوق، قال شيخنا الذهبي: وهذا حديث حسن غريب
”زمعی صدوق ہے، ہمارے شیخ ذہبی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ یہ حدیث حسن ہے۔“
(البداية والنهاية: 212/5)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اسے اپنی کتاب من تكلم فيه وهو موثق (ایسے راویوں کا بیان جس میں کلام کیا گیا ہے لیکن وہ ثقہ ہیں) میں ذکر کر کے صالح الحديثکہا ہے۔
امام علی بن المدینی رحمہ اللہ کا اسے ضعیف الحدیث اور منکر الحدیث کہنا ثابت نہیں ہو سکا۔ اگر ثابت بھی ہو تو جمہور کے مقابلے میں ناقابل التفات ہوگا۔
اسی طرح امام احمد بن حنبل رحمہ اللہ کا اس کے متعلق لا يعجبني حديثه (مجھے اس کی حدیث اچھی نہیں لگتی) کہنا (تهذیب التهذيب لابن حجر: 337) بھی ثابت نہیں۔
امام دارقطنی رحمہ اللہ (العلل: 113) نے اس کے بارے میں لا يحتج به اور امام نسائی رحمہ اللہ (الضعفاء: 553) نے ليس بالقوي کہا ہے۔ یہ جمہور کی توثیق کے خلاف ہونے کی وجہ سے ناقابل قبول ہے۔
باقی حافظ ذہبی رحمہ اللہ کا (مختصر المستدرك: 348) میں اسے ليس بذاك اور (الكاشف: 168) میں فيه لين کہنا، نیز حافظ منذری (مختصر السنن: 86) کا كافيه مقال اور حافظ ابن حجر رحمہ اللہ (تقریب التهذيب: 7026) کا اسے سيء الحفظ کہنا جمہور محدثین اور ان کی اپنی تحقیق کے بھی خلاف ہے۔
لہذا حافظ عراقی رحمہ اللہ (المغنی: 83) کا اس کے بارے میں ضعفه الجمهور کہنا بھی صحیح نہ ہوا۔
④ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما: (مسند الإمام أحمد: 330/1-331، السنة لابن أبي عاصم: 1361، خصائص علي للنسائي: 24، وسنده حسن، وقال الحاكم: 134/3: صحيح الإسناد)
ریاح بن حارث رحمہ اللہ کہتے ہیں:
جاء رهط إلى على بالرحبة فقالوا: السلام عليك يا مولانا قال: كيف أكون مولاكم وأنتم قوم عرب؟ قالوا: سمعنا رسول الله صلى الله عليه وسلم يوم غدير خم يقول: من كنت مولاه، فإن هذا مولاه قال رياح: فلما مضوا تبعتهم، فسألت من هؤلاء؟ قالوا: نفر من الأنصار فيهم أبو أيوب الأنصاري.
رحبہ میں ایک گروہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور کہا: السلام علیکم اے ہمارے مولی! سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں تمہارا مولی کیسے ہو سکتا ہوں حالانکہ تم عرب ہو؟ انہوں نے کہا: ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے کہ جس کا میں مولی ہوں تو یہ اس کا مولی ہے۔ ریاح رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب وہ چلے گئے تو میں ان کے پیچھے ہو لیا اور پوچھا: یہ کون تھے؟ انہوں نے کہا: یہ انصار کے کچھ لوگ تھے، ان میں ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ بھی ہیں۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 60/13، مسند الإمام أحمد: 419/5، السنة لابن أبي عاصم: 1355، معجم الصحابة للبغوي: 1822، المعجم الكبير للطبراني: 4053، 4052، الشريعة للآجري: 1517، وسنده صحيح)
سعید بن وہب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قام خمسة أو ستة من أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم فشهدوا أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من كنت مولاه، فعلي مولاه.
”پانچ یا چھ صحابہ نے گواہی دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: جس کا میں مولی ہوں تو علی اس کا مولی ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 336/5، خصائص علي للنسائي: 86، وسنده صحيح)
سیدنا زید بن ارقم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غدیر خم کے موقع پر تین مرتبہ فرمایا:
أذكركم الله فى أهل بيتي.
”میں آپ کو اہل بیت کے بارے میں اللہ کا خوف دلاتا ہوں۔“
(صحيح مسلم: 2408)
خلیفہ اول سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خلیفہ چہارم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا:
والذي نفسي بيده، لقرابة رسول الله صلى الله عليه وسلم أحب إلى أن أصل من قرابتي.
اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرابت کا خیال رکھنا مجھے اپنی قرابت سے کہیں زیادہ محبوب ہے۔
(صحيح البخاري: 3712)
نیز فرمایا:
أرقبوا محمدا صلى الله عليه وسلم فى أهل بيته.
”اہل بیت کے حوالے سے محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے حقوق کا خیال رکھیں۔“
(صحيح البخاري: 3713)
علی و عثمان رضی اللہ عنہما کی محبت ایک دل میں
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ (رافضی اور ناصبی) لوگ کہتے ہیں:
إن حب عثمان وعلي لا يجتمعان فى قلب مؤمن وكذبوا قد جمع الله عز وجل حبهما بحمد الله فى قلوبنا.
”ایک مومن کے دل میں سیدنا عثمان اور سیدنا علی رضی اللہ عنہما (دونوں) کی محبت سما نہیں سکتی، یہ ان کا جھوٹ ہے، الحمد للہ! اللہ تعالیٰ نے ہمارے دلوں میں دونوں کی محبت کو جمع کر دیا ہے۔“
(الشريعة: 1226، 1227، معجم ابن الأعرابي: 95، وسنده صحيح)
❀ امام ابو شہاب حناط رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
لا يجتمع حب أبى بكر وعمر وعثمان وعلي رضي الله عنهم إلا فى قلوب أنقياء هذه الأمة.
”ابو بکر، عمر، عثمان اور علی رضی اللہ عنہم (سب) کی محبت اس امت کے پارسا لوگوں کے دلوں میں ہی سما سکتی ہے۔“
(الشريعة: 1228، وسنده صحيح)
❀ میمون بن مہران رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
إن أقواما يقولون: لا يسعنا أن نستغفر لعثمان وعلي، وأنا أقول: غفر الله لعثمان وعلي وطلحة والزبير.
”ایک گروہ کہتا ہے: عثمان اور علی رضی اللہ عنہما کے حق میں استغفار کرنا ہمارے بس میں نہیں، میں کہتا ہوں: اللہ عثمان، علی، طلحہ اور زبیر رضی اللہ عنہم کو معاف کرے۔“
(الشريعة: 1229، وسنده حسن)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی تنقیص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تنقیص ہے
❀ سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
من أذى عليا فقد أذاني.
”جس نے علی رضی اللہ عنہ کو تکلیف دی، اس نے مجھے تکلیف دی۔“
(زوائد فضائل الصحابة للقطيعي: 1078، وسنده حسن)
❀ ابو عبد اللہ جدلی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
قالت لي أم سلمة: أيسب رسول الله صلى الله عليه وسلم فيكم على رؤوس الناس؟ فقلت: سبحان الله، وأنى يسب رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم؟ فقالت: أليس يسب على بن أبى طالب ومن يحبه، فأشهد أن رسول الله صلى الله عليه وآله وسلم كان يحبه.
”سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا مجھ سے فرمائیں: کیا آپ کے ہاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو لوگوں کے سامنے برا کہا جاتا ہے؟ عرض کیا: سبحان اللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلمکو کیسے کوئی برا کہہ سکتا ہے؟ فرمایا: کیا لوگ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور ان کے محبین کو برا نہیں کہتے؟ حالانکہ میں گواہی دیتی ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے محبت کرتے تھے۔“
(مسند أبي يعلى: 7013، المعجم الكبير للطبراني: 323/23، المعجم الصغير للطبراني: 822، وسنده حسن)
❀ ابو رجاء عطاردي رحمہ اللہ کہتے ہیں:
لا تسبوا عليا، ولا أهل هذا البيت، إن جارا لنا من بني الهجيم قدم من الكوفة فقال: ألم تروا هذا الفاسق ابن الفاسق؟ إن الله قتله، يعني الحسين عليه السلام، قال: فرماه الله بكوكبين فى عينه، فطمس الله بصره.
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور ان کے اہل خانہ کو برا نہ کہیں، بنو ہجیم سے تعلق رکھنے والا ہمارا ایک پڑوسی جو کوفہ سے آیا تھا، اس نے کہا: دیکھو اس فاسق ابن فاسق کو یعنی سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کو نعوذ باللہ! اللہ نے اسے ہلاک کر دیا۔ اس کی آنکھوں میں دو آسمانی انگارے لگے اور اللہ نے اس کی بینائی ختم کر دی۔“
(فضائل الصحابة لأحمد بن حنبل: 972، المعجم الكبير للطبراني: 119/3، وسنده صحيح)
❀ ابو بکر بن خالد بن عرفطہ بیان کرتے ہیں:
رأيت سعد بن مالك بالمدينة فقال: ذكر أنكم تسبون عليا قلت: قد فعلنا قال: لعلك سببته؟ قلت: معاذ الله قال: لا تسبه، فإن وضع المنشار على مفرقي على أن أسب عليا ما سببته بعد ما سمعت من رسول الله صلى الله عليه وسلم ما سمعت.
”مدینہ میں سیدنا سعد بن مالک رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوئی، کہنے لگے: پتہ چلا ہے کہ آپ کے لوگ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو برا بھلا کہتے ہیں؟ عرض کیا: واقعی یہ کام تو ہم نے کیا۔ کہا: شاید آپ نے بھی؟ عرض کیا: معاذ اللہ! فرمایا: انہیں گالی نہ دیجیے، واللہ! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شان جو سنی ہے، اگر میرے سر پر آری رکھ دی جائے تو بھی علی رضی اللہ عنہ کو برا نہ کہوں گا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 80/12، مسند أبي يعلى: 777، المختارة للضياء المقدسي: 1017، وسنده حسن)
❀ حافظ ہیشمی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
”اس کی سند حسن ہے۔“
(مجمع الزوائد: 130/9)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور اہل بیت سے بغض نفاق اور نار جہنم کا سبب ہے
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
والذي فلق الحبة، وبرأ النسمة لعهد النبى الأمي صلى الله عليه وسلم إلي: لا يحبني إلا مؤمن، ولا يبغضني إلا منافق.
”اس ذات کی قسم جس نے دانے کو پھاڑا اور جانداروں کو پیدا کیا! نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا میرے ساتھ وعدہ ہے کہ مجھ سے محبت صرف مومن کرے گا، مجھ سے بغض صرف منافق رکھے گا۔“
(صحيح مسلم: 78، خصائص علي للنسائي: 100)
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں:
ليحبني قوم حتى يدخلوا النار في، وليبغضني قوم حتى يدخلوا النار فى بغضي.
”ایک قوم میری محبت میں غلو کی وجہ سے، دوسری قوم میرے ساتھ بغض کے سبب آگ میں داخل ہوگی۔“
(السنة لابن أبي عاصم: 983، وسنده صحيح)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
والذي نفسي بيده لا يبغضنا أهل البيت أحد إلا أدخله الله النار.
”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! ہم اہل بیت سے بغض رکھنے والے کو اللہ ضرور جہنم میں داخل کرے گا۔“
(صحيح ابن حبان: 6978، المستدرك للحاكم: 150/3، وسنده حسن)
اس حدیث کو امام حاکم رحمہ اللہ نے ”امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح“ قرار دیا ہے۔
تین خصوصیات
❀ عامر بن سعد بن ابی وقاص رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أمر معاوية سعدا، فقال: ما منعك أن تسب أبا تراب؟ قال: أما ما ذكرت ثلاثا قالهن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلن أسبه، لأن تكون لي واحدة منهن أحب إلى من حمر النعم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول له، وخلفه فى بعض مغازيه، فقال له علي: يا رسول الله تخلفني النساء والصبيان؟ فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: أما ترضى أن تكون مني بمنزلة هارون من موسى، إلا أنه لا نبوة بعدي؟ وسمعته يقول فى يوم خيبر: لأعطين الراية رجلا يحب الله ورسوله، ويحبه الله ورسوله فتطاولنا لها، فقال: ادعوا لي عليا فأتي به أرمد، فبصق فى عينيه، ودفع الراية إليه، ولما نزلت، زاد هشام:
﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ﴾ (الأحزاب: 33) دعا رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، وفاطمة، وحسنا، وحسينا فقال: اللهم، يعني هؤلاء أهلي.
سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کو امیر بنایا اور پوچھا: آپ کی سیدنا ابو تراب (علی رضی اللہ عنہ) کو گالی نہ دینے کی وجہ کیا ہے؟ کہنے لگے: میں تو اس لیے گالی نہیں دیتا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے تین فرامین یاد ہیں جو آپ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمائے تھے، ہر فرمان مجھے سرخ اونٹوں سے عزیز ہے۔ میں نے خود سنا تھا کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو کسی غزوہ میں پیچھے چھوڑ دیا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! آپ مجھے بچوں اور عورتوں کے ساتھ پیچھے چھوڑ دیں گے؟ فرمایا: آپ اس پر راضی نہیں کہ آپ کا میرے ہاں وہی مقام ہے جو موسیٰ علیہ السلام کے ہاں ہارون علیہ السلام کو حاصل تھا؟ البتہ میرے بعد نبوت کا سلسلہ ختم ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خیبر والے دن فرماتے سنا: میں جنگ کا جھنڈا اس کے حوالے کروں گا جو اللہ اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہو اور اللہ اور اس کے رسول اس سے محبت کریں۔ ہم اس کی طمع کرنے لگے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی کو میرے پاس لائیں۔ انہیں لایا گیا، آپ آشوب چشم کا شکار تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی آنکھوں میں لعاب دہن لگایا اور جھنڈا تھما دیا۔ اللہ نے آپ کے ہاتھوں فتح بھی عطا فرمائی۔ جب یہ آیت نازل ہوئی: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ﴾ (الأحزاب: 33) (اہل بیت! اللہ تعالیٰ آپ سے ناپاکی کو دور کرنا چاہتا ہے۔ ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی، فاطمہ، حسن اور حسین رضی اللہ عنہم کو بلایا اور فرمایا: اللہ! یہ میرے اہل بیت ہیں۔
(صحيح مسلم: 2404، خصائص علي للنسائي: 11)
دعائیں جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو سکھائیں
① سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مصیبت کے وقت یہ دعا سکھلائی:
لا إله إلا الله الحليم الكريم، سبحان الله، وتبارك الله رب العرش العظيم، والحمد لله رب العالمين.
”اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں، وہ بردبار اور کریم ہے، پاک ہے اللہ، بڑی برکت والا ہے اللہ جو عرش عظیم کا رب ہے اور تمام تعریفیں اللہ رب العالمین کے لیے ہیں۔ جو تمام جہانوں کا پالنے والا ہے۔ “
(مسند الإمام أحمد: 94,91/1؛ وسنده حسن)
② سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن فاطمة عليها السلام شكت ما تلقى من أثر الرحى، فأتى النبى صلى الله عليه وسلم سبي، فانطلقت فلم تجده، فوجدت عائشة فأخبرتها، فلما جاء النبى صلى الله عليه وسلم أخبرته عائشة بمجيء فاطمة، فجاء النبى صلى الله عليه وسلم إلينا وقد أخذنا مضاجعنا، فذهبت لأقوم، فقال: على مكانكما، فقعد بيننا حتى وجدت برد قدميه على صدري، وقال: ألا أعلمكما خيرا مما سألتماني، إذا أخذتما مضاجعكما تكبرا أربعا وثلاثين، وتسبحا ثلاثا وثلاثين، وتحمدا ثلاثا وثلاثين فهو خير لكما من خادم.
”سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو چکی کی مشقت زیادہ محسوس ہوتی تھی، اسی سلسلے میں وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں گئیں کہ مجھے ایک غلام دے دیجیے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم گھر پر نہ تھے، تو وہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئیں اور مدعا بیان کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر واپس آئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ پیغام ان کے گوش گزار کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، ہم لیٹ چکے تھے۔ میں اٹھنے لگا تو فرمایا: اپنی جگہ پر بیٹھے رہو۔ آپ ہمارے درمیان بیٹھ گئے، میں نے اپنے سینے پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کی ٹھنڈک محسوس کی۔ فرمایا: کیا میں تمہیں اس سے بہتر چیز نہ بتاؤں جو تم نے مانگی ہے؟ جب تم بستر پر جاؤ تو 34 مرتبہ اللہ اکبر، 33 مرتبہ سبحان اللہ اور 33 مرتبہ الحمد للہ پڑھ لیا کرو، یہ خادم سے کہیں بہتر ہے۔“
(صحيح البخاري: 3705، صحیح مسلم: 2727)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انعام خاص
❀ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كانت لي منزلة من رسول الله صلى الله عليه وسلم لم تكن لأحد من الخلائق، فكنت آتيه كل سحر فأقول له: السلام عليك يا نبي الله، فإن تنحنح انصرفت إلى أهلي، وإلا دخلت عليه.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک میرا ایک ایسا مقام تھا جو مخلوق خدا میں کسی کو حاصل نہ تھا۔ میں روزانہ سحری کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتا اور عرض کرتا: السلام عليك يا نبي الله! اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھنکارتے تو میں واپس لوٹ جاتا، ورنہ اندر چلا جاتا۔“
(مسند الإمام أحمد: 85/1، خصائص علي بن أبي طالب للنسائي: 118، وصححه ابن خزيمة: 902، وسنده حسن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اہل علم کے کندھوں کی سواری
❀ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
انطلقت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم حتى أتينا الكعبة، فصعد رسول الله صلى الله عليه وسلم على منكبي، فنهض به على فلما رأى رسول الله صلى الله عليه وسلم ضعفه قال له: اجلس فجلس، فنزل نبي الله صلى الله عليه وسلم فقال: اصعد على منكبي فنهض به رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال علي: إنه ليخيل إلى أني لو شئت لئلت أفق السماء، فصعد على الكعبة وعليها تمثال من صفر أو نحاس، فجعلت أعالجه لأزيله يمينا وشمالا، وقداما ومن بين يديه، ومن خلفه، حتى إذا استمكنت منه قال نبي الله صلى الله عليه وسلم: اقذفه فقذفت به فكسرته كما تكسر القوارير، ثم نزلت، فانطلقت أنا ورسول الله صلى الله عليه وسلم نستبق حتى توارينا بالبيوت خشية أن يلقانا أحد من الناس.
میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کعبہ آیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے کندھوں پر سوار ہوئے۔ دیکھا کہ میں کمزور ہوں تو اتر آئے اور فرمایا: میرے کندھوں پر چڑھ جاؤ۔ آپ کھڑے ہوئے تو مجھے یوں لگا جیسے آسمانوں کی افق تک پہنچ جاؤں گا۔ میں کعبہ پر چڑھ گیا، اس پر پیتل یا تانبے کی مورتی تھی۔ میں نے اسے دائیں بائیں، آگے پیچھے اکھاڑنے کی کوشش کی۔ جب اکھاڑ لیا تو نبی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے نیچے پھینک دو۔ میں نے پھینک دیا اور وہ مورتیاں شیشے کی طرح ٹوٹ گئیں، میں نیچے اتر آیا۔ پھر ہم اس خدشہ سے کہ کوئی راستے میں مل نہ جائے، جلدی سے اپنے گھروں کو لوٹ آئے۔
(مسند الإمام أحمد: 84/1، زوائد مسند الإمام أحمد: 151/1؛ تهذيب الآثار للطبري: ص 237؛ مسند علي بن أبي طالب، المستدرك للحاكم: 262/2، 367، وقال: صحيح الإسناد، وسنده حسن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ دعا جو انہیں روئے زمین پر سب سے زیادہ محبوب تھی
❀ سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أنه جاء رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: إن عمك الشيخ الضال قد مات، فمن يواريه؟ قال: اذهب فوار أباك، ولا تحدث حدثا حتى تأتيني ففعلت، ثم أتيته، فأمرني أن أغتسل، فاغتسلت، ودعا لي بدعوات ما يسرني ما على الأرض بشيء منهن.
”میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کیا: آپ کا گمراہ چچا دم توڑ گیا ہے، اسے کون دفن کرے گا؟ فرمایا: جائیے، اپنے باپ کو دفن کیجیے اور سنئے! اس وقت تک کچھ نہیں کرنا جب تک کہ میرے پاس واپس نہ آ جاؤ! میں نے ایسا ہی کیا، پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا، آپ نے مجھے غسل کا حکم دیا، جب میں غسل کر چکا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے کئی دعائیں کیں، وہ دعائیں مجھے تمام دنیا سے زیادہ محبوب ہیں۔“
(مسند الإمام أحمد: 97/1، 131؛ سنن أبي داود: 3214؛ سنن النسائي: 190، 2008؛ وصححه ابن خزيمة (كما في الإصابة لابن حجر: 114/7) وابن الجارود: 550، وأخرجه أبو داود الطيالسي: ص 19، ح: 120، وسنده حسن متصل، وسنده صحیح)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گروہ حق کے زیادہ قریب گروہ ہے
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تمرق مارقة عند فرقة من الناس تقتلها أولى الطائفتين بالحق.
”لوگ جب تفریق ہو چکے ہوں گے تو خوارج کا گروہ اسلام سے نکل جائے گا، ان سے وہی قتال کرے گا جو گروہ حق سے زیادہ قریب ہوگا۔“
(صحيح مسلم: 1064/150، خصائص علي للنسائي: 172)
❀ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں:
لما كان يوم الخندق، وهو يعاطيهم اللبن، وقد اغبر شعر صدره قالت: فوالله ما نسيته، وهو يقول: اللهم إن الخير خير الآخرة فاغفر للأنصار والمهاجرين، قالت: وجاء عمار فقال: ابن سمية تقتلك الفئة الباغية.
”غزوہ خندق کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام کو اینٹیں دیتے تھے، جس سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سینہ کے بال غبار آلود ہو گئے۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: اللہ کی قسم! مجھے وہ منظر نہیں بھولا جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمارہے تھے: اللہ! حقیقی بھلائی تو آخرت کی بھلائی ہے، تو انصار و مہاجرین کو معاف فرما۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: اسی دوران سیدنا عمار رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: سمیہ کے بیٹے! آپ کو ایک باغی گروہ قتل کرے گا۔“
(مسند الإمام أحمد: 289/6، 315؛ صحیح مسلم: 73/2816)
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ مجھ سے بہتر شخص سیدنا ابو قتادہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کو فرمایا:
بوسا لك يا ابن سمية، ومسح الغبار عن رأسه تقتلك الفئة الباغية.
”سمیہ کے بیٹے! پریشانی ہے، ایک باغی گروہ آپ کو قتل کر دے گا، اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے سر سے مٹی صاف کر رہے تھے۔“
(مسند الإمام أحمد: 306/5؛ صحیح مسلم: 2235/4)
❀ حنظلہ بن خویلد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنت عند معاوية، فأتاه رجلان يختصمان فى رأس عمار يقول: كل واحد منهما أنا قتلته، فقال عبد الله بن عمرو ليطب به أحدكما نفسا لصاحبه، فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: تقتله الفئة الباغية.
”میں سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس تھا، ان کے پاس دو آدمی سیدنا عمار رضی اللہ عنہ کے سر کا جھگڑا لے کر آئے۔ ہر ایک کہہ رہا تھا کہ میں نے ان کو قتل کیا ہے، تو سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ میں سے ایک تو خود کو خوش خبری دے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ عمار رضی اللہ عنہ کو باغی گروہ قتل کرے گا۔“
(الطبقات الكبرى لابن سعد: 253/3؛ مسند الإمام أحمد: 164/2، 206؛ خصائص علي للنسائي: 164، وسنده صحیح)
حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے اس کی سند کو جید کہا ہے۔
(المعجم المختص: ص 96)
خوارج سے جہاد کا اعزاز:
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
تمرق مارقة عند فرقة من الناس تقتلها أولى الطائفتين بالحق.
”لوگ جب تفریق ہو چکے ہوں گے تو خوارج کا گروہ جنم لے گا، ان سے وہی قتال کرے گا جو گروہ حق سے زیادہ قریب ہوگا۔“
(صحيح مسلم: 1064/150، خصائص علي للنسائي: 172)
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
كنا جلوسا ننتظر رسول الله صلى الله عليه وسلم فخرج إلينا قد انقطع شسع نعله، فرمى بها إلى على فقال: إن منكم من يقاتل على تأويل القرآن كما قاتلت على تنزيله فقال أبو بكر: أنا؟ قال: لا قال عمر: أنا قال: لا، ولكن صاحب النعل.
”ہم بیٹھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا انتظار کر رہے تھے، اسی اثنا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتے کا تسمہ ٹوٹ گیا، تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیا، انہوں نے اسے گانٹھ دیا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ایک شخص قرآن کی تاویل پر جہاد کرے گا، جس طرح میں نے اس کے نازل ہونے پر جہاد کیا تھا۔ سیدنا ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ میں ہوں؟ فرمایا: نہیں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! وہ میں ہوں؟ فرمایا: نہیں، بلکہ وہ صاحب النعل (جوتوں کو گانٹھنے والے علی رضی اللہ عنہ) ہیں۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 64/12؛ مسند الإمام أحمد: 31/3، 33، 82؛ خصائص علي للنسائي: 156، زوائد فضائل الصحابة للقطيعي: 1071)
اس روایت کو امام ابن حبان رحمہ اللہ (6937) نے صحیح اور امام حاکم رحمہ اللہ (122/3) نے بخاری و مسلم کی شرط پر صحیح کہا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أن النبى صلى الله عليه وسلم ذكر قوما يكونون فى أمته، يخرجون فى فرقة من الناس، سيماهم التحالق قال: هم شر الخلق أو من أشر الخلق يقتلهم أدنى الطائفتين إلى الحق قال: فضرب النبى صلى الله عليه وسلم لهم مثلا، أو قال قولا: الرجل يرمي الرمية أو قال العرض فينظر فى النصل فلا يرى بصيرة، وينظر فى النضي فلا يرى بصيرة، وينظر الفوق فلا يرى بصيرة قال: قال أبو سعيد: وأنتم قتلتموهم، يا أهل العراق.
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کا ذکر کیا جو تفریق کے دنوں میں نکلیں گے، منڈے ہوئے سران کی نشانی ہے، مخلوق کے بدترین لوگ ہوں گے، انہیں حق کے زیادہ قریب گروہ قتل کرے گا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی مثال بیان فرمائی کہ جیسے کوئی آدمی کسی شکار کو تیر کے ذریعے نشانہ لگاتا ہے، پھر غور سے تیر کی انی (اگلے حصے) کو دیکھتا ہے، اسے شکار ہونے کی کوئی علامت (خون) نظر نہیں آتی۔ پھر تیر کے پیکان اور پر کے درمیانی حصے کو دیکھتا ہے تو کوئی نشان نہیں ملتا۔ پھر تیر کے سوفار (وہ چٹکی جہاں کمان کا تاند لگتا ہے) کو دیکھتا ہے، اس میں بھی کوئی نشان نظر نہیں آتا۔
”راوی حدیث (ابو نضر رحمہ اللہ) کہتے ہیں کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اہل عراق! انہیں قتل آپ کریں گے۔“
(صحيح مسلم: 149/1064)
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
قوم يخرجون من هذه الأمة، فذكر من صلاتهم، وزكاتهم، وصومهم يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية، لا يجاوز القرآن تراقيهم يخرجون فى فرقة من الناس، يقاتلهم أقرب الناس إلى الحق.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے خوارج کی نماز، زکوٰۃ اور روزوں کا ذکر کیا، فرمایا: وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ قرآن ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا۔ اختلاف کے دنوں میں ان کا خروج ہوگا۔ حق کے زیادہ قریب گروہ ان سے قتال کرے گا۔“
(صحيح مسلم: 153/1064)
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بينا رسول الله صلى الله عليه وسلم يقسم ذات يوم قسما فقال ذو الخويصرة التميمي: يا رسول الله اعدل قال: ويحك ومن يعدل إذا لم أعدل؟ فقام عمر فقال: يا رسول الله ائذن لي حتى أضرب عنقه فقال له رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا، إن له أصحابا يحتقر أحدكم صلاته مع صلاته، وصيامه مع صيامه، يمرقون من الدين مروق السهم من الرمية، حتى إن أحدهم لينظر إلى نصله فلا يجد فيه شيئا، ثم ينظر إلى رصافه فلا يجد فيه شيئا، ثم ينظر إلى نضيه فلا يجد فيه شيئا، ثم ينظر إلى قذذه فلا يجد فيه شيئا سبق الفرث والدم، يخرجون على خير فرقة من الناس، آيتهم رجل أدعج إحدى يديه مثل ثدي المرأة، أو كالبضعة تدردر قال أبو سعيد: أشهد لسمعت هذا من رسول الله صلى الله عليه وسلم، وأشهد أني كنت مع على بن أبى طالب حين قاتلهم، فأرسل إلى القتلى، فأتي به على النعت الذى نعت رسول الله صلى الله عليه وسلم.
ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم مال غنیمت تقسیم فرمارہے تھے، اتنے میں قبیلہ بنو تمیم سے ذوالخویصرہ نامی شخص آیا اور اس نے کہا: اللہ کے رسول! انصاف کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: افسوس! اگر میں عدل نہیں کروں گا تو کون عدل کرے گا؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اجازت دیں، اس کی گردن اڑا دوں۔ فرمایا: نہیں، چھوڑیے، اس کے کچھ ساتھی ہوں گے، آپ اپنی نماز کو ان کی نماز کے مقابلے میں، اپنے روزے کو ان کے روزے کے مقابلے میں معمولی سمجھیں گے، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے، یہاں تک کہ تیر کے پھل کی جڑ میں دیکھا جائے گا، اس میں کوئی نشان نظر نہیں آئے گا، پھر تیر کے پر کو دیکھا جائے گا، اس میں کوئی نشان نہیں ہوگا، پھر تیر کے پریکان کو دیکھا جائے تو اس پر بھی کوئی نشان نظر نہیں آئے گا اور تیر کے اس حصے کو جو پر اور پریکان کے درمیان ہوتا ہے، کو دیکھا جائے تو اس پر کوئی نشان نظر نہیں آئے گا، حالانکہ وہ (تیر) گوبر اور خون میں سے گزرا ہوگا اور وہ لوگوں کے بہترین گروہ کے خلاف بغاوت کرے گا۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ایک سیاہ فام جس کا ایک بازو عورت کے پستان کی طرح (اٹھا ہوا) ہوگا یا ہلتے ہوئے گوشت کی طرح ہوگا۔
”سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: گواہی دیتا ہوں کہ میں نے یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ہے، گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے ان سے لڑائی کی تو میں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اس شخص کو تلاش کیا گیا تو اس کا پورا حلیہ ویسا تھا جیسا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان کیا تھا۔“
(صحيح البخاري: 6163)
❀ عبید اللہ بن ابو رافع رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن الحرورية، لما خرجت مع على بن أبى طالب فقالوا: لا حكم إلا لله قال علي: كلمة حق أريد بها باطل، إن رسول الله صلى الله عليه وسلم وصف ناسا، إني لأعرف صفتهم فى هؤلاء الذين يقولون الحق بألسنتهم لا يجوز هذا وأشار إلى حلقه من أبغض خلق الله إليه، منهم أسود إحدى يديه طبي شاة أو حلمة ثدي، فلما قاتلهم على قال: انظروا فنظروا، فلم يجدوا شيئا فقال: ارجعوا والله ما كذبت، ولا كذبت، مرتين أو ثلاثا، ثم وجدوه فى خربة، فأتوا به حتى وضعوه بين يديه، قال عبيد الله: أنا حاضر ذلك من أمرهم، وقول على فيهم.
حروریہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بغاوت کی، کہنے لگے: لا حکم الا للہ (اللہ کے سوا کسی کا حکم نہیں) تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: حق بات کی آڑ لے کر باطل کا ارادہ کیا جارہا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی بابت فرمایا تھا، میں ان کو بخوبی جانتا ہوں، وہ نشانیاں ان میں پائی جاتی ہیں، حق زبان سے کہتے ہیں مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترتا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حلق کی طرف اشارہ کیا۔ اللہ کی مبغوض ترین مخلوق ہیں یہ لوگ، ان میں ایک اسود نامی صاحب ہے جس کا ہاتھ بکری کی پشت یا عورت کی پستان کے سرے جیسا ہوگا۔ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے ان سے قتال کیا تو فرمایا: (ذوالثدیہ) کو تلاش کرو! تلاش کرنے پر نہ ملا تو فرمایا: بخدا! میں نے آپ سے جھوٹ نہیں کہا اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی جھوٹ نہیں کہا، دو یا تین مرتبہ کہا تھا کہ لوگ ایک کھنڈر سے اس کی لاش نکال لائے۔ راوی عبید اللہ بن ابو رافع رحمہ اللہ کہتے ہیں: جب یہ سارا واقعہ پیش آیا اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے یہ بات کہی، میں وہیں موجود تھا۔
(صحيح مسلم: 157/1066، خصائص علي للنسائي: 177)
❀ سوید بن غفلہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو فرماتے سنا:
إذا حدثتكم عن نفسي فإن الحرب خدعة، وإذا حدثتكم عن رسول الله صلى الله عليه وسلم فلأن أخر من السماء أحب إلى من أن أكذب على رسول الله صلى الله عليه وسلم، سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: يخرج قوم أحداث الأسنان، سفهاء الأحلام، يقولون من خير قول البرية، لا يجاوز إيمانهم حناجرهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، فإن أدركتهم فاقتلهم، فإن فى قتلهم أجرا لمن قتلهم يوم القيامة.
”میں خود سے کوئی بات کہوں تو سنو! جنگ دھوکہ ہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ منسوب کروں تو میں چاہوں گا آسمان سے گر جاؤں مگر نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر جھوٹ نہ بولوں۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا: کچھ ایسے نوجوان پیدا ہوں گے جو عقل کے کمزور اور قرآن کو پڑھنے والے ہوں گے، ایمان ان کے حلقوں سے نیچے نہیں اترے گا۔ وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ یہ لوگ جہاں بھی ملیں، انہیں قتل کر دو۔ ان کے قاتلین کے لیے روز قیامت بہت بڑا اجر ہے۔“
(صحيح البخاري: 6930؛ صحیح مسلم: 154/1066)
❀ کلیب بن شہاب جرمی کوفی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
كنت عند على جالسا إذ دخل رجل عليه ثياب السفر قال: وعلي يكلم الناس، ويكلمونه فقال: يا أمير المؤمنين أتأذن أن أتكلم فلم يلتفت إليه، وشغله ما هو فيه، فجلست إلى الرجل، فسألته ما خبرك؟ قال: كنت معتمرا، فلقيت عائشة فقالت لي: هؤلاء القوم الذين خرجوا فى أرضكم يسمون حرورية قلت: خرجوا فى موضع يسمى حروراء، فسموا بذلك، فقالت: طوبى لمن شهد هلكتهم، لو شاء ابن أبى طالب لأخبركم خبرهم، فجئت أسأله عن خبرهم، فلما فرغ على قال: أين المستأذن؟ فقص عليه كما قص علينا قال: إني دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وليس عنده أحد غير عائشة أم المؤمنين فقال لي: كيف أنت يا علي، وقوم كذا وكذا؟ قلت: الله ورسوله أعلم، وقال: ثم أشار بيده فقال: قوم يخرجون من المشرق يقرؤون القرآن لا يجاوز تراقيهم، يمرقون من الدين كما يمرق السهم من الرمية، فيهم رجل مخدج كأن يده ثدي أنشدكم بالله أخبرتكم بهم؟ قالوا: نعم قال: أنشدكم بالله أخبرتكم أنه فيهم؟ قالوا: نعم قال: فأتيتموني، فأخبرتموني أنه ليس فيهم، فحلفت لكم بالله أنه فيهم، فأتيتموني به تسحبونه كما نعت لكم؟ قالوا: نعم قال: صدق الله ورسوله.
میں سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھا تھا کہ ایک آدمی ان کے پاس آیا، اس نے سفر کا لباس پہنا ہوا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ لوگوں سے گفتگو فرمارہے تھے، اس نے بات کرنے کی اجازت چاہی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ گفتگو میں مصروف رہے، اس کی طرف التفات نہیں کیا۔
”میں اس آدمی کے پاس جا کر بیٹھ گیا، پوچھا: کیا بات کرنا چاہتے ہو؟ کہا: میں عمرہ کے لیے مکہ گیا تھا، وہاں میری ملاقات سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوئی۔ انہوں نے فرمایا: جنہوں نے آپ کے علاقے میں خروج کیا ہے، انہیں حروریہ کیوں کہا جاتا ہے؟ عرض کیا: انہوں نے حروراء نامی جگہ سے خروج کیا ہے، اسی باعث۔ فرمایا: ان کے قتل میں جو شریک ہوگا، اس کے لیے خوش خبری ہے۔ اگر ابن ابی طالب چاہیں تو مزید بتلا سکتے ہیں، میں اسی متعلق پوچھنے آیا ہوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فارغ ہوئے تو فرمایا: اجازت طلب کرنے والا کہاں ہے؟ اس آدمی نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا والی بات سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گوش گزار کی تو فرمایا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے علاوہ کوئی نہ تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ابن ابی طالب! تب کیا ہوگا جب لوگوں کی ایسی ایسی کیفیت ہوگی؟ عرض کیا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بہتر جانتے ہیں، فرمایا: مشرق سے ایک قوم آپ کی مخالفت کو نکلے گی، ہاتھ سے اشارہ کیا، فرمایا: قرآن کو پڑھیں گے مگر ان کے حلق سے نیچے نہیں اترے گا، وہ دین سے اس طرح نکل جائیں گے جس طرح تیر کمان سے نکل جاتا ہے۔ ایک شخص ان میں ناقص ہاتھوں والا ہوگا، اس کا ایک ہاتھ عورتوں کے پستان جیسا ہوگا۔ پھر سیدنا علی رضی اللہ عنہ کہنے لگے: قسم دیجیے، کیا میں نے ان کے متعلق بتا دیا؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں! میں نے بتایا تھا کہ وہ ان لوگوں میں موجود ہے؟ لوگوں نے کہا: جی ہاں، کہا: پھر آپ نے بتایا کہ وہ ان میں نہیں ہے، میں نے اللہ کی قسم کھائی کہ وہ ان میں ہے، پھر آپ اس کی لاش کو میرے پاس گھسیٹ لائے۔ لوگوں نے کہا: جی ہاں! تو کہا: اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا تھا۔“
(زوائد مسند الإمام أحمد: 160/1، خصائص علي بن أبي طالب للنسائي: 183، السنة لابن أبي عاصم: 913، وسنده حسن)
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (البداية والنهاية: 293/7) نے اس کی سند کو ”جید“ کہا ہے۔
❀ زید بن وھب رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
خطبنا على بقنطرة الديزجان فقال: إنه قد ذكر لي خارجة تخرج من قبل المشرق، وفيهم ذو الثدية، فقاتلهم، فقالت الحرورية بعضهم لبعض: لا تكلموه، فيردكم كما ردكم يوم حروراء، فشجر بعضهم بعضا بالرماح، فقال رجل من أصحاب علي: اقطعوا العوالي، والعوالي الرماح، فداروا واستداروا، وقتل من أصحاب على اثنا عشر رجلا، أو ثلاثة عشر رجلا فقال علي: التمسوا المخدج، وذلك فى يوم شات فقالوا: ما نقدر عليه، فركب على بغلة النبى صلى الله عليه وسلم الشهباء، فأتى وهدة من الأرض فقال: التمسوه فى هؤلاء، فأخرج فقال: ما كذبت، ولا كذبت فقال: اعملوا ولا تتكلوا، لولا أني أخاف أن تتكلوا لأخبرتكم بما قضى الله لكم على لسانه، يعني النبى صلى الله عليه وسلم، ولقد شهدنا أناس باليمن قالوا: كيف يا أمير المؤمنين؟ قال: كان هداهم معنا.
دیزجان کے پل پر سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ نے ہمیں خطبہ دیا، فرمایا: مجھے ایک قوم کے متعلق بتایا گیا تھا، جن میں ذوالثدیہ بھی ہوگا، مشرق کی طرف سے وہ قوم آپ پر خروج کرے گی، آپ ان سے قتال کیجیے گا!
خوارج ایک دوسرے سے کہنے لگے: ان سے گفتگو نہ کرنا! یہ آپ کا رد کریں گے، جس طرح حروریہ کے دن کیا تھا۔ وہ ایک دوسرے کی طرف تیر پھینکنے لگے، ایک شخص سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے گروہ سے کہنے لگا، ان کے نیزوں کو روکو! ان کو گھیر لیا گیا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارہ یا تیرہ ساتھی شہید ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرمانے لگے: ناقص ہاتھوں والے کو ڈھونڈیں۔ اس دن سردی بہت شدید تھی۔ لوگوں نے عرض کیا: ہم نہیں ڈھونڈ پائے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے شہباء نامی خچر پر سوار ہوئے، ایک گڑھے کے قریب پہنچ کر فرمایا: یہاں سے ڈھونڈیں! اس کی لاش وہاں سے مل گئی۔ فرمایا: میں نے جھوٹ نہیں بولا تھا، نہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جھوٹ بولا۔ فرمایا: عمل کرتے رہیں، (صرف) توکل پر ہی نہ رہیں۔ مجھے یہ خدشہ اگر نہ ہوتا کہ آپ توکل کر لیں گے تو میں آپ کو اس الہی فیصلے سے آگاہ کرتا جو اللہ نے آپ کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی بیان کیا تھا۔ (نیز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا): یمنی لوگ ہمارے ساتھ شریک ہیں۔ لوگوں نے عرض کیا: امیر المؤمنین! وہ کیسے؟ فرمایا: انہیں بھی ہمارے ساتھ ہی ہدایت نصیب ہوئی ہے۔
(مصنف ابن أبي شيبة: 311/15؛ مسند البزار: 580، وسنده حسن)
❀ سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ نے بتایا:
أنه كان فى الجيش الذين كانوا مع على الذين ساروا إلى الخوارج، فقال علي: أيها الناس إني سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: سيخرج قوم من أمتي يقرؤون القرآن، ليس قراءتكم إلى قراءتهم شيئا، ولا صلاتكم إلى صلاتهم شيئا، ولا صيامكم إلى صيامهم شيئا، يقرؤون القرآن يحسبون أنه لهم، وهو عليهم، لا تجاوز صلاتهم تراقيهم، يمرقون من الإسلام كما يمرق السهم من الرمية، لو تعلمون الجيش الذى يصيبونهم ما قضي لهم على لسان نبيهم صلى الله عليه وسلم لا تكلوا على العمل، وآية ذلك أن فيهم رجلا له عضد، وليست له ذراع، على رأس عضده مثل حلمة ثدي المرأة عليه شعرات بيض. قال سلمة : فنزلني زيد منزلا منزلا حتى مررنا على قنطرة، على الخوارج عبد الله بن وهب الراسبي فقال لهم : ألقوا الرماح، وسلوا سيوفكم من جفونها، فإني أخاف أن يناشدوكم قال : فسلوا السيوف، وألقوا جفونها، وشجرهم الناس يعني برماحهم فقتل بعضهم على بعض، وما أصيب من الناس يومئذ إلا رجلان قال على : التمسوا فيهم المخدج، فلم يجدوه، فقام على بنفسه حتى أتى ناسا قتلى بعضهم على اتي بعض قال : جردوهم ، فوجدوه مما يلي الأرض ، فكبر على وقال : صدق الله، وبلغ رسوله صلى الله عليه وسلم، فقام إليه عبيدة السلماني فقال : يا أمير المؤمنين الله الذى لا إله إلا هو سمعت هذا الحديث من رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال : إي والله الذى لا إله إلا هو لسمعته من رسول الله صلى الله عليه وسلم، حتى استحلفه ثلاثا وهو يحلف له.
”وہ اس لشکر میں شامل تھے جنہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی معیت میں خوارج (کی سرکوبی) کے لیے کوچ کیا تھا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا کہ میری امت کے کچھ لوگ ظاہر ہوں گے، وہ قرآن کی تلاوت کریں گے، آپ کی قراءت ان کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی، آپ کی نماز ان کی نماز کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوگی اور آپ کے روزے ان کے روزوں کے مقابلے میں کچھ نہیں ہوں گے۔ وہ قرآن کی تلاوت کریں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ ان کے حق میں ہے (یعنی ان کے حق میں دلیل بنے گا) حالانکہ وہ ان کے خلاف حجت بنے گا۔ ان کی نمازیں ان کے حلق سے نیچے نہیں اتریں گی، وہ اسلام سے اس طرح نکل جائیں گے جیسے تیر شکار سے نکل جاتا ہے۔ اگر اس لشکر کو جو ان سے لڑنے جا رہا ہے پتہ چل جائے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان مبارک سے ان کے حق میں کیا فیصلہ بیان ہوا ہے تو وہ (دیگر نیک) اعمال پر بھروسہ چھوڑ دیں گے۔ ان کی نشانی یہ ہے کہ ان میں ایک آدمی ہے جس کا کہنی سے کندھے تک بازو تو ہوگا لیکن کہنی سے نیچے والا حصہ نہیں ہوگا، اس کے بازو کے اوپر والے حصے پر عورت کے پستان کے سرے کی طرح ہوگا اور اس پر سفید بال ہوں گے۔
سلمہ بن کہیل رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ زید بن وہب رحمہ اللہ نے مجھے ایک ایک منزل پر اتارا حتیٰ کہ ہم ایک پل پر سے گزرے۔ (راوی بیان کرتے ہیں کہ جب ہم ان کے مد مقابل ہوئے) عبد اللہ بن وہب راسبی ان (خوارج) کا امیر تھا، اس نے انہیں کہا: نیزے پھینک دو اور تلواریں میانوں سے نکال لو! مجھے اندیشہ ہے کہ وہ تم سے مطالبہ کریں گے۔
راوی بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے نیزے پھینک دیے اور تلواریں سونت لیں، میانوں کو بھی وہیں پھینک دیا۔ لوگوں نے ان سے نیزوں سے لڑائی کی۔ خوارج کے کشتوں کے پشتے لگ گئے۔ اس روز (سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے) ساتھیوں میں سے صرف دو آدمی شہید ہوئے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مخدج (ناقص ہاتھ والے) کو تلاش کرو۔ انہیں نہ ملا۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ خود اٹھے، ان لوگوں کے پاس آئے جنہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا تھا، فرمایا: ان نعشوں کو نکالو۔ دیکھا گیا کہ مخدج زمین سے چمٹا پڑا ہے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر کہا، فرمایا: اللہ نے سچ فرمایا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آگے پہنچا دیا۔
عبیدہ سلمانی رحمہ اللہ پوچھنے لگے: امیر المؤمنین! آپ اللہ معبود برحق کی قسم اٹھا کر کہہ سکتے ہیں کہ آپ نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے؟ فرمایا: جی ہاں! اللہ معبود برحق کی قسم! میں نے اس حدیث کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خود سنا ہے۔ انہوں نے تین مرتبہ قسم مانگی اور آپ (سیدنا علی رضی اللہ عنہ) قسم اٹھاتے رہے۔“
(صحيح مسلم: 156/1066، خصائص علي بن أبي طالب للنسائي: 196)
❀ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں:
لما خرجت الحرورية اعتزلوا فى دار، وكانوا ستة آلاف فقلت لعلي: يا أمير المؤمنين أبرد بالصلاة، لعلي أكلم هؤلاء القوم قال: إني أخافهم عليك قلت: كلا، فلبست، وترجلت، ودخلت عليهم فى دار نصف النهار، وهم يأكلون فقالوا: مرحبا بك يا ابن عباس، فما جاء بك؟ قلت لهم: أتيتكم من عند أصحاب النبى صلى الله عليه وسلم المهاجرين والأنصار، ومن عند ابن عم النبى صلى الله عليه وسلم وصهره، وعليهم نزل القرآن، فهم أعلم بتأويله منكم، وليس فيكم منهم أحد، لأبلغكم ما يقولون، وأبلغهم ما تقولون، فانتحى لي نفر منهم قلت: هاتوا ما نقمتم على أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم وابن عمه قالوا: ثلاث قلت: ما هن؟ قال: أما إحداهن، فإنه حكم الرجال فى أمر الله وقال الله: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ (الأنعام: 57) ما شأن الرجال والحكم؟ قلت: هذه واحدة قالوا: وأما الثانية، فإنه قاتل، ولم يسب، ولم يغنم، إن كانوا كفارا لقد حل سباهم، ولئن كانوا مؤمنين ما حل سباهم ولا قتالهم قلت: هذه ثنتان، فما الثالثة؟ وذكر كلمة معناها قالوا: محا نفسه من أمير المؤمنين، فإن لم يكن أمير المؤمنين، فهو أمير الكافرين قلت: هل عندكم شيء غير هذا؟ قالوا: حسبنا هذا قلت: أرأيتكم إن قرأت عليكم من كتاب الله جل ثناؤه وسنة نبيه ما يرد قولكم أترجعون؟ قالوا: نعم، قلت: أما قولكم: حكم الرجال فى أمر الله، فإني أقرأ عليكم فى كتاب الله أن قد صير الله حكمه إلى الرجال فى ثمن ربع درهم، فأمر الله تبارك وتعالى أن يحكموا فيه أرأيت قول الله تبارك وتعالى: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾ (المائدة: 95) وكان من حكم الله أنه صيره إلى الرجال يحكمون فيه، ولو شاء لحكم فيه، فجاز من حكم الرجال، أنشدكم بالله أحكم الرجال فى صلاح ذات البين، وحقن دمائهم أفضل أو فى أرنب؟ قالوا: بلى، هذا أفضل وفي المرأة وزوجها: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا﴾ (النساء: 35) فنشدتكم بالله حكم الرجال فى صلاح ذات بينهم، وحقن دمائهم أفضل من حكمهم فى بضع امرأة؟ أفخرجت من هذه؟ قالوا: نعم قلت: وأما قولكم قاتل ولم يسب، ولم يغنم، أفتسبون أمكم عائشة، تستحلون منها ما تستحلون من غيرها وهى أمكم؟ فإن قلتم: إنا نستحل منها ما نستحل من غيرها فقد كفرتم، وإن قلتم: ليست بأمنا فقد كفرتم: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ (الأحزاب: 6) فأنتم بين ضلالتين، فأتوا منها بمخرج، أفخرجت من هذه؟ قالوا: نعم، وأما محو نفسه من أمير المؤمنين، فأنا آتيكم بما ترضون، إن نبي الله صلى الله عليه وسلم يوم الحديبية صالح المشركين فقال لعلي: اكتب يا على هذا ما صالح عليه محمد رسول الله قالوا: لو نعلم أنك رسول الله ما قاتلناك فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: امح يا علي، اللهم إنك تعلم أني رسول الله، امح يا علي، واكتب هذا ما صالح عليه محمد بن عبد الله والله لرسول الله صلى الله عليه وسلم خير من علي، وقد محا نفسه، ولم يكن محوه نفسه ذلك محاه من النبوة، أخرجت من هذه؟ قالوا: نعم، فرجع منهم ألفان، وخرج سائرهم، فقتلوا على ضلالتهم، فقتلهم المهاجرون والأنصار.
”اہل حرورہ نے جب خروج کیا، وہ چھ ہزار کی بڑی تعداد میں ایک گھر میں جمع تھے۔ میں نے سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: امیر المؤمنین! آپ ذرا نماز کو ٹھنڈا کیجیے تاکہ میں خوارج سے گفتگو کر لوں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے خدشہ ہے کہ وہ کہیں آپ کو اذیت نہ دیں۔ عرض کیا: ایسا نہیں ہوگا۔ چنانچہ میں نے ایک خوبصورت حلہ (جوڑا) زیب تن کیا، کنگھی کی اور ٹھیک دوپہر کے وقت ان کے پاس پہنچا جبکہ وہ کھانا کھا رہے تھے۔ (واضح رہے کہ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما ایک خوبرو اور بلند آواز والے انسان تھے) انہوں نے مجھ کو دیکھ کر مرحبا مرحبا کہا اور کہنے لگے: ابن عباس! کیسے آنا ہوا؟ میں نے کہا: میں مہاجرین و انصار صحابہ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا زاد بھائی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد کے پاس سے آ رہا ہوں، انہی کے دور میں قرآن نازل ہوا، وہ قرآن کی تفسیر اور اس کا معنی و مفہوم آپ سے زیادہ جانتے ہیں، ان کا کوئی شخص آپ کے ساتھ نہیں، میں آپ کو ان کے خیال سے اور ان کو آپ کے خیال سے متعارف کراؤں گا۔ چنانچہ کچھ لوگ الگ ہو کر میرے پاس آئے۔ میں نے کہا: اصحاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے خلاف کیا شکایات ہیں؟ انہوں نے کہا: تین شکایتیں ہیں۔ میں نے کہا: وہ کیا ہیں؟ انہوں نے کہا: پہلی شکایت تو یہ ہے کہ انہوں نے اللہ کے معاملہ میں انسانوں کو حکم (فیصلہ کرنے والا) تسلیم کر لیا، حالانکہ اللہ نے فرمایا ہے: ﴿إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ ”حکم صرف اللہ کے لیے ہے۔“ (الأنعام: 57) انسانوں کا حکم سے کیا تعلق؟ میں نے کہا: ایک ہوئی۔ دوسری شکایت کیا ہے؟ کہا: دوسری شکایت یہ ہے کہ انہوں نے (سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ اور ان کے ساتھیوں سے) قتال کیا لیکن نہ انہیں قیدی بنایا اور نہ ان کا مال لوٹا۔ اگر وہ کافر تھے تو انہیں قیدی بنانا جائز تھا اور اگر مومن تھے تو نہ انہیں قید کیا جا سکتا تھا اور نہ ان سے قتال جائز تھا۔ میں نے کہا: یہ دوسری ہوئی۔ تیسری شکایت کیا ہے؟ یا اس سے ملتی جلتی کوئی اور بات کہی۔ انہوں نے کہا: انہوں نے عہد نامہ تحکیم سے خود امیر المؤمنین کا لقب مٹا دیا۔ اگر وہ امیر المؤمنین نہیں تو کیا (معاذ اللہ) امیر الکافرین ہیں؟ پھر میں نے کہا: کیا ان کے علاوہ بھی کوئی شکایت ہے؟ کہا: نہیں، بس اتنا ہی ہے۔ میں نے کہا: میں کتاب اللہ اور سنت رسول کی روشنی میں آپ کی باتوں کو غلط ثابت کروں تو لوٹ آؤ گے؟ (یعنی خروج سے تائب ہو کر مسلمانوں کے ساتھ مل جاؤ گے) انہوں نے کہا: ہاں! میں نے کہا کہ یہ شکایت کہ انہوں نے اللہ کے معاملہ میں انسانوں کو حکم بنایا، اس کے جواب میں قرآن کی ایک آیت سناتا ہوں جس میں اللہ نے ربع درہم جیسی معمولی چیز کے بارے میں انسانوں کو حکم ٹھہرایا ہے اور انہیں حکم دیا ہے کہ اس میں فیصلہ کریں۔ اللہ کے اس کلام کے بارے میں کیا خیال ہے: ﴿يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَقْتُلُوا الصَّيْدَ، وَأَنْتُمْ حُرُمٌ، وَمَنْ قَتَلَهُ مِنْكُمْ مُتَعَمِّدًا فَجَزَاءٌ مِثْلُ مَا قَتَلَ مِنَ النَّعَمِ يَحْكُمُ بِهِ ذَوَا عَدْلٍ مِنْكُمْ﴾” لوگو! احرام میں شکار نہ کرو، اگر جان بوجھ کرلیا، تو چو پاؤں میں سے اس کی مثل ایک جانور دینا ہوگا۔ اس مثل کا فیصلہ آپ میں سے دو انصاف والے کریں گے“ (المائدة: 95)
اللہ کا حکم یہ ہے کہ اس نے اپنا حکم لوگوں کے حوالے کر دیا ہے تاکہ وہ اس کا فیصلہ کریں۔ اگر اللہ چاہتا تو اس بات کا خود فیصلہ فرما دیتا، اس کے باوجود اللہ نے اس مسئلہ میں لوگوں کے فیصلے کو جائز قرار دیا۔ میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں: لوگوں کے اختلاف کو مٹا کر صلح پیدا کرنے اور انہیں خونریزی سے بچانے کے لیے حکم مقرر کرنا بہتر ہے یا ایک خرگوش کے بارے میں (جس کی قیمت ربع درہم ہے)؟ انہوں نے کہا: ہاں! یہ افضل و بہتر ہے۔
مزید سنو! اللہ تعالیٰ نے خاوند اور بیوی کے بارے میں فرمایا: ﴿وَإِنْ خِفْتُمْ شِقَاقَ بَيْنِهِمَا فَابْعَثُوا حَكَمًا مِنْ أَهْلِهِ وَحَكَمًا مِنْ أَهْلِهَا﴾” اگر ڈر ہو کہ ان میں مخالفت ہو جائے گی تو ایک منصف مرد کے گھر والوں سے اور ایک منصف عورت کے گھر والوں سے حکم مقرر کر لیجیے۔“ (النساء: 35) میں اللہ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں کہ مسلمانوں کے درمیان مصالحت کروانے اور ان کی باہمی خونریزی کو روکنے میں حکم مقرر کرنا اس عورت کے سامان لذت سے بہتر ہے؟ کیا پہلے اعتراض کا جواب ہو گیا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر میں نے کہا: یہ شکایت کہ انہوں نے قتال کیا لیکن مد مقابل کو قیدی نہیں بنایا، ان کا مال نہیں لوٹا، تو اس سلسلے میں میں پوچھتا ہوں کہ اپنی ماں سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو قید کرنا پسند کریں گے؟ ان کے بارے میں بھی ان امور کو حلال جانو گے جو ان کے علاوہ دوسروں (لونڈیوں) کے لیے حلال جانتے ہو؟ حالانکہ وہ آپ کی ماں ہیں۔ اگر آپ یہ کہو: ان کے ساتھ وہ سب کچھ حلال ہے جو لونڈیوں کے لیے حلال ہوتا ہے تو آپ نے کفر کیا اور اگر یہ کہو کہ وہ ہماری ماں نہیں ہیں تو بھی آپ کا کافر۔ اللہ کا ارشاد ہے: ﴿النَّبِيُّ أَوْلَى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ أَنْفُسِهِمْ وَأَزْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ﴾ ”نبی مومنوں پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ حق رکھتے ہیں اور ان کی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔“ (الأحزاب: 6)
آپ دو گمراہیوں کے درمیان پھنسے ہو، اس سے نکلنے کا راستہ آپ ہی بتائیں۔ کیا یہ اعتراض بھی ختم ہوا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر میں نے کہا: یہ شکایت کہ انہوں نے اپنے نام سے امیر المؤمنین کا لقب کیوں مٹا دیا، تو میں اس کی دلیل دیتا ہوں جو آپ کو پسند آئے گی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صلح حدیبیہ کے موقع پر مشرکین سے جب مصالحت کی تھی تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: علی! لکھیں، یہ معاہدہ ہے جس پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صلح کر رہے ہیں۔ یہ سن کر مشرکین کہنے لگے: اگر ہم آپ کو رسول اللہ مانتے تو پھر آپ سے جنگ کیوں لڑتے۔ تب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علی! اسے مٹا دیجیے۔ اللہ تو خوب جانتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں۔ علی! مٹا دیجیے اور لکھیے: ”یہ معاہدہ ہے جس پر محمد بن عبد اللہ صلح کر رہے ہیں۔“
(یہ دلیل بیان کرنے کے بعد سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے خوارج سے فرمایا:) اللہ کی قسم! اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے بہتر ہیں۔
پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود ہی (محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لفظ کو) مٹا دیا۔ پس اس کا یہ مطلب نہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خود کو نبوت سے مٹا دیا ہے۔ کیا آخری شکایت کا جواب بھی مکمل ہوا؟ انہوں نے کہا: جی ہاں! پھر ان میں سے دو ہزار لوگ دوبارہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جماعت میں لوٹ آئے، بقیہ نے انکار کر دیا، انہوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے قتال کیا اور اپنی اسی گمراہی پر مہاجرین و انصار کے ہاتھوں قتل ہوئے۔“
(مسند الإمام أحمد: 342/1؛ سنن أبي داود: 4037 مختصرًا؛ خصائص علي للنسائي: 190 واللفظ له؛ المعرفة والتاريخ للفسوي: 522/1؛ المعجم الكبير للطبراني: 312/10؛ المستدرك للحاكم: 150/2، وسنده حسن)
امام حاکم رحمہ اللہ نے اسے امام مسلم رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح قرار دیا ہے، حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے ان کی موافقت کی ہے۔
نام مصطفیٰ کی تکریم
❀ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
لما صالح رسول الله صلى الله عليه وسلم أهل الحديبية وقال ابن بشار: أهل مكة كتب على كتابا بينهم قال: فكتب محمد رسول الله فقال المشركون: لا تكتب محمد رسول الله، لو كنت رسول الله لم نقاتلك قال: على امحه قال: ما أنا بالذي أمحاه، فمحاه رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده، فصالحهم على أن يدخل هو وأصحابه ثلاثة أيام ولا يدخلها إلا بجلبان السلاح فسألته قال ابن بشار: فسألوه ما جلبان السلاح؟ قال: القراب بما فيه.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اہل حدیبیہ (ابن بشار راوی نے کہا: یعنی اہل مکہ) سے صلح کی تو اس کی دستاویز سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے لکھی تھی۔ انہوں نے اس میں لکھا: ”یہ معاہدہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے۔“ مشرکین نے اس پر اعتراض کیا کہ لفظ محمد کے ساتھ رسول اللہ نہ لکھو، اگر آپ رسول ہوتے تو ہم آپ سے لڑتے ہی کیوں؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ رسول اللہ کا لفظ مٹا دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میں تو اسے نہیں مٹا سکتا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود اپنے ہاتھ سے وہ لفظ مٹا دیا اور مشرکین کے ساتھ اس شرط پر صلح کی کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے ساتھ (آئندہ سال) تین دن کے لیے مکہ آئیں اور ہتھیار میان میں رکھ کر داخل ہوں۔ امام ابن بشار کہتے ہیں کہ شاگردوں نے امام شعبہ سے پوچھا کہ جلبان السلاح (جس کا ذکر ہے) کیا چیز ہے؟ تو انہوں نے بتایا کہ میان اور جو چیز اس کے اندر ہوتی ہے (اس کا نام جلبان ہے۔)“
(صحيح البخاري: 2698؛ صحیح مسلم: 1783)
شہادت کی پیشین گوئی اور حدیث پر ایمان کی ایک مثال
❀ابو سنان یزید بن امیہ الدولی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ ایک بیماری سے صحت یاب ہوئے تو ہم نے عرض کیا:
الحمد لله الذى أصحك يا أمير المؤمنين قد كنا خفنا عليك فى مرضك هذا، فقال: لكني لم أخف على نفسي، حدثني الصادق المصدوق، قال: لا تموت حتى يضرب هذا منك يعني رأسه وتخضب هذه دما يعني لحيته، ويقتلك أشقاها كما عقر ناقة الله أشقى بني فلان خصه إلى فخذه الدنيا دون ثمود.
”امیر المؤمنین! اللہ رب العزت کا شکر ہے جس نے آپ کو صحت دی، ہمیں تو آپ کی اس بیماری پر ڈر تھا۔ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے کوئی ڈر نہ تھا کہ صادق و مصدوق نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا تھا: آپ کو اس وقت تک موت نہیں آئے گی جب تک کہ آپ کا سر زخمی نہ ہو، داڑھی خون آلود نہ ہو جائے اور ایک بدبخت آپ کو شہید نہ کر دے۔ جس طرح کہ بدبخت قوم ثمود نے اللہ رب العزت کی اونٹنی کو مارا تھا۔ انہوں نے ران کے قریب سے اونٹنی کا پیٹ پھاڑ دیا تھا، البتہ (احیمر) ثمودی نے اس میں حصہ نہیں لیا تھا۔“
(مسند عبد بن حمید: 92، وسنده حسن)
اسے امام حاکم رحمہ اللہ (113/3) نے امام بخاری رحمہ اللہ کی شرط پر صحیح کہا ہے۔
حدیث رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت
❀ مروان بن حکم رحمہ اللہ کہتے ہیں:
شهدت عثمان، وعليا رضي الله عنهما وعثمان ينهى عن المتعة، وأن يجمع بينهما، فلما رأى على أهل بهما، لبيك بعمرة وحجة، قال: ما كنت لأدع سنة النبى صلى الله عليه وسلم لقول أحد.
”میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اور علی رضی اللہ عنہ دونوں سے مل چکا ہوں۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ حج تمتع سے منع کیا کرتے تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دیکھا تو فرمایا: لبیک بعمرة وحج، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کسی کے کہے پر نہیں چھوڑ سکتا۔“
(صحيح البخاري: 1563، صحیح مسلم: 1223)
حدیث سن کر تسلیم کر لینا
❀ عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
أن عليا حرق قوما ارتدوا عن الإسلام، فبلغ ذلك ابن عباس، فقال: لو كنت أنا لقتلتهم بقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: من بدل دينه فاقتلوه، ولم أكن لأحرقهم لقول رسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تعذبوا بعذاب الله، فبلغ ذلك عليا، فقال: صدق ابن عباس.
”سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے مرتدین کو آگ میں جلا دیا۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو اس کی خبر پہنچی تو کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جو اسلام سے پھر جائے اسے قتل کر دیں۔ اگر فیصلہ میرے اختیار میں ہوتا تو انہیں قتل کر دیتا، جلاتا نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: اللہ کا عذاب نہ دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے پاس یہ خبر پہنچی تو فرمایا: عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سچ کہتے ہیں۔“
(سنن الترمذي: 1458، وقال: حسن صحیح، وسنده حسن)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے راضی تھے
❀ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فسمى عليا، وعثمان، والزبير، وطلحة، وسعدا، وعبد الرحمن.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو ان لوگوں سے راضی تھے: علی رضی اللہ عنہ ، عثمان، زبیر، طلحہ، سعد اور عبد الرحمان رضی اللہ عنہم سے۔“
(صحيح البخاري: 3700)
❀ نیز سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
إني لا أعلم أحدا أحق بهذا الأمر من هؤلاء النفر الذين توفي رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو عنهم راض، فمن استخلفوا بعدي فهو الخليفة فاسمعوا له وأطيعوا، فسمى عثمان، وعليا، وطلحة، والزبير، وعبد الرحمن بن عوف، وسعد بن أبى وقاص.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب فوت ہوئے تو ان لوگوں سے راضی تھے، میں سمجھتا ہوں ان سے زیادہ خلافت کا حق دار بھی کوئی نہیں۔ میرے بعد ان میں سے جسے آپ خلیفہ بنا لو اس کی اطاعت و فرمانبرداری کیجیے۔ وہ لوگ یہ ہیں: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ ، سیدنا علی، سیدنا طلحہ، سیدنا زبیر، سیدنا عبد الرحمان بن عوف اور سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہم۔“
(صحيح البخاري: 1392)
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایسی نماز
❀ مطرف بن عبد اللہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
صليت أنا وعمران بن حصين خلف على بن أبى طالب، فكان إذا سجد كبر، وإذا رفع رأسه من السجود كبر، وإذا نهض من الركعتين كبر، فلما قضى أخذ عمران بيدي، فقال: لقد ذكرني هذا صلاة محمد صلى الله عليه وسلم.
”میں اور سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی اقتداء میں نماز پڑھ رہے تھے۔ آپ رضی اللہ عنہ سجدے میں جاتے، سجدے سے سر اٹھاتے اور دو رکعت سے اٹھتے تو اللہ اکبر کہتے۔ نماز جب مکمل ہو چکی تو سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے میرا ہاتھ پکڑ لیا، فرمایا: انہوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز یاد دلا دی ہے۔“
(سنن النسائي: 1082، وسنده صحیح)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ جنتی ہیں
❀ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
عشرة فى الجنة: النبى فى الجنة، وأبو بكر فى الجنة، وعمر فى الجنة، وعثمان فى الجنة، وعلي فى الجنة، وطلحة فى الجنة، والزبير بن العوام فى الجنة، وسعد بن مالك فى الجنة، وعبد الرحمن بن عوف فى الجنة، ولو شئت لسميت العاشر. قال: فقالوا: من هو؟ فسكت. قال: فقالوا: من هو؟ فقال: هو سعيد بن زيد.
”دس جنتی ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم، ابو بکر، عمر ، عثمان، علی، طلحہ، زبیر بن عوام، سعد بن مالک، عبد الرحمان بن عوف رضی اللہ عنہم۔ اگر میں چاہوں تو دسویں کا نام بھی لوں۔ عرض کیا گیا: وہ کون ہے؟ آپ خاموش ہو گئے۔ پھر کہا گیا: وہ کون ہے؟ فرمایا: وہ سعید بن زید رضی اللہ عنہ ہیں۔“
(سنن أبي داود: 4649، وسنده حسن)
اسے امام ترمذی رحمہ اللہ نے حسن (3757) اور امام ابن حبان رحمہ اللہ (6993) نے ”صحیح “کہا ہے۔
اس کا ایک شاہد بسند صحیح مسند احمد (193/1) اور ترمذی (3747) میں آتا ہے۔ اسے امام ابن حبان رحمہ اللہ (7200) نے ”صحیح “کہا ہے۔
سب سے پہلے اللہ کے حضور جھکنے والے
❀سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
أنا أول من يجذو بين يدي الرحمن للخصومة يوم القيامة. وقال قيس بن عباد: وفيهم أنزلت: ﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾ (الحج: 19) قال: هم الذين تبارزوا يوم بدر: حمزة، وعلي، وعبيدة، أو أبو عبيدة بن الحارث، وشيبة بن ربيعة، وعتبة بن ربيعة، والوليد بن عتبة.
وہ میں ہوں جو سب سے پہلے قیامت کے روز اللہ کے سامنے جھکوں گا اور جھگڑا کروں گا۔ قیس بن عباد کہتے ہیں: اس آیت :
﴿هَذَانِ خَصْمَانِ اخْتَصَمُوا فِي رَبِّهِمْ﴾
”یہ دو اپنے اللہ کے لئے جھگڑے تھے۔“
سے مراد وہ لوگ ہیں جو بدر کے روز مقابلہ میں تھے۔ ایک فریق حمزہ، علی اور عبیدہ یا ابو عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہم ہیں، دوسرا فریق شیبہ بن ربیعہ، عتبہ بن ربیعہ اور ولید بن عتبہ ہیں۔“
(صحيح البخاري: 3965، صحیح مسلم: 3033)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا گھر
❀ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
جاء رجل إلى ابن عمر فسأله عن عثمان، فذكر عن محاسن عمله، قال: لعل ذاك يسوءك؟ قال: نعم، قال: فأرغم الله بأنفك، ثم سأله عن على فذكر محاسن عمله، قال: هو ذاك بيته، أوسط بيوت النبى صلى الله عليه وسلم، ثم قال: لعل ذاك يسوءك؟ قال: أجل، قال: فأرغم الله بأنفك انطلق فاجهد على جهدك.
”کسی نے سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے محاسن بیان کر دیے، پھر فرمایا: شاید یہ برا لگا ہو تمہیں؟ کہنے لگا: جی ہاں۔ فرمایا: اللہ تیرا ناک خاک آلود کرے۔ پھر اس نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے بارے میں سوال کیا تو کہا: ان کا گھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھروں کے درمیان ہے۔ شاید یہ بھی برا لگا ہو؟ کہنے لگا: جی ہاں! فرمایا: اللہ تیرا ناک خاک آلود کرے، جائے اور جو جی چاہے مجھ پر فتوی لگا دے۔“
(صحيح البخاري: 3704)
فہم قرآن و سنت
❀ ابو جحیفہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
هل عندكم كتاب؟ قال: لا، إلا كتاب الله، أو فهم أعطيه رجل مسلم، أو ما فى هذه الصحيفة. قال: قلت: فما فى هذه الصحيفة؟ قال: العقل، وفكاك الأسير، ولا يقتل مسلم بكافر۔
”کیا آپ کے پاس کوئی کتاب ہے؟ فرمایا: نہیں، سوائے کتاب اللہ کے اور اس فہم کے جو مسلمان کو دیا جاتا ہے یا اس صحیفہ کے، عرض کیا: اس صحیفہ میں کیا ہے؟ فرمایا: مسائل دیت ، غلام آزاد کروانا اور یہ کہ مسلمان کو کافر کے بدلے قتل نہ کیا جائے۔“
(صحيح البخاري: 111)
سورت براءت کے پیغام رساں
❀ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بعث النبى صلى الله عليه وسلم ببراءة مع أبى بكر، ثم دعاه فقال: لا ينبغي لأحد أن يبلغ هذا إلا رجل من أهلي فدعا عليا فأعطاه إياه.
”نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کو سورت براءت کے ساتھ بھیجا، پھر انہیں بلایا اور فرمایا: اس براءت کو میرے اہل خانہ میں سے کوئی پہنچائے تو ہی مناسب ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بلایا اور انہیں عطا فرمایا۔“
(مصنف ابن أبي شيبة: 84/12-85، مسند الإمام أحمد: 212/3، 283، سنن الترمذي: 3090، وقال: حسن غریب، خصائص علي للنسائي: 75، مشكل الآثار للطحاوي: 3588، 3589، وسنده حسن)
حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس کی سند کو حسن کہا ہے۔
(فتح الباري شرح صحيح البخاري: 320/8)
❀ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
بعثني أبو بكر فى تلك الحجة فى مؤذنين (ص83 :) يوم النحر، نؤذن بمنى: أن لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان. قال حميد بن عبد الرحمن: ثم أردف رسول الله صلى الله عليه وسلم عليا، فأمره أن يؤذن ببراءة، قال أبو هريرة: فأذن معنا على فى أهل منى يوم النحر: لا يحج بعد العام مشرك ولا يطوف بالبيت عريان.
”نحر کے دن مجھے سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے ان موذنین کے ساتھ بھیجا جو منی میں اعلان کر رہے تھے: آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، نہ بیت اللہ میں عریاں طواف کرے گا۔ حمید بن عبد الرحمان کہتے ہیں: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو موذن بنا کر بھیجا، تو ہمارے ساتھ سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی اعلان کرنے لگے: لوگو! آج کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا، آج کے بعد کوئی عریاں طواف نہیں کرے گا۔“
(صحيح البخاري: 369)
عجز و انکسار
❀ محمد بن حنفیہ رحمہ اللہ نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے پوچھا:
أى الناس خير بعد رسول الله صلى الله عليه وسلم؟ قال: أبو بكر، قلت: ثم من؟ قال: ثم عمر، وخشيت أن يقول عثمان، قلت: ثم أنت؟ قال: ما أنا إلا رجل من المسلمين.
”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بہترین شخصیت کون ہے؟ فرمایا: ابو بکر رضی اللہ عنہ، عرض کیا: پھر کون؟ فرمایا: عمر رضی اللہ عنہ ۔ پھر خدشہ ہوا کہ اب پوچھا تو عثمان کا نام لیں گے۔ کہا: ابا جان! پھر تو آپ ہیں؟ فرمایا: میں تو عام مسلمان ہوں۔“
(صحيح البخاري: 815/2، ح : 3671، سنن أبي داود: 4629، مصنف ابن أبي شيبة: 473/7، السنة لابن أبي عاصم: 1204، 1206، الشريعة للآجري: 1866، 1869، الاعتقاد للبيهقي: 517، واللفظ له، وسنده صحیح)
خلفائے ثلاثہ کے جیسی موت کی خواہش
اقضوا كما كنتم تقضون، فإني أكره الاختلاف، حتى يكون للناس جماعة، أو أموت كما مات أصحابي.
”(اہل عراق! امہات الاولاد کی آزادی کے بارے میں) آپ جو فیصلہ کرنا چاہتے ہیں کیجیے، میں اس مسئلہ میں سیدنا ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما سے اختلاف نہیں کر سکتا۔ چاہتا ہوں کہ وحدت امت قائم رہے اور میں خلفائے ثلاثہ کے طریقے پر فوت ہو جاؤں۔“
(صحيح البخاري: 3707، وسنده صحیح)
عقل وحی پر حاکم اگر ہوتی
❀ عبد خیر تابعي رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:
رأيت على بن أبى طالب، يمسح ظهور قدميه، ويقول: لولا أني رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم مسح على ظهورهما، لظننت أن بطونهما أحق.
”میں نے سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو (موزوں میں) پر پاؤں کے اوپر والی جانب مسح کرتے دیکھا۔ وہ فرمارہے تھے: اگر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پاؤں کے اوپر مسح کرتے نہ دیکھتا تو کہتا کہ پاؤں کی نچلی جانب مسح زیادہ بہتر ہے۔“
(مسند الحميدي: 26/1، ح: 47، وسنده صحیح)
علی رضی اللہ عنہ کی شکایت نہ کرو!
❀ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:
اشتكى عليا الناس، قال: فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم فينا خطيبا، فسمعته يقول: أيها الناس لا تشكوا عليا، فوالله إنه لأخشن فى ذات الله، أو فى سبيل الله.
”لوگوں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی شکایت کی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے درمیان خطبہ کے لیے کھڑے ہو گئے، فرمایا: لوگو! علی رضی اللہ عنہ کی شکایت نہ کرو! بخدا! علی رضی اللہ عنہ اللہ کی ذات اور اس کی راہ میں سب سے زیادہ محتاط ہیں۔“
(فضائل الصحابة للإمام أحمد بن حنبل: 1161، وسنده حسن)