سليمان بن داود الهاشمي: أخبرنا عبدالرحمن بن أبى الزناد عن موسى بن عقبة عن عبدالله بن الفضل الهاشمي: أخبرنا عبدالرحمن الأعرج عن عبيد الله بن أبى رافع عن على بن أبى طالب عن النبى صلى الله عليه وسلم أنه كان إذا قام إلى الصلاة المكتوبة كبر و رفع يديه حذو منكبيه ويصنع مثل ذلك إذا قضى قراءته وأراد أن يركع ويصنعه إذا رفع من الركوع ولا يرفع يديه فى شي من صلاته وهو قاعد وإذا قام من السجدتين رفع يديه كذلك وكبر
سیدنا علي رضی الله عنه فرماتے ہیں کہ نبی صلى الله عليه وسلم جب نماز (ادا کرنے) کے لیے کھڑے ہوتے تو تکبیر کہہ کر کندھوں تک ہاتھ اٹھاتے اور قراءت ختم کر کے رکوع جاتے ہوئے بھی اسی طرح کرتے اور رکوع سے اٹھ کر بھی اسی طرح کرتے اور بیٹھنے کی حالت میں کسی بھی جگہ رفع اليدين نہ کرتے اور جب سجدتين (رکعتين / دو رکعتیں) پڑھ کر کھڑے ہوتے تو اسی طرح رفع اليدين کرتے اور تکبیر کہتے تھے۔
( صحیح ابن خزيمة 294/1، 295 ح 584 واللفظ له صحیح ابن حبان كما في العمدة للعيني 277/5 سنن ترمذي 487/5-488 ح 3423 وقال: هذا حديث صحيح حسن سمعت أبا إسماعيل الترمذي محمد بن إسماعيل بن يوسف يقول سمعت سليمان بن داود الهاشمي يقول وذكر هذا الحديث فقال: هذا أعندنا أشبه حديث الزهري عن سالم عن أبيه، ومحمد أحمد بن فضيل كما في نصب الراية 412/1 والدراية 153/1 وتلخيص الحبير 219/1 و ابن تيمية كما في الفتاوى الكبرى 1/105 و مجموع الفتاوى 453/22)
◈سند کی تحقیق
اس سند کے سب راوی بالاتفاق ثقہ ہیں سوائے عبدالرحمن بن أبي الزناد کے، وہ مختلف فيه ہیں۔ ابن معين اور أبو حاتم وغیرہما نے انھیں ضعیف قرار دیا ہے۔
مالك، ترمذي اور أنجلي وغیرہم نے انھیں ثقہ قرار دیا ہے۔
لہذا وہ جمہور کے نزدیک ثقہ و صدوق ہیں۔ حافظ ذہبي نے کہا:
حديثه من قبيل الحسن …. هو حسن الحديث وبعضهم يراه حجة
اس کی حدیث حسن کی قسم سے ہے۔ وہ حسن الحديث ہے اور بعض اسے حجت سمجھتے ہیں۔ (سير اعلام النبلاء 168/8،170)
اس تمام جرح و تعدیل کے مقابلے میں إمام ابن المديني کا قول ہے کہ
قد نظرت فيما روى عنه سليمان بن داود الهاشمي فرأيتها مقاربة
میں نے اس سے سليمان بن داود الهاشمي کی احادیث کو دیکھا ہے (جانچ پڑتال کی ہے) ان کی اس سے احادیث مقارب ہیں۔ (تاريخ بغداد 229/1 ت 5359 وسنده صحیح)
عبدالحي لکھنوی صاحب نے مقارب الحديث کو حسن الحديث سے پہلے ذکر کیا ہے۔( الرفع والتكميل في الجرح والتعديل ص 72)
یعنی یہ لفظ کلمات توثیق میں سے ہے۔
إمام ابن مديني کی یہ تعدیل مفسر ہے لہذا اسے تضعیف مہم پر مقدم کیا جائے گا۔ ابتدائیہ میں ہم عرض کر چکے ہیں کہ تعدیل مفسر جرح مہم پر مقدم ہوگی۔
یاد رہے کہ کسی إمام نے ابن أبي الزناد کو جب اس سے سليمان بن داود الهاشمي روایت کریں تو ضعیف نہیں قرار دیا بلکہ متعدد أئمہ نے اس کی حدیث کی تصحیح کی ہے لہذا اس سے سليمان کی تمام روایات کو صحیح و حسن تسلیم کیا جائے گا۔
بعض لوگوں نے اس مرفوع حدیث کے مقابلے میں عن أبى بكر النهشلي: ثنا عاصم بن كليب عن أبيه أن عليا رضى الله عنه كان يرفع يديه فى أول تكبيرة من الصلاة ثم لا يعود سیدنا علي رضی الله عنه نماز میں پہلی تکبیر کے ساتھ رفع اليدين کرتے تھے پھر اعادہ نہیں کرتے تھے۔ کا اثر پیش کیا ہے۔ (نصب الراية 1/406، معاني الآثار للطحاوي 225/1)
اس روایت سے استدلال دو وجہ سے مردود ہے:
● اس پر خاص طور پر جرح مفسر ہے۔
(مروی ہے کہ) سفیان ثوري نے اس اثر کا انکار کیا ہے۔ (جزء رفع اليدين البخاري ص 47 ح 11)
إمام عثمان بن سعيد الدارمي نے اس کو واہی (کمزور) کہا (السنن الكبرى 80-81/2) إمام أحمد نے گویا اس کا انکار کیا ہے۔ (المسائل لأحمد 1/243) إمام بخاري نے ضعیف کہا۔ (شرح الترمذي لابن سيد الناس بحوالہ حاشیہ جلاء العينين ص 48)
ابن الملقن نے کہا: فأثر على ضعيف لا يصح عنه وممن ضعفه البخاري علي رضی الله عنه سے انتساب والا اثر ضعیف ہے، ان سے صحیح ثابت نہیں اور بخاري نے (بھی) اسے ضعیف قرار دیا ہے۔ (البدر المنير 499/3)
(زعفراني سے مروی ہے کہ) شافعي نے کہا: ولا يثبت عن علي اور یہ علی رضی الله عنه سے ثابت نہیں ہے۔ (السن الكبرى للبیہقي 81/2)
لہذا یہ اثر معلول (ضعیف) ہے۔ کسی قابل اعتماد محدث نے اس اثر کو صحیح نہیں کہا لہذا راویوں کی توثیق نقل کرنا اس جرح مفسر کے مقابلے میں مردود ہے۔
● اس اثر میں رکوع کی صراحت نہیں ہے یعنی یہ عام ہے اور رفع اليدين والی احادیث خاص و صریح ہیں، یہ گزر چکا ہے کہ خاص عام پر مقدم ہوتا ہے۔
ورنہ پھر تارکین رفع يدين قنوت اور عیدین میں کیوں رفع اليدين کرتے ہیں؟
اگر أمير المؤمنين سے منسوب اس روایت کو تسلیم کر لیا جائے تو اس کے عمومی مفہوم کی وجہ سے عیدین اور قنوت کا رفع اليدين ختم ہو جاتا ہے۔ اگر وہ دوسرے دلائل سے مخصص ہے تو عند الركوع والا صحیحین کی مرفوع و مفسر احادیث کی وجہ سے متخصص کیوں نہیں ہے۔