مضمون کے اہم نکات
سوال
مندرجہ ذیل حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ رسول اکرم ﷺ کے وصال کے وقت ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کچھ غیر شرعی افعال صادر ہوئے تھے۔ کیا یہ درست ہے؟
((وقال الإمام أحمدحدثنايعقوب ثناابى عن ابن اسحاق حدثنى يحيى بن عبادبن عبدالله بن الزبيرعن ابيه عبادسمعت عائشة رضى الله عنها تقول مات رسول الله صلى الله عليه وسلم بين صدرى ونحرى وفى دولتى ولم أظلم فيه أحدا فمن سفهى وحداثة سنى أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قبض وهوفى حجرى ثم وضعت راسه على وسادة وقمت الدم مع انسآءواضرب وجهى.))
(البدايه والنهايه:ج٥’ص.٢٤)
’’یعنی سیدہ محترمہ فرماتی ہیں کہ رسول اکرم ﷺ میرے گھر میں میرے سینے اور ٹھوڑی کے درمیان فوت ہوئے اور میں نے کسی پر کوئی ظلم نہیں کیا بلکہ میں نے اپنی کم عقلی اور کم عمری کی وجہ سے آپ ﷺ کا سرِ مبارک تکیے پر رکھ دیا پھر دیگر عورتوں کے ہمراہ خون کے چھینٹے اپنے چہرے پر مارنے لگی‘‘ (اس سے مراد نوحہ یا غم کی شدت میں اظہار ہے)۔
جواب
الحمد لله، والصلاة والسلام علىٰ رسول الله، أما بعد!
◈ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے متعلق جو روایت آپ نے ذکر کی ہے، وہ کتبِ حدیث میں سند کے اعتبار سے درست ہے۔
◈ ان روایات میں خود حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے وضاحت کی ہے کہ: ‘‘بسفاهتي وحداثة سني’’ اور بعض روایات میں ‘‘لسفاهة رأي’’ کے الفاظ ہیں۔
◈ اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ یہ فعل ان کی کم عمری اور کم فہمی کی وجہ سے صادر ہوا۔
ام المؤمنین کا مقام و مرتبہ
◈ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کا مقام و مرتبہ یقیناً بہت بلند ہے، لیکن آپ لغزش اور خطا سے معصوم نہیں تھیں۔
◈ یہ لغزش وقتی طور پر غم اور صدمے کی شدت میں ظاہر ہوئی، جو کہ ایک ہنگامی کیفیت تھی۔
◈ بڑے سے بڑا انسان بھی بعض اوقات ایسے واقعات سے متاثر ہو کر غیر اختیاری طور پر ایسے افعال کر بیٹھتا ہے، جن پر بعد میں ندامت ہوتی ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی مثال
◈ اسی طرح جب نبی کریم ﷺ کا وصال ہوا تو سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ تلوار سونت کر کھڑے ہوگئے اور فرمایا: "جو کوئی کہے کہ نبی ﷺ کا انتقال ہو گیا ہے تو میں اس کا سر قلم کر دوں گا۔”
◈ بعد میں جب سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے حقیقت کو واضح فرمایا تو عمر رضی اللہ عنہ کو اصل صورت حال کا علم ہوا اور وہ خاموش ہو گئے۔
◈ حالانکہ ان کے الفاظ بھی عقل کے تقاضے کے خلاف تھے۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی کیفیت
◈ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی عمر اس وقت کم تھی۔
◈ رسول اللہ ﷺ کا ان کے ساتھ بے پناہ تعلقِ محبت اور شفقت کسی پر مخفی نہیں۔
◈ اس لیے رسول اللہ ﷺ جیسے محبوب شوہر کی وفات ان کے لیے ایک غیر معمولی سانحہ تھا۔
◈ اسی غم و اندوہ میں وہ جذباتی کیفیت پیدا ہوئی، جس کا انہوں نے خود اعتراف کیا کہ یہ ‘‘سفاہت’’ یعنی کم عقلی کا نتیجہ تھا۔
کسی ناجائز فعل پر دلیل نہیں
◈ اس واقعہ کو کسی ناجائز عمل یا غیر شرعی فعل کے جواز کے طور پر پیش کرنا جہالت ہے۔
◈ یہ صرف ایک لمحاتی لغزش تھی، جس پر وہ خود نادم اور پشیمان بھی ہوئیں۔
ایک اور لغزش
◈ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے ایک اور لغزش بھی صادر ہوئی تھی، جب وہ سیدنا علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں اصلاح کی نیت سے گھر سے نکل کر کوفہ وغیرہ گئیں۔
◈ اگرچہ ان کی نیت اصلاح تھی، مگر یہ طرزِ عمل مناسب نہ تھا۔
◈ اسی لیے ازواجِ مطہرات میں سے کسی نے بھی اس فعل میں ان کا ساتھ نہیں دیا، بلکہ اسے نامناسب قرار دیا۔
بعد کی ندامت
◈ حافظ ذہبی رحمہ اللہ نے سیر اعلام النبلاء میں ذکر کیا ہے کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو بعد میں اس پر اتنی ندامت ہوئی کہ وہ اس واقعہ کو یاد کر کے اکثر روتی رہتی تھیں۔
خلاصہ
◈ انسان کتنا ہی بڑے مقام پر کیوں نہ ہو، لغزش سے معصوم نہیں رہ سکتا۔
◈ اگر انسان سے ایسی غلطی سرزد نہ ہو تو وہ انسان نہ رہے بلکہ فرشتہ بن جائے۔
◈ یہ لغزش حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے محض فرطِ غم میں غیر اختیاری طور پر صادر ہوئی، جس پر بعد میں انہوں نے ندامت کا اظہار بھی کیا۔
◈ یہ بھی حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی خوبی ہے کہ انہوں نے اس غلطی کو چھپایا نہیں بلکہ واضح طور پر بیان کیا کہ یہ سفاہت (کم فہمی) کے سبب تھا۔
ھذا ما عندی واللہ اعلم بالصواب