سوال:
حسین بن منصور حلاج کے بارے میں کیا کہتے ہیں؟
جواب:
حسین بن منصور حلاج (309 ھ) زندیق اور حلولی تھا۔ اس کے کفر و الحاد پر علمائے حق کا اجماع و اتفاق ہے۔ اس کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ اللہ ہر چیز میں حلول کر گئے ہیں۔ یہ عقیدہ وحدت الوجود کا بانی تھا۔ اس کے کفر و الحاد کی وجہ سے علما نے اس کا خون جائز قرار دیا تھا اور اسے قتل کر دیا گیا تھا۔ غالی صوفیا حلاج کو اپنا امام مانتے ہیں۔
❀ حافظ ابن الجوزی رحمہ اللہ (597ھ) فرماتے ہیں:
قد تعصب للحلاج جماعة من الصوفية جهلا منهم وقلة مبالاة بإجماع الفقهاء
صوفیا کی ایک جماعت اپنی جہالت اور اجماع فقہا سے لاپروائی برتنے کی بنا پر حلاج کی حمایتی اور طرف دار بن گئی ہے۔
(تلبيس إبليس ، ص 155 )
حافظ ابن کثیر رحمہ اللہ (774 ھ) فرماتے ہیں:
قتل بإجماع الفقهاء
فقہا کے اجماع کی روشنی میں حلاج کو قتل کر دیا گیا۔
( البداية والنهاية: 14/786)