حسین بن منصور حلاج کا عقیدہ: وحدت الوجود، حلول اور اہلِ سنت کا اجماعی موقف

فونٹ سائز:
یہ اقتباس شیخ غلام مصطفیٰ ظہیر امن پوری کی کتاب اللہ کہاں ہے؟ سے ماخوذ ہے۔

حسین بن منصور حلاج

حسین بن منصور حلاج (309ھ) زندیق اور حلولی تھا۔ اس کے کفر و الحاد پر علمائے حق کا اجماع و اتفاق ہے۔ اس کا بنیادی عقیدہ یہ تھا کہ اللہ ہر چیز میں حلول کر گئے ہیں۔ یہ عقیدہ وحدۃ الوجود کا بانی تھا۔ اس کے کفر والحاد کی وجہ سے علما نے اس کا خون جائز قرار دیا تھا اور اسے قتل کر دیا گیا تھا۔

حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ (852ھ) لکھتے ہیں:

لا أرى يتعصب للحلاج إلا من قال بقوله الذي ذكر أنه عين الجمع، فهذا هو قول أهل الوحدة المطلقة، ولهذا ترى ابنعربي صاحب الفصوص يعظمه ويقع في الجنيد.

’’میں حلاج کے حق میں اسی شخص کو تعصب رکھتے دیکھتا ہوں، جو اسی کے جیسا عقیدہ رکھتا ہے۔ اس سے ذکر کیا گیا ہے کہ اس نے (خالق و مخلوق کے درمیان) جمع کو لازم کیا تھا۔ یہی وحدت مطلقہ (وحدت الوجود) والوں کا عقیدہ ہے۔ اسی لیے آپ ’’الفصوص‘‘ کے مصنف ابن عربی کو دیکھیں گے کہ وہ اس کی تعظیم کرتا ہے اور جنید کی گستاخی کرتا ہے۔‘‘

(لسان المیزان 2 /315)

حافظ ابن الجوزی رحمتہ اللہ (597ھ) لکھتے ہیں:

اتفق علماء العصر على إباحة دم الحلاج.

’’اس زمانہ کے تمام علما حلاج کے خون کے مباح ہونے پر متفق ہو گئے تھے۔‘‘

(تلبيس إبليس: 154/1)

حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ: (773ھ) لکھتے ہیں:

قد اتفق علماء بغداد على كفر الحلاج وزندقته، وأجمعوا على قتله وصلبه، وكان علماء بغداد إذ ذاك هم علماء الدنيا.

’’بغداد کے علما حلاج کے کافر و زندیق ہونے پر متفق ہو گئے تھے اور انھوں نے اسے قتل کرنے اور سولی پر لٹکانے پر اجماع کر لیا تھا اور اس وقت علمائے بغداد ہی دنیا کے (کبار) علما شمار ہوتے تھے ۔‘‘

(البداية والنهاية: 832/14، هجر)

ابو حامد علامہ غزالی رحمتہ اللہ (505ھ) لکھتے ہیں:

أما الشطح، فنعني به صنفين من الكلام أحدثه بعض الصوفية، أحدهما الدعاوي الطويلة العريضة في العشق مع الله تعالى والوصال المغني عن الأعمال الظاهرة حتى ينتهي قوم إلى دعوى الإنحاد وارتفاع الحجاب والمشاهدة بالرؤية والمشافهة بالخطاب، فيقولون: قيل لنا كذا وقلنا كذا، ويتشبهون فيه بالحسين بن منصور الحلاج الذي صلب لأجل إطلاقه كلمات من هذا الجنس، ويستشهدون بقوله: أنا الحق، وبما حكي عن أبي يزيد البسطامي أنه قال: سبحاني، سبحاني، وهذا فن من الكلام عظيم ضرره في العوام حتى ترك جماعة من أهل الفلاحة فلاحتهم وأظهروا مثل هذه الدعاوي، فإن هذا الكلام يستلنه الطبع إذ فيه البطالة من الأعمال مع تزكية النفس بدرك المقامات والأحوال، فلا تعجز الأغنياء عن دعوى ذلك لأنفسهم ولا عن تلقف كلمات مخبطة مزخرفة، ومهما أنكر عليهم ذلك لم يعجزوا عن أن يقولوا هذا إنكار مصدره العلم والجدال ، والعلم حجاب ، والجدل عمل النفس، وهذا الحديث لا يلوح إلا من الباطن بمكاشفة نور الحق، فهذا ومثله مما قد استطار في البلاد شرره وعظم في العوام ضرره، حتى من نطق بشيء منه، فقتله أفضل في دين الله من إحياء عشرة.

شطح سے مراد ہم دو طرح کا علم کلام لیتے ہیں، جسے بعض صوفیا نے گھڑا ہے۔ ان میں سے ایک تو اللہ کے ساتھ عشق اور اس وصال کے بلند بانگ دعوی ہے، جو ظاہری اعمال (نماز، روزہ وغیرہ) سے مستغنی کر دیتا ہے، حتی کہ کئی لوگ اتحاد (وحدت الوجود)، (خالق و مخلوق کے درمیان) پردے اٹھ جانے، اللہ تعالیٰ کے مشاہدے اور بلاواسطہ کلام کے دعوؤں تک پہنچ گئے ہیں۔ چنانچہ وہ کہتے ہیں کہ ہم سے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے) یوں کہا گیا اور ہم نے یوں کہا۔ اس بارے میں وہ حسین بن منصور حلاج سے مشابہت کرتے ہیں، جسے اس جیسی باتیں کرنے کی وجہ سے سولی پر لٹکا دیا گیا تھا اور وہ دلیل میں اسی منصور كا أنا الحق میں ہی اللہ ہوں ۔ والا قول پیش کرتے ہیں، اسی طرح ۔ابو یزید بسطامی کا وہ قول بھی اپنی دلیل بناتے ہیں کہ اس نے کہا: سبحاني سبحاني میں پاک ہوں، میں پاک ہوں۔ علم کلام کی یہ قسم لوگوں میں بہت نقصان دہ ثابت ہوئی ہے، یہاں تک کہ فلاح کی راہ پر چلنے والے لوگوں کی ایک بڑی جماعت نے اپنی راو فلاح چھوڑ دی اور اس طرح کے دعاوی شروع کر دیے، وجہ یہ ہے کہ علم کلام کی اس قسم کو طبیعت بہت پسند کرتی ہے، کیونکہ اس میں اعمال کو چھوڑنے کے باوجود مقامات واحوال کے ساتھ تزکیہ نفس (کا دعویٰ) موجود ہے۔ ان بد دماغ لوگوں کو اپنے لیے اس طرح کے دعاوی کرنے سے اور بے وقوفی پر مبنی چکنے چپڑے کلمات کہنے سے آپ نہیں روک سکتے۔ جب بھی ان پر اس بات کا اعتراض کیا گیا، تو وہ یہ کہتے ہیں کہ اس انکار کا مبدا علم وجدال ہے، علم پردہ ہے اور جدال عمل نفس ہے اور یہ باتیں اللہ تعالیٰ کے نور کے مکاشفہ کے ذریعے باطن سے نکلتی ہیں۔ یہ اور اس طرح کی دیگر خرافات کا شر علاقوں میں پھیل گیا ہے اور عوام میں ان کا نقصان بہت بڑھ گیا ہے، یہاں تک کہ جو اس طرح کی بکواس کرے، اسے قتل کرنا دین اسلام میں دس افراد کی جان بچانے سے بہتر ہے۔

(احیاء علوم الدين: 30/1)

نیز لکھتے ہیں:

من هنا نشأ خيال من ادعى الحلول والاتحاد وقال: أنا الحق، وحوله يدندن كلام النصارى في دعوى اتحاد اللاهوت والناسوت أو تدرعها بها أو حلولها فيها على ما اختلف فيهم عبارتهم، وهو غلط محض.

’’یہاں سے اس شخص کا خیال جنم لیتا ہے، جو حلول و اتحاد کا دعویٰ کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں ہی اللہ ہوں۔ لاہوت کے ناسوت میں متحد ہو جانے یا اس میں چھپ جانے یا اس میں حلول کر جانے کے بارے میں نصاری کی کلام بھی اسی کے لگ بھگ ہے، اگر چہ اس بارے میں ان کی عبارات مختلف ہیں۔ یہ عقیدہ سراسر غلط ہے ۔‘‘

(احیاء علوم الدين: 292/2)

علامہ ذہبی رحمتہ اللہ (748ھ) لکھتے ہیں:

تدبر يا عبد الله، نحلة الحلاج الذي هو من رؤوس القرامطة، ودعاة الزندقة، وأنصف وتورع، واتق ذلك، وحاسب نفسك، فإن تبرهن لك أن شمائل هذا المرء شمائل عدو للإسلام، محب للرئاسة، حريص على الظهور بباطل وبحق، فتبرأ من نحلته، وإن تبرهن لك والعياذ بالله أنه كان، والحالة هذه . محفا هاديا ، مهديا، فجدد إسلامك، واستغت بربك أن يوفقك للحق ، وأن يثبت قلبك على دينه، فإنما الهدى نور يقذفه الله في قلب عبده المسلم، ولا قوة إلا بالله.

’’اللہ کے بندے! آپ حلاج کے مذہب پر غور کریں، جو کہ قرامطہ (غالی اور خطرناک قسم کے رافضی لوگوں) کا ایک سردار اور الحاد و بے دینی کا زبر دست داعی تھا۔ آپ انصاف و غیر جانبداری سے کام لیں، اس سے بچ جائیں اور اپنے نفس کا محاسبہ کریں۔ اگر واضح ہو جائے کہ اس شخص کے خصائل اسلام دشمن حکومت پسند اور باطل وحق کے اختلاط کے ساتھ غلبہ حاصل کرنے کے خواہش مند شخص کے خصائل ہیں، تو فوراً اس کے مذہب سے دستبردار ہو جائیے! اور اللہ نہ کرے، اگر اس صورت حال کے باوجود آپ کو وہ حق بجانب، ہدایت یافتہ اور ہدایت کنندہ نظر آئے ، تو تجدید اسلام کیجیے اور اپنے رب سے مدد مانگیے کہ وہ آپ کو حق کی توفیق دے اور آپ کے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھے، کیونکہ ہدایت تو ایک نور ہے، جسے اللہ تعالیٰ اپنے مسلمان بندے کے دل میں جاگزیں کر دیتا ہے۔ گمراہی سے بچنے اور حق کو پانے کی قوت و طاقت صرف اللہ تعالیٰ دیتا ہے۔‘‘

(سیر أعلام النبلاء: 345/14)

اس عقیدہ کا دفاع:

مولانا اشرف علی تھانوی لکھتے ہیں:

’’جیسے شجرة طور بلا اختيار كلمه إني أنا الله کا مظہر تصرف حق سے ہو گیا، اسی طرح منصور بھی بلا اختيار كلمه أنا الحق کا مظہر تصرف حق سے ہو گیا۔‘‘

(بوادر النوادر، ص 398)

نیز لکھتے ہیں:
’’دوسرے معنی محتمل یہ ہے کہ میں نے یہ راز ظاہر نہیں کیا، خود محبوب ہی نے ظاہر کیا، یعنی أنا الحق کے ساتھ وہی متکلم ہیں، جیسا شجرہ طور سے کلام حق أنا الله کا ظہور ہوا ۔‘‘

(اشعار الغيور بما في اشعار ابن منصور، ص 143)

مزید لکھتے ہیں:

’’اسی ظہور کے ایک درجہ کو تجلی بھی کہتے ہیں، جیسے شجرہ طور میں بھی تجلی تھی ۔ اگر کسی انسان کامل میں کلام کی جلی ہو جائے، تو بعد کیا ہے؟‘‘

(ایضا، ص 147)

نیز کہتے ہیں:

’’شجرہ موسیٰ علیہ السلام سے أنا الحق کی آواز آئی، تو اس پر کسی نے انکار نہیں کیا اور حضرت منصور پر انکار کیا؟‘‘

(الکلام الحسن، حصہ دوئم ، ص 61)

آپ نے سورت قصص کی آیت نمبر 30 کا ترجمہ کیا ہے:

’’اس مبارک مقام میں ایک درخت میں سے آواز آئی کہ اے موسیٰ! میں اللہ رب العالمین ہوں۔‘‘

تھانوی صاحب کے استاذ جناب محمد یعقوب نانوتوی صاحب کہتے ہیں:

’’یہی غلبہ تو شجرہ طور پر ہو گیا تھا، جو مظہر ہو گیا إني أنا الله کا۔‘‘

(معارف الاکابر از محمد اقبال قریشی ، ص 373)

مولانا ظفر احمد تھانوی لکھتے ہیں:

’’ایک تاویل یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اس وقت ابن منصور کی زبان کلام حق کی ترجمان تھی۔ ان کی زبان سے اسی طرح أنا الحق نكلا تھا، جیسا کہ شجرہ موسیٰ سے إني أنا الله رب العالمين کی آواز آئی تھی۔ ظاہر ہے کہ درخت نے اپنے کو اللہ رب العالمین نہیں کہا تھا، بلکہ اس وقت وہ کلام الہی کا ترجمان تھا۔ اسی طرح ابن منصور کے متعلق بھی خیال کیا جاسکتا ہے اور غلبہ حالات وواردات میں بارہا ایسا ہوتا ہے کہ عارف کی زبان سے اللہ تعالیٰ تکلم فرماتے ہیں، جس کو سالکین اصحاب حال سمجھ سکتے ہیں۔ پس یہ تو مسلم ہو سکتا ہے کہ ابن منصور کی زبان سے أنا الحق نکلا ہو، مگر یہ مسلم نہیں کہ ابن منصور نے خود أنا الحق کہا تھا۔‘‘

(سیرت منصور حلاج، ص 50)،

مولانا انور شاہ کشمیری صاحب کہتے ہیں:

إنه إذا صح للشجرة أن ينادى (ينافى) فيها ب والح أنا الله ، فما بال المتقرب بالنوافل أن لا يكون الله سمعه وبصره كيف وأن ابن آدم الذي خلق على صورة الرحمن ليس بأدون من شجرة موسى عليه الصلاة والسلام.

’’جب درخت میں (انی آنا الله) میں ہی اللہ ہوں کے الفاظ کے ساتھ ندا لگائی جا سکتی ہے، تو نوافل کے ذریعے اللہ کا تقرب حاصل کرنے والے شخص کے متعلق ایسا کیونکر نہیں ہو سکتا کہ اللہ اس کا کان اور آنکھ بن جائے، کیونکہ ابن آدم، جس کی تخلیق رحمن کی صورت کے مطابق ہوئی ہے، موسی علیہ السلام کے درخت سے حقیر نہیں ہے؟‘‘

(فیض الباري على صحيح البخاري:429/4)

اس پر اتنا ہی کہوں گا کہ اہل سنت میں سے کوئی بھی اس کا قائل نہیں ہے۔ اس کی تاویل سے کہیں بہتر تھا کہ سلف امت کی راہ اپنا لی جاتی۔

امام ابوالحسن اشعری رحمتہ اللہ (324ھ) لکھتے ہیں:

زعمت الجهمية كما زعمت النصارى أن كلمة الله تعالى حواها بطن مريم رضي الله عنها وزادت الجهمية عليهم، فزعمت أن كلام الله مخلوق حل في شجرة، وكانت الشجرة حاوية له، فلزمهم أن تكون الشجرة بذلك الكلام متكلمة، ووجب عليهم أن مخلوقا من المخلوقين كلم موسى صلى الله عليه وسلم، وأن الشجرة قالت: يا موسى إني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني، فلو كان كلام الله مخلوقا في شجرة لكان المخلوق قال: يا موسى إني أنا الله أنا فاعبدني، وقد قال تعالى: (ولكن حق القول منى لاملكن جهنم من الجنة والناس اجمعين) ، وكلام الله من الله تعالى، فلا يجوز أن يكون كلامه الذي هو منه مخلوقا في شجرة مخلوقة، كما لا يجوز أن يكون علمه الذي هو منه مخلوقا في غيره، تعالى الله عن ذلك علوا كبيرا.

نصاری کی طرح جہمیہ نے بھی خیال کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے کلمہ کو مریم رضی الله عنه نے اپنے پیٹ میں سمو لیا تھا۔ جہمی لوگوں نے اس سے بڑھ کر یہ بھی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی کلام مخلوق تھی، جو کہ ایک درخت میں داخل ہو گئی تھی اور اس درخت نے اس کلام کو اپنے اندر سمو لیا تھا۔ اس طرح جہمی لوگوں پر یہ کہنا لازم آتا ہے کہ درخت ہی اس کلام کے ساتھ متکلم تھا اور سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے ایک مخلوق نے ہی کلام کی تھی اور درخت ہی نے کہا تھا کہ اے موسیٰ! میں ہی الہ ہوں، میرے سوا کوئی الہ نہیں ہے، چنانچہ میری ہی عبادت کرو۔ اگر یہ اللہ تعالیٰ کی کلام درخت میں پیدا کر دی گئی تھی، تو پھر مخلوق نے ہی موسیٰ علیہ السلام سے یہ کہا تھا، حالاں کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

ولكن حق القول منى لا ملئن جهنم من الجنة والناس أجمعين.

’’لیکن میری بات ثابت ہو گئی ہے کہ میں جہنم کو انسانوں اور جنوں سے بھر دوں گا۔‘‘

کلام اللہ، اللہ تعالیٰ ہی سے ہے، چنانچہ یہ کہنا جائز نہیں کہ وہ کلام جو اللہ کی طرف سے تھی، وہ ایک مخلوق درخت میں پیدا کر دی گئی تھی، جیسا کہ یہ کہنا جائز نہیں کہ اللہ تعالیٰ کا وہ علم، جو اسی سے ہے، وہ کسی غیر میں پیدا کر دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ ان خرافات سے بہت بلند ہے ۔

(الإبانة عن أصول الديانة، ص 68)

نیز لکھتے ہیں:

قد قال الله تعالى: (وما كان لبشر أن يكلمه الله إلا وحيا أو من وراي حجاب او يرسل رسولا فيوحى بإذنه ما يشاء) ، فلو كان كلام الله لا يوجد إلا مخلوقا في شيء مخلوق لم يكن لاشتراط هذه الوجوه معنى، لأن الكلام قد سمعه جميع الخلق ووجدوه – بزعم الجهمية – مخلوقا في غير الله تعالى، وهذا يوجب إسقاط مرتبة النبيين صلوات الله عليهم أجمعين. ويجب عليهم إذا زعموا أن كلام الله لموسى خلقه في شجرة أن يكون من سمع كلام الله عز وجل من ملك أو من نبي أتى به من عند الله أفضل مرتبة من سماع الكلام من موسى، لأنهم سمعوه من نبي، ولم يسمعه موسى من الله عز وجل، وإنما سمعه من شجرة، وأن يزعموا أن اليهودي إذا سمع كلام الله من النبي عليه الصلاة والسلام أفضل مرتبة في هذا المعنى من موسى صلى الله عليه وسلم، لأن اليهودي سمعه من نبي من أنبياء الله، وموسى سمعه مخلوقا في شجرة، ولو كان مخلوقا في شجرة لم يكن مكلما لموسى من وراء حجاب، لأن من حضر الشجرة من الجن والإنس قد سمعوا الكلام من ذلك المكان، وكان سبيل موسى وغيره في ذلك سواء في أنه ليس كلام الله له من وراء حجاب. ثم يقال لهم: إذا زعمتم أن معنى أن الله عز وجل كلم موسى أنه خلق كلاما كلمه به في الشجرة، وقد خلق الله عندكم في الذراع كلاما، لأن الذراع قالت لرسول الله صلى الله عليه وسلم: لا تأكلني، فإني مسمومة، فيلزمكم أن ذلك الكلام الذي سمعه النبي صلى الله عليه وسلم كلام الله تعالى.

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے:

وما كان لبشر أن تكلمه الله إلا وحيا أو من ورائ حجاب أو يرسل رسولا فيوحى باذنه ما يشاء.

کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے، مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے یا کوئی فرشتہ بھیج دے، پھر اس کی طرف اپنے اذن سے جو چاہے وحی کرے۔ اگر اللہ تعالیٰ کی کلام کسی مخلوق میں ہی پیدا کی ہوئی پائی جاتی، تو ان قیود کے ساتھ مشروط کرنے کا کوئی معنی باقی نہیں رہتا، کیونکہ جہمی لوگوں کے بقول اسے بسا اوقات ساری مخلوقات اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی اور ذات میں پیدا شدہ حالت میں سن لیتی ہیں۔ اس عقیدے سے انبیائے کرام کے مقام و مرتبہ میں تنقیص لازم آتی ہے۔

جب حہمی لوگ یہ دعویٰ کریں کہ اللہ تعالیٰ نے جو سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے کلام کی تھی، اسے ایک درخت میں پیدا کیا تھا، تب ان پر لازم آئے گا کہ جن لوگوں نے اس کلام کو کسی فرشتے یا ایلچی سے سنا ہو، جو اسے اللہ کے پاس سے لے کر آیا تھا، وہ کلام سننے کے اعتبار سے سیدنا موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوں، کیونکہ ان لوگوں نے اسے کسی نبی سے سنا ہو گا، لیکن موسیٰ علیہ السلام نے اسے اللہ عزوجل سے نہیں سنا، بلکہ ایک درخت سے سنا تھا، نیز ان جہمیہ پر یہ دعویٰ بھی لازم آتا ہے کہ ایک یہودی جب اللہ تعالیٰ کی کلام کو اپنے نبی علیہ السلام سے سنے، تو وہ اس کام میں موسیٰ علیہ السلام سے افضل ہوگا، کیونکہ یہودی نے اسے اللہ کی کسی نبی سے سنا ہوگا اور موسیٰ علیہ السلام نے اسے ایک درخت میں مخلوق ہونے کی صورت میں سنا ہو گا۔ اگر اللہ کی کلام درخت میں پیدا کر دی گئی تھی، تو اللہ تعالٰی نے پھر موسیٰ علیہ السلام سے پردے کے پیچھے سے کلام نہیں کی، کیونکہ جو بھی جن یا انسان اس جگہ حاضر ہوگا، اس نے اسی جگہ سے کلام کو سنا ہوگا۔ یوں موسیٰ علیہ السلام اور ان کے غیر کا ذریعہ ایک ہی ہو گا کہ انھوں نے کلام کو پردے کے پیچھے سے نہیں سنا۔ پھر ان جہمیوں سے کہا جائے گا کہ جب تمھارا یہ دعوی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کرنے کا مطلب یہ ہے کہ اس نے کلام کو درخت میں پیدا کیا، پھر اس کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کی ، تو پھر اللہ تعالٰی نے شانے کے گوشت میں بھی کلام پیدا کی ہے، کیونکہ شانے کے گوشت نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا تھا کہ مجھے نہ کھائیں، کیونکہ میں زہر آلود ہوں ۔ چنانچہ تمھارے نزدیک یہ لازم آئے گا کہ جو کلام نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنی تھی ، وہ اللہ تعالیٰ کی کلام تھی۔

(الإبانة عن أصول الديانة، ص 109)

امام آجری رحمتہ اللہ (360ھ) لکھتے ہیں:

إن قال منهم قائل: إن الله تعالى خلق كلاما في الشجرة، فكلم به موسى قيل له: هذا هو الكفر، لأنه يزعم أن الكلام مخلوق، تعالى الله عز وجل عن ذلك ويزعم أن مخلوقا يدعي الربوبية، وهذا من أقبح القول وأسمجه، وقيل له: يا ملحد، هل يجوز لغير الله أن يقول: إنني أنا الله؟ نعوذ بالله أن يكون قائل هذا مسلما، هكذا كافر يستتاب، فإن تاب ورجع عن مذهبه السوء وإلا قتله الإمام، فإن لم يقتله الإمام ولم يستتبه وعلم منه أن هذا مذهبه هجر ولم يكلم، ولم يسلم عليه ولم يصل خلفه، ولم تقبل شهادته، ولم يزوجه المسلم كريمته.

’’اگر ان میں سے کوئی کہے کہ اللہ نے درخت میں کلام کو پیدا کیا تھا اور اس کے ذریعے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کی تھی ، تو اسے کہا جائے گا، یہی کفر ہے، کیونکہ ان کا دعوی ہے کہ کلام الہی مخلوق ہے۔ اللہ اس سے پاک ہے۔ وہ شخص گمان کرتا ہے کہ مخلوق ربوبیت کا دعویٰ کر رہی ہے۔ یہ سب سے قبیح اور بدترین قول ہے، اس سے مزید کہا جائے گا: اے ملحد و بے دین! کیا غیر اللہ کے لیے یہ کہنا جائز ہے کہ میں ہی اللہ ہوں؟ ہم اللہ کی پناہ میں آتے ہیں کہ ایسا کہنے والا مسلمان ہو۔ یہ تو کافر ہے، اس سے تو بہ کروائی جائے گی، اگر توبہ کرلے اور اپنے برے مذہب سے لوٹ آئے، تو ٹھیک ورنہ حاکم وقت اسے قتل کر دے۔ اگر حکمران وقت قتل نہیں کرتا اور اس سے تو بہ نہیں کروائی جاتی اور اس کا مذہب معلوم ہو جاتا ہے، تو اس سے قطع تعلقی کی جائے گا، اس سے کلام نہیں کی جائے گی، سلام بھی نہیں کہا جائے گا، نہ ہی اس کی اقتدا میں نماز پڑھی جائے گی، نہ اس کی گواہی قبول ہو گی اور نہ اس سے کوئی مسلمان اپنی بیٹی کی شادی کرے گا۔‘‘

(کتاب الشريعة: 1109/3)

حافظ بہیقی رحمتہ اللہ (458 ھ) لکھتے ہیں:

لو كان كلام الله لا يوجد إلا مخلوقا في شيء مخلوق لم يكن لاشتراط هذه الوجوه معنى لاستواء جميع الخلق في سماعه من غير الله ووجودهم ذلك عند الجهمية مخلوقا في غير الله، وهذا يوجب إسقاط مرتبة النبيين صلوات الله عليهم أجمعين، ويجب عليهم إذا زعموا أن كلام الله لموسى خلقه في شجرة، أن يكون من سمع كلام الله من ملك أو من نبي أتاه به من عند الله أفضل مرتبة في سماع الكلام من موسى، لأنهم سمعوه من نبي ولم يسمعه موسى عليه السلام من الله ، وإنما سمعه من شجرة، وأن يزعموا أن اليهود إذ سمعت كلام الله من موسى نبي الله أفضل مرتبة في هذا المعنى من موسى بن عمران صلى الله عليه وعلى نبينا وسلم؛ لأن اليهود سمعته من نبي من الأنبياء وموسى صلى الله عليه وعلى نبينا وسلم سمعه مخلوقا في شجرة ولو كان مخلوقا في شجرة لم يكن الله عز وجل مكلما لموسى من وراء حجاب ولأن كلام الله عز وجل لموسى عليه السلام لو كان مخلوقا في شجرة كما زعموا لزمهم أن تكون الشجرة بذلك الكلام متكلمة، ووجب عليهم أن مخلوقا من المخلوقين كلم موسى وقال له: (إنني أنا الله لا إله إلا أنا فاعبدني) ، وهذا ظاهر الفساد.

اگر اللہ کا کلام صرف کسی مخلوق چیز میں مخلوق ہو کر ہی پایا جائے، تو ان قیود میں سے کسی کی شرط لگانے کا کوئی معنی نہیں، کیونکہ تمام مخلوق اس کو غیر اللہ سے سننے میں برابر ہے اور یہ جہمیہ کے ہاں غیر اللہ میں پیدا شدہ ہے۔ یہ چیز انبیا کے مقام و مرتبہ کو کم کرنے کا سبب بنتی ہے۔ جب وہ یہ دعوی کریں کہ اللہ کی موسیٰ علیہ السلام سے کلام ایک درخت میں پیدا کی گئی تھی تو ان پر لازم آتا ہے کہ جن لوگوں نے اس کلام کو کسی فرشتے یا نبی سے سنا ہے، جو اسے اللہ کی طرف سے لے کر آیا تھا، وہ لوگ اس کلام کو سننے میں موسیٰ علیہ السلام سے بہتر و افضل ہیں، کیونکہ انھوں نے تو اس کلام کو کسی نبی سے سنا ہے، جبکہ موسیٰ علیہ السلام نے اس کلام کو اللہ تعالی سے نہیں سنا، بلکہ ایک درخت سے سنا ہے، نیز ان پر لازم آتا ہے کہ وہ یہ دعوی کریں کہ یہودی جب اللہ کی کلام کو اللہ کے نبی موسیٰ علیہ السلام سے سنتے تھے تو وہ اس سننے میں موسیٰ بن عمران علیہ السلام سے افضل تھے، کیونکہ یہودیوں نے اسے اللہ کے نبیوں میں سے ایک نبی موسیٰ علیہ السلام سے سنا تھا، جبکہ موسیٰ علیہ السلام نے اسے ایک مخلوق درخت سے سنا تھا۔

اگر یہ کلام ایک درخت میں پیدا کیا ہوتا ، تو اللہ تعالٰی پردے کے پیچھے سے موسیٰ علیہ السلام سے کلام نہیں کر رہا تھا، بلکہ اس صورت میں تو ان پر یہ کہنا لازم آتا ہے کہ وہ درخت موسیٰ علیہ السلام سے کلام کر رہا تھا اور یوں لازم آتا ہے کہ مخلوق میں سے ایک مخلوق نے موسیٰ علیہ السلام سے کلام کی تھی اور انھیں کہا تھا کہ میں ہی اللہ ہوں، میری عبادت کرو اور یہ واضح طور پر فاسد بات ہے۔

(الاعتقاد، ص 97-98)

علامہ ابن ابی العز حنفی رحمتہ اللہ (792ھ) لکھتے ہیں:

ما أفسد استدلالهم بقوله تعالى: (نودي من شاطي الواد الأيمن فى البقعة المبركة من الشجرة) على أن الكلام خلقه الله تعالى في الشجرة، فسمعه موسى منها وعموا عما قبل هذه الكلمة! وما بعدها، فإن الله قال: (فلما أتها نودي من شاطي الواد الايمن) ، النداء هو الكلام من بعد، فسمع موسى عليه السلام النداء من حافة الوادي، ثم قال: (في البقعة المبركة من الشجرة) أي أن النداء كان في البقعة المباركة من عند الشجرة، كما يقول: سمعت كلام زيد من البيت، يكون من البيت لابتداء الغاية، لا أن البيت هو المتكلم ولو كان الكلام مخلوفا في الشجرة لكانت الشجرة هي القائلة: (يموسى إني أنا الله رب العلمين) ، وهل قال: إني أنا الله رب العالمين، غير رب العالمين؟ ولو كان هذا الكلام بدأ من غير الله لكان قول فرعون: أنا ربكم الأعلى صدقا إذ كل من كلامين عندهم مخلوق قد قاله غير اللها وقد فرقوا بين الكلامين على أصولهم الفاسدة: أن ذاك كلام الله خلقه الله في فرعون! فحرفوا وبدلوا واعتقدوا خالفا غير الله.

ان (جہمیہ) کا فرمانِ باری تعالیٰ:

(نودي من شاطي الواد الأيمن في المقعة المبركة من الشجرة) سے اس بات پر استدلال کتنا فاسد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلام کو درخت میں پیدا کیا، پھر موسیٰ علیہ السلام نے اس سے سنا! وہ اس فرمانِ باری تعالیٰ کے ماقبل اور ما بعد سے اندھے بن گئے ہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے:

(فلما أنها نودي من شاطي الواد الأيمن) ندا تو دور سے کلام کرنے کو کہتے ہیں اور موسیٰ علیہ السلام نے کلام کو وادی کے اندر سے سنا تھا، پھر فرمان ہوا:

(في البقعة المبركة من الشجرة) یعنی خدا بقعہ مبارکہ میں درخت کے پاس سے تھی، جیسا کہ کوئی آدمی کہتا ہے کہ میں نے زید کی کلام کو گھر سے سنا، گھر کا لفظ ابتدائے غایت کے لیے ہوتا ہے، یہ نہیں کہ گھر کلام کر رہا تھا۔ اگر یہ کلام مخلوق ہوتی اور درخت میں پیدا کی گئی ہوتی، تو درخت ہی یہ کہنے والا ہوتا کہ اے موسیٰ میں ہی رب العالمین ہوں۔ کیا رب العالمین کے علاوہ کسی اور نے کہا تھا کہ میں رب العالمین ہوں؟ اگر یہ کلام غیر اللہ سے ظاہر ہوئی تھی ، تو پھر فرعون کا یہ کہنا سچ تھا کہ میں تمھارا سب سے بڑا رب ہوں! کیونکہ دونوں کلا میں جہمیوں کے ہاں مخلوق ہیں اور دونوں کا قائل غیر اللہ ہے، لیکن انھوں نے اپنے فاسد اصولوں کے مطابق ان دونوں کلاموں میں فرق کیا ہے کہ وہ اللہ کی کلام تھی، جسے اس نے درخت میں پیدا کیا تھا اور یہ وہ کلام تھی، جسے فرعون نے پیدا کیا تھا! انھوں نے تحریف و تبدل سے کام لیا ہے اور یہ اعتقاد رکھا ہے کہ اللہ کے علاوہ بھی کوئی خالق ہے۔

(شرح العقيدة الطحاوية: 174-175)

تنبيه:

سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی الله عنه سے منسوب ہے:

رأيت الشجرة التي نودي منها موسى عليه السلام، سمرة خضراء.

’’میں نے اس درخت کو دیکھا ہے، جس سے موسیٰ علیہ السلام کو آواز دی گئی تھی ، وہ سرسبز تھا۔‘‘

(تفسیر ابن جرير : 573/19)

اس کی سند سخت ضعیف ہے؟

سفیان بن وکیع جمہور کے نزدیک ’’ضعیف‘‘ ہے۔

امام ابو معاویہ اور امام اعمش رحمتہ اللہ دونوں ’’مدلس‘‘ ہیں، سماع کی تصریح نہیں کی۔

ابو عبیدہ نے اپنے والد سے نہیں سنا، جیسا کہ حافظ ابن حجر رحمتہ اللہ لکھتے ہیں۔

إنه عند الأكثر لم يسمع من أبيه.

’’جمہور کے نزدیک ابو عبیدہ نے اپنے والد (ابن مسعود رضی الله عنه) سے نہیں سنا۔‘‘

(موافقة الخبر الخبر : 364/1)

لہذا حافظ ابن کثیر رحمتہ اللہ (تفسير ابن كثير : 17/5) کا اس کے بارے میں إسناده مقارب کہنا درست نہیں۔