مرکزی مواد پر جائیں
18 شعبان، 1447 ہجری

حساب میں غلطی پر زائد رقم کا شرعی حکم

فونٹ سائز:
مؤلف : ڈاکٹر محمد ضیاء الرحمٰن اعظمی رحمہ اللہ

سامان کے حساب کتاب میں غلطی

سوال: وہ سیل مین (فروخت کنندہ) جو حساب میں غلطی کرتا ہے۔ کبھی گاہک کو کم دے دیتا ہے اور کبھی زیادہ لیکن ارادے کے بغیر، کیا وہ کمی پوری کرے اور جو زیادہ ہے وہ لے لے؟
جواب: جب سیل مین کو علم ہو جائے کہ خریدار نے قیمت سے زیادہ تم دے دی ہے اور وہ اس کو جانتا ہو تو اس کے لیے وہ رقم لوٹانا ضروری ہے، اگر وہ مر گیا ہو تو وہ اس کے لواحقین کو لوٹائے، لیکن اگر وہ اسے جانتا نہیں اور اس کے واپس لوٹنے سے بھی نا امید ہو چکا ہے تو اس کی طرف سے صدقہ کر دے لیکن جب اس کے لیے یہ واضح ہو جائے کہ خریدار نے رقم کم دی ہے تو وہ اسے تلاش کرے اور اس رقم کا مطالبہ کرے جو اس نے کم دی ہے، لیکن وہ اسے قبول کرتا ہے یا نہیں کرتا تو اس معاملے میں عدالت کی طرف رجوع کیا جائے۔
[ابن عثيمين: نور على الدرب: 9/234]

اہم: ویب سائٹ یا موبائل ایپ پر کوئی خرابی نظر آئے تو براہِ کرم فوری طور پر واٹس اپ پر اطلاع دیں یا ای میل کریں۔