حرم میں قصاص یا حد قائم کرنا کیسا ہے
حرم میں خون بہانا اور حد قائم کرنا جائز نہیں ہے حتی کہ پناہ لینے والا حرم سے خارج ہو جائے ۔
[تفصيل كے ليے ديكهيے: المغني: 413/12 ، بداية المجتهد: 405/2 ، حاشية ابن عابدين: 625/3 ، الأم للشافعي: 290/4 ، نيل الأوطار: 482/4]
اور جو شخص حرم کے اندر حد یا قصاص کے موجب فعل کا مرتکب ہو تو بعض اہل علم کے نزدیک اسے حرم سے باہر نکال کر سزا دی جائے گی تاہم حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ :
من سرق أو قتل فى الحرم أقيم عليه فى الحرم
”جو شخص حرم میں چوری یا قتل کرے اس پر حرم میں ہی حد قائم کی جائے گی ۔“
[عبد الرزاق: 304/9 ، 17306 ، بيهقي: 214/9]
(راجح ) احادیث میں مطلق طور پر حرم میں خون بہانے یا حد قائم کرنے کی ممانعت ہے خواہ کوئی وہاں آ کر پناہ لینے والا ہو یا حرم کے اندر ہی حد یا قصاص کے موجب فعل کا مرتکب ہوا ہو اور یہ آیت:
وَلَا تُقَاتِلُوهُمْ عِندَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ حَتَّىٰ يُقَاتِلُوكُمْ فِيهِ [البقرة: 191]
”اور تم مسجد حرام کے نزدیک ان سے قتال مت کرو حتی کہ وہ اس میں تم سے لڑائی شروع کر دیں ۔“
صرف لڑائی کے وقت دفاع کے جواز پر دلالت کرتی ہے ۔
[نيل الأوطار: 483/4]