مضمون کے اہم نکات
حرمین میں بیس رکعت کیوں؟
قاسمی صاحب کا تیسرا سوال
لکھتے ہیں:
نیز حرمین شریفین میں مسلسل ہر رمضان میں پابندی کے ساتھ بیس رکعت کیوں ہوتی ہیں؟
جواب:
حرمین میں بیس رکعت ہوتی ہیں آپ جیسے پیلے ضدی اور قرآن وسنت کے مقابلے اپنے مسلک اور رواج پر ایمان رکھنے والوں کے سبب۔
ہوا یوں کہ جب حرمین شریفین کو اللہ تعالیٰ نے اس کی کھوئی ہوئی عزت ومنزلت بحال کرنا چاہی جو مقلدوں نے سلب کر رکھی تھی خود حرم مکی میں با قاعدہ چار مصلے بنا کر ایک وقت میں چار چار جگہ نماز ہوتی تھی۔ حنفی، شافعی مالکی حنبلی اپنے اپنے مصلے پر اپنے وقت میں نماز پڑھتے، ایک مصلے پر نماز ہوتی رہتی دوسرے مصلے پر لوگ بیٹھے گیئں ہانکتے رہتے۔ جن مقلدوں نے اللہ کے گھر کو چار حصوں میں بانٹ دیا تھا اور ہر ایک اپنی جگہ خوش تھا کہ وہی صحیح ہے۔ مصلی ابراہیمی جس پر نماز ادا کرنے کا حکم قرآن نے دیا۔ اور فرمایا:
﴿وَاتَّخِذُوا مِنْ مَقَامِ إِبْرَاهِيمَ مُصَلًّى﴾
مقام ابراہیم کو مصلی بناؤ۔ اس کی تعمیل رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ضروری خیال کی، ساری زندگی اس پر عمل کیا کرایا، خلفاء راشدین نے خود عمل کیا اور دوسروں سے کرایا بنوامیہ کے زمانہ میں خود چاروں اماموں کے زمانہ میں اس پر عمل جاری وساری رہا۔
لیکن جب مقلدوں نے آپس میں خوں ریزی کو مقدس جہاد تصور کر لیا اور ایک دوسرے کو کافر کہنے لگے اور بات یہاں تک پہنچی کہ سلطان وقت کو ان لڑائیوں سے پیچھا چھڑانے کے لیے اور اس خوں ریزی کو بند کرانے کے لیے مساجد بانٹنی پڑیں۔ مدارس تقسیم کرنے پڑے، اوقاف کو الگ الگ کر کے دعویداروں کو سونپنا پڑا تو آخری تان یہاں ٹوٹی کہ خانہ کعبہ میں بھی چار مصلے بنانے کی اجازت دے دی اور ان مقلدوں نے خانہ کعبہ اور مقام ابراہیم کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے با قاعدہ چار مصلے بنا ڈالے۔
نہیں سوچا کہ اس طرح سے ہم قرآن کی مخالفت کر رہے ہیں، حدیث کے حکم کو ٹال رہے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم وخلفاء راشدین کی مخالفت کر رہے ہیں امامانِ دین و ائمہ مجتہدین کے عمل کو ہم نے فراموش کر دیا ہے۔ تقلیدی نشہ اس قدر چڑھا ہوا تھا کہ یہ ساری باتیں انہیں نا بری لگیں اور نا ہی اس جرم عظیم کو انہوں نے کوئی گناہ کو تاہی یا غلطی جانا۔
اللہ کی غیرت جوش میں آئی اللہ نے سعودی حکومت کو (حرسها الله من شر حاسد اذا حسد) حرمین کی باگ ڈور تھما دی، تقلیدی ایوانوں میں زلزلہ آ گیا ہزاروں جھوٹ بول کر اس حکومت اور اس کے والیوں کو بدنام کیا، ان کو لا مذہب کہا وہابی کہا، حرمین میں کالا چور کے نام سے رسالے لکھے احتجاجات کیلئے میٹنگیں کیں یہود و نصاری سے مل کر سازشیں کیں مگر اللہ کے فضل وکرم سے ہوا کچھ بھی نہیں اللہ نے ان جھوٹوں کا منہ کالا کیا۔
اس حکومت کے آنے کے بعد شرک و بدعات کے مظاہر کو جس طرح حرمین سے نکالا گیا اسی طرح ان چار مصلوں کی چودھراہٹ بھی ختم کی گئی، ایوان تقلید پر بجلی بن کر گرنے والا یہ عمل حرم مکی کو عزت و شرف واپس کرنے کا سبب بن گیا۔ اور ملت اسلامیہ ایک بار پھر مصلی ابراہیمی پر متفق ہو گئی۔ بہر حال۔
حرمین شریفین میں بیس تراویح کیوں ہوتی ہیں؟
حرمین میں بیس رکعت تراویح کیوں ہوتی ہے اگر آٹھ رکعت یا گیارہ رکعت مع الوتر یہی سنت ہے تو حرمین میں کیوں نہیں؟ آج بہت سارے لوگ عوام کو بہکاتے ہیں اور بیس رکعت تراویح کو ہی صحیح باور کرانے کے لیے حرمین کو بطور دلیل پیش کرتے ہیں۔
مفتی شبیر، عالم آدمی ہیں ان کو معلوم ہے کسی جگہ کا عمل نا معیار ہے اور نا دلیل، اگر یہ چیز کبھی دلیل رہی ہوتی تو عمل اہل مدینہ کو فقہاء احناف ضرور قبول کرتے حالانکہ ہم دیکھتے ہیں کہ امام مالک رحمہ اللہ کے اس موقف کی تردید میں ائمہ احناف نے نا صرف زبان کھولی ہے بلکہ اس کی تردید میں کتابیں تک لکھی ہیں۔ پھر بھی غیر علمی طریقہ پر عوام کو بہکانے کے لیے حرمین کے عمل کو بنیاد بنایا جارہا ہے تا کہ عوام کو قرآن سنت سے ہٹا کر عمل حرمین میں پھنسا دیں حرمین کے عمل کو بنیاد بنانے والے یہ حضرات جب بیس رکعت تراویح کے لیے حرمین کے عمل کو بنیاد بناتے ہیں تو یہ بھول جاتے ہیں کہ حرمین میں اور بھی کچھ ہوتا ہے جس کے لیے یہاں ہندوستان میں یہی مولوی ضد اور ہٹ دھرمی کی انتہا کرتے ہوئے حرمین میں کیسے جانے والے اعمال کو غلط بتاتے اور اس کے خلاف تحریکیں چلاتے ہیں آئیے ذرا جائزہ لیں۔
روزے کی نیت اور حرمین شریفین
یہاں ہندوستان میں فقہ حنفی کے دونوں گروپ روزے کی نیت بصوم غد نويت من شهر رمضان کے ساتھ کرتے اور اخباروں، فولڈروں اور اوقات سحر وافطار کے تمام نقشوں میں یہ نیت لکھتے ہیں۔ جبکہ حرمین میں اس نیت کو بدعت مانا جاتا ہے کیونکہ اس کا ثبوت نہ قرآن سے ہے اور نا حدیث سے نا اجماع سے اور قیاس کی اس میں گنجائش نہیں کیونکہ یہ کوئی نیا مسئلہ نہیں ہے بلکہ جب سے روزے فرض ہوئے تبھی سے نیت بھی ضروری ہوئی اور نبی محترم نے صاف صاف فرما دیا: إنما الأعمال بالنيات عمل کی صحت کا دارومدار نیت پر ہے بغیر نیت کے کوئی عمل درست نہیں ہوتا لیکن رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا صحابہ کرام نے بھی زبان سے نیت نہیں کی اور نہ اس کے لیے کوئی الفاظ بتائے کیونکہ نیت نام ہے ارادہ قلبی کا نیت کا تعلق دل سے ہے نا کہ زبان اسی لیے علماء کرام و اہل لغت فرماتے ہیں النية عمل القلب نیت دل کا عمل ہے، زبان کا نہیں۔
بعض مقلدین نے روزے کی نیت خود ہی تراش لی اور پھر اس کو چلتا کر دیا بعض مولویوں نے یوں نیت بتائی: بصوم غد نويت من شهر رمضان، بعض کو خیال آیا کہ رمضان کا مہینہ اس میں مطلق ہے اس سال کے رمضان کی نیت کی یا اگلے سال کے رمضان کی تو اس کے لیے انہوں نے یوں نیت کے الفاظ بتائے: ”بصوم غد نويت من شهر رمضان هذا“ اور بعض نے یوں نیت سکھائی نويت ان اصوم غدا لله تعالى لیکن تعجب ہے ان تیز فہم فقیہوں کو یہ سب موشگافیاں تو سوجھیں یہ بات نہیں سوجھی کہ نیت کی جاتی ہے سحری کے وقت اور سحری کھائی جاتی ہے آج کے روزے کی لیکن یہ بیچارے اپنے مریدوں سے ہمیشہ کل کے روزے کی نیت کراتے ہیں، بصوم غد نويت کے معنی ہوتے ہیں میں کل کے روزے کی نیت کرتا ہوں۔
کوئی پوچھے کل کے روزے کی نیت تو آپ نے کر لی آج کے روزے کی نیت کب کرو گے؟
کیا کیا جائے یہاں تو بھیڑ چال ہے عمل قرآن وحدیث پر نہیں، رواج پر ہے رواج، اگر اسی طرح نیت کرنے کا پڑ گیا تو عمل اسی پر ہو گا قرآن کچھ کہے حدیث کچھ کہے صحابہ کرام کچھ کہیں کہتے رہیں کوئی نہیں سنتا، ایک صاحب سے جو زبان سے نیت کرنے پر مصر تھے۔ ہم نے پوچھا آپ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ کے مقلد ہیں یا فقہ حنفی کے؟ بولے امام ابوحنیفہ کے، ہم نے کہا: جھگڑا اثتم آپ کسی کتاب سے امام صاحب کا ایک صرف ایک قول دکھا دیں کہ انہوں نے زبان سے نیت کرنے کا حکم دیا ہے یا ان کے شاگردوں نے یہ بتایا ہو کہ خود امام صاحب زبان سے نیت کرتے تھے، اگر آپ نے ثابت کر دیا تو آپ کو حق ہوگا کہ آپ زبان سے نیت کریں ورنہ جو بات امام نے نہیں بتائی اور قرآن وسنت سے ثابت نہیں اور عقلا بھی غلط ہے اس پر عمل چھوڑ دیں۔ کہ کر گئے تھے کہ ہم آپ کو ثبوت لا کر دیں گے عرصہ دراز ہوا ابھی تک ان کی واپسی نہیں ہوئی۔
اذان سحری اور حرمین شریفین
ہمارے یہاں ہندوستان میں اذان سحری کا رواج نہیں، یہاں نقاروں، دفلیوں، سائرنوں کا رواج ہے اور آج ایک خاص گروپ میں ریکارڈنگ کا رواج ہے اس ریکارڈنگ میں جہاں قوالیوں سے دل بہلایا جاتا ہے وہیں فلمستان کی پریوں کے سریلے گیت بھی روحانی ترقی کا ذریعہ بنتے ہیں، بستی کے الگ الگ محلوں سے، الیس، ایم ایس کے ذریعہ فرمائشیں کی جاتی ہیں اور ان کا باقاعدہ اعلان ہوتا ہے آل انڈیا ریڈیو کی اُردو سروس یا ماضی کے ریڈیو سیلون کے، ہٹ نغمے سنا کر داد و تحسین حاصل کی جاتی ہے۔ اور عید کے دن ان ریکارڈنگ والوں کو فطرہ کا ایک حصہ دیا جاتا ہے کہ ان بیچاروں نے ایک مہینہ برابر محنت کی ہے۔
یہ سب کچھ علماء ومشائخ کی موجودگی میں ہوتا ہے نا ان پر کوئی فتویٰ لگتا ہے اور نا ہی اس پر ناراضنگی یا خفگی کا کوئی اظہار ہوتا ہے۔
ایسے میں اگر کوئی سنت کا شیدائی سحری کی اذان دے دے جو رسول کی سنت ہے خلفاء راشدین کی سنت ہے امامان دین و مجتہدین کی سنت ہے اس پر یہی علماء و مشائخ آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں اور شر و فساد سے لے کر ہر وہ اوچھی حرکت اور ذلیل کام کرنے کو تیار ہو جاتے ہیں جو ان کے ہرگز شایانِ شان نہیں ہوتا۔
اس ہنگامہ آرائی میں بھول جاتے ہیں کہ حرمین میں نہ نقارے بجائے جاتے ہیں اور نہ دفلیوں پر گیت گا کر آسمان سر پر اُٹھایا جاتا ہے اور نہ ہی سائرن کا استعمال ہوتا ہے، ریکارڈنگ کا تو تصور ہی فضول ہے۔ وہاں صرف اور صرف اذان سحری ہوتی ہے۔
آخران معصوموں کو حرمین کی اذان سحری کیوں سنائی نہیں دیتی جن آنکھوں سے وہ بیس رکعت تراویح ہوتی دیکھتے ہیں وہ آنکھیں وہ کان اذان سحری کو کیوں نہیں سنتے کیوں نہیں دیکھتے؟
سیدھا سا جواب یہی ہے کہ ان کو حرم سے یا اس کے اندر ہونے والے فعل سے نہیں رواج سے غرض ہے، بیس رکعت تراویح کا رواج ہے اس لیے اس کے لیے حرم کا سہارا لے لیا اور اذان سحری کا رواج نہیں اس لیے اس سے کان بند کر لیے آنکھیں موند لیں۔
آمین بالجهر اور حرمین شریفی
ہمارے یہاں ہندوستان میں سورۃ فاتحہ کے اختتام پر آمین بلند آواز سے کہنے کا رواج نہیں۔ اگر کوئی آمین صرف اتنے زور سے کہہ دے کہ چند دیگر مصلیوں کو بھی سنائی دے جائے تو جانو نماز کے بعد مسجد میں زلزلہ آ جاتا ہے۔ شہروں کی حالت پھر بھی قدرے غنیمت ہے قصبوں اور دیہاتوں میں تو یہ اتنا بڑا جرم ہوتا ہے کہ اس شخص سے ناصرف باز پرس ہوتی ہے بلکہ کہیں کہیں تو بعض جاہل ہاتھ اُٹھانے مسجد سے نکالنے دھمکی دینے اور آئندہ مسجد میں نہ آنے تک کی وارننگ دے ڈالتے ہیں۔ ایک صاحب نے بتایا کہ میرٹھ کی ایک بستی میں اتفاق سے ان کو جانا پڑا ایک جہری نماز میں جب امام نے ولا الضالين کہا تو عادت کے مطابق ہم نے آمین زور سے کہہ دی۔ ادھر ہماری زبان سے آمین نکلا اُدھر ہماری پچھلی صف سے کسی کی آواز آئی ”جب بے کمین“
نماز ختم ہوئی سب لوگ ہم کو تو کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے مگر آمین کا جواب ”چپ بے کمین“ سے دینے والے کمین پر کسی کی نظر نہیں تھی، نماز میں نماز سے غیر متعلق بات کہنے اور وہ بھی اُردو میں اور وہ بھی حدیث کی مخالفت میں اس کی نماز پر کوئی فرق نہیں پڑا تھا۔ ہم چونکہ اجنبی تھے شاید لوگوں نے پردیسی سمجھ کر چھوڑ دیا۔ مگر امام صاحب بڑے خیر خواہانہ طریقہ پر گویا ہوئے آمین زور سے نہیں کہنا چاہئے۔ زور سے کہنا منسوخ ہو چکا ہے۔
لیکن امام صاحب حدیث میں تو آیا ہے۔ کہ دیا ناوہ پہلے کی بات ہے بعد میں منسوخ ہو گیا۔ لیکن فقہ حنفی میں۔
ہم اتنا ہی کہہ پائے تھے کہ کڑک کر بولے تم لوگوں کی یہی عادت تو بہت بُری ہے کسی کا احترام نہیں کرتے کسی کی بات نہیں مانتے۔
امام صاحب میں تو پھر بولے خاموش رہو۔ آئندہ اگر زور سے آمین کہی تو اچھا نہیں ہوگا۔
آخر ہم اپنا سامنہ لے کر چلے آئے، امام صاحب اور ان کے مریدین کو آمین سے نفرت کسی اور وجہ سے نہیں صرف اس وجہ سے ہے کہ ان کے یہاں ہندوستان میں رواج نہیں۔ لیکن حرمین میں آمین اتنی زور سے ہوتی ہے کہ یہاں ہندوستان تک سنائی دیتی ہے آخر ان بھائیوں کو حرمین کی آمین سنائی کیوں نہیں دیتی۔ اس آمین سے ان کی نمازوں میں خلل کیوں نہیں پڑتا۔
بیس رکعت پر اصرار حرمین میں ہونے کے سبب اگر صحیح ہے تو آمین صحیح کیوں نہیں ہے؟
نماز فجر اور حرمین شریفین
ہمارے ہندوستان میں احناف کے دونوں گروپ نماز کو اول وقت میں ادا نہیں کرتے، سب سے زیادہ بے احتیاطی فجر، اور عصر کی نمازوں میں کی جاتی ہے۔ فجر کی نماز کے لیے ایک صاحب نے تو یوں لکھا ہے کہ سورج نکلنے سے صرف اتنی پہلے ادا کی جائے کہ اگر نماز لوٹانی پڑے تو چھوٹی سورتوں کے ذریعہ سورج نکلنے سے قبل نماز لوٹائی جاسکے۔
اس میں حکمت کیا ہے اور یہ حکم شرعی ہے یا سیاسی؟ اس بحث کو ہم یہاں نہیں اُٹھاتے، صرف اتنا کہنا چاہتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام، خلفاء راشدین فجر کی نماز غلس میں پڑھا کرتے تھے اس کے لیے ایک دو نہیں بیسیوں صحیح صریح مرفوع متصل احادیث موجود ہیں۔
اور پھر حرمین میں بھی نماز فجر غلس میں پڑھی جاتی ہے۔ لیکن یہ حضرات نماز کو انتہائی آخری وقت میں پڑھتے ہیں، ایسا کرتے ہوئے نہ حدیث رسول کا خیال آتا ہے اور نہ سنت رسول وسنت خلفاء راشدین کا صرف رواج کی پیروی اور فقہی گروہ بندی کی پاس داری میں نماز کو آخری وقت میں پڑھتے ہیں نہیں دیکھتے کہ حرمین میں نماز فجر غلس میں ہوتی ہے آخر کیوں حرمین کا عمل یہاں نظر کیوں نہیں آتا۔
اگر غلس میں نماز کی بات کی جائے تو فقاہت کی ساری حدیں پھلانگتے ہوئے اسفار کی وہ تشریحیں کرتے ہیں کہ آپ انگشت بدنداں رہ جائیں۔ لیکن یہی حضرات رمضان میں نماز فجر اہلحدیث حضرات سے بھی پہلے پڑھ کر محو خواب ہو جاتے ہیں۔
عصر کی نماز ہندوستان میں یہ حضرات اکثر جگہوں پر مکر وہ وقت میں پڑھنے کے عادی ہیں حالانکہ جب مکہ میں چار مصلے تھے تب بھی مکہ میں مصلی حنفی پر ایک مثل پر نماز ہوتی تھی جس پر ایک صاحب نے یوں لکھا کہ مصلی حنفی پر نماز پڑھانے والا امام یوسفی المذہب ہے۔
اس وقت اور آج حرمین میں نماز عصر اوّل وقت ہوتی ہے آخر ”حرمین کی بیس رکعت“ جن آنکھوں سے دیکھتے ہیں ان آنکھوں سے نماز عصر کا اول وقت ہونا نظر کیوں نہیں آتا اگر حرمین کی بیس رکعت تراویح درست ہے تو اول وقت میں نماز عصر ادا کرنا درست کیوں نہیں ہے؟
اذان مغرب کے بعد دو رکعت سنت اور حرمین شریفین
ہمارے ہندوستان میں مغرب کی اذان کے بعد نماز سے پہلے دور کعت کا رواج نہیں ہے اگر کسی مسجد میں دورکعت ادا کی جاتی ہوں تو یہ حضرات ناک بھوئیں چڑھاتے ہیں اور عوام کو ورغلانے کے لئے شور مچاتے ہوئے کہتے ہیں مغرب میں اتنا وقت کہاں ہوتا ہے کہ دو رکعت نماز کے بعد نماز کھڑی کی جائے ؟
غرض یہ کہ ہر قیمت پر ان سنتوں کو جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قولی فعلی، تقریری، احادیث سے ثابت ہیں صحابہ کرام کے زمانوں میں کثرت سے جو نماز ادا کی جاتی تھی حرمین میں ہمیشہ ہوتی رہی لیکن ہندوستان میں رواج نہ ہونے کے سبب اس سنت کی تخفیف کی جاتی ہے اور اس کو غلط بتایا جاتا ہے۔ جو لوگ اس کو اس لئے منع کرتے ہیں کہ مغرب کا وقت انتہائی قلیل ہوتا ہے دور کعت کی گنجائش نہیں رہتی انہی کو ہم دیکھتے ہیں رمضان المبارک کے مہینہ میں اول تو اذان ہی لیٹ دیتے ہیں پھر اذان کے بعد دس سے بارہ منٹ تک افطار کرتے ہیں اور اس کے بعد نماز کھڑی کی جاتی ہے اگر کہیں کوئی امام نماز جلدی قائم کر دے تو اس کی جان کو آ جاتے ہیں۔
آخر جس مغرب میں دو رکعت کی گنجائش نہیں نکل پاتی اس میں دس بارہ منٹ کی گنجائش کہاں سے نکل آتی ہے۔
اس کو من مانی کہیں، سنت دشمنی کہیں یا ضد اور ہٹ دھرمی یا رواج پرستی آخر اس کا کیا نام رکھا جائے؟
”حرمین کی بیس رکعت“ پر واویلا کرنے والوں کو آخر حرمین کا یہ عمل نظر کیوں نہیں آتا۔
کیا یہ اس بات کی دلیل نہیں کہ بیس رکعت کے لیے آپ نے حرمین کے عمل کو اس لیے اختیار نہیں کیا کہ وہ حرمین کا عمل ہے بلکہ اس لیے قبول کیا ہے کہ وہ آپ کی خواہش اور آپ کے رواج کے مطابق ہے ورنہ آپ کو حرمین کے عمل سے کوئی دلچسپی نہیں۔
اگر آپ کو حرمین کے عمل سے دلچسپی ہوتی تو ثابت شدہ سنت سے اعراض و دشمنی نہ کرتے۔
عورتوں کی پنچ وقتہ نماز میں حاضری اور حرمین شریفین
ہمارے ہندوستان میں عورتوں کا داخلہ مساجد میں ان حضرات کے نزدیک سخت معیوب ہے۔ جن اوقات میں فقہ حنفی نے اجازت دی ہے ان میں بھی یہ حضرات اجازت دینے کے لیے تیار نہیں۔
جہاں مساجد میں عورتوں کی حاضری کا ذکر نکلا اور ان حضرات کو فتنہ نظر آیا۔ عورت دعوتوں میں جائے۔ ولیموں میں جائے، عقیقوں میں حاضری دے، باراتوں میں بے محابا پھرے، جلسے جلوسوں میں بے روک ٹوک جائے۔ محرم کے میلوں میں چہلم کی مجلسوں میں بارہ وفات اور عید میلادالنبی کے جلسوں میں پوری آزادی بے پردگی، سولہ سنگار کے ساتھ حاضری دے: ان مفتیان کرام کو نہ فتنہ نظر آتا ہے اور نہ ان کی رگ حمیت پھڑکتی ہے، اب تو با قاعدہ زنانہ تبلیغی جماعتیں نکل رہی ہیں کوئی ڈر نہیں کوئی فتویٰ نہیں بیس رکعت تراویح کے لیے حرمین کو دلیل بنانے والوں کو آخر حرمین میں بڑی تعداد میں پنجوقتہ نمازوں میں عورتوں کی حاضری ان کا فرائض و نوافل ادا کرنا سنن و مستحبات پر عمل کرنا خود نماز تراویح میں ان کا شریک ہونا نظر کیوں نہیں آتا؟
آخر جو آنکھیں بیس رکعت تراویح کو دیکھتی ہیں وہ عورتوں کی حرم مکی حرم مدنی میں حاضری اور ان کا تراویح کو باجماعت ادا فرمانا کیوں نہیں دیکھتیں۔ اگر بیس رکعت تراویح اس لیے صحیح ہے کہ وہ حرم کی ومسجد نبوی میں ہوتی ہے تو عورتوں کا مساجد میں جانا ہندوستان میں کیوں منع ہے جبکہ وہاں عورتیں مساجد میں نماز ادافرمارہی ہیں۔
عید کی نماز میں عورتوں کی حاضری اور حرمين شريفين
ہندوستان میں مساجد کی طرح عیدگاہ میں عورتوں کی حاضری معیوب ہے۔ ہرگز کسی عورت کو نماز عید میں حاضر ہونے کی اجازت نہیں۔
حالانکہ صحیح ترین احادیث میں کتب ستہ کی صحیح صریح مرفوع متصل احادیث میں عورتوں کو عید کی نماز میں حاضر ہونے کا حکم ہے حتی کہ حائضہ عورتوں کو بھی حکم ہے کہ وہ بھی عید گاہ پہنچیں حالانکہ ان پر نماز نہیں لیکن نماز وخطبہ کے بعد جب امام دعا کرائے گا تو اس دعا میں ان کی شرکت ہو جائے گی۔
يشتركن فى دعوات المسلمين
(بخاری)
لیکن ان صحیح احادیث کے ہوتے یہ حضرات رواج کو اہمیت دیتے ہیں اور صحیح احادیث کو چھوڑ کر فقہ کی بات کو اہمیت دے کر عورتوں کو عید گاہ یا عید کی نماز میں حاضری کی اجازت نہیں دیتے۔
جن لوگوں کو حرمین میں بیس رکعت تراویح نظر آتی ہے۔ آخر ان کو حرمین میں عورتوں کی عید کی نماز میں حاضری دکھائی کیوں نہیں دیتی۔ اگر بیس رکعت تراویح کے لیے مکہ ومدینہ کا عمل دلیل ہے۔ تو عید کی نماز میں عورتوں کی شرکت کے لیے مکہ ومدینہ کا عمل کیوں دلیل نہیں ہے۔
جس طرح اس کا ڈھنڈورا پیٹا جاتا ہے کہ حرمین میں بیس رکعت تراویح ہوتی ہے۔ کیا یہ حضرات یہ بات بھی عوام کو بتائیں گے کہ حرمین میں عورتیں بھی نماز عید میں شریک ہوتی ہیں اگر یہ حضرات اس میں آنا کافی کریں تو عوام کو سمجھ لینا چاہئے کہ یہ سب باتیں محض رواج کی پیروی میں کی جارہی ہیں سنت رسول سنت صحابہ یا حرمین کے عمل کی وجہ سے نہیں۔
عيدين مین باره تکبیر زوائد اور حرمین شریفین
ہندوستان میں ہمارے یہ بھائی نماز عیدین چھ زائد تکبیروں سے پڑھتے ہیں اور بارہ تکبیروں کے ساتھ پڑھنے والوں کو بری نظر سے دیکھتے ہیں بلکہ بعض لوگ تو اہل حدیث عید گاہ کے قریب بھی جانے سے منع کر دیتے ہیں۔
فرقہ واریت کا شکار یہ حضرات پوربی دہلی کی ایک عیدگاہ میں اہل حدیث حضرات کے ساتھ نماز نہیں پڑھتے اور اپارٹمنٹ کے بیچ خالی جگہ میں نہایت مختصر جماعت کے ساتھ نماز عید پڑھنے کی ضد کو سال گزشتہ ایک دیوبندی عالم نے حق کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا: عید جیسے تہوار میں یہ فرقہ بندی دھڑے بندی اور ڈیڑھ اینٹ کی الگ عیدگاہ کی روش درست نہیں ہے، مقامی مسجد کے امام کے تعصب کے سبب ہو رہی عید کی مختصر جماعت خود ان کے معتبر عالم کے کہنے کے باوجود کچھ تعصب اور کچھ نذرانوں کے حصول کے لیے آج بھی جاری ہے۔ جن باتوں کو بنیاد بنا کر اہل حدیث کے ساتھ نماز پڑھنے سے روکا جاتا ہے ان میں چھ تکبیر، اور بارہ تکبیر کا جھگڑا بھی ہے۔
بیس رکعت تراویح کو حق بتانے والے اور دلیل میں حرمین کے عمل کو پیش کرنے والے کیا اپنے رویہ پر غور کریں گے۔
حرمین میں بیس رکعت تراویح ہوتی ہیں لہذا یہی درست ہیں باقی غلط یہ دعویٰ کرنے والے کیا یہ کہنے کی جرات کر سکتے ہیں کہ حرمین میں نماز عیدین بارہ تکبیر کے ساتھ ادا کی جاتی ہے لہذا یہی صحیح ہے باقی غلط۔ جن لوگوں کو بیس رکعت تراویح نظر آتی ہیں ان کو عیدین کی نماز بارہ تکبیر کے ساتھ نظر کیوں نہیں آتی۔
یہ آٹھ ایسے عمل ہیں جو حرمین میں ہوتے ہیں اور احناف ان کی مخالفت کرتے ہیں، اگر بیس رکعت تراویح کے لیے حرمین کا عمل معیار و دلیل ہے تو مذکورہ مسائل میں بھی حرمین کا عمل، معیار دلیل ہونا چاہئے۔ یہ کیا کہ جو اپنی خواہش اور رواج کے موافق ہو اس کو مان لیں اور باقی کتنا ہی کتاب وسنت کے موافق ہو اس کو رد کر دیں یہ روش انتہائی خطرناک اور انصاف سے بعید ہے۔
حرمین میں بیس رکعت تراویح کیوں ہوتی ہیں؟
اس سوال کا جواب اگر دو لفظوں میں دیا جائے تو یوں ہو گا کہ مقلدین کی ضد، ہٹ دھرمی اور اصرار بے جا کی وجہ سے۔
اس اجمال کی تفصیل یوں ہے کہ جب سعودی حکومت نے شرک و بدعت کے مظاہر کو حرمین سے دور کیا اور چار مصلوں کی غلط روش کو بھی نکال باہر کیا، مشاہد و مقابر پر بنے قبوں کو ہٹایا تو شرک و بدعت کی روٹی کھانے والوں اور افتراق بین المسلمین کے بل بوتے لیڈری چمکانے والوں کے سامنے دنیا تاریک ہو گئی، انہوں نے بھر پور کوشش کی کہ اس حکومت کو جس طرح ممکن ہو ختم کیا جائے مگر نصرت الہی ابن سعود کے ساتھ تھی۔
جب رمضان المبارک کا مہینہ آیا تو امام نے مسنون طور پر آٹھ رکعت تراویح اور تین وتر پڑھائے اور چلے گئے۔
یہ دیکھ کر بہت سارے مقلدوں کے دل میں امام حرم بننے کا سودا سمایا امام حرم کے چلے جانے کے بعد ان لوگوں نے جماعت کرانی شروع کی۔ باقی بات پروفیسر عبدالرزاق ساجد کی زبانی سنئیے۔
یہ بات جب حکومت کے نوٹس میں آئی تو اس صورت حال کے پیش نظر فوراً علماء کرام کی میٹنگ کال کی گئی اور ایک امر پر متفق ہونے کا ایجنڈا رکھا گیا۔ تا کہ مرکز اسلام کی ساکھ اور شان پر حرف نہ آئے۔ جس پر پوری دنیا کا فوکس ہوتا ہے۔
بے شمار کوششوں کے باوجود بیس رکعت کے قائلین مصر رہے کہ انہیں تو بیس رکعت ہی پڑھنی ہے۔
لہذا حکومت نے انتظامی امر کے پیش نظر دو اماموں کا تعین کر دیا۔ ایک امام دس رکعت پڑھا کر چلا جائے اور جسے مسنون تعداد کی ادائیگی کرنا ہو وہ بھی اپنا قیام اس پہلے امام کے ساتھ کر لے اور جسے مزید رکعتیں پڑھنی ہوں وہ جگہ جگہ ٹولیوں میں اور گروپوں کی شکل میں نہ بیٹھیں۔ ان کے لیے دوسرے ایک امام کا اہتمام کر دیا گیا اور یوں انتظامی نقطہ نظر سے حرمین میں بیس رکعت تراویح دو اماموں کے ساتھ ادا کرنے کا سلسلہ چل نکلا۔
تفصیل کے لیے دیکھیے:
حرمین شریفین میں بیس رکعت تراویح کیوں؟
از پروفیسر عبدالرزاق ساجد
پندرہ روزہ اخبار اسلاف مالے گاؤں 20 جولائی 2011ء
ناظرین کرام!
حرمین میں بیس رکعت تراویح کیوں ہو رہی ہیں اس کی حقیقت آپ کو معلوم ہو گئی۔ امید ہے کہ اب آپ کو کوئی یہ کہہ کر گمراہ نہیں کرے گا کہ بیس رکعت تراویح ہی سنت رسول ہے اور اس کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ حرمین میں بیس رکعت تراویح ہو رہی ہیں۔
حرمین کی بیس رکعت تراویح اور ہندوستانی مقلدین
بیس رکعت تراویح جو حرم میں ہو رہی ہیں وہ اس لیے نہیں ہو رہی ہیں کہ بیس رکعت تراویح سنت رسول ہے۔ بلکہ اس لیے ہو رہی ہے کہ وہاں کے حکمراں اتحاد بین المسلمین کو زیادہ اہمیت دیتے ہیں کسی جزوی واقعہ یا عمل کے مقابلہ میں۔
اس کے بر خلاف مقلدین ہند کے نزدیک ان کا اپنا مسلک اسلام قرآن، حدیث اور اتحاد بین المسلمین سے زیادہ عزیز ہے اس لیے وہ اپنے مسلک کے بارے میں ذرہ بھر لچک پیدا کرنے کے لیے تیار نہیں۔
سعودی حکمرانوں اور وہاں کے علماء کی اسلام دوستی اور دور اندیشی کی داد دینے کو جی چاہتا ہے۔ انہوں نے سنت رسول کو بھی باقی رکھا اور مقلدوں کے اصرار کو دیکھتے ہوئے افتراق سے بچنے کے لیے بیس تراویح کی اجازت بھی دے دی، دو اماموں کا تقرر کر دیا تب سے آج تک کسی امام نے ایک دن کے لیے بھی بیس رکعت تراویح نہیں پڑھائیں۔ مقلدوں کی ضد و ہٹ دھرمی کا سانپ بھی مر گیا اور اتفاق کی لاٹھی بھی سلامت رہی۔
ناظرین کرام!
سعودی حکمراں اور وہاں کے علماء کا اصل موقف کیا ہے اس کو اگر ہم وہاں کے شہور علماء کے اقوال اور ان کی کتابوں کے حوالے سے لکھیں گے تو بات لمبی ہو جائے گی اور یہ بحث نہ چاہتے ہوئے بھی لمبی ہو گئی ہے۔
ہم چاہتے ہیں کہ اپنے مسلمان بھائیوں سے عرض کریں کہ اگر آپ کو دیکھنا ہے تو خود مکہ ومدینہ کی دیگر مساجد کو دیکھ لو وہاں کیا ہو رہا ہے بیس رکعت تراویح کیا آٹھ رکعت تراویح۔ مکہ میں حرم مکی سے قریب ترین مساجد مدینہ میں، مسجد نبوی سے قریب ترین مساجد اس بات کی گواہ ہیں کہ اصل سنت رسول جس پر سعودی حکمراں اور وہاں کے علماء کی سب سے عظیم بڑی اور قومی تنظیم لجنہ دائمہ قائم ہے اور جس بات کا فتویٰ دیتی ہے وہ یہی ہے کہ اصل سنت رسول تو گیارہ رکعت مع الوتر ہی ہے، ہاں کوئی نفل جان کر بیس یا اس سے زائد پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے مدینۃ الرسول میں عالم گیر شہرت کی حامل مشہور دینی یونیورسٹی "الجامعة الاسلامیة مدینہ یونیورسٹی” کی عظیم الشان مسجد میں آٹھ رکعت ہی تراویح ہوتی ہے۔
أئمہ حرمین اور مقلدین ہند
مقلدین ہند سارے رمضان ہر رات بیس رکعت تراویح کے ہی قائل ہیں، اس سے زیادہ یا اس سے کم کو وہ درست نہیں مانتے بلکہ خلاف اجماع بتا کر فتویٰ بازی کرتے ہیں اس کے برخلاف علماء حرمین کا فتویٰ تو یہی ہے کہ سنت رسول تو صرف مع الوتر گیارہ رکعت ہی ہے باقی اس سے زیادہ کی کوئی قید نہیں وہ ایک انتظامی امر کے سبب مصلے پر بیس رکعت تو پڑھنے پر عامل ہیں مگر ایک امام کے ساتھ نہیں بلکہ دو امام کے ذریعہ تفصیل گزر چکی ہے مگر آخری عشرے میں وہ بیس رکعت ابتداء شب میں اور دس رکعت آخر شب میں پڑھتے اور پڑھاتے ہیں اور یہ عمل بھی حرمین کا ہے۔
ہمارے غیر اہل حدیث بھائی جو شور کرتے رہتے ہیں حرم میں بیس رکعت تراویح ہوتی ہے وہ صرف رمضان کی بیس تراویح تک کے لیے تو درست ہے وہ بھی اس تصریح کیساتھ کہ دو امام نہیں پڑھاتے ہیں۔
باقی کے دس دن میں وہ 20 ادھر ابتدائی شب میں اور دس آخر شب میں پڑھتے ہیں۔ جس کا سیدھا سا مطلب ہے کہ ہندوستان کے غیر اہل حدیث حضرات کا یہ سمجھنا کہ ہم وہ کام کر رہے ہیں جو حرمین میں ہو رہا ہے غلط ہے۔
اور اس طرح مفتی شبیر احمد قاسمی کے رسالہ کا جواب مکمل ہوا۔
والحمد لله على ذلك وصلى الله على خير خلقه محمد وآله وسلم.